Tag Archives: urdustory urdu blog bloganuary

ایک سائنسی تجربے کے دوران ماہرین نے دو بندروں کو ایک ہی طرح کا سادہ کام دیا. جب پہلے بندر نے اپنا کام مکمل کیا، تو اسے انعام کے طور پر کھیرا دیا گیا. بندر نے بڑی رغبت سے اسے کھانا شروع کیا؛ وہ تازہ تھا، لذیذ تھا اور بندر اپنی اس محنت کے پھل سے پوری طرح مطمئن اور خوش تھا. لیکن پھر کہانی میں ایک موڑ آیا. اس بندر کی نظر برابر والے پنجرے میں بیٹھے دوسرے بندر پر پڑی. اس نے دیکھا کہ دوسرے بندر نے بھی وہی کام کیا تھا، مگر اسے انعام میں کھیرے کے بجائے کیلا ملا. بس یہی وہ لمحہ تھا جہاں پہلے بندر کی دنیا بدل گئی. اچانک اسے اپنا وہ کھیرا، جو چند لمحے پہلے تک بہت لذیذ لگ رہا تھا، بے کار اور حقیر محسوس ہونے لگا. اس نے غصے میں وہ کھیرا سائنسدان کے منہ پر دے مارا اور…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم الشان شہنشاہ تھا جس نے حکم دیا کہ ایک ایسا محل تعمیر کیا جائے جس کی مثال پوری دنیا میں نہ ملے۔ اس محل میں بے شمار عجائبات تھے، مگر سب سے حیرت انگیز ایک خاص کمرہ تھا۔ اس کمرے کی دیواریں، چھت، دروازے اور یہاں تک کہ فرش بھی مکمل طور پر شفاف آئینوں سے بنایا گیا تھا۔ یہ آئینے اس قدر صاف اور بے داغ تھے کہ اندر آنے والا شخص فوراً دھوکہ کھا جاتا۔ قدم رکھتے ہی یوں لگتا جیسے وہ کسی اور ہی دنیا میں آ گیا ہو۔ اس کمرے کی ایک اور عجیب بات یہ تھی کہ یہاں معمولی سی سرگوشی بھی گونج بن کر واپس پلٹتی تھی، اور ہر آواز دیواروں سے ٹکرا کر کئی گنا بڑھ کر لوٹ آتی تھی۔ ایک رات ایک آوارہ کتا بھٹکتا ہوا محل میں داخل ہوا اور بھاگتا ہوا اسی…

Read more

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب سرزمینِ شام کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے تو بلقاء کے علاقے میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام بلعام بن باعوراء تھا۔ وہ اپنی قوم میں اس وجہ سے مشہور تھا کہ اس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اور اسے خاص روحانی علم عطا کیا گیا تھا، یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق وہ اسمِ اعظم سے واقف تھا۔ اس کی قوم نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی آمد کی خبر سنی تو وہ خوف زدہ ہو گئے۔ وہ بلعام کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ “موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ آ رہے ہیں، وہ ہمیں ہمارے گھروں سے نکال دیں گے، ہماری زمینوں پر قبضہ کر لیں گے۔ تم ہمارے لیے دعا کرو کہ وہ یہاں نہ آ سکیں۔ بلعام نے حقیقت جانتے ہوئے جواب دیا: “افسوس ہے تم پر! وہ اللہ کے نبی…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب زمین پر عدل کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا، اور اس عدل کے سائے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکمرانی قائم تھی وہ بادشاہ جن کے سامنے نہ صرف انسان بلکہ پرندے، جانور اور جنات بھی سرِ تسلیم خم کرتے تھے۔ اسی دور میں ایک سادہ سا چرواہا تھا، جو آپ علیہ السلام کی بھیڑوں کی نگہبانی کیا کرتا تھا۔وہ نہ کوئی عالم تھا، نہ کوئی سردار، مگر اپنے فرض میں سچا اور دل سے مخلص تھا۔ ایک دن، جب وہ میدان میں اپنی بھیڑوں کے ساتھ مصروف تھا، اچانک ایک بھیڑیا نمودار ہوا۔مگر یہ کوئی عام بھیڑیا نہ تھا وہ بولا: “اے چرواہے! مجھے ان بھیڑوں میں سے ایک بھیڑ دے دو۔ چرواہا چونک گیا، اس نے حیرت سے کہا: “یہ بھیڑیں میرے اختیار میں نہیں، یہ تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی ہیں، میں تو صرف…

Read more

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو اس نے محل کے صدر دروازے پر ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو پرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رہا تھا۔ بادشاہ نے اس کی طرف دیکھا تو ایک دوسرے دربان کی نسبت وہ بہت بوڑھا لگ رہا تھا، اور ساتھ ہی بہت کمزور بھی۔ بادشاہ نے اپنے دل میں سوچا کہ اس عمر میں اس نے اسے اس عہدے پر کیوں لگا رکھا ہے، لیکن پھر وہ اس کے پاس سے گزر گیا۔ بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا: “میاں! سردی نہیں لگ رہی؟” دربان نے جواب دیا: “بہت لگتی ہے حضور! مگر کیا کروں، گرم وردی ہے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ہے۔” بادشاہ کے دل میں رحم آیا۔ اس نے کہا: “میں ابھی محل کے اندر جا…

Read more

ایک چوہدری نے ایک مراثی کو ملازم رکھ لیا۔سردیوں کا موسم تھا، ایک رات دونوں ایک ہی کمرے میں رضائی اوڑھے لیٹے ہوئے تھے۔چوہدری نے کہا:“ذرا باہر دیکھو، بارش ہو رہی ہے یا نہیں؟”مراثی نے سکون سے جواب دیا:“ابھی ابھی ایک بلی باہر سے آ کر آپ کی چارپائی کے پاس بیٹھی ہے۔ اگر اسے ہاتھ لگائیں اور وہ گیلی نکلے تو سمجھ لیں بارش ہو رہی ہے، اور اگر سوکھی ہو تو مطلب بارش نہیں۔” کچھ دیر بعد چوہدری نے پھر آواز دی:“اٹھو اور ذرا بتی جلا دو۔”مراثی بولا:“سرکار، منہ کمبل کے اندر کر لیں، بتی خود ہی بجھ جائے گی۔” تھوڑی دیر گزری تو چوہدری پھر بول پڑا:“دروازے سے ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے، اٹھ کر اسے اچھی طرح بند کر دو۔”مراثی ہنستے ہوئے بولا:“حضور! دو کام تو میں پہلے ہی کر چکا ہوں، اب ایک کام آپ بھی خود کر لیں۔” #منقول

کوریا کے ایک گاؤں میں ایک بہت بڑا شیر رہتا تھا۔ وہ بہت طاقتور اور خوفناک تھا، لیکن ایک چیز سے وہ بہت ڈرتا تھا املوک (persimmon)۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ اس کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک سردیوں کی شام کو گاؤں میں ایک ماں اپنے روتے ہوئے بچے کو چپ کرانے کی کوشش کر رہی تھی۔ باہر برف پڑ رہی تھی اور ہوا میں سردی کا زور تھا۔ بچہ کسی بھی طرح خاموش نہیں ہو رہا تھا۔ ماں نے پہلے کہا، “چپ رہو، ورنہ شیر آ جائے گا!” لیکن بچہ روتا رہا۔ پھر ماں نے کہا، “دیکھو، املوک!” (املوک ایک پھل ہے جو کورین بچوں کو بہت پسند ہے)۔ بچہ فوراً خاموش ہو گیا۔ اتفاق سے یہ سب کچھ ایک شیر سن رہا تھا جو باہر دیوار کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ وہ اپنے پنجے چبھو چکا تھا اور گھر میں گھسنے ہی والا تھا کہ اس…

Read more

ریاضى میں کمزور دو دوست انٹرویو کیلئے تیار بیٹھے تھے،پہلے کا نمبر آیا تو وه اندر داخل ہُوا…. آفیسر: آپ ٹرین سے سفر کر رہے ہوں اور اچانک آپ کو گرمى لگے تو کیا کرو گے؟ امیدوار: میں کھڑکى کھول دُوں گا۔ آفیسر : بہت خُوب، اَب بتاؤ کہ اگر وه کھڑکى 1.5 اسکوئر میٹر ہے اور ڈبے کا رقبہ 12×90 فٹ ہے اور ٹرین 80 کلومیٹر فى گھنٹہ کى رفتار سے جنوب کى طرف جا رہى ہو اور ہوا جنوب سے 5 میل فى سیکنڈ کی رفتار سے ڈبے میں داخل ہو رہى ہو تو پُورا ڈبه ٹھنڈا ہونے میں کتنا وقت درکار ہو گا؟ امیدوار نے کوشش کى مگر جواب نہ دے سکا اور وه فیل ہو گیا۔ باہر آ کر اُس نے وہ سوال اپنے دوست کو بتایااب اس کى بارى آئی۔۔۔ آفیسر : آپ ٹرین میں سفرکر رہے ہوں، اچانک آپ کو گرمى لگے تو کیا…

Read more

عرب کے ایک گاؤں میں ایک بوڑھے کسان کے پاس ایک بہت ہی خوبصورت مرغ تھا۔ اس کی چونچ سنہری، پر شوخ رنگوں سے بھرپور اور بانگ اتنی سریلی تھی کہ سننے والے دنگ رہ جاتے تھے۔ لیکن حقیقت میں اس مرغ میں سب سے بڑی خوبی اس کی غیر معمولی عقل اور ہوشیاری تھی۔ یہ مرغ اپنے مالک سے بے حد وفادار تھا اور اسے کسی بھی قسم کی مصیبت سے بچانے کے لیے ہر وقت چوکس رہتا تھا۔ دوسری طرف اسی گاؤں کے قریب واقع جنگل میں ایک بڑی ہی چالاک اور مکار لومڑی رہتی تھی۔ وہ بہت دنوں سے اس مرغ کو پکڑ کر کھانے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ لیکن مرغ کی عقل مندی کی وجہ سے وہ بار بار ناکام ہو جاتی تھی۔ ایک دن لومڑی نے اپنے دوست گیدڑ سے مشورہ کیا، “دوست! اس مرغ کو پکڑنے کا کوئی ایسا طریقہ بتاؤ جس سے…

Read more

ایک پرانا اور طوفانی سمندر تھا، جہاں ایک جہاز بے سمت لہروں کے درمیان سفر کر رہا تھا۔ اس جہاز پر ایک شخص تھا جسے دنیا پانورژ (Panurge) کے نام سے جانتی تھی۔ وہ ایک ذہین مگر طنز پسند مزاج کا آدمی تھا، جو ہر چیز کو سوال کی نظر سے دیکھتا تھا۔ اسی جہاز پر ایک مالدار تاجر بھی سوار تھا، جس کا نام ڈنڈینو (Dindenault) تھا۔ اس کے ساتھ بھیڑوں کا ایک بڑا ریوڑ تھا، جنہیں وہ اگلی بندرگاہ پر منافع کے لیے بیچنے جا رہا تھا۔ ڈنڈینو کے چہرے پر وہی سکون تھا جو صرف اس شخص کو ہوتا ہے جس کے دل میں انسان نہیں، صرف منافع رہ جائے۔ پانورژ اور ڈنڈینو کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہو گئی۔ بات لفظوں سے بڑھ کر انا تک جا پہنچی۔ ڈنڈینو نے اسے حقارت سے دیکھا، جیسے وہ کوئی بے وقعت چیز ہو۔ یہی لمحہ تھا…

Read more

جاپان میں کسی جگہ ایک میاں بیوی بڑی خوش حال زندگی بسر کر رہے تھے، لیکن بدقسمتی سے ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ ایک روز وہ عبادت گاہ میں گئے اور گڑگڑا کر دعا کی۔ “اے اللہ، اپنی رحمتوں سے ہمیں ایک بچہ عطا فرما، چاہے انگلی کے ایک پور کے برابر ہو۔” کچھ عرصے بعد ان کے ہاں ایک خوب صورت لڑکا پیدا ہوا۔ لیکن اس کا قد بالغ انسان کی انگلی سے بھی کم تھا، اس کے باوجود اس کے والدین نے اسے ناز و نعم سے پالا جیسے وہ ان کی آنکھ کا تارا ہو۔ لڑکا انتہائی ذہین اور اچھے اخلاق کا تھا، مگر اس کے قد میں اضافہ نہ ہوا۔ اڑوس پڑوس کے لوگ بھی اس سے محبت پیار سے پیش آتے اور اسے سن بوشی کے نام سے پکارتے۔ “سن” ایک پیمانہ ہے تقریباً تین سینٹی میٹر کے برابر اور “بوشی” کے معنی پروہت…

Read more

وہ زمانہجب زمین پر اندھیروں کا راج تھا،اور آسمان کی طرف اٹھنے والی نگاہیں کم ہو چکی تھیں مگر انہی اندھیروں میں ایک چراغ تھاحضرت ابراہیم علیہ السلام۔ وہ صرف ایک نبی نہیں تھے،وہ تلاش تھےوہ سوال تھےوہ یقین تک پہنچنے کا سفر تھے۔ شام کا وقت تھاسورج سمندر کے کنارے ڈوب رہا تھالہریں آہستہ آہستہ ساحل کو چھو رہی تھیں حضرت ابراہیمؑ تنہا کھڑے تھےخاموشسوچ میں ڈوبے ہوئے ان کی نظر ایک عجیب منظر پر پڑی ایک مردہ جسمجسے مچھلیاں کھا رہی تھیںپھر پرندے آئےپھر درندے ایک ہی جسم کے ٹکڑےمختلف مخلوقات کے پیٹ میں جا رہے تھے یہ منظر عام انسان کو شاید نظرانداز کر دیتالیکن ایک نبی کی نگاہ میں یہ سوال بن گیا۔ ایک سوال، جو ایمان کے اندر سے اٹھا حضرت ابراہیمؑ کے دل میں ایک کیفیت پیدا ہوئی یہ شک نہیں تھایہ انکار نہیں تھایہ صرف ایک خواہش تھی “میں دیکھنا چاہتا ہوں” انہوں…

Read more

دور دور کے زمانے کی بات ہے کہ ایک بادشاہ تھا جو اپنی ظلم و جور کی وجہ سے مشہور تھا۔ اس کی رعایا اس سے بے حد خوفزدہ تھی۔ لوگ اس کی موت کی دعائیں مانگتے تھے اور اس کے تخت کے الٹ جانے کی آرزو رکھتے تھے۔ مظلوموں کی آہیں آسمان تک پہنچ رہی تھیں، لیکن بادشاہ اپنی روش پر ڈٹا ہوا تھا۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ پوری دنیہ حیران رہ گئی۔ اس ظالم بادشاہ نے اعلان کر دیا کہ وہ اپنی سابقہ عادات کو ترک کر رہا ہے اور اب وہ کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ اس نے وعدہ کیا کہ اس کی حکومت اب انصاف اور مساوات پر قائم ہوگی۔ لوگوں کو یقین نہ آیا، لیکن جب کئی مہینے گزر گئے اور بادشاہ اپنے وعدے پر قائم رہا تو رعایا نے اسے داد دینا شروع کر دی۔ لوگ اب اسے برکتوں سے یاد…

Read more

شہر کے درمیان میں ایک اونچے ستون پر خوش راجکمار کا مجسمہ کھڑا تھا۔ وہ بالکل سونے کا بنا ہوا تھا، اس کی آنکھوں کی جگہ دو نیلم جڑے ہوئے تھے، اور اس کی تلوار کے قبضے پر ایک بہت بڑا سرخ یاقوت جڑا ہوا تھا۔ یہ مجسمہ بہت خوبصورت تھا۔ ہر کوئی اسے دیکھ کر حیران رہ جاتا تھا۔ شہر کے ایک بوڑھے کونسلر نے کہا: “وہ ہوا کے جھونکے کی طرح خوبصورت ہے۔” لیکن دوسرے کونسلر، جو ہمیشہ اپنی اہمیت جتانا چاہتے تھے، نے کہا: “وہ اتنا خوبصورت نہیں جتنا کہ مفید ہے۔” اور اس نے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے ایک اور چیز بھی کہی  جو کوئی نہیں سمجھ سکا، لیکن وہ خود اس سے بہت خوش تھا۔ “تمہیں ہمیشہ اپنی اہمیت جتانے کا طریقہ آتا ہے،” بوڑھے کونسلر نے کہا۔ رات کے وقت، جب شہر میں سناٹا چھا جاتا تھا، ایک چھوٹا سا نگل پرندہ…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے کہ ایک گھنے جنگل میں ایک بوڑھا شیر رہتا تھا، جسے سب جانور دل ہی دل میں اپنا بادشاہ تسلیم کرتے تھے۔ اگرچہ اس کی جسمانی طاقت پہلے جیسی نہ رہی تھی، مگر اس کی ہیبت اور وقار بدستور قائم تھا۔ اب وہ شکار کے بجائے دربار لگاتا اور جانوروں کے درمیان انصاف کے فیصلے کیا کرتا تھا۔ روزانہ جنگل کے مختلف جانور اس کے دربار میں حاضر ہوتے، ادب سے سلام پیش کرتے اور اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے۔ خصوصاً لومڑیاں ہر وقت اس کے گرد منڈلاتیں اور نہایت خوشامدانہ انداز میں کہتیں: “حضور، آپ جیسا عادل حکمران زمانے نے نہیں دیکھا۔” “آپ کی دانائی تو مثال سے بالاتر ہے۔” شیر ان باتوں سے خوش ہوتا اور ان چاپلوسوں کو اپنے قریب رکھتا۔ ایک دن ایک کمزور سا ہرن، لنگڑاتا ہوا دربار میں حاضر ہوا۔ اس کی آنکھوں میں…

Read more

تاریخ کی کتابوں میں ایک واقعہ درج ہے کہ ایک بدو کی دلہن کو جس گھوڑے پر بٹھا کر لوگ لائے تھے ۔ دلہن کے گھوڑے سے اترتے ہی اس بدو نے اس گھوڑے کی تلوار سے گردن الگ کردی ۔ لوگوں نے اس سے ایسا کرنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میری بیوی کے اترنے کے فوراً بعد ہی کوئی اور اس کی پیٹھ پر بیٹھ جائے اور دلہن کی سواری کی وجہ سے تاحال گھوڑے کی پیٹھ گرم ہو اور کوئی غیر مرد اس حرارت کو محسوس کر لے ۔ اسی طرح ایک اور واقعہ ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا کہ اس کے ذمہ میرے حق مہر کے ۵۰۰ دینار ہیںعدالت نے شوہر کو بلا کر پوچھا تو اس نے انکار کر دیا ۔عدالت نے گواہوں کو طلب کیا اور…

Read more

قصہ قومِ ثمود اور حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کاشہر ’’حجر‘‘ کی رنگین ،مدہوش اور پُرتعیش رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ موج مستی، رقص و سُرود، شراب و کباب کی محفلیں عروج پر تھیں۔ محلّات سے بازاروں تک، گھروں سے گلی کُوچوں تک، صحرائوں سے میدانوں تک غیراخلاقی حرکات اور مکروہ دھندوں نے احترامِ آدمیت کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دی تھیں۔ مال و دولت کی فراوانی اور نعمتِ خداوندی کی کثرت نے شہر کے باسیوں کو اللہ سے غافل کردیا تھا اور شیطان اُن کی حیوانی خصلتوں پر قابض ہوچکا تھا۔ یہ اُن کا روز و شب کا معمول تھا، حکم عدولی اور نافرمانی اُن کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ہاں، اگر کوئی نئی بات تھی، تو وہ اللہ کے نبی، حضرت صالح علیہ السلام کا یہ فرمان تھا کہ ’’اے میری قوم! تمہارے پاس عیش و عشرت کے لیے صرف تین دن بچے…

Read more

بچپن میں اک لطیفہ سنا تھا۔اک شخص کسی جرم میں جنگلی قبیلے میں پھنس گیا۔قبیلے کے سردار نے اس شخص کو دو انتخاب دیئے۔1۔ شانگالولو2۔ سزائے موتشانگالولو کیا ہے؟ اس شخص نے پوچھا۔ شانگالولویہ ہے کہ آپ کو ننگا کیا جائے گا اور قبیلے کا ہر شخص آپ کو 100 چھتر مارے گا !اس کو یہ بےعزتی لگی اور اس نے کہا مجھے سزائے موت دے دو !سرداد نے حکم دیا ۔ اس کو موت بذریعہ شانگالولو دی جائے۔ 😅😅😅ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاگر کوئی تحریر اچھی لگے تو اسے لائیک اور شیئر ضرور کریں۔اگر آپ کہانیاں پڑھنے کے شوقین ہیں تو میری پروفائل فالو کرلیں۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا اے فرعون ! تو اسلام قبول کر لے اس کے عوض تیری آخرت تو بہتر ہو ہی جائے گی مگر دنیا میں بھی تجھے چار نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ تو علی الاعلان اس بات کا اقرار کر لے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی خدا نہیں وہ بلندی پر افلاک اور ستاروں کا پستی میں جن وانس شیاطین اور جانوروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ پہاڑوں، دریاؤں، جنگلوں اور بیابانوں کا بھی خالق و مالک ہے۔ اس کی سلطنت غیر محدود ہے اور وہ بے نظیر و بے مثال ہے۔ وہ ہر شخص و ہر مکان کا نگہبان ہے۔ عالم میں ہر جاندار کو رزق دینے والا ہے۔ آسمانوں اور زمینوں کا محافظ ہے نباتات میں پھول پیدا کرنے والا اور بندوں کے دلوں کی باتوں کو جاننے والا سرکشوں پر حاکم اور ان کی سرکوبی کرنے والا…

Read more

19/19
NZ's Corner