دلچسپ و عجیب کہانی》وہ شہر جو کہ چلتا تھا😱۔  

دلچسپ و عجیب کہانی》وہ شہر جو کہ چلتا تھا😱۔  

یہ کہانی ایک ایسے شہر کی ہے جس کا نام گرد پا تھا اور یہ
ایک عجیب و غریب راز اپنے اندر چھپائے ہوئے تھا۔ اس شہر کے باشندے نسلوں سے اس بات کے عادی تھے کہ ان کی زمین کبھی ساکن نہیں رہتی تھی۔ ہر صبح جب وہ بیدار ہوتے تو ان کے گھروں کے باہر کا منظر بالکل بدل چکا ہوتا تھا۔ کبھی سامنے برفانی چوٹیاں ہوتیں تو کبھی تپتا ہوا ریگستان نظر آتا۔
آریان اس شہر کا ایک ایسا نوجوان تھا جس کے دل میں سوالات کا طوفان رہتا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ شہر روزانہ اپنی جگہ کیسے بدل لیتا ہے۔ ایک رات جب پورا شہر گہری نیند سو رہا تھا، آریان خاموشی سے شہر کی آخری فصیل کی طرف نکل گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ایک ایسی چیز دیکھی جس نے اس کے ہوش اڑا دیے۔
اس نے دیکھا کہ شہر کی بنیادیں مٹی یا پتھر پر نہیں بلکہ ایک بہت ہی بڑی اور کھردری ڈھال پر قائم ہیں۔ جب اس نے فصیل سے نیچے جھانکا تو اسے پتہ چلا کہ یہ پورا شہر اصل میں ایک دیو ہیکل کچھوے کی پیٹھ پر بسا ہوا ہے۔ وہ جاندار بادلوں کے اوپر چل رہا تھا اور اس کے ہر قدم سے زمین پر زلزلہ سا محسوس ہوتا تھا۔
وہیں دیوار کے سائے میں اسے ایک بوڑھا شخص بیٹھا دکھائی دیا۔ اس بوڑھے نے آریان کو بتایا کہ یہ عظیم جاندار اب تھک چکا ہے اور سست ہو رہا ہے۔ اگر یہ ایک بار سو گیا تو شہر کی حرکت رک جائے گی لیکن اس کے گہرے سانسوں کی لرزش پورے شہر کو تباہ کر دے گی۔ آریان نے محسوس کیا کہ واقعی شہر کے چلنے کی رفتار کم ہو رہی ہے۔
آریان نے شہر کو بچانے کے لیے ایک خطرناک فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے ساتھ لایا ہوا بارود اس عظیم جاندار کی کھال کے ایک حساس حصے میں لگا کر دھماکہ کر دیا۔ اس اچانک تکلیف نے اس سوتے ہوئے جاندار کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ وہ ایک زوردار آواز کے ساتھ دوبارہ بیدار ہوا اور اس نے اپنی رفتار بڑھا دی۔
لوگ اپنے گھروں میں ڈر کر سہم گئے لیکن آریان جانتا تھا کہ اس نے شہر کی زندگی کی میعاد بڑھا دی ہے۔ شہر ایک بار پھر نامعلوم منزلوں کی طرف روانہ ہو گیا تھا۔ آریان اب دیوار پر بیٹھ کر بدلتے ہوئے منظر کو دیکھ رہا تھا اور اسے معلوم تھا کہ اب اس شہر کو سکون تو نہیں ملے گا مگر یہ زندہ ضرور رہے گا۔شہر گرد پا اب پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے دوڑ رہا تھا۔ اس کی رفتار اتنی بڑھ چکی تھی کہ لوگوں کے لیے کھڑکی سے باہر دیکھنا بھی مشکل ہو گیا کیونکہ مناظر ایک لکیر کی طرح گزر رہے تھے۔ آریان کو لگا تھا کہ جاندار کو جگا کر اس نے سب کو بچا لیا ہے لیکن جلد ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا۔
اس عظیم جاندار نے درد اور غصے میں آ کر سیدھے راستے پر چلنا چھوڑ دیا تھا اور اب وہ ایک ایسی سمت میں جا رہا تھا جہاں زمین ختم ہو رہی تھی۔ شہر کی فصیلیں ٹوٹنا شروع ہو گئیں اور لوگ خوف کے عالم میں چیخنے لگے کیونکہ اب ہر قدم پر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا شہر کسی گہری کھائی میں گرنے والا ہے۔
آریان نے دیکھا کہ سامنے صرف ایک لامتناہی خلا ہے اور وہ جاندار اس خلا کی طرف چھلانگ لگانے والا ہے۔ بوڑھا چوکیدار ہنسا اور بولا کہ تم نے اسے جگا کر اس کا رخ ہی بدل دیا ہے، اب یہ آزادی چاہتا ہے اور اس کی آزادی ہماری موت ہے۔ جیسے ہی جاندار نے آخری قدم اٹھایا، پورا شہر فضا میں معلق ہو گیا اور پھر ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ سب کچھ خاموش ہو گیا۔

                          
اس کہانی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کبھی کبھی قدرت کے نظام میں زبردستی مداخلت کرنا فائدے کے بجائے بڑی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ سکون اور حرکت کے درمیان جو توازن قدرت نے رکھا ہے، اسے انسانی خوف یا جلد بازی سے بدلنے کی کوشش ہمیشہ مہنگی پڑتی ہے۔ آریان نے شہر کو سونے سے تو بچا لیا لیکن اسے ایسی جگہ پہنچا دیا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔



Leave a Reply

NZ's Corner