لوہے کی تلوار اور سونے کی میان🤔
ایک بادشاہ کے پاس دو تلواریں تھیں۔ ایک تلوار خالص سونے کی میان میں تھی جس پر ہیرے جواہرات جڑے ہوئے تھے، جبکہ دوسری ایک معمولی لوہے کی تلوار تھی جو پرانے لکڑی کے خول میں پڑی رہتی تھی۔سونے کی میان والی تلوار ہمیشہ اتراتی اور کہتی: “دیکھو! میں بادشاہ کی زینت ہوں، جب دربار سجتا ہے تو سب کی نظریں مجھ پر ہوتی ہیں۔ تم تو اتنی بدصورت اور زنگ آلود ہو کہ تمہیں کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔” لوہے کی تلوار خاموش رہتی کیونکہ اسے اپنی اوقات معلوم تھی۔ایک دن اچانک ریاست پر دشمن نے حملہ کر دیا۔ بادشاہ نے فوراً اپنی چمکدار سونے کی تلوار اٹھائی، لیکن جیسے ہی میدانِ جنگ میں اس سے وار کیا، وہ سونا نرم ہونے کی وجہ سے مڑ گئی اور کسی کام نہ آئی۔ بادشاہ نے گھبرا کر وہ پرانی لوہے کی تلوار نکالی۔ اس کی دھار اتنی تیز تھی…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان
ایک سبق آموز اور دلچسپ واقعہکہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں ایک قاضی تھے جن کا نام نور الدین تھا۔ وہ اپنی عقل، انصاف پسندی اور حکمت کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ مظلوموں کے حقوق کا تحفظ اور ظالموں کو سزا دینے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ایک دن انہیں ایک نہایت کھٹن مقدمہ حل کرنا پڑا:دو پڑوسی ایک دوسرے کے قریب رہتے تھے۔ ایک نیک دل اور دوسرا چالاک و مکار۔ نیک دل پڑوسی کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ اس کا پڑوسی دھوکے باز ہے۔ایک دن چالاک پڑوسی سخت مصیبت میں پھنس گیا۔ اس کے گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔ وہ مدد کے لیے اپنے نیک دل پڑوسی کے پاس گیا، لیکن وہاں اسے کچھ نہ ملا کیونکہ نیک پڑوسی صبح سے کام پر گیا ہوا تھا۔جب وہ باہر گیا تو راستے میں اپنے پڑوسی کو کام سے لوٹتے ہوئے دیکھ…
urdu blog urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بخل کا انجام۔۔۔🙂!
ایک لالچی آدمی نے اپنا تمام سونا بیچ کر سونے کی ایک بڑی اینٹ خریدی اور اسے ایک باغ میں گڑھا کھود کر چھپا دیا۔ وہ روزانہ وہاں جاتا اور اینٹ کو دیکھ کر خوش ہوتا۔ اس کی یہ حرکت ایک چور نے دیکھ لی اور ایک رات وہ سونے کی اینٹ نکال کر لے گیا۔اگلے دن جب وہ آدمی وہاں پہنچا تو گڑھا خالی پا کر رونے پیٹنے لگا۔ ایک پڑوسی نے پوچھا کہ کیا تم اس سونے کو کبھی استعمال کرتے تھے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں، میں تو بس اسے دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔ پڑوسی نے گڑھے میں ایک پتھر ڈالا اور کہا کہ اب اس پتھر کو دیکھ کر خوش ہوتے رہو کیونکہ تمہارے لیے سونا اور پتھر ایک برابر ہیں جب تم نے اسے استعمال ہی نہیں کرنا تھا۔سبق: دولت کا اصل فائدہ اسے صحیح جگہ اور صحیح وقت پر استعمال کرنے میں…
urdu blog urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔🙂!
کہا جاتا ہے کہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ سیدھا نہر سے ہی پانی لیکر پیتے تھے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلیئے یہاں ایک گھڑا بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا سہولت کے ساتھ پانی پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔ شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور ایک سنتری کو چوکیداری کیلیئے مقرر کیا جائے۔ سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلیئے کسی ماشکی کا ہونا…
سلطان محمود غزنوی اور ایک چکور کی کہانی
سلطان محمود غزنوی کے پاس ایک شخص آیا اور ایک چکور پیش کیا، جس کا ایک پاٶں نہیں تھا۔جب سلطان نے اس کی قیمت پوچھی، مالک نے اسے بہت مہنگا بتا دیا۔ حیران ہو کر سلطان نے پوچھا:“یہ چکور ایک پاٶں سے محروم ہے، پھر اتنی مہنگی کیوں؟”مالک نے بتایا:“جب ہم شکار پر جاتے ہیں، یہ چکور ساتھ لے جاتا ہوں۔ جال کے پاس پہنچ کر اسے باندھتا ہوں تو یہ عجیب سی آوازیں نکالتا ہے، اور بہت سارے چکور اس کی آواز پر آ جاتے ہیں، جنہیں میں پکڑ لیتا ہوں۔”سلطان محمود نے فوراً چکور کی قیمت ادا کی اور اسے سر تن سے جدا کر دیا۔مالک حیران ہو کر پوچھا:“اتنی قیمت دینے کے باوجود اسے کیوں مارا؟”سلطان محمود نے فرمایا:“جو دوسروں کی دلالی کے لیے اپنے اپنوں اور اپنے وطن کو بھیجتا ہے، اس کا انجام یہی ہونا چاہیے۔”👑 انصاف کی طاقت اور وطن کی حرمت کا سبق
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
کچھوا اور خرگوش کی نئی دوستیخرگوش اور کچھوے کی پرانی دشمنی اب دوستی میں بدل چکی تھی۔ ایک دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مل کر ایک بہت دور والے شہر جائیں گے۔ راستے میں ایک بہت بڑی اور تیز لہروں والی ندی آگئی۔ خرگوش وہاں رک گیا کیونکہ اسے تیرنا نہیں آتا تھا اور کچھوا تیز لہروں میں اکیلا پار نہیں جا سکتا تھا۔دونوں نے ایک ترکیب سوچی۔ خشکی پر خرگوش نے کچھوے کو اپنی پیٹھ پر بٹھایا اور تیزی سے دوڑتا رہا۔ جب ندی آئی تو خرگوش کچھوے کی پیٹھ پر سوار ہو گیا اور کچھوے نے اسے باآسانی ندی پار کرا دی۔ اس طرح دونوں نے مل کر اپنا سفر بہت جلد اور کامیابی سے مکمل کر لیا۔سبق: انفرادی قابلیت اپنی جگہ اہم ہے لیکن ٹیم ورک اور مل جل کر کام کرنے سے ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتے ہیں۔
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک مرتبہ جنگل میں بادشاہت کے خاتمے کا اعلان ہوا اور طے پایا کہ اب “جمہوریت” آئے گی، یعنی جانور خود اپنا لیڈر چنیں گے۔ پورے جنگل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ اب ان کی تقدیر بدلے گی۔امیدواروں میں ایک طرف ایک محنتی بیل تھا جو سارا دن ہل چلاتا تھا اور دوسری طرف ایک چرب زبان کتا تھا جو لومڑیوں اور بھیڑیوں کا منظورِ نظر تھا۔الیکشن سے چند دن پہلے، کتے نے لومڑی کے مشورے پر ایک عجیب چال چلی۔ اس نے جنگل کے غریب ترین علاقوں (چوہوں، خرگوشوں اور بکریوں کے علاقوں) میں جا کر “مفت ہڈیاں” اور “ایک ایک دن کی گھاس” بانٹنا شروع کر دی جو اس نے بڑے بڑے شکاریوں سے ادھار لی تھی۔بندروں نے (جو میڈیا کا کردار ادا کر رہے تھے) شور مچا دیا: “دیکھو! کتا کتنا سخی ہے، وہ تو اپنے پاس سے سب کو کھانا کھلا رہا ہے۔ بیل…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
شیطان سے بچنا ایک مشہور بزرگ تھے ان کے پاس ایک دفعہ ایک طالب علم آیا جو دینی علوم سیکھتا رہا۔ کچھ عرصہ پڑھنے کے بعد جب وہ اپنے وطن واپس جانے لگا تو وہ بزرگ اس سے کہنے لگے: میاں ایک بات بتاتے جاؤ۔ وہ کہنے لگا دریافت کیجئے۔ میں بتانے کے لیے تیار ہوں۔ وہ کہنے لگے اچھا یہ تو بتاؤ کیا تمہارے ہاں شیطان بھی ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگا حضور شیطان کہاں نہیں ہوتا۔ شیطان تو ہر جگہ ہوتاہے۔ انہوں نے کہا:اچھا جب تم نے خدا تعالیٰ سے دوستی لگانی چاہی اور شیطان نے تمہیں ورغلا دیا تو تم کیا کرو گے؟ اس نے کہا میں شیطان کا مقابلہ کروں گا۔ کہنے لگے :فرض کرو تم نے شیطان کا مقابلہ کیا اور وہ بھاگ گیا، لیکن پھر تم نے اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے جدوجہد کی اور پھر تمہیں شیطان نے روک لیا…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
حضرت شیخ سعدی بیان کرتے ہیں، میرے جاننے والوں میں ایک منشی روزگار نہ ملنے سے بہت پریشان تھا۔ ایک دن وہ میرے پاس آیا اور اپنا حال بیان کرنے کے بعد کہا کہ بادشاہ کے دربار میں آپ کی رسائی ہے۔ کسی عہدیدار سے کہہ سن کر کوئی کام دلوادیں۔ اس کی بات سن کر میں نے کہا: بھائی ، بادشاہوں کی ملازمت خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔ نان ہاتھ آنے کی امید کے ساتھ جان جانے کا امکان بھی ہوتا۔میں نے یہ نصیحت اس کی بھلائی کے خیال سے کی تھی لیکن اس نے خیال کیا کہ میں اسے ٹالنے کی کوشش کررہا ہوں۔ کہنے لگا،یہ بات ٹھیک ہوگئی لیکن جو لوگ ایمانداری اور محنت سے اپنا کام کریں انھیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے !آپ نے سنا ہوگا کہ میلے کپڑے ہی کو دھوبی پٹرے پر مارتا ہے۔ میں نے اسے پھر سمجھایا کہ تو ٹھیک کہتا…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdupoetry
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتیافسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہپانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، پانی خطرے کے نشان سے 2 فٹ اونچا ہوگیا ہے۔ لوگوں نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ اب کیا ہوگا؟ افسر نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے۔ یہ لطیفہ ان معاشی پالیسیاں بنانے والے ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے اسباب ختم کرنے کے بجائے تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں جب کہ دنیا کے معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ میں اضافہ مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ پولینڈ میں ایک بچے نے اپنی کلاس ٹیچر کو بتایا کہ ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں۔ ٹیچر نے خوب شاباش دی۔ ہفتہ بھر بعد جب اسکول انسپکٹر معائنے کے لیے آئے…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک جنگل میں ایک چیتا رہتا تھا جسے اپنی رفتار پر بہت گھمنڈ تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جو تیز بھاگ سکتا ہے، وہی سب سے زیادہ عزت کا حقدار ہے۔ اسی جنگل کے ایک پرانے برگد کے درخت پر ایک کبوتروں کا جوڑا رہتا تھا جو بہت پرسکون اور خاموش طبع تھا۔ایک دن چیتے نے کبوتر کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا: “تمہاری زندگی بھی کیا زندگی ہے؟ ذرا سی آہٹ ہو تو تم پھڑپھڑا کر اڑ جاتے ہو۔ کاش تم میری طرح بہادر اور تیز ہوتے، تو تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔”کبوتر نے مسکرا کر جواب دیا: “چیتے بھائی! رفتار اللہ کی دین ہے، لیکن اصل چیز وہ نظر ہے جو آنے والے خطرے کو وقت سے پہلے دیکھ لے۔” چیتے نے قہقہہ لگایا اور وہاں سے چلا گیا۔کچھ دن گزرے، جنگل میں شکاریوں نے قدم رکھا۔ انہوں نے چیتے کو پکڑنے کے لیے ایک بہت…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔🙂!
گھنے جنگل میں ایک پرانا الو رہتا تھا جسے جانور دانا سمجھتے تھے۔ وہ کم بولتا، مگر جب بولتا تو سب خاموش ہو جاتے۔ اسی جنگل میں ایک بندر بھی تھا جو نہایت چالاک، باتونی اور مجمع پسند تھا۔ جب بھی جنگل میں کوئی مسئلہ ہوتا، مجلس بلائی جاتی۔ الو سوچ سمجھ کر رائے دیتا، مگر بندر ہمیشہ شور مچاتا، قصے سناتا اور اپنی بات کو عقل کہہ کر پیش کرتا۔ ایک سال جنگل میں خوراک کی شدید کمی ہو گئی۔ مجلس بلائی گئی کہ کیا کیا جائے۔ الو نے کہا:“ہمیں شکار کی حد مقرر کرنی چاہیے، ورنہ جنگل خالی ہو جائے گا۔” بندر فوراً اچھل پڑا:“یہ بوڑھا الو ہمیں ڈرانا چاہتا ہے۔ جو طاقتور ہے وہ کھائے، جو کمزور ہے وہ سیکھے!” بندر کی بات پر تالیاں بجیں۔ جانوروں نے اسی پر عمل کیا۔ چند مہینوں میں جنگل ویران ہو گیا۔ شکار ختم، درخت اجڑ گئے۔ بندر دوسرے جنگل…
#bestoftheday #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdu blog
بلاعنوان۔۔۔😂🙏!
ایک عورت نے شیطان سے کہا: کیا تم اس شخص کو دیکھ رہے ہو جو درزی کا کام کرتا ہے؟کیا تم اسے اپنی بیوی کو طلاق دینے کیلئے آمادہ کر سکتے ہو ؟ ۔۔۔۔شیطان نے کہا ہاں ، یہ کون سا مشکل کام ھے۔ میں اسے آمادہ کر لوں گا۔… تو شیطان درزی کے پاس گیا اور اسے مختلف سمتوں سے ورغلایا ۔۔۔۔ لیکن درزی اپنی بیوی سے بیحد پیار کرتا تھا، لہذا وہ شیطان کی باتوں میں نہیں آیا اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں سوچا تک نہیں۔شیطان واپس آیا اور اس نے عورت کے سامنے ہار مان لی ۔عورت نے کہا: اب دیکھو کیا ہوتا ہے!وہ عورت درزی کے پاس گئی اور اس سے کہا کہ میرا بیٹا اپنی محبوبہ کو خوبصورت سوٹ گفٹ کرنا چاہتا ھے جس کیلئے مجھے کپڑے کا ایک خوبصورت ٹکڑا چاہیئے۔ درزی نے اسے ایک کپڑے کا ٹکڑا…
ٹیڑھی عقل۔۔۔🙂!
کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کی شادی کو عرصہ ہوگیا مگر گھر میں ولی عہد کی کمی ہی رہی تو اس نے سلطنت کے کونے کونے سے اپنے اور اپنی ملکہ کے علاج معالجے کیلئے حکیم بلوائے۔ مقدر میں لکھا تھا اور اللہ نے ملکہ کی گود ہری کر دی۔بیٹا پیدا ہوا تو بادشاہ کو یہ دیکھ کر چپ ہی لگ گئی کہ اس کے بیٹے میں ایک پیدائشی معذوری تھی اور وہ ایک کان کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔ بادشاہ نے اپنے سارے وزیر بلوا بھیجے اور ان سے مشورہ کیا کہ اتنی بڑی سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالنے کیلئے پیدا ہونے والا یہ ولی عہد جب اپنے آپ کو یوں معذور پائے گا تواحساس محرومی کا شکار ہو جائیگا۔ کس طرح اس کی اس خامی پر قابو پایا جائے؟وزیروں نے مشورہ دیا بادشاہ سلامت، یہ تو کوئی بات ہی نہیں، اعلان کرا دیجیئے کہ آج سے جو بھی…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔🙂!
جنگل کا ایک زمانہ تھا جب بوڑھا شیر اس کا بے تاج بادشاہ تھا۔ طاقت اب پہلے جیسی نہ رہی تھی، مگر رعب باقی تھا۔ شیر نے شکار چھوڑ دیا تھا اور اب دربار لگا کر فیصلے کیا کرتا۔ جنگل کے جانور روز آتے، سلام کرتے اور تعریفوں کے پل باندھتے۔ خاص طور پر لومڑیاں ہر وقت شیر کے گرد رہتیں۔“حضور جیسا انصاف کسی نے نہیں دیکھا!”“آپ کی دانائی کی مثال نہیں!” شیر یہ سب سن کر خوش ہوتا اور انہیں قریب رکھتا۔ ایک دن ہرن لنگڑاتا ہوا آیا۔ اس نے فریاد کی کہ لومڑیوں نے اس کے بچوں کا شکار کر لیا ہے۔ شیر نے لومڑیوں کی طرف دیکھا۔ لومڑیوں نے فوراً کہا:“یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ تو حضور کی عظمت سے جلتا ہے۔” شیر نے تحقیق کی زحمت نہ کی۔ ہرن کو دربار سے نکال دیا گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ لومڑیوں نے پورے جنگل میں لوٹ مار…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdupoetry
فتوحات_شام
دامس، اسے ابولہول کی کنیت سے پکارا جاتا تھا۔ لمبا قد، انتہائی سیاہ رنگ، ایسی سیاہی کہ دنیا نے شاید ہی کوئی اتنا سیاہ انسان دیکھا ہوگا۔ جب سواری کے جانور پر بیٹھتا تو ٹانگیں گھسٹی ہوئی جاتی تھیں۔ ملوکِ کندہ میں سے بنی ظریف کے اس کی غلام کی ہیبت و شجاعت زبان زد عام تھی۔ لوگوں کی مجلسوں میں اس کی بہادری اور چالاکی کے قصے سنائے جاتے تھے۔ واقدی کہتے ہیں جن دنوں مسلمان حلب کے قلعے کو فتح کرنے کی کوشش میں مصروف تھے ان دنوں ابولہول بھی اپنے پانچ سو ساتھیوں کے ساتھ مسلمانوں سے آ ملا اور اس نے بڑی بہادری سے جنگی کارروائیوں میں نمایاں حصہ لیا۔۔۔۔۔۔۔“لوگو! امیر محترم کا حکم ہے کہ اپنے اپنے خیمے سمیٹو اور چلو!” لوگوں نے جب یہ اعلان سنا تو سب اپنے اپنے خیمے اکھیڑ کر چل پڑے۔ پورا اسلامی لشکر قلعے کا محاصرہ ختم کرکے چل…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک لومڑی نے دریا کے دوسری کنارے کھڑے اونٹ سے پوچھا، پانی کہاں تک پہنچتا ہے۔۔؟؟؟اونٹ نے جواب دیا، گھٹنے تک۔لومڑی نے پانی میں چھلانگ لگائی، ڈوبنے لگی، کبھی غوطے کھاتی کبھی سر باہر نکالتی، بڑی مشکل سے دریا میں ایک چٹان کے ساتھ چپک گئی آہستہ آہستہ چٹان کے اوپر آگئی۔ سانس بحال ہوتے ہی غصے سے اونٹ سے کہا، تم نے کیوں کہا کہ پانی گھٹنے تک آتا ہے؟.اونٹ نے جواب دیا: ہاں پانی میرے گھٹنے تک ہی آتا ہے۔جب آپ کسی سے مشورہ کرتے ہیں تو عموماً وہ آپ کو اپنے تجربات کی روشنی میں جواب دیتا ہے۔ ممکن ہے جو باتیں اس کے لیئے فائدہ مند ہوں، وہ آپ کے لیئے نقصان دہ ثابت ہوں۔ سبق:اندھی تقلید سے ہمیشہ بچنا چاہیے
#bestoftheday #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdu blog
ایک بڑھیا کا عجیب اور عبرت انگیز واقعہ
دولتِ عباسیہ کا تاجدار مامون الرشید، جس نے شیرِ عدل اور حاتم کی سخاوت کو فراموش کر دیا تھا، سلطنتِ بغداد پر حکمرانی کر رہا تھا۔ اس کا بیٹا، شہزادہ عباس، طائفۃ النمل کے قریب شکار میں مصروف تھا۔غروبِ آفتاب کی روشنی میں دریا کے کنارے، ایک حسین عورت پانی کا گھڑا بھر رہی تھی۔ عباس نے اسے دیکھا اور پوچھا:“تم کون ہو؟ اور کس خاندان سے تعلق رکھتی ہو؟ کیا یہاں بھی حسن جنم لے سکتا ہے؟”عورت نے غصے سے جواب دیا اور آگے بڑھ گئی۔ عباس نے حکم دیا کہ اس کا حسب و نسب معلوم کیا جائے اور نکاح کا پیغام بھیجا جائے۔لیکن معلوم ہوا کہ یہ عورت خاندانِ برامکہ کی بیوہ مغیرہ بنت ازدار تھی، دو بچوں کی ماں اور اپنے خاندان کی بربادی کا غم لئے ہوئی۔ نکاح کا پیغام سن کر وہ بے قابو ہو گئی اور فرمایا:“ہارون ہماری جانیں تباہ کر چکا، اب…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک گاؤں کے قریب گھنا جنگل تھا۔ اس جنگل میں ایک پرانا کنواں تھا جس کے پاس ایک اندھا سانپ رہتا تھا۔ سانپ زہریلا تو تھا مگر نابینا ہونے کی وجہ سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا تھا۔ وہ کنویں کے کنارے دھوپ میں پڑا رہتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا۔ ایک دن ایک لکڑہارا جنگل میں لکڑیاں کاٹتے کاٹتے کنویں کے پاس آ پہنچا۔ جب اس نے اندھے سانپ کو دیکھا تو ڈر کے مارے پیچھے ہٹ گیا۔ مگر سانپ نے نہ کوئی حرکت کی، نہ پھنکارا۔لکڑہارے نے ہمت کر کے پوچھا:“کیا تم مجھے نقصان پہنچاؤ گے؟” سانپ نے نرم آواز میں جواب دیا:“میں اندھا ہوں اور کسی کو تکلیف نہیں دیتا۔ تم بے فکر ہو جاؤ۔” لکڑہارے کو ترس آ گیا۔ وہ روزانہ کام کے بعد سانپ کے لیے دودھ رکھ جایا کرتا۔ کچھ عرصے بعد سانپ نے کہا:“تم نے مجھ پر احسان کیا ہے۔ بدلے میں…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdupoetry
دلچسپ و عجیب کہانی》وہ شہر جو کہ چلتا تھا😱۔
یہ کہانی ایک ایسے شہر کی ہے جس کا نام گرد پا تھا اور یہ ایک عجیب و غریب راز اپنے اندر چھپائے ہوئے تھا۔ اس شہر کے باشندے نسلوں سے اس بات کے عادی تھے کہ ان کی زمین کبھی ساکن نہیں رہتی تھی۔ ہر صبح جب وہ بیدار ہوتے تو ان کے گھروں کے باہر کا منظر بالکل بدل چکا ہوتا تھا۔ کبھی سامنے برفانی چوٹیاں ہوتیں تو کبھی تپتا ہوا ریگستان نظر آتا۔آریان اس شہر کا ایک ایسا نوجوان تھا جس کے دل میں سوالات کا طوفان رہتا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ شہر روزانہ اپنی جگہ کیسے بدل لیتا ہے۔ ایک رات جب پورا شہر گہری نیند سو رہا تھا، آریان خاموشی سے شہر کی آخری فصیل کی طرف نکل گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ایک ایسی چیز دیکھی جس نے اس کے ہوش اڑا دیے۔اس نے دیکھا کہ شہر کی بنیادیں مٹی…