عرب کے ایک گاؤں میں ایک بوڑھے کسان کے پاس ایک بہت ہی خوبصورت مرغ تھا۔ اس کی چونچ سنہری، پر شوخ رنگوں سے بھرپور اور بانگ اتنی سریلی تھی کہ سننے والے دنگ رہ جاتے تھے۔ لیکن حقیقت میں اس مرغ میں سب سے بڑی خوبی اس کی غیر معمولی عقل اور ہوشیاری تھی۔ یہ مرغ اپنے مالک سے بے حد وفادار تھا اور اسے کسی بھی قسم کی مصیبت سے بچانے کے لیے ہر وقت چوکس رہتا تھا۔
دوسری طرف اسی گاؤں کے قریب واقع جنگل میں ایک بڑی ہی چالاک اور مکار لومڑی رہتی تھی۔ وہ بہت دنوں سے اس مرغ کو پکڑ کر کھانے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ لیکن مرغ کی عقل مندی کی وجہ سے وہ بار بار ناکام ہو جاتی تھی۔
ایک دن لومڑی نے اپنے دوست گیدڑ سے مشورہ کیا، “دوست! اس مرغ کو پکڑنے کا کوئی ایسا طریقہ بتاؤ جس سے یہ میرے جال میں پھنس جائے۔”
گیدڑ نے کہا، “تمہیں چالاکی سے کام لینا ہوگا۔ تم مرغ کی چاپلوسی کرو اور اسے اپنی طرف متوجہ کرو۔”
لومڑی نے یہ تدبیر پسند کر لی۔ اگلے دن وہ کسان کے گھر کے پاس پہنچی اور اونچی آواز میں کہنے لگی، “السلام علیکم! اے خوبصورت مرغ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ پورے جنگل میں تمہاری تعریف کے چرچے ہیں؟”
مرغ نے درخت پر بیٹھ کر جواب دیا، “وعلیکم السلام! لومڑی بہن، تم کیا کہہ رہی ہو؟”
لومڑی نے کہا، “حقیقت یہ ہے کہ پورے جنگل کے جانور تمہاری عقل اور خوبصورتی کے معترف ہیں۔ بس تم ایک بار نیچے آؤ، میں تمہیں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی ہوں۔”
مرغ مسکرایا اور بولا، “لومڑی بہن! تمہاری تعریف تو بہت اچھی ہے، لیکن تم یہاں کیوں آئی ہو؟ تمہارے دانت تو کھانے کے لیے ترس رہے ہوں گے۔”
لومڑی نے جھوٹی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا، “تم مجھ پر کیوں شک کرتے ہو؟ میں تو صرف تم سے دوستی کرنا چاہتی ہوں۔”
مرغ نے کہا، “اچھا تو پھر تم اپنی دوستی ثابت کرو۔ وہاں دیکھو، شکاری کا کتا آ رہا ہے۔ اگر تم سچی دوست ہو تو اس کا مقابلہ کرو۔”
لومڑی نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسے ایک بڑا سا کتا نظر آیا۔ وہ ڈر کے مارے وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی۔ مرغ نے اونچی آواز میں کہا، “لومڑی بہن! تمہاری دوستی تو دکھاوے کی نکلی۔”
لومڑی بہت شرمندہ ہوئی اور واپس جنگل چلی گئی۔ اس دن کے بعد اس نے کبھی مرغ کو پکڑنے کی کوشش نہیں کی۔
کسان نے مرغ کی اس عقل مندی کی بہت تعریف کی اور اسے ہمیشہ اپنے قریب رکھا۔ مرغ نے باقی زندگی اپنے مالک کے ساتھ خوشی سے گزاری۔
اخلاقی سبق: عقل مند اور ہوشیار انسان کو چاپلوسی اور جھوٹی تعریف کے جال میں نہیں پھنسنا چاہیے۔ ہر معاملے میں آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں اور دوسروں کے اصل ارادوں کو بھانپ لینا چاہیے۔
حوالہ: یہ کہانی عربی ادب کی مشہور کتاب الف لیلہ سے ماخوذ ہے۔
