بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!


ایک مرتبہ ایک شکاری کو جنگل میں عقاب کا ایک بچہ ملا جو اپنے گھونسلے سے گر گیا تھا۔ شکاری نے اسے لا کر اپنی مرغیوں کے ساتھ باڑے میں چھوڑ دیا۔ وہ بچہ مرغیوں کے درمیان پلا بڑھا، وہی کچھ کھاتا جو مرغیاں کھاتی تھیں اور زمین کھود کر دانے تلاش کرتا۔ وہ مرغیوں کی طرح ہی تھوڑا سا اڑتا اور واپس زمین پر آ گرتا۔ اسے پورا یقین تھا کہ وہ ایک مرغی ہے اور اس کی بساط بس اتنی ہی ہے۔
ایک دن ایک ماہرِ پرندہ شناس وہاں سے گزرا اور اس نے عقاب کو مرغیوں میں چرتے دیکھا۔ اس نے کسان سے کہا کہ یہ پرندوں کا بادشاہ ہے، یہ زمین پر رہنے کے لیے نہیں بنا۔ کسان نے ہنس کر کہا کہ اب یہ مرغی بن چکا ہے، یہ کبھی نہیں اڑے گا۔ ماہر نے اسے ہاتھ پر اٹھا کر بلندی کی طرف اچھالا اور کہا کہ تم عقاب ہو، اپنی طاقت پہچانو اور اڑو۔ مگر عقاب نے نیچے مرغیوں کو دانے چگتے دیکھا اور واپس نیچے کود گیا۔
اگلے دن وہ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے گیا جہاں سورج طلوع ہو رہا تھا۔ اس نے عقاب کو سورج کی روشنی کی طرف موڑا اور اسے زور سے فضا میں لہرا دیا۔ اس لمحے عقاب نے محسوس کیا کہ اس کے پروں میں غضب کی طاقت ہے۔ اس نے اپنی نظریں آسمان پر جمائیں، ایک زوردار چیخ ماری اور اپنے پر پھیلا دیے۔ وہ سمجھ گیا کہ دوسروں کے بھروسے زمین پر ذلیل ہونا اس کا مقدر نہیں تھا۔ وہ اڑا اور بادلوں کو چیرتا ہوا نکل گیا۔
سبق: جب تک آپ خود کو دوسروں کے معیار اور سہاروں کے مطابق ڈھالے رکھیں گے، آپ اپنی حقیقی پرواز کبھی نہیں جان پائیں گے۔

Leave a Reply

NZ's Corner