بلاعنوان۔۔۔🙂!
یہ قصہ ہے چاچا نتھو کا جن کے خراٹے مشہور تھے کہ اگر وہ سو جائیں تو آس پاس کے پرندے درختوں سے گر جاتے تھے۔ ان کے خراٹوں کی گونج ایسی تھی جیسے کوئی پرانا ٹریکٹر پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ایک بار گاؤں میں افواہ پھیل گئی کہ ایک آدم خور بلا علاقے میں گھوم رہی ہے۔ لوگ ڈر کے مارے شام ہوتے ہی گھروں میں دبک جاتے۔ اسی دوران گاؤں کے چوکیدار نے ہمت کی اور رات کو پہرہ دینے نکلا۔ اتفاق سے چاچا نتھو اس رات اپنی بیٹھک کا دروازہ کھلا چھوڑ کر وہیں سو گئے تھے۔جیسے ہی چاچا نتھو گہری نیند میں گئے، ان کے نتھنوں سے وہ مخصوص آواز برآمد ہوئی یعنی گھڑڑڑڑ پُھسسس۔ باہر گلی سے گزرنے والے چوکیدار کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے سمجھا کہ وہ آدم خور بلا یہیں کہیں دیوار کے پیچھے چھپی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایرانی بادشاہ قاچار جس نے اپنے ملازموں کی موت سزا ایک دن لیٹ کی اور انہی ملازموں نے اسے خیمہ میں گھس کر موت کے گھاٹ اتار دیا آغا محمد خان قاجار، قاجار سلطنت کے بانی، ۱۸ویں صدی کے آخر میں فارس پر سختی اور مکمل کنٹرول کے ساتھ حکمرانی کرتے تھے۔ان کا بادشاہ کے مقام تک آنا بذات خود جنگوں، مخالفین کی purge، اور ذاتی صدموں سے بھری ہوئی تھی، جن میں بچپن میں ایک مخالف گروہ کی جانب سے ان کا خصیہ تلف کر دینا بھی شامل ہے۔ ان کی حکومت میں بھی سختی جاری رہی، جہاں معمولی خلاف ورزی پر بھی سخت سزا دی جاتی تھی۔یہی انداز ان دو نوکروں کی کہانی میں بھی دیکھا جا سکتا ہے؛جب ملازم کسی بات پٹ شور مچا رہے تھے تو بادشاہ نے فوراً ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ چونکہ وہ دن مذہبی لحاظ سے مقدس تھا، اس لیے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
قاہرہ کی فضا ان دنوں عجیب سرگوشیوں سے بھری ہوئی تھی۔ بازاروں، حماموں اور محلّوں میں ایک ہی نام زبان زدِ عام تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ سلطان کی رعایا میں ایک عورت ہے جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ صرف دیکھ کر بتا سکتی ہے کہ کون پاک دامن ہے، کون حاملہ ہے اور کون اپنے کردار میں لغزش کا شکار رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ سادہ لوح لوگ اس پر یقین بھی کر رہے تھے، حتیٰ کہ کچھ بااثر گھرانے بھی اپنی عورتوں اور لڑکیوں کو اس کے پاس لے جانے لگے تھے۔یہ خبر جب سلطان صلاح الدین ایوبیؒ تک پہنچی تو ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمایاں ہو گئے۔ سلطان نے نہ صرف ایک حکمران کی حیثیت سے بلکہ ایک عادل انسان کے طور پر بھی اس بات کو خطرناک سمجھا۔ انہیں علم تھا کہ ایسے دعوے معاشرے میں بدگمانی، فتنہ اور…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔🙂!
بادشاہ کا موڈ اچھا تھا‘ وہ نوجوان وزیر کی طرف مڑا اور مسکرا کر پوچھا ”تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے“ وزیر شرما گیا‘ اس نے منہ نیچے کر لیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”تم گھبراﺅ مت‘ بس اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بتاﺅ“ وزیر گھٹنوں پر جھکا اور عاجزی سے بولا ”حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں‘ میں جب بھی یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اگر اس کا دسواں حصہ میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص ہوتا“ وزیر خاموش ہو گیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“ وزیر نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور عاجزی سے بولا ”بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے‘ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں“ بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور…
urdu blog urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک گھنے اور سرسبز جنگل میں ایک طاقتور شیر رہتا تھا۔ وہ خود کو جنگل کا بے تاج بادشاہ سمجھتا تھا۔ شروع میں وہ انصاف پسند تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کے دل میں غرور آ گیا۔ وہ کمزور جانوروں کو بلا وجہ ڈرانے لگا اور ان کی بات سننا چھوڑ دی۔ اسی جنگل میں ایک چھوٹا سا ہرن بھی رہتا تھا، جو نہایت سمجھدار اور صبر والا تھا۔ ایک دن شیر نے ہرن کو بلا کر کہا:“آج سے تم روز میرے لیے پانی اور خوراک لایا کرو گے، ورنہ انجام برا ہوگا۔” ہرن نے ڈرنے کے بجائے نرمی سے جواب دیا:“اے جنگل کے بادشاہ! طاقت اللہ کی امانت ہے، اسے ظلم کے لیے نہیں بلکہ حفاظت کے لیے دیا جاتا ہے۔” شیر کو یہ بات بری لگی اور اس نے ہرن کو وہاں سے بھگا دیا۔ کچھ دن بعد جنگل میں شدید خشک سالی پڑ گئی۔ پانی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بادشاہ کی عدالت میں ایک ملزم کو پیش کیا گیا۔مقدمہ سننے کے بعد بادشاہ نے اشارہ کیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔حکم ملتے ہی سپاہی اسے قتل گاہ کی طرف لے چلے۔اب چونکہ اسے سب سے بڑی سزا سنائی جا چکی تھی، اس لیے اس کے دل سے خوف نکل چکا تھا۔وہ چلتے چلتے بادشاہ کو بُرا بھلا کہنے لگا، کیونکہ اس کے نزدیک اب اس سے بڑھ کر کوئی سزا باقی نہ تھی۔بادشاہ نے دیکھا کہ قیدی کچھ کہہ رہا ہے تو اس نے وزیر سے پوچھا:“یہ کیا کہہ رہا ہے؟”بادشاہ کا یہ وزیر نہایت نیک دل تھا۔اس نے سوچا، اگر سچ سچ بتا دیا گیا تو بادشاہ غصے میں آ کر قتل سے پہلے بھی قیدی کو اذیت دے سکتا ہے۔چنانچہ اس نے عرض کیا:“حضور! یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو غصہ ضبط کرتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ…
بنی اسرائیل کون تھے۔۔۔؟
وہ قوم جس کے لیے آسمان سے تیار رزق نازل ہوتا تھا — قرآن و معتبر تفاسیر کی روشنی میں مکمل اور مستند حقیقت یہ واقعہ بنی اسرائیل کا ہے، جن کا ذکر قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ یہ وہ قوم تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی احسانات کیے، یہاں تک کہ ان کے لیے آسمان سے تیار غذا نازل فرمائی گئی۔ ذیل میں یہ پورا واقعہ صرف قرآنِ مجید اور معتبر اسلامی تفاسیر کی روشنی میں، بغیر کسی ذاتی رائے، سبق یا اضافی بات کے، مکمل حقیقت کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کون تھے؟ بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب “اسرائیل” تھا، اسی نسبت سے ان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ یہ قوم ایک طویل عرصے تک فرعونِ مصر کے ظلم اور غلامی میں مبتلا رہی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
بلاعنوان۔۔۔😁!
کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ سارا دن اپنے کھیت میں کام کرتا اور مشکل سے اتنا کما پاتا کہ دو وقت کا کھانا کھا سکے۔وہ خود بھی بہت سیدھا سادا تھا،مگر اس کو جو بیوی ملی وہ حد درجہ بے وقوف تھی۔ ان کی شادی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ایک دن صبح سویرے جب کسان کھیتوں پر جانے کو تیار ہوا تو اپنی بیوی سے کہنے لگا:”آج کھیت میں سارا دن ہل چلانا پڑے گا جس سے بہت تھکاوٹ ہو جائے گی اور بھوک بھی بہت لگے گی،اس لئے تم میری واپسی تک اچھا اور لذیذ کھانا بنا کر رکھنا اور ساتھ ایک گلاس سرکہ بھی جو میں پچھلے سال خرید کر لایا تھا۔ “یہ کہہ کر وہ اپنے کام پر چلا گیا۔ جب کسان کی واپسی کا وقت قریب آیا تو بیوی نے کھانا تیار کرنا شروع کیا۔ اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لئے…
ایک کسان کی کہانی۔۔۔!
کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ سارا دن اپنے کھیت میں کام کرتا اور مشکل سے اتنا کما پاتا کہ دو وقت کا کھانا کھا سکے۔وہ خود بھی بہت سیدھا سادا تھا،مگر اس کو جو بیوی ملی وہ حد درجہ بے وقوف تھی۔ ان کی شادی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ایک دن صبح سویرے جب کسان کھیتوں پر جانے کو تیار ہوا تو اپنی بیوی سے کہنے لگا:”آج کھیت میں سارا دن ہل چلانا پڑے گا جس سے بہت تھکاوٹ ہو جائے گی اور بھوک بھی بہت لگے گی،اس لئے تم میری واپسی تک اچھا اور لذیذ کھانا بنا کر رکھنا اور ساتھ ایک گلاس سرکہ بھی جو میں پچھلے سال خرید کر لایا تھا۔ “یہ کہہ کر وہ اپنے کام پر چلا گیا۔ جب کسان کی واپسی کا وقت قریب آیا تو بیوی نے کھانا تیار کرنا شروع کیا۔ اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لئے…
urdu blog urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔😊!
یورپی ادب سے ماخوذ کہانیایک زمین دار تھا، بہت امیر۔ گاؤں کی ساری اچھّی اور زرخیز زمینیں اس کی ملکیت تھیں۔ ان زمینوں کے سرے پر ایک ٹکڑا ایسی بنجر زمین کا تھا جس میں کچھ پیدا نہ ہوتا تھا۔ زمیں دار نے سوچا، اس زمین سے کوئی فائدہ تو ہوتا نہیں، کیوں نہ اسے کسی غریب کسان کو دے کر اس پر احسان جتایا جائے۔ اگر اس کی محنت سے زمین اچھّی ہو گئی اور فصل دینے لگی تو پھر واپس لے لوں گا۔ زمین دار کے پاس بہت سے کسان کام کرتے تھے۔ ان میں سے اس نے ایک ایسا کسان چنا جس کے متعلق اسے یقین تھا کہ اگر کبھی زمین واپس لینی پڑے تو چپ چاپ واپس کر دے گا۔ زمیں دار نے کسان کو بلایا اور کہا ”میں اپنی زمین کا وہ ٹکڑا جو ٹیلے کے پاس ہے، تمہیں دیتا ہوں۔ میرا اس سے اب…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
بلاعنوان۔۔۔😁!
دیہاتی اپنے خچر (گدھے جیسا جانور) سے بہت پریشان تھا۔ وہ خچر اتنا سست تھا کہ ایک قدم چلتا اور دس منٹ رک جاتا۔دیہاتی اسے کھینچ کھینچ کر تھک گیا، آخر کار وہ اسے لے کر گاؤں کے ایک مشہور “حکیم” کے پاس گیا۔ دیہاتی نے کہا:“حکیم صاحب! میرا یہ جانور بہت کام چور اور سست ہو گیا ہے۔ یہ بالکل نہیں چلتا۔ کوئی ایسی دوا دیں کہ اس میں بجلی جیسی پھرتی آ جائے۔” حکیم بہت تجربہ کار تھا۔ اس نے اپنی پڑیا میں سے تھوڑی سی “لال مرچ” نکالی، خچر کی دم اٹھائی اور وہ مرچ وہاں لگا دی جہاں نہیں لگانی چاہیے تھی۔ 🌶️🔥 مرچ لگتے ہی خچر نے ایک فلک شگاف چیخ ماری اور ہوا سے باتیں کرتا ہوا، گولی کی رفتار سے سیدھا بھاگ کھڑا ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ دیہاتی یہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ سر پکڑ…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک سلطنت پر ایک ظالم اور مغرور بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کی رعایا پروری صرف لگان وصول کرنے تک محدود تھی۔ اسی شہر میں ایک غریب کسان رہتا تھا جو قرض کے بوجھ تلے اتنا دبا ہوا تھا کہ ہر گزرتے سانس پر اس کا سود بڑھ رہا تھا۔ مایوس ہو کر وہ بادشاہ کے پاس فریاد لے کر گیا، مگر بے رحم بادشاہ نے اسے مدد دینے کے بجائے یہ کہہ کر دھتکار دیا کہ “غربت ایک ذہنی حالت ہے، جاؤ جا کر محنت کرو۔” وہ شخص بھوکا پیاسا جنگل کی طرف نکل گیا تاکہ قدرت کے لنگر (پھل وغیرہ) سے پیٹ بھر سکے۔ وہاں اس نے دیکھا کہ ایک کبوتر کا گھونسلہ آندھی سے گرنے والا ہے، اس نے ہمدردی میں اسے سہارا دے کر مضبوط ٹہنی پر ٹکا دیا۔وہیں قریب ایک ہرن شکاری جال میں تڑپ رہا تھا، غریب آدمی نے اس پر بھی ترس کھایا…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
مصر کے ایک شہر میں ایک نوجوان کا چرچا تھا۔ نہ وہ عالمِ دین کے طور پر مشہور تھا، نہ خطیب تھا، نہ امیر۔ مگر اس کے نام کا سکہ زبانِ عام پر اس وجہ سے تھا کہ وہ ایک ہی رات میں اکیلا مسجد تعمیر کر دیتا تھا۔لوگ حیران تھے۔دن بھر مسجد کا میدان خالی ہوتا، اینٹیں الگ پڑی ہوتیں، لکڑی، مٹی، چونا اپنی جگہ۔ مگر فجر کے وقت جب لوگ آتے تو مسجد کھڑی ہوتی—دیواریں، محراب، حتیٰ کہ وضو کا انتظام بھی۔سب سے عجیب بات یہ تھی کہ وہ نوجوان کام کے دوران کسی کو قریب آنے نہیں دیتا تھا۔ اگر کوئی قدموں کی آہٹ بھی سن لیتا تو کام چھوڑ دیتا، جیسے سایہ بن کر غائب ہو جاتا۔لوگ کہتے: “یہ انسان نہیں، کوئی جن ہے!” کوئی کہتا: “یہ جادو جانتا ہے!” کوئی کہتا: “یہ کوئی اللہ کا ولی ہے!”مگر نوجوان خاموش رہتا۔نہ تعریف قبول کرتا،نہ اپنا نام…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک کوا ایک ہنس کو جھیل میں سکون سے تیرتے دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ بھی ہنس کی طرح پانی میں رہے گا تو اس کے پر بھی سفید اور چمکدار ہو جائیں گے۔ کوے نے ہنس کی طرح پانی میں غوطے لگانا اور مچھلیاں پکڑنا شروع کر دیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کوا نہ تو اپنی سیاہی بدل سکا اور نہ ہی اسے کائیں کائیں والی خوراک ملی۔ سردی اور پانی کی وجہ سے وہ بیمار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔سبق: اللہ نے ہر جاندار کو الگ خصوصیات دی ہیں، اپنی اصلیت بدلنے کی کوشش جان لیوا ہو سکتی ہے۔
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بار کا ذکر ہے…تھر کے سنسان ریگستان میں، ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک بوڑھا شخص بشیر اپنے اونٹ لالو کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔لالو اس کے لیے محض ایک جانور نہیں تھا، بلکہ دوست، ساتھی اور جینے کا واحد سہارا تھا۔ بچپن سے اُس نے لالو کو پالا تھا۔ برسوں کا ساتھ تھا—چاہے گرمی کی جھلسا دینے والی دھوپ ہو یا سرد راتوں کی خاموشی، دونوں ایک دوسرے کے ہمسفر تھے۔بشیر کے پاس دولت نہیں تھی، مگر قناعت تھی۔ وہ لالو پر سوار ہو کر گاؤں گاؤں سبزیاں اور دودھ بیچتا، اور اسی معمولی کمائی میں زندگی گزار لیتا۔گاؤں کے بچے لالو سے بےحد محبت کرتے تھے۔ وہ اپنی ناک سے بچوں کو ہلکا سا دھکا دیتا تو ہنسی پورے گاؤں میں گونج اٹھتی۔ایک دن بشیر شدید بیمار پڑ گیا۔ بخار نے اسے چارپائی سے لگا دیا۔لالو اُس کے اردگرد چکر لگاتا رہا، کبھی سونگھتا، کبھی…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ﺑﮭﯿﮍ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﮍﻭﺳﻦ ﺑﮭﯿﮍ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﻪ ﻫﻤﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﺘﺎ ﭼﻠﮯ ﮔﺎ ﮐﻪ ﺁﺝ ﻫﻤﺎﺭﯼ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﻫﮯ؟ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻼ : “ﺩﯾﮑﮭﻮ ! ﺟﺲ ﺩِﻥ ﺗﻤﻬﺎﺭﮮ ﻣﺎﻟﮏ ﺗﻤﻬﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ, ﭼﺎﺭﻩ ﮐﮭﻼﺋﯿﮟ, ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﻮ ﮐﻪ ﺍُﺱ ﺩِﻥ ﺗﻤﻬﺎﺭﯼ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺩِﻥ ﻫﮯ۔۔”!ﯾﻪ ﺑﺎﺕ ﺍُﺱ ﺑﮭﯿﮍ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﻠﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﯽ, ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩِﻥ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻭﯾﺴﺎ ﻫﯽ ﻫﻮﺍ, ﻣﺎﻟﮏ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺍُﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﭼﺎﺭﻩ ﮐﮭﻼﯾﺎ, ﭘﮭﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﮔﻠﮯ ﻫﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﺍُﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺰ ﺩﮬﺎﺭ ﻭﺍﻻ ﺁﻟﻪ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ۔ ﺑﮭﯿﮍ ﺳﻤﺠﮫ ﺁ ﮔﺌﯽ ﮐﻪ ﺁﺝ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺩِﻥ ﻫﮯ ﺳﻮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍُﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻫﻮﺍ ﮐﻪ ﻣﺎﻟﮏ ﺍُﺳﮯ ﺫﺑﺢ ﻧﻬﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﻫﺎ ﺑﻠﮑﻪ ﺻﺮﻑ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍُﻭﻥ ﺍُﺗﺎﺭ ﺭﻫﺎ ﻫﮯ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﮭﮑﺎﻧﻪ ﻧﻪ ﺭﻫﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﯾﻪ ﺳﻠﺴﻠﻪ ﻫﺮ ﺩﻭ,…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک جنگل میں بہت بڑا سیلاب آیا جس سے تمام چھوٹے جانوروں کے گھر بہہ گئے۔ شیر بادشاہ نے اعلان کیا کہ تمام متاثرہ جانوروں کو “امداد” دی جائے گی۔ اس کام کے لیے ایک عقاب کو افسر مقرر کیا گیا کیونکہ وہ بہت بلندی سے سب کچھ دیکھ سکتا تھا۔ایک بوڑھا کچھوا، جس کا گھر مکمل تباہ ہو چکا تھا، امداد کی درخواست لے کر عقاب کے دفتر پہنچا۔ عقاب نے ایک لمبی فہرست دکھائی اور کہا:“پہلے لومڑی سے تصدیق کرواؤ کہ تم واقعی کچھوے ہو، پھر الو سے لکھوا کر لاؤ کہ تمہارا گھر واقعی پانی میں بہا ہے، اور آخر میں بندر سے اس فائل پر مہر لگواؤ۔”بیچارہ کچھوا اپنی دھیمی رفتار سے ایک دفتر سے دوسرے دفتر گھومتا رہا۔ ہر بار جب وہ فائل لے کر پہنچتا، کوئی نہ کوئی نیا اعتراض لگا دیا جاتا۔• لومڑی نے کہا: “تمہاری تصویر میں تمہاری پیٹھ کا خول صاف…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بہت پرانے جنگل پر ایک بوڑھا شیر حکومت کرتا تھا۔ وہ کافی عرصے سے بیمار تھا، لیکن اس نے تخت چھوڑنے کے بجائے یہ طے کیا کہ اب اس کا بیٹا (شہزادہ شیر) تخت سنبھالے گا۔مسئلہ یہ تھا کہ وہ شہزادہ شیر پیدا تو جنگل میں ہوا تھا، لیکن اس کی پرورش اور تعلیم ایک دوسرے دور دراز کے پرتعیش جزیرے پر ہوئی تھی۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ جنگل کی زمین کیسی ہوتی ہے یا جانوروں کے دکھ درد کیا ہیں۔جب شہزادے کی واپسی ہوئی، تو پورے جنگل کو سجایا گیا۔ لومڑیوں نے (جو خوشامدی وزراء تھیں) ہر طرف یہ اشتہار لگوا دیے کہ: “آ رہا ہے وہ، جو جنگل کی قسمت بدلے گا! وہی خون، وہی نسل!”ایک دن ایک دبلا پتلا گدھا شہزادے کے پاس آیا اور بولا: “حضور! ہم بھوکے مر رہے ہیں، گھاس ختم ہو گئی ہے اور دریا کا پانی گدلا ہو…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک مرتبہ ایک شکاری کو جنگل میں عقاب کا ایک بچہ ملا جو اپنے گھونسلے سے گر گیا تھا۔ شکاری نے اسے لا کر اپنی مرغیوں کے ساتھ باڑے میں چھوڑ دیا۔ وہ بچہ مرغیوں کے درمیان پلا بڑھا، وہی کچھ کھاتا جو مرغیاں کھاتی تھیں اور زمین کھود کر دانے تلاش کرتا۔ وہ مرغیوں کی طرح ہی تھوڑا سا اڑتا اور واپس زمین پر آ گرتا۔ اسے پورا یقین تھا کہ وہ ایک مرغی ہے اور اس کی بساط بس اتنی ہی ہے۔ایک دن ایک ماہرِ پرندہ شناس وہاں سے گزرا اور اس نے عقاب کو مرغیوں میں چرتے دیکھا۔ اس نے کسان سے کہا کہ یہ پرندوں کا بادشاہ ہے، یہ زمین پر رہنے کے لیے نہیں بنا۔ کسان نے ہنس کر کہا کہ اب یہ مرغی بن چکا ہے، یہ کبھی نہیں اڑے گا۔ ماہر نے اسے ہاتھ پر اٹھا کر بلندی کی طرف اچھالا اور کہا…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
جنگل کا قاضی🙄
ایک جنگل میں ایک بہت بڑا ریچھ قاضی (جج) مقرر کیا گیا۔ اس ریچھ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ قانون کی کتاب کا بہت ماہر ہے، لیکن اس کی ایک آنکھ پر “پٹی” بندھی تھی جسے وہ اپنی مرضی سے کھولتا اور بند کرتا تھا۔ایک دن ایک غریب بکری روتی ہوئی عدالت میں آئی۔ اس کا الزام یہ تھا کہ ایک بھیڑیے نے اس کے بچوں کا راشن چھین لیا ہے اور اسے زخمی کر دیا ہے۔ریچھ نے بھیڑیے کو طلب کیا۔ بھیڑیا بہت آرام سے عدالت میں آیا، اس کے ساتھ دو لومڑیاں بطور وکیل تھیں۔ لومڑیوں نے عدالت میں ایسی ایسی بحث کی کہ قانون کی کتابیں کانپ اٹھیں۔ انہوں نے کہا:“حضور! بھیڑیے نے جو کیا وہ تو ‘ضرورتِ وقت’ (Doctrine of Necessity) کے تحت تھا۔ اور ویسے بھی، بکری کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ راشن اس کا تھا؟ کیا اس نے راشن کارڈ…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog