Tag Archives: urdu blog

ایک گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا جو انتہائی کاہل اور چالاک طبیعت کا مالک تھا۔ محنت کرنا اس کے مزاج کے خلاف تھا، مگر دوسروں کو نقصان پہنچا کر فائدہ اٹھانا اس کی عادت بن چکی تھی۔ اس کے پاس ایک گدھا تھا، جس کی دیکھ بھال بھی وہ خود نہیں کرتا تھا۔ وہ گدھے کو رات کے وقت چپکے سے لوگوں کے کھیتوں میں چھوڑ دیتا تاکہ وہ وہاں چر کر اپنا پیٹ بھر لے، اور اس طرح اس کی سستی بھی قائم رہے اور خرچ بھی نہ آئے۔ مگر جب لوگوں کو اس کی حرکتوں کا علم ہوا تو انہوں نے سختی سے منع کر دیا کہ اگر تمہارا گدھا دوبارہ ہمارے کھیت میں آیا تو اسے مار دیا جائے گا۔ اب آدمی پریشان ہو گیا کہ بغیر خرچ کے کام کیسے چلے؟ بہت سوچنے کے بعد اس کے ذہن میں ایک مکاری آئی۔ اس نے کہیں…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے۔ ایک آدمی کے پاس ایک خوبصورت کتا تھا، جسے وہ بے حد چاہتا تھا۔ وہ کتے کو اپنے پاس بٹھا کر کھلاتا، سہلاتا اور اس سے باتیں کرتا۔ کتا بھی اپنے مالک کا نہایت فرمانبردار تھا۔ جہاں وہ جاتا، کتا دم ہلاتا اس کے پیچھے پیچھے چلتا اور اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اچھل کود کرتا۔ اسی آدمی کے پاس ایک گدھا بھی تھا۔ وہ دن بھر بوجھ ڈھو کر تھک جاتا اور رات کو اکیلا ایک کونے میں بندھا رہتا۔ مالک کبھی اس کی طرف توجہ نہ دیتا۔ ایک دن گدھے نے کھڑکی میں منہ ڈال کر اندر جھانکا۔ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ مالک اپنے کتے کو نہ صرف مزے دار کھانا کھلا رہا ہے بلکہ اسے گود میں بٹھا کر پیار بھی کر رہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر گدھے کے دل میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔…

Read more

جنگل میں 🐯 شیر نے اعلان کیا کہ اب جنگل کا “خزانچی” رکھا جائے گا۔ جو سب سے ہوشیار ہو گا، وہی منتخب ہو گا 😎 🐺 لومڑی نے فوراً اپنا نام دے دیا۔ انٹرویو لینے کی ذمہ داری 🦉 الو کو ملی کیونکہ وہ رات کو جاگتا ہے اور سب کی خبریں رکھتا ہے۔ پہلے دن لومڑی آئی۔ الو نے پوچھا “خزانے کی رکھوالی کیسے کرو گی؟”لومڑی بولی “جی سر، آنکھیں بند کر کے۔ تاکہ لالچ نہ آئے” 😇 الو نے ایک زور دار چونچ ماری 👋 “جھوٹ کیوں بولتی ہو؟ آنکھیں بند کر کے تو تم خود خزانہ کھا جاؤ گی۔” اگلے دن لومڑی پھر آئی۔ الو: “چلو بتاؤ، اگر کوئی چوری کرے تو کیا کرو گی؟”لومڑی: “جی سر، میں شور مچا دوں گی۔”الو نے پھر چونچ ماری 👋 “جھوٹ۔ تم تو خود چوروں کی سردار ہو۔” تیسرے دن لومڑی تنگ آ کر 🐯 شیر کے پاس چلی…

Read more

ایک بادشاہ ایک گاؤں سے گزر رہا تھا۔ اچانک اُس کے راستے میں ایک بوڑھی عورت آکر کھڑی ہوگی، اور بولی ” اے بادشاہ تو میرے ساتھ انصاف یہاں کریں گا، یا قیامت کے دن پل صراط پر”یہ سن کر بادشاہ کانپ گیا، وہ فوراً بولا اماں “مجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ میں پل صراط پر فیصلہ کروں، میں یہیں انصاف کروں گا” بتا تجھے کس نے پریشان کیا؟بوڑھی عورت نے کہا ” کل تیری فوج کے سپاہی یہاں سے گزارے انہوں نے میری گائے ذبح کر کے کھا لی۔ میری روزی کا صرف وہ ہی ذریعہ تھی۔ میرے تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، اب میں اُن کی پرورش کیسے کروں گئ؟”یہ سن کر بادشاہ کو بڑا دکھ ہوا اور اُس نے اپنے وزیر کو کہہ کر بوڑھی عورت کو ستر گائے دلوا دی۔یہ تھے  “سلطان الپ ارسلان” سلجوقی سلطنت کے عظیم سلطان جو بہادری شجاعت میں بھی بےمثال…

Read more

ایک جنگل میں ایک بڑا زبردست اور طاقتور ہاتھی رہا کرتا تھا ۔ اور اُسی جنگل میں بہت سے گیدڑ بھی رہا کرتے تھے۔ ایک دن ایک گیدڑ نے کہا۔ خدا نے اس ہاتھی کو کتنا بڑا جسم دیا ہے ۔ اگر ہم بھی اتنے بڑے ہوتے ۔ تو جنگل پر ہمارا ہی راج ہوتا ۔ یہ سن کر ایک بڑھے گیدڑ نے جواب دیا ۔ میاں یہ کیا کہہ رہے ہو۔ خدا نے جسم موٹا تازہ ہاتھی کو دیا ہے مگر عقل کی دولت تو ہماری ہی قوم کو ملی ہے ۔ چاہیں تو اس ہاتھی کو ایک دن میں مار دیں ۔ نوجوان گیدڑ نے حیران ہوکر پوچھا ۔ بڑے میاں کیا یہ سچ مچ ہو سکتا ہے ۔ میرا تو خیال ہے ۔ کہ ہم جنگل کے سارے گیدڑ مل جائیں ۔ تب بھی ہاتھی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ ذرا سوچھ تو سہی ہماری اوقات…

Read more

تاریخ کی کتابوں میں ایک واقعہ درج ہے کہ ایک بدو کی دلہن کو جس گھوڑے پر بٹھا کر لوگ لائے تھے ۔ دلہن کے گھوڑے سے اترتے ہی اس بدو نے اس گھوڑے کی تلوار سے گردن الگ کردی ۔ لوگوں نے اس سے ایسا کرنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میری بیوی کے اترنے کے فوراً بعد ہی کوئی اور اس کی پیٹھ پر بیٹھ جائے اور دلہن کی سواری کی وجہ سے تاحال گھوڑے کی پیٹھ گرم ہو اور کوئی غیر مرد اس حرارت کو محسوس کر لے ۔ اسی طرح ایک اور واقعہ ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا کہ اس کے ذمہ میرے حق مہر کے ۵۰۰ دینار ہیںعدالت نے شوہر کو بلا کر پوچھا تو اس نے انکار کر دیا ۔عدالت نے گواہوں کو طلب کیا اور…

Read more

کہتے ہیں کسی ملک میں  ایک سال سخت قحط پڑا ۔ لوگ  بھوکے مرنے لگے ۔ ملک کے بادشاہ نے اپنے تمام اراکین سلطنت کو جمع کر کے اُن سے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے اور رعایا کی جان کس طرح بچائی جائے : تمام امرا ، وزرا ، نے بہت غور و خوض کے بعد یہ رائے دی کہ ان تمام لوگوں کو قتل کر دیا جائے جو ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے ہوں کیونکہ ملک کو اُن کی چنداں ضرورت نہیں اور اس طرح اناج کی جو مقدار کثیر اُن کی خوراک پر خرچ ہوتی ہے وہ بچے گی – اور یہ مفت کا خرچ  کم ہو کر جوانوں کے کام آئے گا۔ بادشاہ نے جو بالکل بے وقوف تھا ۔ اس تجویز کو بہت پسند کیا اور اپنے جنگی سپاہیوں کے  نام حکم جاری کر دیا کہ وہ بوڑھوں کے قتل عام پر آمادہ…

Read more

ایک دن نبی کریم ﷺ کوہِ صفا کی طرف تشریف لے جا رہے تھے کہ  راستے میں ابو جہل آ گیا۔ اس نے آپ ﷺ کو سخت الفاظ کہے، مگر میرے آقا ﷺ خاموش رہے… کچھ جواب نہ دیا۔بدبختی یہاں تک بڑھی کہ اس نے ہاتھ میں موجود لاٹھی سے حضور ﷺ کے سرِ اقدس پر وار کیا۔ خون جاری ہو گیا… مگر رحمتِ عالم ﷺ پھر بھی خاموش رہے، صبر فرمایا اور گھر تشریف لے آئے۔یہ منظر ایک لونڈی دیکھ رہی تھی۔کچھ دیر بعد حضرت امیر حمزہؓ شکار سے واپس آئے۔ اس لونڈی نے کہا:“اے حمزہ! آپ شکار کھیل کر آ رہے ہیں، مگر آج آپ کے بھتیجے محمد ﷺ کو ابو جہل نے لاٹھی ماری، یہاں تک کہ ان کے سر مبارک سے خون بہنے لگا… وہ یہ ظلم اس لیے کرتا ہے کہ اسے لگتا ہے محمد ﷺ کا کوئی مددگار نہیں۔ اگر آج عبدالمطلب زندہ ہوتے…

Read more

تھیسالیوں کا پاؤسانیاس نہایت دولت مند اور بااثر حکمران تھا. وہ سکندر کی ماں اولمپیا کو حاصل کرنے کا خواہشمند تھا اس نے چند طاقتور آدمیوں کو بہت سا مال و دولت دے کر اولمپیا کے پاس بھیجا تاکہ وہ اسے فلپ کو چھوڑ کر اس سے شادی کرنے پر آمادہ کریں. اولمپيا راضی نہ ہوئی تو پاؤسانیاس فلپ کو قتل کرنے اور اولمپیا کو حاصل کرنے کے ارادے سے تھیٹر کی طرف چل پڑا. وہ جانتا تھا کہ سکندر جنگی مہم میں مصروف تھا. فلپ اولمپک تھیٹر میں مقابلے دیکھ رہا تھا کہ ہتھیاروں سے مسلح پاؤسانیاس اپنے چند معزز ساتھیوں کے ساتھ وہاں آ دھمکا. وہ تیر کی طرح سیدھا فلپ کے پاس گیا اور تلوار سے اس کے سینے پر وار کیا. فلپ شدید زخمی ہو گیا. تھیٹر میں ہنگامہ برپا ہو گیا. وہاں سے پاؤسانیاس محل کی طرف بھاگا تاکہ اولمپيا کو اپنے قبضے میں لے…

Read more

400 خیموں کی آندھی: وہ ایک فیصلہ جس نے 600 سالہ سلطنت کی بنیاد رکھی 13ویں صدی کا اناطولیہ… منگولوں کے خوف سے در بدر بھٹکتا ایک چھوٹا سا خانہ بدوش ‘قائی’ قبیلہ، جس کے پاس کل اثاثہ محض 400 خیمے تھے۔ ایک دن سفر کے دوران قبیلے کے نوجوان سردار نے دور میدان میں دو فوجوں کو لڑتے دیکھا۔ ایک فوج طاقتور تھی، جبکہ دوسری کمزور اور شکست کے قریب۔ وہ چاہتا تو اپنا راستہ بدل کر خاموشی سے گزر جاتا، لیکن اس کی غیرت نے ہارتے ہوئے مظلوم کا ساتھ دینے پر مجبور کیا۔ اس نے اپنے چند سو گھڑ سواروں کے ساتھ کمزور فوج کے حق میں ایسا خوفناک حملہ کیا کہ ہاری ہوئی بازی جیت میں بدل گئی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ جس کمزور فوج (سلجوقوں) کو اس نے بچایا ہے، وہ انعام میں اسے ایک ایسی سرحد (سوغوت) دیں گے جہاں سے دنیا کی…

Read more

ایک آدمی کا گزر ایک جنگل سے ہوا جہاں شدید آگ لگی ہوئی تھی۔ اس نے دیکھا کہ جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ آگ کے حصار میں پھنسا اپنی جان بچانے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ آدمی کو ترس آگیا؛ اس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر سانپ کو آگ سے نکالا اور اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔جیسے ہی سانپ کی جان میں جان آئی، وہ بولا: “اب میں تمہیں ڈسوں گا۔”آدمی حیرت سے بولا: “یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے تو تمہارے ساتھ نیکی کی اور تمہیں موت کے منہ سے نکالا، کیا نیکی کا یہی صلہ ہے؟”سانپ نے سرد مہری سے جواب دیا: “میرے پاس تو نیکی کا یہی صلہ ہے۔”آدمی نے تجویز دی: “اگر تم یہی سمجھتے ہو تو چلو کسی تیسرے سے فیصلہ کروا لیتے ہیں۔” سانپ مان گیا۔ وہ کچھ آگے بڑھے تو انہیں ایک بھینس چربی ہوئی ملی۔ آدمی نے…

Read more

معصوم اور مہربان لوگ زندگی میں آسانی سے دھوکا کھا جاتے ہیں (یا انہیں تکلیف پہنچتی ہے) کیونکہ وہ غلط لوگوں پر بھروسہ کر لیتے ہیں… اس لیے احتیاط کریں کہ آپ اپنا وقت کن لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔تفصیلی وضاحتاس تصویر اور تحریر کے ذریعے زندگی کی ایک کڑوی حقیقت بیان کی گئی ہے:فطرت کا فرق: تصویر میں ایک ننھا چوزہ اور ایک سانپ آمنے سامنے ہیں۔ چوزہ معصومیت کی علامت ہے جو سانپ کو بھی اپنا دوست سمجھ کر اس کے قریب جا رہا ہے، جبکہ سانپ اپنی فطرت کے مطابق شکاری ہے اور کسی بھی وقت نقصان پہنچا سکتا ہے۔بھروسہ اور سادگی: نیک دل لوگ اکثر دوسروں کو بھی اپنے جیسا ہی مخلص سمجھتے ہیں۔ وہ سامنے والے کے ظاہری رویے سے دھوکا کھا جاتے ہیں اور یہ نہیں دیکھ پاتے کہ دوسرے کے دل میں کیا چھپا ہے۔غلط صحبت کا اثر: تحریر ہمیں خبردار کرتی ہے…

Read more

ہندوستان کا بادشاہ جنگل میں تنہا گھوڑا دوڑا رہا تھا۔ تیز رفتار گھوڑے پر سوار، ہرن کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے بہت دور نکل گیا تھا۔ کئی میل تک گھوڑے نے برق رفتار ہرن کا تعاقب کیا، لیکن آخرکار وہ گھنی جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ سخت گرمی کا زمانہ تھا، دوپہر کا وقت تھا۔ گرم ہوا سے جسم جھلس رہا تھا، پیاس کی شدت سے ہونٹ خشک تھے اور حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ شاہجہاں نے گھوڑا روک کر جسم سے پسینہ پونچھا اور سوچنے لگا کہ اب پانی کی تلاش میں کدھر جائے۔ گھوڑا بھی گرمی کی شدت سے ہانپ رہا تھا۔ کئی میل چلنے کے بعد کسی بستی کے آثار نظر نہ آئے، البتہ بہت دور کچھ جانور چرتے نظر پڑے اور بانسری کی آواز بھی تیز جھونکوں کے ساتھ محسوس ہوئی۔ بادشاہ نے اسی سمت اپنے گھوڑے کی باگ موڑ دی۔ چند میل چلنے…

Read more

قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چچا یصہر کا بیٹا تھا۔وہ نہایت شکیل اور خوبصورت انسان تھا، اسی وجہ سے لوگ اُس کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اسے “منور” کہا کرتے تھے۔صرف یہی نہیں، بلکہ وہ بنی اسرائیل میں تورات کا بڑا عالم، نہایت ملنسار اور بااخلاق شخصیت کا مالک بھی تھا، اسی لیے لوگ اس کا بے حد ادب و احترام کرتے تھے۔ لیکن جب بے شمار دولت اس کے ہاتھ آئیتو اس کی زندگی یکسر بدل گئی۔وہ سامری کی طرح منافق ہو گیا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سخت دشمن بن گیااور تکبر و غرور میں ڈوب گیا۔ جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہواتو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے وعدہ کیاکہ وہ اپنے مال کا ہزارواں حصہ زکوٰۃ میں دے گا۔مگر جب اس نے اپنے مال کا حساب لگایاتو زکوٰۃ کی رقم بہت زیادہ نکلی۔ یہ دیکھ کر اس پر حرص اور بخل…

Read more

ایک بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ جاپان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا استاد رہتا تھا۔ اس نے ساری زندگی لوگوں کو راستہ دکھایا تھا، لوگوں کو سچ سکھایا تھا، لوگوں کو خود کو پہچاننے کا فن سکھایا تھا۔ اس کے شاگرد دور دور سے آتے تھے، اس کے پاس بیٹھتے تھے، اس کی باتیں سنتے تھے، اور اپنی زندگی بدل لیتے تھے۔ لیکن استاد اب بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔ اس کے بال سفید ہو گئے تھے، اس کی پیٹھ جھک گئی تھی، اس کی آنکھیں دھندلی ہو گئی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی موت قریب ہے۔ ایک دن اس نے اپنے شاگردوں کو بلایا۔ بہت سے شاگرد تھے  کچھ بوڑھے تھے، کچھ جوان تھے، کچھ نئے آئے تھے، کچھ پرانے تھے۔ سب استاد کے سامنے بیٹھ گئے۔ استاد نے کہا: “میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ نہ سونا ہے، نہ…

Read more

بہت پرانے زمانے میں بحرین کے ساحل پر ایک غریب ماہی گیر رہتا تھا۔ اس کا نام عبداللہ تھا۔ وہ بہت بوڑھا تھا، اس کی بیوی بیمار تھی، اس کے تین بچے تھے، اور اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ وہ ہر روز صبح سویرے اٹھتا، اپنا جال لیتا، سمندر پر جاتا، اور مچھلیاں پکڑتا۔ لیکن اسے کبھی زیادہ مچھلیاں نہیں ملتی تھیں  بس اتنی کہ بچوں کو بھوکا نہ رہنا پڑے۔ ایک دن اس نے جال ڈالا۔ جب اسے کھینچا تو وہ بہت بھاری تھا۔ اس نے سوچا: “آج بہت سی مچھلیاں آئی ہوں گی۔” اس نے پوری طاقت سے جال کھینچا۔ جال باہر آیا تو اس میں مچھلیاں نہیں تھیں، ایک بند تانبے کا مٹکا تھا۔ مٹکا بہت پرانا تھا، اس پر مہر لگی ہوئی تھی، اور وہ سیسے سے بند تھا۔ عبداللہ نے مٹکا اٹھایا، اسے کھولا، اور اندر دیکھا۔ مٹکے میں سے سفید دھواں…

Read more

ایک شہر میں ایک قاضی صاحب رہتے تھے۔ بظاہر نہایت سنجیدہ، باوقار اور دیانتدار شخصیت کے مالک… مگر ایک معاملے میں انہوں نے ایسی راہ اختیار کر لی جو آگے چل کر ان کے لیے آزمائش بن گئی۔ انہوں نے خاموشی سے دوسری شادی کر لی…مگر پہلی بیگم کو اس کا علم نہ ہونے دیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ پہلی بیگم نہ صرف سمجھدار تھیں بلکہ ایک مضبوط خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اگر بات کھل جاتی، تو صرف گھر نہیں بلکہ پورا خاندان میدان میں آ جاتا۔ وقت گزرتا گیا…مگر انسان چاہے جتنا بھی راز چھپائے، رویے بدل ہی جاتے ہیں۔ بیگم نے محسوس کیا کہ قاضی صاحب کے انداز، ان کی باتوں کا لہجہ، ان کی مصروفیات سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہا۔شک نے جنم لیا… اور پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے: باتوں سے بحث،بحث سے تکرار،اور تکرار سے جھگڑا۔ قاضی صاحب نے ہر ممکن کوشش کی…

Read more

کوریا کے ایک گاؤں میں یون اوک نامی ایک نوجان عورت رہتی تھی۔ اس کا شوہر جنگ سے واپس آیا تو وہ پہلے جیسا نہیں رہا تھا، وہ چپ رہتا، کسی سے بات نہ کرتا، اور اس کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ یون اوک نے بہت کوشش کی، لیکن اس کا شوہر اس کی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا۔ ایک دن وہ ایک بوڑھے بابا کے پاس گئی۔ بابا نے کہا: “جنگل میں ایک شیر رہتا ہے۔ اگر تم اس شیر کی مونچھ لا سکو تو تمہارا شوہر پھر سے پہلے جیسا ہو جائے گا۔” یون اوک شیر کی مونچھ لینے کے لیے نکلی۔ وہ ہر روز شیر کی غار کے پاس جاتی، اس کے لیے کھانا رکھتی، اور دور بیٹھ کر اسے دیکھتی۔ پہلے دن شیر بھونکا، دوسرے دن غرایا، تیسرے دن اس نے کھانا کھایا — پھر وہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آنے لگا۔ چھ مہینوں کی…

Read more

قدیم یونان کے شہر ایتھنز میں ایک ایسا شخص گزرا ہے جس کے ہاتھوں میں جادو تھا۔ اس کا نام تھا ڈیڈیلس۔ وہ لکڑی، پتھر اور دھات کا ایسا ماہر تھا کہ لوگ کہتے تھے: “دیوتاؤں نے اسے خاص تحفہ دیا ہے۔” وہ پہلا شخص تھا جس نے چیزوں کو گوند سے جوڑنا سیکھا۔ اس نے مجسمے بنائے جو خود چلتے پھرتے تھے، اس نے ایسی مشینیں بنائیں جو پانی اٹھا لے جاتی تھیں، اس نے تعمیر کے ایسے راز دریافت کیے جو آج بھی معماروں کو حیران کر دیتے ہیں۔ ایتھنز کے لوگ اسے “عظیم کاری گر” کہتے تھے۔ بادشاہ اسے اپنے محل بلاتا، شہزادے اس سے فن سیکھتے، اور عام لوگ اس کے کام کو دیکھ کر حیران رہ جاتے۔ ڈیڈیلس کو اپنی مہارت پر بہت فخر تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس جیسا کوئی نہیں۔ ڈیڈیلس کی ایک بہن تھی جس کا نام تھا پولی کاسٹی۔ اس…

Read more

اطالیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی — خوبصورت بھی اور ذہین بھی۔ جب وہ بچی تھی تو ایک پری نے اسے عقل اور خوبصورتی کا تحفہ دیا تھا۔ ایک دن کسان کو جنگل میں سونے کا ایک طشت (مٹکا) ملا۔ وہ بہت خوش ہوا اور اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ اسے بادشاہ کو تحفے میں دے گا۔ لیکن بیٹی نے کہا: “باپ! ایسا مت کرو۔ بادشاہ یہ سوچے گا کہ اس طشت کے ساتھ اس کا موصل (چمچہ) بھی ہونا چاہیے۔ جب وہ نہیں ملے گا تو وہ ناراض ہو جائے گا۔” کسان نے اپنی بیٹی کی بات نہیں مانی اور طشت بادشاہ کو دے دیا۔ جیسا کہ لڑکی نے کہا تھا، بادشاہ نے پوچھا: “اس کا موصل کہاں ہے؟” کسان نے کہا کہ نہیں ملا۔ بادشاہ ناراض ہو گیا، لیکن جب اس نے سنا کہ…

Read more

20/422
NZ's Corner