بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک جنگل میں بہت بڑا سیلاب آیا جس سے تمام چھوٹے جانوروں کے گھر بہہ گئے۔ شیر بادشاہ نے اعلان کیا کہ تمام متاثرہ جانوروں کو “امداد” دی جائے گی۔ اس کام کے لیے ایک عقاب کو افسر مقرر کیا گیا کیونکہ وہ بہت بلندی سے سب کچھ دیکھ سکتا تھا۔
ایک بوڑھا کچھوا، جس کا گھر مکمل تباہ ہو چکا تھا، امداد کی درخواست لے کر عقاب کے دفتر پہنچا۔ عقاب نے ایک لمبی فہرست دکھائی اور کہا:
“پہلے لومڑی سے تصدیق کرواؤ کہ تم واقعی کچھوے ہو، پھر الو سے لکھوا کر لاؤ کہ تمہارا گھر واقعی پانی میں بہا ہے، اور آخر میں بندر سے اس فائل پر مہر لگواؤ۔”
بیچارہ کچھوا اپنی دھیمی رفتار سے ایک دفتر سے دوسرے دفتر گھومتا رہا۔ ہر بار جب وہ فائل لے کر پہنچتا، کوئی نہ کوئی نیا اعتراض لگا دیا جاتا۔
• لومڑی نے کہا: “تمہاری تصویر میں تمہاری پیٹھ کا خول صاف نظر نہیں آ رہا، دوبارہ کھنچوا کر لاؤ۔”
• بندر نے کہا: “مہر لگانے کی فیس ‘دو درجن کیلے’ ہیں، جو تمہیں میرے بھانجے کو دینے ہوں گے۔”
کچھوے کو اس چکر میں دو سال گزر گئے۔ اس دوران عقاب کے دفتر میں بہت سے “کاغذی” گھر بن گئے اور امداد کی تمام رقم غائب ہو گئی۔ جب شیر بادشاہ نے آڈٹ کیا تو عقاب نے ہزاروں فائلیں دکھا کر کہا: “حضور! ہم نے تو سارا پیسہ بانٹ دیا ہے، دیکھیں سب کے دستخط موجود ہیں!”
حقیقت یہ تھی کہ عقاب اور اس کے ساتھیوں نے جعلی فائلیں بنا کر امداد خود ہضم کر لی تھی۔ جب کچھوا آخر کار اپنی فائل مکمل کر کے پہنچا، تو اسے بتایا گیا:
“مبارک ہو! تمہاری فائل منظور ہو گئی ہے، لیکن بدقسمتی سے ‘فنڈز’ ختم ہو چکے ہیں۔ اب اگلے سیلاب کا انتظار کرو!”

1. سرخ فیتہ (Red Tapism): عام آدمی کو جائز کام کے لیے بھی میلوں پیدل چلانا اور کاغذات کے گورکھ دھندے میں پھنسائے رکھنا۔
2. رشوت ستانی (Corruption): بندر کی “کیلے والی فیس” دراصل اس رشوت کی علامت ہے جو ہر میز پر دینی پڑتی ہے۔
3. کاغذی کارروائی: سرکاری ریکارڈ میں سب “اوکے” دکھانا جبکہ زمین پر کچھ نہ ہونا۔
4. ریلیف کا غائب ہونا: غریب کے نام پر آنے والی امداد کا بڑے افسران اور بااثر لوگوں کی جیبوں میں چلے جانا۔

اگر آپ کو ہماری پوسٹ/کہانیاں پسند آتی ہیں تو لائک اور شئیر ضرور کریں

Leave a Reply

NZ's Corner