بلاعنوان

بلاعنوان

پولینڈ کے گہرے جنگلات میں ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں ایک لکڑہارا اور اس کی بیوی رہتے تھے۔ وہ اتنے غریب تھے کہ کبھی ان کے پاس کھانے کے لیے صرف ایک روٹی ہوتی اور کبھی کبھی وہ بھی نصیب نہ ہوتی۔ لکڑہارا دن بھر جنگل میں لکڑیاں کاٹتا اور پھر انہیں شہر لے جا کر بیچتا، مگر اس کی کمائی بمشکل ان کے دو وقت کے کھانے کے لیے کافی ہوتی تھی۔

ایک روز لکڑہارا بہت دکھی دل سے جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ بے حد ناانصافی کر رہا ہے اور اسے ایک اچھی زندگی نہیں دے سکا۔ اچانک اس کی نظر ایک بہت پرانے بلوط کے درخت پر پڑی جس کے تنے پر کچھ نقوش بنے ہوئے تھے۔ جب اس نے غور سے دیکھا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ نقوش دراصل ایک چھوٹے سے دروازے کی شکل میں تھے۔

اس نے ہمت کر کے اس دروازے کو کھٹکھٹایا۔ دروازہ کھلا تو اس کے سامنے ایک بہت ہی خوبصورت پری کھڑی تھی جس کے بال سونے کی طرح چمک رہے تھے اور اس کے پر ستاروں کی طرح جگمگا رہے تھے۔ پری نے کہا، “اے انسان! تو نے مجھے اس قید سے آزاد کر دیا ہے جس میں میں صدیوں سے تھی۔ اب میں تیری ایک خواہش پوری کروں گی۔ بتا، تو کیا چاہتا ہے؟”

لکڑہارا نے فوراً کہا، “میں چاہتا ہوں کہ میری بیوی دنیا کی سب سے خوش ترین عورت ہو۔”

پری نے کہا، “یہ بہت خوبصورت خواہش ہے۔ لیکن میں تمہیں بتاتی ہوں کہ خوشی پیسوں سے نہیں آتی۔ میں تمہیں ایک ایسی چادر دوں گی جو تمہاری بیوی کے آنسوؤں سے بنے گی۔ جب وہ تمہارے لیے خوشی کے آنسو بہائے گی، تو وہ چادر مکمل ہو جائے گی۔”

یہ کہہ کر پری غائب ہو گئی اور لکڑہارے کے ہاتھ میں ایک سفید کپڑا آ گیا۔ وہ بہت حیران ہوا اور اسے لے کر گھر واپس آ گیا۔ اس نے اپنی بیوی کو سب کچھ بتایا اور کہا کہ وہ اس کپڑے کو ہر روز اپنے پاس رکھے۔

دن گزرتے گئے۔ لکڑہارے کی بیوی نے اس کپڑے کو سنبھال کر رکھا اور ہر روز اسے دیکھتی۔ جب بھی وہ اپنے شوہر کے لیے کھانا پکاتی، جب بھی وہ اس کے زخمی ہاتھوں پر مرہم رکھتی، جب بھی وہ اسے سردیوں میں گرم رکھنے کی کوشش کرتی، اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔

ایک روز لکڑہارا شدید بیمار ہو گیا۔ بیوی نے رات دن اس کی خدمت کی۔ اس نے اپنے بال بیچ کر دوائی خریدی اور اپنے زیور بیچ کر اسے گرم کپڑے دیے۔ جب لکڑہارا صحت یاب ہوا تو اس نے دیکھا کہ وہ سفید کپڑا اب ایک خوبصورت چادر بن چکا ہے جس پر سنہری دھاگے چمک رہے تھے۔

لکڑہارے نے پوچھا، “یہ کیسے ہوا؟”

بیوی نے جواب دیا، “تمہارے لیے جو آنسو میں نے بہائے، وہ اس چادر میں پروئے گئے۔ اب یہ چادر مکمل ہو چکی ہے اور اس کے اندر میری تم سے محبت ہے۔”

لکڑہارے کو سمجھ آ گئی کہ حقیقی خوشی دولت میں نہیں، بلکہ محبت اور قربانی میں ہے۔ اس نے اس چادر کو ہمیشہ سنبھال کر رکھا اور اس کی یہ کہانی آنے والی نسلوں میں مشہور ہو گئی۔

اخلاقی سبق:

حقیقی خوشی اور محبت کا اظہار آنسوؤں سے ہوتا ہے جو دل سے بہتے ہیں۔ مادی دولت عارضی ہے، لیکن محبت اور قربانی کی قدر ہمیشہ رہتی ہے۔

حوالہ:
یہ کہانی پولش لوک ادب کی مشہور کہانیوں میں سے ایک ہے، جسے مریم روزانسکی نے اپنی کتاب ”Slavic Folk Tales“ میں شامل کیا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner