بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

کہتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب زمین پر عدل کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا، اور اس عدل کے سائے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکمرانی قائم تھی وہ بادشاہ جن کے سامنے نہ صرف انسان بلکہ پرندے، جانور اور جنات بھی سرِ تسلیم خم کرتے تھے۔

اسی دور میں ایک سادہ سا چرواہا تھا، جو آپ علیہ السلام کی بھیڑوں کی نگہبانی کیا کرتا تھا۔
وہ نہ کوئی عالم تھا، نہ کوئی سردار، مگر اپنے فرض میں سچا اور دل سے مخلص تھا۔

ایک دن، جب وہ میدان میں اپنی بھیڑوں کے ساتھ مصروف تھا، اچانک ایک بھیڑیا نمودار ہوا۔
مگر یہ کوئی عام بھیڑیا نہ تھا

وہ بولا: “اے چرواہے! مجھے ان بھیڑوں میں سے ایک بھیڑ دے دو۔

چرواہا چونک گیا، اس نے حیرت سے کہا: “یہ بھیڑیں میرے اختیار میں نہیں، یہ تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی ہیں، میں تو صرف ان کا رکھوالا ہوں۔

بھیڑیا مسکرایا، جیسے اسے پہلے ہی یہ جواب معلوم ہو: “تو پھر جا کر اپنے بادشاہ سے پوچھ لو اگر وہ اجازت دیں تو میں ایک بھیڑ لے لوں گا۔”

چرواہے نے تشویش سے کہا: “اور اگر میں چلا گیا تو؟ تم یہاں موجود بھیڑوں کو نقصان پہنچا دو گے۔

بھیڑیا خاموشی سے بولا: “میں وعدہ کرتا ہوں، جب تک تم واپس نہ آ جاؤ، میں خود ان کی حفاظت کروں گا۔
اور اگر میں نے خیانت کی، تو میں آخری زمانے کے اس انسان جیسا ہو جاؤں جو اپنے عہد سے پھر جاتا ہے۔”

یہ سن کر چرواہے کے دل میں عجیب سا یقین پیدا ہوا اور وہ روانہ ہو گیا۔

راستہ طویل تھا، مگر اس سے بھی زیادہ عجیب وہ مناظر تھے جو اس کے سامنے آ رہے تھے۔

پہلا منظر
ایک گائے، جو اپنی ہی بچی کا دودھ پی رہی تھی

چرواہا ٹھٹھک کر رک گیا۔ “یہ کیسا الٹ نظام ہے؟ ماں بچی کو پلانے کے بجائے خود اس سے پی رہی ہے؟”

وہ حیرت میں ڈوبا آگے بڑھ گیا۔

دوسرا منظر
کچھ لوگ، جن کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، چہرے تھکے ہوئے…
مگر ان کے ہاتھوں میں سونے سے بھری تھیلیاں تھیں۔

چرواہا سوچنے لگا: “یہ کیسی دولت ہے، جو انسان کو امیر نہیں بنا سکتی؟”

وہ سر ہلاتا ہوا آگے بڑھا۔

تیسرا منظر
ایک صاف بہتا ہوا چشمہ

وہ دوڑ کر پانی پینے گیا، مگر جیسے ہی قریب پہنچا، ایک تیز بدبو نے اسے پیچھے ہٹا دیا۔

“ظاہر میں صاف، مگر حقیقت میں گندا؟ یہ کیسی حقیقت ہے؟

وہ حیرتوں کے بوجھ کے ساتھ آگے بڑھتا رہا

آخرکار وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں پہنچا۔

اس نے بھیڑیے کا واقعہ سنایا۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا: “اسے اجازت ہے، وہ ایک بھیڑ لے سکتا ہے۔

چرواہے نے عرض کیا: “یا نبی اللہ! راستے میں جو عجیب نشانیاں دیکھی ہیں، ان کی حقیقت کیا ہے؟”

آپ علیہ السلام نے گہری نظر سے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا

✦ “پہلا منظر…
وہ وقت آئے گا جب رشتے اپنی اصل کھو دیں گے
لوگ اپنے ہی خون کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں گے محبت مفاد بن جائے گی۔

✦ “دوسرا منظر
یہ وہ لوگ ہیں جو حرام کماتے ہیں
دولت ان کے پاس ہوتی ہے، مگر سکون ان سے روٹھ جاتا ہے۔
ظاہر میں امیر، مگر حقیقت میں محتاج ہوتے ہیں۔”

✦ “تیسرا منظر
یہ وہ لوگ ہیں جو دین کا لبادہ اوڑھتے ہیں
ان کے الفاظ پاکیزہ ہوتے ہیں، مگر دل دنیا میں ڈوبا ہوتا ہے۔
ظاہر روشن، باطن بدبودار۔”

چرواہے کے جسم میں کپکپی دوڑ گئی۔

اس نے آہستہ سے کہا: “یا اللہ، مجھے ایسے زمانے سے محفوظ رکھنا”

جب وہ واپس پہنچا، تو اس کا دل دھڑک رہا تھا

مگر منظر حیران کن تھا۔

بھیڑیا واقعی خاموشی سے بھیڑوں کی حفاظت کر رہا تھا۔

چرواہے نے کہا: “تمہیں اجازت ہے، ایک بھیڑ لے لو۔”

بھیڑیے نے ریوڑ پر نظر ڈالی
پھر ایک کمزور، بیمار بھیڑ کو چن لیا۔

چرواہا حیران رہ گیا: “تم نے یہی کیوں چنی؟”

بھیڑیا بولا: “کیونکہ یہ اپنے رب کے ذکر سے غافل تھی
اور جو اپنے رب کو بھول جائے، وہی سب سے کمزور ہوتا ہے
جسم سے نہیں، روح سے۔”

سبق

یہ کہانی صرف ماضی کا واقعہ نہیں
یہ ہمارے آج کا آئینہ ہے۔

رشتے بدل رہے ہیں
دولت بے برکت ہو رہی ہے
اور ظاہری دینداری بڑھ رہی ہے، مگر باطن خالی ہوتا جا رہا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ وہ زمانہ کب آئے گا
اصل سوال یہ ہے۔

ہم خود اس کہانی میں کہاں کھڑے ہیں؟

Leave a Reply

NZ's Corner