ایک جنگل میں ایک شیر اور ایک بانس کا درخت ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ شیر بہت طاقتور اور اپنی طاقت پر بہت مغرور تھا، جبکہ بانس کا درخت لمبا اور لچکدار تھا۔
شیر ہر روز بانس کے درخت کے پاس آتا اور اسے طعنہ دیتا: “تم کتنے کمزور ہو، معمولی سی ہوا چلتی ہے اور تم جھک جاتے ہو۔ ذرا مجھے دیکھو، میں کتنا مضبوط ہوں، کوئی آندھی یا طوفان مجھے ہلا نہیں سکتا! بانس کا درخت خاموشی سے اس کی باتیں سنتا اور مسکرا دیتا۔
ایک دن جنگل میں ایک بہت بڑا طوفان آیا۔ آسمان گرجنے لگا، بجلی چمکنے لگی اور تیز ہواؤں نے ہر چیز کو اکھاڑنا شروع کر دیا۔ شیر اپنی طاقت پر بھروسہ کیے اکڑا کھڑا رہا، اس نے سوچا کہ کوئی طوفان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
لیکن طوفان اتنا شدید تھا کہ شیر کی تمام طاقت بے کار ہو گئی۔ تیز ہواؤں نے اسے جڑوں سے اکھاڑ پھینکا اور وہ بے جان ہو کر زمین پر گر گیا۔
دوسری طرف، بانس کا درخت طوفان کی شدت کے ساتھ جھکتا رہا۔ جب ہوا کا زور بڑھتا، وہ مزید جھک جاتا، لیکن ٹوٹتا نہیں۔ اس کی لچک نے اسے بچا لیا۔ جب طوفان تھما، تو بانس کا درخت دوبارہ سیدھا کھڑا ہو گیا، جبکہ شیر وہاں سے ہمیشہ کے لیے مٹ چکا تھا۔
✨ سبق:
اکڑ اور غرور ہمیشہ تباہی کا باعث بنتا ہے، جبکہ عاجزی اور لچک انسان کو ہر مشکل سے بچا لیتی ہے۔ زندگی میں حالات کے مطابق ڈھل جانا اور لچک دکھانا، ضدی رہنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔
