جے کتائی۔۔۔!

جے کتائی۔۔۔!

جے کتائی
وقت گزرتا گیا، عثمان غازی کی سلطنت پھیلنے لگی۔ عثمانی (Byzantine Empire) بیزنطینی سلطنت
فتوحات سے پریشان ہو گئی۔
کے قریب لڑی گئی، (Yenişehir) ایک بڑی جنگ ینی شہر جہاں دشمن نے عثمان غازی کی فوج پر اچانک حملہ کیا۔
دشمن تعداد میں زیادہ تھا لیکن عثمان غازی کے مجاہد
ایمان میں مضبوط تھے۔
جے کتائی اُس دن بھی سب سے آگے صف میں کھڑا تھا۔ اس نے تلوار آسمان کی طرف اٹھا کر کہا
“یا اللہ! آج میرا خون تیرے دین کے لیے بہے” <
جب جنگ شروع ہوئی تو دشمن نے گھیراؤ کر لیا۔
جے کتائی نے ایک ایک وار سے کئی دشمنوں کو زمین پر گرا دیا۔
اس کے جسم پر تیر برستے رہے، مگر وہ رکتا نہیں تھا۔
ایک موقع پر عثمان غازی نے آواز دی
جے کتائی پیچھے ہٹ جاؤ، تم زخمی ہو <
جے کتائی مسکرا کر بولا
میں منگول تھا، خون بہانا جانتا تھا۔
” إلیکن اب میں مسلمان ہوں، ایمان کے لیے مرنا جانتا ہوں
پھر وہ دشمن کے بیچوں بیچ گھس گیا۔

اس نے اپنے آخری دم تک لڑائی کی۔

جب وہ زمین پر گرا تو اس کے لبوں پر یہی الفاظ تھے

” إلا اله الا الله … محمد رسول اللہ ” <

عثمان غازی اس کے قریب آئے، اس کے سر کو اپنے زانو پر رکھا۔

جے کتائی نے آہستہ کہا
میں نے منگول کے طور پر جنم لیا مگر ایمان والا بن کر < … جا رہا ہوں
اور یہ کہہ کر اس نے اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کر لیں۔
بعد کا منظر
عثمان غازی نے اس کی تدفین بڑے احترام سے کی اور فرمایا
اس نے اسلام کے لیے جان دی – یہی ہمارا اصل مجاہد < ” ہے۔
اس دن کے بعد جے کتائی کا نام عثمانی تاریخ میں ایمان وفاداری اور قربانی کی علامت بن گیا۔

cerkutay

shaheed

ghaziiiboy

fblifestyle #history

historycerkutaybey #KurlusOsman #kurlusorhan

Ohran Drama Tv

Leave a Reply

NZ's Corner