بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک پرانا اور طوفانی سمندر تھا، جہاں ایک جہاز بے سمت لہروں کے درمیان سفر کر رہا تھا۔ اس جہاز پر ایک شخص تھا جسے دنیا پانورژ (Panurge) کے نام سے جانتی تھی۔ وہ ایک ذہین مگر طنز پسند مزاج کا آدمی تھا، جو ہر چیز کو سوال کی نظر سے دیکھتا تھا۔

اسی جہاز پر ایک مالدار تاجر بھی سوار تھا، جس کا نام ڈنڈینو (Dindenault) تھا۔ اس کے ساتھ بھیڑوں کا ایک بڑا ریوڑ تھا، جنہیں وہ اگلی بندرگاہ پر منافع کے لیے بیچنے جا رہا تھا۔ ڈنڈینو کے چہرے پر وہی سکون تھا جو صرف اس شخص کو ہوتا ہے جس کے دل میں انسان نہیں، صرف منافع رہ جائے۔

پانورژ اور ڈنڈینو کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہو گئی۔ بات لفظوں سے بڑھ کر انا تک جا پہنچی۔ ڈنڈینو نے اسے حقارت سے دیکھا، جیسے وہ کوئی بے وقعت چیز ہو۔ یہی لمحہ تھا جب پانورژ کے اندر ایک عجیب سی چنگاری بھڑک اٹھی۔

مگر اس نے غصے کو چیخ میں نہیں بدلا… بلکہ ایک خاموش منصوبے میں بدل دیا۔

اگلے ہی لمحے پانورژ نے ایک بھیڑ کی طرف اشارہ کیا اور اس کے لیے غیر معمولی قیمت کی پیشکش کر دی۔ لالچ نے ڈنڈینو کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ وہ فوراً راضی ہو گیا۔

پانورژ نے بھیڑ کو پکڑا، اسے جہاز کے کنارے تک لے گیا اور بغیر کسی جھجک کے سمندر میں پھینک دیا۔

پانی میں گرتے ہی وہ بھیڑ بے بسی سے ڈوبنے لگی… مگر اسی لمحے جو ہوا وہ انسان کی عقل کو حیران کر دینے کے لیے کافی تھا۔

ایک اور بھیڑ نے چھلانگ لگا دی۔
پھر دوسری۔
پھر تیسری…
اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا ریوڑ ایک کے بعد ایک سمندر میں کودنے لگا، جیسے ان کے فیصلے کسی اور کے ہاتھ میں ہوں، جیسے ان کے دماغ نہیں بلکہ صرف آنکھیں کام کر رہی ہوں۔

ڈنڈینو چیختا رہا، بھاگتا رہا، روکنے کی کوشش کرتا رہا… مگر ریوڑ کی اندھی تقلید کے سامنے اس کی آواز ایک بے معنی صدا بن گئی۔

اور پھر آخری لمحہ آیا

جب اس نے آخری بھیڑ کو پکڑ کر روکنے کی کوشش کی، تو وہ بھیڑ بھی اسی اندھے بہاؤ میں اسے اپنے ساتھ کھینچتی ہوئی سمندر میں لے گئی۔

یوں لالچ، انا اور اندھی پیروی تینوں نے مل کر ایک پورا نظام ہلا کر رکھ دیا، اور سب کچھ پانی کی گہرائیوں میں دفن ہو گیا۔

سبق

یہ کہانی صرف بھیڑوں کی نہیں، انسانوں کی بھی ہے۔

ہجوم ہمیشہ درست نہیں ہوتا

زیادہ تر تباہی سوچ کے بغیر پیروی سے پیدا ہوتی ہے

لالچ اور انا انسان کو اندھا کر دیتی ہے

اصل خطرہ بھیڑ نہیں ہوتی…
اصل خطرہ وہ انسان ہوتا ہے جو اپنی عقل چھوڑ کر بھیڑ بن جائے۔

آج کے دور میں بھی بہت سے فیصلے “سوچ” سے نہیں بلکہ “ہجوم” سے ہوتے ہیں۔
اور جو لوگ ہجوم کے ساتھ بہہ جاتے ہیں، وہ اکثر اپنی منزل نہیں بلکہ اپنا نقصان تلاش کرتے ہیں۔

لہٰذا یاد رکھیں: جو شخص خود نہیں سوچتا، وہ کسی اور کی سوچ کا حصہ بن جاتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner