Tag Archives: dailyprompt

جنگل میں اگر کسی جانور کی سب سے کم عزت تھی، تو وہ گدھا تھا۔جہاں سے گزرتا، کوئی نہ کوئی اس کی آواز کا مذاق اڑا دیتا، کوئی اس کی چال پر ہنس دیتا۔ رفتہ رفتہ گدھے کے دل میں ایک عجیب سی بھوک پیدا ہو گئی، عزت کی بھوک۔ وہ اکثر جنگل کے طاقتور اور مشہور جانوروں کو دیکھتا اور دل ہی دل میں سوچتا: “آخر ان میں ایسی کیا بات ہے جو سب ان کے آگے پیچھے گھومتے ہیں؟” انہی دنوں جنگل کی سب سے چالاک مخلوق، وزیراعظم لومڑی، پورے جنگل پر اپنے اثر و رسوخ کا جال پھیلائے بیٹھی تھی۔ شیر بادشاہ تھا ضرور، مگر جنگل کے اکثر فیصلے لومڑی کی چالاکی سے ہی چلتے تھے۔ وہ ہر جانور کو اس کی کمزوری کے مطابق استعمال کرنا جانتی تھی۔ گدھے نے ایک دن فیصلہ کیا: “اگر میں لومڑی کے قریب ہو جاؤں، تو لوگ خود بخود میری…

Read more

‏ایک دن پڑوسیوں کی مرغی شیخ صاحب کے گھر سے گندم کھا گئی تو انہوں نے مرغی کو پکڑا اور ذبح کرکے کھاگئےاگلے دن پڑوسیوں کو مرغی نا ملی تو انہوں نے شیخ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے ہماری مرغی کہیں  دیکھی تھی؟شیخ نے غصے سے کہا کہ وہ ہمارے گھر کے دانے کھا گئی اس لئے میں اسے ذبح کرکے 👇‏کھا گیا پڑوسی بھی غصے سے گویا ہوئے کہ شیخ صاحب آپ تو انتہائی نامعقول انسان ہیں کہ چند دانے کیا مرغی نے کھا لئے آپ پوری مرغی ہی کھا گئے. حالانکہ چند دن قبل آپکی بلی ہمارا تین کلو دودھ پی گئی تھی تو ہم نے کچھ کہا آپکوشیخ صاحب جھٹ سے بولے کہ اگر میری بلی آپ کا دودھ پی گئی 👇‏تھی تو آپ بھی میری بلی کھا جاتے میں نے کونسا منع کیا آپکوپڑوسی تلملا کر بولے  شیخ صاحب بلی تو حرام ہوتی ہےشیخ صاحب…

Read more

ایک دن بڑے زور کی آندھی آئی، اور پھر موسلا دھار بارش ہونے لگی۔ جنگلی جانور، جان بچانے کے لیے، اِدھر اُدھر دوڑے ایک لومڑی ایک چھوٹے سے غار میں گھس گئی۔ تھوڑی دیر بعد ایک ببر شیر بھی اسی غار میں گھس آیا۔ موت سامنے نظر آئی تو لومڑی بہت گھبرائی۔ لیکن عین اُس وقت عقل کام آئی۔ اُس نے جھٹ اپنا سر غار کی چھت سے لگایا اور بولی “چھت گرنے والی ہے، حضور! اسے سہارا دیجیے۔ گر گئی تو دونوں مر جائیں گے۔”ببر شیر نے دونوں ہاتھوں سے چھت کو تھام لیا۔ لومڑی بولی “آپ مجھ سے زیادہ طاقتور ہیں۔ اسے اسی طرح تھامے رہیے۔ میں بانس لے کر ابھی آئی۔”“بانس کا کیا کروگی؟” شیر نے پوچھا۔“اے، حضور، بانس سے چھت کو سہارا دیں گے تو وہ نہیں گرے گی” لومڑی نے کہا اور باہر بھاگ گئی۔(افریقہ کی لوک کہانی)رسالہ: تعلیم و تربیت

رات کی خاموشی میں، جب ہوا بھی دبے قدموں چل رہی تھی، ایک سیاہ سایہ زمین پر رینگتا ہوا ایک ننھے خرگوش کے بل تک پہنچا…وہ ایک سانپ تھا۔بل کے اندر، معصوم خرگوش ایک دوسرے سے لپٹے بیٹھے تھے۔ اچانک، دروازے پر ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی… اور پھر ایک نرم، مگر عجیب سی آواز گونجی:“ڈرو مت… میں تمہیں نقصان نہیں پہنچانا چاہتا…”خرگوشوں کے دل تیزی سے دھڑکنے لگے۔ انہوں نے پہلے کبھی اپنے گھر میں کسی شکاری کو نہیں دیکھا تھا۔سانپ نے اپنی آواز میں اور بھی مٹھاس گھول دی:“میں اکیلا ہوں… بہت اکیلا… اس دنیا میں میرا کوئی نہیں۔ میں صرف تھوڑی سی محبت چاہتا ہوں… تھوڑی سی اپنائیت…”اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں، جیسے اندھیرے میں دو جلتے ہوئے چراغ۔“میرے پاس صدیوں کی حکمت ہے… کہانیاں ہیں… راز ہیں… اگر تم چاہو تو میں تمہیں سب سنا سکتا ہوں…”خرگوش ایک دوسرے کو دیکھنے لگے… خوف اور ہمدردی کے…

Read more

برطانوی نوآبادیاتی دور میں ہندوستان میں، ایک دفعہ ایک برطانوی افسر نے ایک ہندوستانی شہری کو تھپڑ مارا۔ اس پر ہندوستانی شہری نے ردعمل میں پوری طاقت سے افسر کو تھپڑ مارا اور اسے زمین پر گرا دیا۔ افسر اس ذلت آمیز صدمے سے حیران رہ گیا اور وہاں سے چلا گیا، یہ سوچتا ہوا کہ ایک ہندوستانی شہری نے کیسے جرات کی کہ وہ برطانوی فوج کے افسر کو تھپڑ مارے، جو کہ ایک ایسی سلطنت کا حصہ ہے جس پر سورج غروب نہیں ہوتا۔ وہ اپنے مرکز کی طرف گیا تاکہ انہیں اس واقعے کی اطلاع دے اور اس شہری کو سزا دینے کے لیے مدد طلب کرے۔ لیکن بڑے افسر نے اسے پرسکون کیا اور اپنے دفتر لے گیا، اور ایک پیسوں سے بھری خزانہ کھول کر کہا: ”خزانے سے دس ہزار روپے لے لو، اور اس ہندوستانی شہری کے پاس جا کر اس سے معافی مانگو،…

Read more

خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ چوہے اور مینڈک میں ایک ندی کے کنارے دوستانہ ہوگیا۔ دونوں کے دونوں ہر صبح وقتِ مقررہ پر ایک جگہ جمع ہوجاتے تھے۔ دونوں کا دل باہمی میل جول سے کشادہ ہوتاتھا اور آپس میں ایک دوسرے سے بات چیت اور قصہ بازی ہوتی تھی۔ یہ محبت یہاں تک بڑھی کہ چوہے نے مینڈک سے کہا پیارے دوست میں اس تھوڑے سے مقررہ وقت میں جی بھر کر تجھ سے حکایتیں بیان نہیں کرسکتا۔ نماز تو پانچ وقت کی فرض ہے۔ لیکن عاشقوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہمیشہ نماز میں ہیں۔ وہ نشہ پانچ نمازوں سے قائم نہیں رہتا۔ تیرا مکھڑا دیکھے بغیر ایک دم کو بھی چین نہیں۔ یہ عین مروت ہوگی اگر تو مجھے خوش کرےاور وقت بے وقت اپنی مہر بانی سے مجھے یاد کرتا رہے۔ تو نے پورے دن میں صبح سویرے ایک وقت ملنے کا مقرر کیا…

Read more

ایک کسان نے ایک مرا ہوا سور ایک سوکھے کنویں میں پھینک دیا۔چند ہی لمحوں بعد 70 سے 80 چوہے اس بدبو کی طرف کھنچے چلے آئے اور ایک ایک کر کے کنویں میں کود گئے۔ان کے لیے یہ ایک “آسان دعوت” تھی…انہوں نے مل کر اس سور کو ختم کر دیا، لیکن اصل کہانی یہاں سے شروع ہوئی۔جب پیٹ بھر گیا تو حقیقت سامنے آئی…کنواں اونچا تھا، باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔دن گزرتے گئے…بھوک واپس آگئی، اور ساتھ ہی خوف بھی۔پھر وہی کنواں ایک زندہ جہنم بن گیا۔کچھ چوہے کمزور پڑے، کچھ نے طاقت کے لیے دوسرے کو مارنا شروع کر دیا…اور پھر نوبت یہاں تک آ گئی کہ وہ ایک دوسرے کو کھانے لگے۔وقت گزرتا گیا…اور آخرکار سب ختم ہو گئے…صرف ایک چوہا بچا، جس کی آنکھیں خون کی طرح سرخ ہو چکی تھیں، اور ذہن میں صرف ایک چیز تھی… “بقا”۔کچھ دن بعد کسان واپس…

Read more

اطالیہ کے ایک خوبصورت شہر میں ایک بادشاہ رہتا تھا جو اپنی شان و شوکت اور انصاف پسندی کے لیے مشہور تھا۔ اس کے پاس بہت سے خزانے تھے، لیکن اسے اپنے وزراء پر بھروسہ نہیں تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کے درمیان سب سے زیادہ ایماندار کون ہے۔ ایک دن شاہی محل میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ بادشاہ نے بازار سے ایک بہت بڑا ہیرا خریدا تھا۔ وہ بہت قیمتی تھا اور اس کی چمک دنیا میں کہیں نہیں تھی۔ شام کو جب بادشاہ نے ہیرے کو اپنے صندوق میں رکھا اور اگلی صبح جب اس نے دیکھا تو وہ صندوق خالی تھا۔ بادشاہ نے اپنے وزراء کو جمع کیا اور کہا، “میرا ہیرا کسی نے چرا لیا ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ تم میں سے کون مجھے اس کا پتہ بتا سکتا ہے؟” وزراء نے بہت کوشش کی، لیکن کسی کو کچھ…

Read more

ایک بادشاہ اپنے غلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھا۔ غلام نے نہ کبھی دریا دیکھا تھا، نہ ہی کشتی کا سفر کیا تھا۔ جیسے ہی کشتی پانی میں ہچکولے لینے لگی، غلام کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ اُس کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے، اور وہ خوف سے چیخنے اور رونے لگا۔کشتی میں بیٹھے لوگ پریشان ہو گئے، اور بادشاہ کو اس کی آواز ناگوار گزرنے لگی۔ ہر کوشش ناکام ہو گئی، غلام کسی صورت خاموش ہونے کو تیار نہ تھا۔اسی دوران کشتی میں موجود ایک دانا شخص آگے بڑھا اور ادب سے بولا: “حضور! اگر اجازت ہو تو میں اسے خاموش کر سکتا ہوں۔”بادشاہ نے فوراً اجازت دے دی۔دانا نے اشارہ کیا… اور سپاہیوں نے غلام کو اچانک دریا میں دھکا دے دیا!غلام پانی میں گرا… ایک، دو، تین غوطے کھائے… زندگی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی… وہ ہاتھ پاؤں مارتا رہا…پھر سپاہیوں نے اس کے بال پکڑ…

Read more

مصر کے ایک پرانے شہر قاہرہ میں ایک غریب مگر ذہین نوجوان رہتا تھا جس کا نام جمیل تھا۔ جمیل کے پاس دنیا کی کوئی دولت نہیں تھی، نہ گھر تھا، نہ زمین تھی، نہ اونٹ تھے۔ اس کے پاس صرف ایک چیز تھی، اس کی ماں جو بہت بوڑھی ہو چکی تھی اور جس کی آنکھیں دھندلی ہو گئی تھیں۔ وہ اپنی ماں کے لیے روزانہ شہر کی گلیوں میں بھیک مانگتا تھا اور جو کچھ ملتا، اس سے وہ دونوں اپنا پیٹ پالتے تھے۔ ایک دن جمیل نے سنا کہ شہر کے ایک بہت بڑے عالم دین نے لوگوں کے لیے اپنا دروازہ کھول رکھا ہے۔ وہ ہر آنے والے کو ایک اچھا مشورہ دیتے ہیں۔ جمیل نے سوچا کہ کیوں نہ وہ بھی اس عالم کے پاس جائے اور کوئی ایسا مشورہ لے آئے جو اس کی زندگی بدل دے۔ وہ عالم کے گھر پہنچا تو وہاں…

Read more

بہت سالوں کی بات ہے، ایران کے ایک شہر میں دو بھائی رہتے تھے۔ ایک کا نام قاسم تھا اور دوسرے کا، علی بابا۔ قاسم کی شادی ایک بہت امیر عورت سے ہوئی تھی، جس کی مدد سے اس نے ایک بڑا کاروبار سنبھال لیا اور شہر کے امیر آدمیوں میں شامل ہو گیا۔ دوسری طرف علی بابا بالکل سادہ زندگی گزار رہا تھا۔ وہ اپنی بیوی اور گدھے کے ساتھ روزانہ صبح سویرے جنگل میں جاتا، درختوں سے لکڑیاں کاٹتا اور شہر میں جا کر بیچ آیا کرتا تھا۔ ایک دن علی بابا جنگل میں اپنے معمول کے مطابق لکڑیاں کٹ رہا تھا کہ اچانک اس نے دور سے گھوڑوں کی ٹاپیں سنیں۔ اس نے جلدی سے ایک اونچے درخت پر چڑھ کر اپنے آپ کو پتوں میں چھپا لیا۔ تھوڑی دیر بعد وہاں چالیس مسلح ڈاکو گھوڑوں پر سوار ہو کر پہنچے۔ ان سب کے کندھوں پر تلواریں…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ شام کے علاقے میں واقع ایک شہر، جو اپنی سرسبز وادیوں اور بلند و بالا پہاڑوں کے لیے مشہور تھا، پر ایک  بادشاہ “قسیصر” حکومت کرتا تھا۔ اس بادشاہ کا ایک بیٹا تھا جس کا نام “براق بن روحان” تھا۔ شہزادہ براق اپنی غیر معمولی خوب صورتی، بہادری اور سخاوت کے لیے پورے علاقے میں مشہور تھا۔ اس کے سنہری بال اس کے کندھوں تک لٹک رہے تھے، اس کی آنکھیں شہد جیسی مٹھاس رکھتی تھیں، اور اس کی شکل و صورت دیکھ کر ہر کوئی اپنی نظریں جھکا لیتا تھا۔ لیکن اس کی سب سے بڑی خوبی اس کی وفاداری اور اپنی قوم سے محبت تھی۔ اسی شہر میں ایک نجومی رہتا تھا جس کا نام “سابا” تھا، جو براق کا روحانی پیشوا اور معتمد خاص تھا۔ ایک دن نجومی سابا نے براق کو یہ پیشین گوئی سنائی کہ اسے اپنے شہر کے…

Read more

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب سرزمینِ شام کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے تو بلقاء کے علاقے میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام بلعام بن باعوراء تھا۔ وہ اپنی قوم میں اس وجہ سے مشہور تھا کہ اس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اور اسے خاص روحانی علم عطا کیا گیا تھا، یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق وہ اسمِ اعظم سے واقف تھا۔ اس کی قوم نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی آمد کی خبر سنی تو وہ خوف زدہ ہو گئے۔ وہ بلعام کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ “موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ آ رہے ہیں، وہ ہمیں ہمارے گھروں سے نکال دیں گے، ہماری زمینوں پر قبضہ کر لیں گے۔ تم ہمارے لیے دعا کرو کہ وہ یہاں نہ آ سکیں۔ بلعام نے حقیقت جانتے ہوئے جواب دیا: “افسوس ہے تم پر! وہ اللہ کے نبی…

Read more

آئرلینڈ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں تھامس نامی ایک نوجوان رہتا تھا۔ وہ اپنی بیوی، اور اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ ایک سال آلو کی فصل تباہ ہو گئی۔ لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہ رہا۔ تھامس نے مجبوراً اپنے مالک کی زمینوں میں شکار کرنے کا فیصلہ کیا  حالانکہ اس کی سزا موت تھی۔ تھامس سارا دن جنگل میں بھٹکتا رہا، لیکن اسے کوئی جانور نہ ملا۔ شام کو جب وہ واپس ہونے لگا تو اسے ایک خوبصورت ہرن نظر آیا۔ جب اس نے ہرن کو مارنے کے لیے تیر چڑھایا تو ہرن بول پڑا، “مجھے مت مارو! میں تمہاری ایک خواہش پوری کروں گا۔ کل صبح اس جگہ آ جانا اور اپنا جواب بتا دینا۔” تھامس حیران تھا، لیکن اس نے ہرن کو جانے دیا۔ گھر واپس آ کر اس نے اپنے باپ سے مشورہ کیا۔ باپ نے…

Read more

راجپوتوں کا ایک قبیلہ ہے جس کی عورتیں اپنے خاوند کا نام نہیں لیتیں.مردم شماری ہو رہی تھی ،ان کے ایک گاوّں میں مردم شماری کے لئیے فوجی پہنچا اور دروازے پر دستک دی۔ دروازے کے پیچھے سے خاتونِ خانہ کی آواز آئی کون ؟. فوجی نے بتایا کہ اہل خانہ کے کوائف لکھنے ہیں اپنے میاں کو باہر بھیجیں.بیوی نے کہا وہ تو گھر پر نہیں ہیں. فوجی تو پھر آپ ہی نام وغیرہ لکھوا دیں فوجی نے کہا بتائیے آپ کے خاوند کا نام کیا ہے ؟.وہ تو میں نہیں بتا سکتی، ہم اپنے شوہر کا نام زبان پر نہیں لاتیں۔ عورت نے جواب دیا. فوجی نے کہا یہ بہت ضروری ہے ہم نے گھر کے سربراہ کا نام لکھنا ہے۔عورت بولی ایک طریقہ ہے میں آپ سے سوال کرتی جاتی ہوں آپ جواب دیتے جائیں۔ عورت – مغلیہ خاندان کا بانی کون تھا ؟فوجی : بابر عورت-…

Read more

ہسپانیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا کھیت تھا، لیکن اس کی زمین بہت کمزور تھی اور فصل اچھی نہیں ہوتی تھی۔ ایک سال جب قحط پڑا تو اس کے پاس کھانے کو کچھ نہ بچا۔ وہ بہت پریشان تھا کہ اب وہ اپنے بچوں کو کیا کھلائے گا۔ ایک دن وہ اپنے کھیت میں گھوم رہا تھا کہ اسے زمین پر گندم کے چار دانے پڑے نظر آئے۔ اس نے انہیں اٹھایا اور سوچا کہ ابھی تو یہ بہت کم ہیں، لیکن شاید ان سے کچھ فصل اگ آئے۔ اس نے ان چار دانوں کو اپنے کھیت کے ایک کونے میں بو دیا۔ اس نے روزانہ انہیں پانی دیا اور ان کی دیکھ بھال کی۔ کچھ ہی دنوں میں وہ دانے اگنے لگے اور چند مہینوں میں اسے گندم کی اچھی خاصی فصل مل گئی۔ اس نے اس…

Read more

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو اس نے محل کے صدر دروازے پر ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو پرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رہا تھا۔ بادشاہ نے اس کی طرف دیکھا تو ایک دوسرے دربان کی نسبت وہ بہت بوڑھا لگ رہا تھا، اور ساتھ ہی بہت کمزور بھی۔ بادشاہ نے اپنے دل میں سوچا کہ اس عمر میں اس نے اسے اس عہدے پر کیوں لگا رکھا ہے، لیکن پھر وہ اس کے پاس سے گزر گیا۔ بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا: “میاں! سردی نہیں لگ رہی؟” دربان نے جواب دیا: “بہت لگتی ہے حضور! مگر کیا کروں، گرم وردی ہے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ہے۔” بادشاہ کے دل میں رحم آیا۔ اس نے کہا: “میں ابھی محل کے اندر جا…

Read more

پولینڈ کے گہرے جنگلات میں ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں ایک لکڑہارا اور اس کی بیوی رہتے تھے۔ وہ اتنے غریب تھے کہ کبھی ان کے پاس کھانے کے لیے صرف ایک روٹی ہوتی اور کبھی کبھی وہ بھی نصیب نہ ہوتی۔ لکڑہارا دن بھر جنگل میں لکڑیاں کاٹتا اور پھر انہیں شہر لے جا کر بیچتا، مگر اس کی کمائی بمشکل ان کے دو وقت کے کھانے کے لیے کافی ہوتی تھی۔ ایک روز لکڑہارا بہت دکھی دل سے جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ بے حد ناانصافی کر رہا ہے اور اسے ایک اچھی زندگی نہیں دے سکا۔ اچانک اس کی نظر ایک بہت پرانے بلوط کے درخت پر پڑی جس کے تنے پر کچھ نقوش بنے ہوئے تھے۔ جب اس نے غور سے دیکھا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ نقوش دراصل ایک چھوٹے سے دروازے کی…

Read more

زمانۂ قدیم میں جب کہ زمین پر انسانوں کی آبادیاں وجود میں آ رہی تھیں اور معاشرے اپنی بنیادی اقدار کی تلاش میں تھے، دو ایسی ہستیاں پیدا ہوئیں جو ایک دوسرے کے مدِمقابل تھیں۔ ایک کا نام سچ تھا اور دوسرے کا جھوٹ ۔ یہ دونوں بھائی تھے، لیکن ان کی راہیں بالکل جدا تھیں۔ سچ ہمیشہ سیدھی راہ پر چلتا تھا، اس کی گفتگو میں شیرینی تھی اور اس کے چہرے پر نور تھا۔ جھوٹ ہمیشہ گول مول باتیں کرتا، اس کی آنکھوں میں چالاکی تھی اور اس کے دل میں ہمیشہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی خواہش ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ جھوٹ نے اپنے بھائی سچ کو ایک جال میں پھنسانے کا منصوبہ بنایا۔ اس نے ایک بہت بڑا اور قیمتی خنجر اپنے بھائی سچ کے پاس امانتاً چھوڑ دیا۔ سچ نے اپنے بھائی کے بھروسے کا احترام کرتے ہوئے خنجر کو ایک محفوظ جگہ رکھ دیا۔…

Read more

ایک دن، ایک سانپ سرک کر ایک آرام دہ خرگوش کے بل میں داخل ہو گیا۔ ننھے خرگوش کونے میں سمٹ گئے، خوف سے ساکت—انہوں نے پہلے کبھی اپنے گھر میں کسی شکاری کو نہیں دیکھا تھا۔ مگر سانپ نے نہایت نرم اور ملائم آواز میں پھنکار بھری: “براہِ کرم، مجھ سے مت ڈرو… میں بس بہت تنہا ہوں۔ میرا کوئی دوست نہیں، اور مجھے صرف ذرا سی محبت اور گرمجوشی چاہیے۔ میرے اندر صدیوں کی دانائی چھپی ہوئی ہے، اور میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اسے تمہارے ساتھ بانٹوں۔” خرگوشوں نے بے یقینی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، لیکن پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اسے ایک موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس کی کہانیاں سنیں، اس کے افسانے، اور اس کی مسحور کن سرگوشیاں۔ وہ ایک فلسفی کی طرح بولتا تھا۔ اور پھر، اچانک، اس نے ان میں سے ایک کو ڈس لیا… اور سایوں میں…

Read more

20/956
NZ's Corner