ایک بار کا ذکر ہے…
تھر کے سنسان ریگستان میں، ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک بوڑھا شخص بشیر اپنے اونٹ لالو کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔
لالو اس کے لیے محض ایک جانور نہیں تھا، بلکہ دوست، ساتھی اور جینے کا واحد سہارا تھا۔ بچپن سے اُس نے لالو کو پالا تھا۔ برسوں کا ساتھ تھا—چاہے گرمی کی جھلسا دینے والی دھوپ ہو یا سرد راتوں کی خاموشی، دونوں ایک دوسرے کے ہمسفر تھے۔
بشیر کے پاس دولت نہیں تھی، مگر قناعت تھی۔ وہ لالو پر سوار ہو کر گاؤں گاؤں سبزیاں اور دودھ بیچتا، اور اسی معمولی کمائی میں زندگی گزار لیتا۔
گاؤں کے بچے لالو سے بےحد محبت کرتے تھے۔ وہ اپنی ناک سے بچوں کو ہلکا سا دھکا دیتا تو ہنسی پورے گاؤں میں گونج اٹھتی۔
ایک دن بشیر شدید بیمار پڑ گیا۔ بخار نے اسے چارپائی سے لگا دیا۔
لالو اُس کے اردگرد چکر لگاتا رہا، کبھی سونگھتا، کبھی زور سے آواز نکالتا، جیسے کہہ رہا ہو:
“اٹھو مالک! ہمیں جانا ہے… ہمیں کام کرنا ہے!”
مگر بشیر کی آنکھ نہ کھلی۔
پڑوسی اُسے ہسپتال لے جانا چاہتے تھے، مگر کوئی سواری میسر نہ آئی۔ تب لالو خود چارپائی کے پاس آ بیٹھا، جیسے اپنے مالک کو اٹھانے کی ضد کر رہا ہو۔
جب کچھ نہ ہوا تو اُس نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔
تین دن…
نہ پانی، نہ چارا—بس بشیر کے چہرے کو دیکھتا رہا۔
چوتھے دن، بشیر اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
جب جنازہ قبرستان لے جایا جا رہا تھا تو لالو بھی پیچھے پیچھے چل رہا تھا—سر جھکائے، قدم آہستہ آہستہ۔
دفن کے بعد وہ قبر کے پاس بیٹھ گیا… اور وہیں کا ہو کر رہ گیا۔
لوگ اُس کے لیے پانی رکھتے، خوراک لاتے، مگر لالو نے صرف آنسو بہائے۔
وہ اپنی تھوتھنی قبر پر رکھتا اور سسکتا رہتا۔
کچھ دن بعد، لالو بھی خاموشی سے دنیا چھوڑ گیا۔
اُس دن پورا گاؤں رو پڑا۔
بچوں نے کہا:
“یہ وفا کا پیکر تھا۔”
اور بزرگوں نے بس اتنا کہا:
“لالو نے محبت اور وفاداری کا وہ سبق دیا ہے، جو شاید انسان بھی نہ دے سکے۔”
یہ اونٹ نہیں تھا…
یہ بشیر کا سایہ تھا۔
آج بھی تھر کی ریت، قبر کنارے بہتے وہ خاموش آنسو
اور سچی محبت کی یہ کہانی سناتی ہے…
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو فالو اور شئیر ضرور کریں۔
