حضرت سلیمان علیہ السلام اور چیونٹی۔۔!

حضرت سلیمان علیہ السلام اور چیونٹی۔۔!

حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے وہ سلطنت عطا کی تھی جیسی کسی اور کو نہیں دی گئی۔ ہوا ان کے تابع تھی، وہ صبح کا سفر ایک مہینے کی مسافت کا کرتے اور شام کا سفر بھی ایک مہینے کا۔ ان کے لیے تانبے کا چشمہ بہایا گیا۔ جنات ان کے لیے اونچے اونچے محل اور بڑے بڑے لگن بناتے تھے۔ پرندوں کی بولیاں انہیں سکھائی گئی تھیں اور ان کی فوجوں میں جنات، انسان، پرندے اور تمام جانور شامل تھے۔

ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے پورے لشکر کے ساتھ ایک وادی سے گزر رہے تھے۔ لشکر اتنا بڑا تھا کہ اس کا کوئی شمار نہ تھا، ہوا میں پرندے اڑ رہے تھے، زمین پر انسان اور جنات چل رہے تھے، اور سب کچھ اللہ کے حکم سے ان کے تابع تھا۔

جب وہ وادی نمل (چیونٹیوں کی وادی) کے قریب پہنچے تو اچانک حضرت سلیمان علیہ السلام کی تیز سماعت نے ایک بہت ہی دھیمی آواز سنی۔ ایک آواز جو تین میل دور سے آ رہی تھی۔ یہ چیونٹیوں کی ملکہ تھی جو اپنی قوم سے کہہ رہی تھی:

“اے چیونٹیو! تم سب جلدی سے اپنے گھروں میں چلی جاؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کا لشکر تمہیں کچل ڈالیں جبکہ انہیں تمہارا پتا بھی نہ ہو۔”

یہ سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام مسکرا دیے۔ انہوں نے اپنے لشکر کو فوراً روکنے کا حکم دے دیا۔ ان کے دل میں ایک عجیب سی کیفیت تھی۔ وہ اس چھوٹی سی چیونٹی کی فکر اور دانائی پر حیران تھے۔ اس نے اپنی قوم کی حفاظت کے لیے ایک ایسا انتظام کیا جس کی فکر ایک عظیم بادشاہ کو بھی نہ ہوئی تھی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس چیونٹی کی آواز پر غور کیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جتنی بھی سلطنت دی ہے، اس کے باوجود ایک چھوٹی سی چیونٹی بھی اپنے معاملات میں اللہ کی طرف سے دی گئی عقل سے کام لے رہی ہے۔

قرآن مجید میں اس واقعے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

“یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی پر پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا: اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔”
(سورہ نمل، آیت ۱۸)

اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“تو سلیمان اس کی بات پر مسکرا کر ہنس پڑے۔”
(سورہ نمل، آیت ۱۹)

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے لشکر کو اس وقت تک انتظار کرنے کا حکم دیا جب تک تمام چیونٹیاں اپنے گھروں میں داخل نہ ہو جائیں۔ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور کہا:

“اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے، اور میں ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو جائے، اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل کر لے۔”
(سورہ نمل، آیت ۱۹)

یہ واقعہ صرف ایک تاریخی قصہ نہیں ہے۔ اس میں انسانوں کے لیے بہت سے سبق ہیں۔ ایک بادشاہ جس کے پاس جنات اور ہوائیں تابع تھیں، وہ ایک چیونٹی کی ایک معمولی سی بات پر رک جاتا ہے۔ وہ مسکراتا ہے، لشکر روکتا ہے، اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔

اخلاقی سبق:

اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کے مطابق عقل اور فہم عطا کیا ہے۔ بڑی مخلوق کو بڑی طاقت دی، چھوٹی کو چھوٹی، لیکن ہر ایک کے پاس اپنے معاملات سنبھالنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کبھی کسی کو اپنے سے کم تر نہ سمجھے اور ہر مخلوق کے حقوق کا لحاظ رکھے۔

حوالہ:
یہ واقعہ قرآن مجید کی سورہ نمل کی آیت ۱۸ اور ۱۹ میں مذکور ہے۔ تفسیری کتب میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner