Tag Archives: urdu blog

ایک گاؤں کے قریب گھنا جنگل تھا۔ اس جنگل میں ایک پرانا کنواں تھا جس کے پاس ایک اندھا سانپ رہتا تھا۔ سانپ زہریلا تو تھا مگر نابینا ہونے کی وجہ سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا تھا۔ وہ کنویں کے کنارے دھوپ میں پڑا رہتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا۔ ایک دن ایک لکڑہارا جنگل میں لکڑیاں کاٹتے کاٹتے کنویں کے پاس آ پہنچا۔ جب اس نے اندھے سانپ کو دیکھا تو ڈر کے مارے پیچھے ہٹ گیا۔ مگر سانپ نے نہ کوئی حرکت کی، نہ پھنکارا۔لکڑہارے نے ہمت کر کے پوچھا:“کیا تم مجھے نقصان پہنچاؤ گے؟” سانپ نے نرم آواز میں جواب دیا:“میں اندھا ہوں اور کسی کو تکلیف نہیں دیتا۔ تم بے فکر ہو جاؤ۔” لکڑہارے کو ترس آ گیا۔ وہ روزانہ کام کے بعد سانپ کے لیے دودھ رکھ جایا کرتا۔ کچھ عرصے بعد سانپ نے کہا:“تم نے مجھ پر احسان کیا ہے۔ بدلے میں…

Read more

یہ کہانی ایک ایسے شہر کی ہے جس کا نام گرد پا تھا اور یہ ایک عجیب و غریب راز اپنے اندر چھپائے ہوئے تھا۔ اس شہر کے باشندے نسلوں سے اس بات کے عادی تھے کہ ان کی زمین کبھی ساکن نہیں رہتی تھی۔ ہر صبح جب وہ بیدار ہوتے تو ان کے گھروں کے باہر کا منظر بالکل بدل چکا ہوتا تھا۔ کبھی سامنے برفانی چوٹیاں ہوتیں تو کبھی تپتا ہوا ریگستان نظر آتا۔آریان اس شہر کا ایک ایسا نوجوان تھا جس کے دل میں سوالات کا طوفان رہتا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ شہر روزانہ اپنی جگہ کیسے بدل لیتا ہے۔ ایک رات جب پورا شہر گہری نیند سو رہا تھا، آریان خاموشی سے شہر کی آخری فصیل کی طرف نکل گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ایک ایسی چیز دیکھی جس نے اس کے ہوش اڑا دیے۔اس نے دیکھا کہ شہر کی بنیادیں مٹی…

Read more

ایک گاؤں میں ایک کنواں تھا جس کا پانی برسوں سے سب استعمال کر رہے تھے۔ وقت کے ساتھ کنواں پرانا ہو گیا، پانی کم ہوتا گیا، مگر لوگ عادت کے ہاتھوں وہی پانی پیتے رہے۔ایک دن ایک نوجوان نے کہا:“کنواں صاف کرنا چاہیے، دیواریں مضبوط کرنی چاہئیں، ورنہ ایک دن یہ خشک ہو جائے گا۔” بوڑھوں نے ہنس کر جواب دیا:“ہم نے تو ساری عمر یہی پانی پیا ہے، ہمیں کچھ نہیں ہوا۔”نوجوان خاموش ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد کنواں واقعی بیٹھ گیا۔ پانی کی جگہ کیچڑ رہ گیا۔ اب گاؤں والے دور دراز سے پانی لانے پر مجبور ہو گئے۔اسی نوجوان نے کہا:“مسئلہ کنویں کا نہیں تھا، مسئلہ یہ تھا کہ ہم نے وقت پر سچ سننے سے انکار کیا۔” گاؤں والے خاموش تھے، کیونکہ اب سچ دیر سے آیا تھا۔ سبقجو بات وقت پر نہ مانی جائے، وہ بعد میں سزا بن کر سامنے آتی ہے۔عادت کی…

Read more

ایک عورت نے ایک بزرگ ریڑی والے سے پوچھا:” انڈے کتنے روپے درجن ہیں؟”بوڑھے نے ادب سے جواب دیا:“بی بی، تیس روپے فی انڈہ۔”عورت بولی:“میں چھ انڈے 150 روپے میں لوں گی، ورنہ چلی جاؤں گی۔”بوڑھا آدمی نرمی سے مسکرایا:“بی بی، جیسے آپ چاہیں ویسے لے لیں۔ میرے لیے تو یہ اچھی شروعات ہے۔ آج ابھی تک ایک بھی انڈہ نہیں بِکا، اور مجھے اسی سے گزارا کرنا ہے۔”عورت اپنے خیال میں بہترین سودے پر خوش ہو کر وہاں سے چلی گئی۔کچھ دیر بعد وہ اپنی لگژری کار میں بیٹھ کر ایک مہنگے ریسٹورنٹ پہنچی، جہاں اپنی دوست کے ساتھ کھانا کھایا۔ دونوں نے بے جھجھک آرڈر کیا، کھانے کو مشکل سے ہاتھ بھی لگایا، اور جب 4500 روپے کا بل آیا تو 5000 ادا کر کے مالک سے کہا کہ باقی رکھ لو، یہ ٹِپ ہے۔ ریسٹورنٹ کے لیے یہ سخاوت عام بات ہوگی،لیکن انڈے بیچنے والے کے لیے…

Read more

424/424
NZ's Corner