ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص دنیا، زندگی اور غربت سے تنگ آ کر خودکشی کرنے کے ارادے سے جنگل کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں اچانک اس کی ملاقات ایک جِن سے ہو گئی۔
جِن نے اس شخص سے کہا:
“اگر تم خودکشی کا ارادہ ترک کر دو تو میں تمہیں امیر بنا دوں گا۔”
پھر جِن نے اسے ایک ترکیب بتائی اور کہا:
“تم واپس جاؤ اور حکیم بن جاؤ۔ جب کسی مریض کے پیروں کی طرف مجھے کھڑا دیکھو تو اُسے دوا مت دینا اور اس کے لواحقین کو بتا دینا کہ یہ مریض نہیں بچے گا۔ اور جس مریض کے سرہانے مجھے کھڑا دیکھو، اُسے دوا دے دینا اور کہہ دینا کہ اسے کچھ نہیں ہوگا۔”
اس شخص نے جِن کی ہدایت پر عمل شروع کر دیا۔ جسے وہ دوا دیتا، وہ بچ جاتا، اور جسے دوا نہ دیتا، وہ مر جاتا۔ رفتہ رفتہ وہ شخص ایک مشہور حکیم بن گیا اور بے پناہ دولت کمانے لگا۔
ایک دن وہ خود شدید بیمار پڑ گیا۔ اس نے دیکھا کہ وہی جِن اس کے پیروں کی طرف کھڑا ہے۔ گھبرا کر اس نے فوراً چھلانگ لگائی اور بجلی کی سی تیزی سے اپنی ٹانگیں تکیے کی طرف کر لیں، مگر جِن لمحوں میں اُدھر بھی آ کھڑا ہوا۔
اس نے دوبارہ کروٹ بدلی، پھر تیسری بار… یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا۔
آخرکار جِن نے اس کے بیٹے سے کہا:
“تمہارا باپ ہلکا (باولا) ہو گیا ہے، اسے چارپائی کے ساتھ باندھ دو، کہیں یہ خود کو یا کسی اور کو نقصان نہ پہنچا دے۔”
بیٹے نے جِن کی بات مان لی اور باپ کو چارپائی کے ساتھ باندھ دیا۔
تب باپ نے بے بسی اور غصّے میں بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
“کنجرو! میں مرنا کوئی نئیں سی، تُسی بنھ کے مروایا اے!”😂
