Tag Archives: urdu blog

کہا جاتا ہے کہ جب کوئی رومی سپاہی اپنے گھوڑے کو پانی پلاتے اور وہ نہ پیتا، تو وہ اسے ڈانٹ کر کہتا:“تجھے کیا ہوا، پیتا کیوں نہیں؟ کیا تجھے پانی میں ابن فتحون نظر آگیا ہے؟!”ابو الولید ابن فتحون اپنے زمانے میں عرب و عجم کے سب سے بڑے بہادر اور اندلس کے مشہور ترین شہسواروں میں سے تھے۔ رومی فوجیں ان کے نام سے کانپتی تھیں، اور ان کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ کہا جاتا ہے کہ خود گھوڑے بھی ان سے ڈرتے تھے۔ سلطان کی ناراضگی اور حاسدوں کی سازشابو الولید، سرقسطہ (اندلس کا ایک بڑا سرحدی شہر) کے امیر المستعین بن ہود کے دور میں تھے۔ امیر ان کی بہت عزت کرتا تھا اور ہر انعام میں انہیں 500 دینار عطا کرتا تھا۔ ان کے ساتھیوں نے ان کی اس منزلت پر حسد کیا اور سلطان کے کان بھر دیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ…

Read more

ایک  پیر صاحب اپنے مریدوں کے سامنے اپنی کرامت کا ذکر کر رھے تھے…🙂👇 کہ میں صحرا میں جا رہا تھا، چلتے چلتے دو دن گزر گئے تھے 🚶‍♂️ بھوک لگتی تو ہاتھ بڑھا کر اڑتا ھوا کوئی پرندہ پکڑ لیتا اور سورج کی روشنی پر بھون کر کھاتا…!!خدا کر شکر ادا کر کے آگے چل پڑتا، نماز کا خیال آیا تو پانی ختم ھو چکا تھا تو میں نے ایک جھاڑی دیکھی اس کے پاس جا کر زمین سے مٹھی بھر ریت اٹھائی تو اس کے نیچے سے پانی کا چشمہ نکل آیا میں پینے لگا تو خیال آیا کہ یہ جھاڑی پیاسی ھے پہلے اسے پانی پلاؤں، چلو بھر پانی اس کی جڑ میں ڈالا تو وہ درخت بن گئی اور اس کے سائے میں نماز ادا کرنے کا سوچا وضو کے لیے چلو میں پانی لیکر کلی کی تو جہاں جہاں پانی گرا گلاب کے پھول کھل…

Read more

یہ اس دور کا ذکر ہے جب بنی اسرائیل نے اپنی آنکھوں سے سمندر کو پھٹتے دیکھا تھا۔ فرعون غرق ہو چکا تھا۔ لاجک کہتی ہے کہ ان کا ایمان اتنا پکا ہونا چاہیے تھا کہ کوئی ہلا نہ سکے۔ لیکن ہوا کیا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام صرف چالیس راتوں کے لیے کوہِ طور پر گئے۔ پیچھے ایک شخص تھا، سامری۔ اس شخص نے قوم کی سائیکالوجی کو سمجھا۔ اس نے دیکھا کہ یہ لوگ دکھاوے اور آواز سے متاثر ہونے والے ہیں۔ اس نے زیورات پگھلا کر سونے کا ایک بچھڑا بنایا جس میں سے ہوا گزرتی تھی تو آواز آتی تھی۔ سامری نے ایک بیانیہ یا نیریٹو سیٹ کیا کہ یہ تمہارا خدا ہے۔ اور حیرت کی بات دیکھیں! وہ قوم جس نے ابھی خدا کا معجزہ دیکھا تھا، وہ ایک اسٹیچو کے آگے سجدے میں گر گئی۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا ماس برین واشنگ کا…

Read more

حشاشین (Assassins) جس کو باطنیان بھی کہتے ہیں۔ایک دہشت پسند اور خفیہ جماعت تھی جس کی بنیاد حسن بن صباح نے رکھی۔ اور انکا مرکز” الموت” میں قلعہ الموت تھا۔ اس جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ جس نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کرلیا اور ہزاروں فدائیوں کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا۔قلعہ الموت (Alamut Castle) بحیرہ قزوین کے نزدیک صوبہ جیلان، ایران میں ایک پہاڑی قلعہ تھا۔ یہ موجودہ تہران، ایران سے تقریبا 100 کلومیٹر (60 میل) کے فاصلے پر ہے۔ حسن بن صباح کی قیادت میں یہ دہشت پسند اور خفیہ جماعت حشاشین (Assassins) کا مرکز رہا۔ اس قلعہ اور جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔حشاشین کی ابتدا کے شواہد 1080ء میں ملتے ہیں۔ حشاشین کے ماخذ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ایک دشوار کا م ہے کیونکہ زیادہ تر…

Read more

ایک بڑے دریا کے پُرسکون کنارے پر ایک سرسبز و شاداب جنگل تھا۔ وہاں دریا کی لہروں پر جھکے ہوئے ایک درخت پر ایک ذہین بندر بستا تھا۔ وہ دن بھر میٹھے پھل کھاتا اور سکون کی زندگی بسر کرتا۔ اسی دریا میں ایک مگرمچھ بھی رہتا تھا۔ بندر اکثر اپنے درخت کے رسیلے پھل دریا میں پھینک دیتا، جنہیں کھا کر مگرمچھ بہت خوش ہوتا۔ یوں، وقت کے ساتھ ساتھ دونوں میں گہری دوستی ہوتی گئیایک روز مگرمچھ کی بیوی نے ان میٹھے پھلوں کا ذکر سنا تو اس کے ذہن میں ایک شیطانی خیال آیا۔ اس نے اپنے شوہر سے کہا:> “جو بندر روزانہ ایسے شیریں پھل کھاتا ہے، سوچو اس کا اپنا دل کتنا میٹھا ہوگا! مجھے اس کا دل کھانا ہے، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔”> مگرمچھ پہلے تو ہچکچایا، لیکن بیوی کے اصرار کے آگے ہار مان گیا اور اپنے دوست کو دھوکہ دینے کا…

Read more

ایک سلطنت میں ایک طاقتور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔اس کے پاس سب کچھ تھا—دولت، فوج، اختیار۔لیکن اس کی سب سے قیمتی چیز اس کی بیٹی، شہزادی تھی۔شہزادی نہایت ذہین اور نرم دل تھی۔وہ محل کی اونچی دیواروں سے باہر کی دنیا دیکھنا چاہتی تھی،لوگوں کے دکھ سمجھنا چاہتی تھی۔ایک دن اس نے باپ سے کہا:“ابا جان، میں رعایا کے درمیان جانا چاہتی ہوں،دیکھنا چاہتی ہوں کہ لوگ کیسے جیتے ہیں۔”بادشاہ نے سختی سے منع کر دیا:“بادشاہوں کی بیٹیاں سوال نہیں کرتیں،وہ صرف حکم مانتی ہیں۔”شہزادی خاموش ہو گئی،مگر اس کی آنکھوں میں سوال زندہ رہے۔کچھ دن بعد سلطنت میں قحط آیا۔لوگ بھوکے مرنے لگے۔بادشاہ کو خبر ملی،مگر اس نے سوچا:“یہ مسئلہ خزانے سے حل ہو جائے گا۔”شہزادی نے کہا:“ابا جان، خزانہ کافی نہیں،لوگوں کو صرف روٹی نہیں،عدل اور توجہ بھی چاہیے۔”بادشاہ نے پہلی بار بیٹی کی بات سنی نہیں—اور نقصان بڑھتا گیا۔آخرکار بادشاہ خود بھیس بدل کر شہر گیا۔جو کچھ…

Read more

ایک طاقتور بادشاہ دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا۔ اس کے لشکر کی گرد سے زمین کانپتی تھی، نیزوں کی چمک سورج کو چیلنج دیتی تھی، اور اس کے نام سے بادشاہوں کے دل دہل جاتے تھے۔ مگر تقدیر نے اسے ایک ایسی بستی سے گزارا جو دنیا کے ہنگاموں سے بالکل بے خبر تھی۔یہ افریقہ کی ایک چھوٹی سی بستی تھی۔ نہ فصیل، نہ فوج، نہ قلعہ۔ لوگ سادہ تھے، دل صاف، اور زندگی حیرت انگیز حد تک پُرسکون۔ یہاں کے باشندے جنگ کے مفہوم سے ناواقف تھے۔ وہ فاتح اور مفتوح کے فرق کو نہیں جانتے تھے، کیونکہ انہوں نے کبھی کسی کو مغلوب ہوتے نہیں دیکھا تھا۔جب بادشاہ اس بستی میں داخل ہوا تو لوگوں نے اسے دشمن نہیں بلکہ مہمان سمجھا۔ اسے احترام کے ساتھ اپنے سردار کی جھونپڑی میں لے گئے۔ وہی جھونپڑی ان کی مجلس بھی تھی، عدالت بھی، اور فیصلے کا…

Read more

پھجے میاں نے اس شام ایک پرانی ڈراؤنی فلم دیکھی تھی جس میں ایک جن درختوں پر الٹا لٹک کر لوگوں کو ڈراتا تھا۔ بس پھر کیا تھا، رات کے دو بجے پھجے میاں کے اندر کا “خفتہ جن” بیدار ہو گیا۔ وہ نیند میں ہی بستر سے ایسے اٹھے جیسے کوئی بجلی لگی ہو، ان کی آنکھیں آدھی کھلی تھیں اور وہ عجیب و غریب غراہٹ والی آوازیں نکال رہے تھے۔انہوں نے اپنی سفید چادر کو سر سے پاؤں تک ایسے لپیٹا کہ وہ سچ مچ کا ایک لمبا تڑنگا سایہ لگنے لگے۔ پھجے میاں نے دبے پاؤں چلنا شروع کیا اور کچن سے ایک کالا کڑاہا اٹھا کر اسے اپنے چہرے کے آگے کر لیا۔ اب وہ کمرے میں سوئے ہوئے اپنے کزن شفیق کے سرہانے جا کھڑے ہوئے اور ایک ایسی آواز نکالی جیسے کوئی پرانا دروازہ چڑچڑا رہا ہو۔ شفیق کی جیسے ہی آنکھ کھلی، اس…

Read more

کتا لاٹھی کو دیکھتا ہے،بھیڑیا اُس ہاتھ کو دیکھتا ہے جو لاٹھی تھامے ہوئے ہے،اور لومڑی آنکھوں میں دیکھتی ہے۔یہ حکمت جانوروں کے بارے میں نہیں،بلکہ انسانوں کے شعور کی مختلف سطحوں کو بے نقاب کرتی ہے۔کتا صرف آلے کو دیکھتا ہے؛ظاہر ہونے والے عمل میں اُلجھ جاتا ہے،لاٹھی پر حملہ کرتا ہےاور یہ بھول جاتا ہے کہ اسے کس نے حرکت دی۔یہ اُن لوگوں کی مثال ہےجو صرف ردِّعمل میں جیتے ہیں،نتائج پر غصہ کرتے ہیںمگر اسباب سے غافل رہتے ہیں۔بھیڑیا نظر میں کچھ گہرا ہے؛وہ فاعل کو دیکھتا ہے،سمجھتا ہے کہ نقصان کہاں سے آیا،لیکن پھر بھی براہِ راست ٹکراؤ کا قیدی ہے،طاقت کے مقابل طاقت۔اور رہی لومڑی،تو وہ آنکھوں میں دیکھتی ہے؛حرکت سے پہلے نیت کو،عمل سے پہلے فیصلے کو،اور لاٹھی بننے سے پہلے خیال کو پڑھ لیتی ہے۔یہیں سے اصل ذہانت شروع ہوتی ہے:کہ تم اُس چیز کو پڑھ سکوجو ابھی ہوئی ہی نہیں۔قدیم حکمت خاموشی…

Read more

چنگیز خان نے اپنی وفات سے پہلے اپنی وسیع و عریض سلطنت کو اپنے چار بیٹوں: جوجی خان، اوقطائی خان، چغتائی خان اور تولی خان کے درمیان تقسیم کر دیا تھا۔   جوجی خان (بڑا بیٹا): اسے بحیرہ قزوین کے شمالی علاقے، بلغار اور قفقاز (Caucasus) کا حصہ ملا۔ تاہم، جوجی خان اپنے والد کی زندگی ہی میں وفات پا گیا، چنانچہ اس کی وراثت اس کے بیٹے باتو خان کو ملی۔ باتو خان نے ایک بڑی مہم کی قیادت کی اور مشرقی سمت سے یورپ پر حملہ آور ہوا۔   تولی خان: اسے منگولیا کی سرزمین ملی، جو بعد میں اس کے بیٹے ہلاکو خان کے حصے میں آئی۔ ہلاکو خان نے ایک عظیم لشکر کے ساتھ فارس (ایران) کو فتح کیا اور پھر بغداد کی طرف بڑھا، جہاں اس نے عباسی خلیفہ کو شہید کیا اور پھر شام و مصر کی طرف پیش قدمی کا ارادہ کیا۔ برکہ…

Read more

اصل مسئلہ کیا ہے ؟کیا آپ جانتے ہیں کہ جیفری ایپسٹین کا وہ جزیرہ کیا راز چھپائے ہوئے تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا؟ مکمل تفصیل اس تحریر میں پڑھیں۔جیفری ایپسٹین: ایک عالمی شیطان کا عبرت ناک انجام اور ادھورے سچ آج کل انٹرنیٹ پر ایپسٹین فائلز کے چرچے ہیں، اور ہر طرف بڑے بڑے ناموں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ لیکن یہ پورا معاملہ ہے کیا؟ وہ کون تھا جس نے دنیا کے طاقتور ترین لوگوں کو اپنے قدموں میں جھکا رکھا تھا اور اس کا “جزیرہ” کیا راز چھپائے ہوئے تھا؟ آئیے حقائق کی گہرائی میں اترتے ہیں۔ جیفری ایپسٹین کون تھا؟ جیفری ایپسٹین ایک امریکی ارب پتی فنانسر تھا، جس کے بارے میں لوگ جانتے تو کم تھے لیکن اس کا اثر و رسوخ وائٹ ہاؤس سے لے کر برطانوی شاہی محل تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھی جس…

Read more

ایک دن ایک بطخ اپنے ننھے منے بچوں کے ساتھ جھیل کی طرف جا رہی تھی۔ بچے بہت خوش تھے اور اپنی ماں کے پیچھے پیچھے کواک کواک کرتے ہوئے مزے سے چل رہے تھے کہ اچانک ماں بطخ کی نظر دور کھڑی ایک لومڑی پر پڑی۔ وہ سہم گئی اور فوراً چلائی، “بچوں! جلدی سے جھیل کی طرف بھاگو، وہاں لومڑی ہے!” جب بچے جھیل کی طرف بھاگے تو ماں بطخ نے انہیں بچانے کے لیے ایک انوکھی چالاکی سوچی؛ اس نے زمین پر اپنے پر گھسیٹنے شروع کر دیے جیسے وہ زخمی ہو اور اڑ نہ سکتی ہو۔ لومڑی یہ دیکھ کر نہال ہو گئی کہ آج تو آسان شکار ہاتھ لگا ہے اور وہ تیزی سے بطخ کی طرف لپکی۔ ماں بطخ نے لومڑی کو اپنے پیچھے لگائے رکھا اور اسے جھیل سے بہت دور لے گئی تاکہ اس کے بچے محفوظ ہو جائیں۔ جیسے ہی اس…

Read more

جب ملا نصیرالدین اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو حسبِ عادت مڑے کہ گدھے کو اندر لے آئیں، مگر پیچھے جو منظر دیکھا اُس نے ان کے قدموں تلے زمین ہلا دی۔ رسی کے دوسرے سرے پر گدھا نہیں بلکہ ایک آدمی کھڑا تھا، جس کی گردن میں رسی پڑی ہوئی تھی اور وہ معصومیت سے ملا کو دیکھ رہا تھا۔ملا نے آنکھیں ملیں، پھر غور سے دیکھا۔“یا اللہ خیر! یہ کیا ماجرا ہے؟ میرا گدھا کہاں گیا؟”وہ آدمی فوراً ہاتھ جوڑ کر بولا،“ملا صاحب! گھبرائیے مت، میں ہی آپ کا گدھا ہوں۔”ملا نے حیرت سے پوچھا،“یہ کیسی بات کر رہے ہو؟ انسان گدھا کیسے بن سکتا ہے؟”وہ شخص رونے کی صورت بنا کر کہنے لگا،“ملا صاحب، یہ سب میرے برے اعمال کا نتیجہ ہے۔ میں اپنی ماں کی نافرمانی کرتا تھا، اس کی بددعاؤں سے مجھے سزا ملی اور میں گدھا بنا دیا گیا۔ آج کئی سال بعد…

Read more

‏قوم لوط جنہوں نے ایسی برائی کو ایجاد کیا۔ جو ان سے پہلے دنیا میں کسی قوم نے نہ کی تھی۔ ایسی بدکاری جس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ اس قوم نے ایسا کیا کام کیا تھا اور ان کا کیا انجام ھوا۔ حضرت لوط علیہ السلام  اللہ کے ایک برگزیدہ نبی تھے آپ کے والد کا نام حاران تھا جو تابش کے بیٹے تھے آپ کی پیدائش عراق کے قدیم شہر “عر” میں ہوئی تھی اس شہر میں ابراہیم علیہ السلام کا مسکن تھا۔ دراصل لوط علیہ السلام کے والد حاران حضرت ابراہیم کے سگے بھائی تھے یعنی حضرت لوط علیہ السلام کے والد حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے چونکہ حضرت لوط علیہ السلام کے والد ان کے بچپن میں ہی انتقال کر چکے تھے لہذا حضرت لوط  کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹا بنا کر پالا تھا آپ حضرت ابراہیم پر سب سے پہلے ایمان…

Read more

ایک دن مینڈکوں کا ایک گروہ کہیں جا رہا تھا کہ اچانک دو مینڈک ایک گڑھے میں جا گرے۔باہر موجود مینڈکوں نے دیکھا کہ یہ گڑھا ان دونوں کے قابو سے باہر ہے تو انہوں نے اوپر سے چیخنا شروع کر دیا:“افسوس! تم اس سے باہر نہیں نکل پاؤ گے، بس ہلکان ہو جاؤ، ہار مان لو اور موت کا انتظار کرو!”ایک مینڈک یہ سب سن کر دل ہی دل میں ہار مان گیا، چند کوششیں کیں مگر دل برداشت نہ کر سکا، اور واقعی مر گیا۔دوسرا مینڈک مسلسل اپنی پوری طاقت لگا کر گڑھے سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا رہا، جگہ بدل کر، جمپ لگاتے ہوئے۔اوپر والے مینڈک پوری طاقت سے چیخ رہے تھے، سیٹیاں بجا رہے تھے، روک رہے تھے کہ “مت ہلکان ہو، موت تیرا مقدر ہے!”لیکن مینڈک نے اور زیادہ شدت سے کوشش جاری رکھی اور آخر کار کامیاب ہو گیا۔جب سب مینڈک اس کے…

Read more

قدیم فارس میں، جہاں ریت اور پہاڑ تقدیر کی لکیر کھینچتے تھے، ایک سپاہی پیدا ہوا رُستم جس کی طاقت داستانوں میں زندہ تھی۔ ایک مہم کے دوران وہ سمنگان کے دربار میں ٹھہرا، جہاں ایک رات اس کی ملاقات تہمنہ سے ہوئی۔ صبح ہونے سے پہلے راستے جدا ہو گئے، اور رُستم کو خبر نہ ہوئی کہ اس رات کی یاد ایک جان بن کر دنیا میں آنے والی ہے۔ برسوں بعد، اسی سرزمین پر ایک نوجوان جنگجو ابھرا سُہراب جس کی تلوار بجلی اور دل سوال تھا۔ اس نے سنا کہ دنیا میں ایک ہی شخص ہے جو اسے شکست دے سکتا ہے: رُستم۔ مگر کسی نے یہ نہ بتایا کہ وہی اس کا باپ ہے۔ سُہراب نے جنگ اس نیت سے چھیڑی کہ رُستم کو ڈھونڈ کر پہچان لے یا شکست دے کر نام حاصل کرے۔ میدان سجا۔ دونوں آمنے سامنے آئے۔ طاقت طاقت سے ٹکرائی، مگر…

Read more

یہ واقعہ ایک ایسے صاحب کا ہے جنہیں نیند میں چلنے اور بولنے کی بیماری تھی، لیکن ان کی اس بیماری نے پورے محلے کو ایک رات “توبہ” کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان کا نام کریم بخش تھا، مگر محلے والے انہیں “کریموں مراقبہ” کہتے تھے کیونکہ وہ اکثر چلتے چلتے کہیں بھی کھڑے کھڑے سو جاتے تھے۔ایک دفعہ گرمیوں کی رات تھی، کریم صاحب اپنی چھت پر سو رہے تھے۔ اچانک ان کا “خوابوں والا انجن” اسٹارٹ ہوا اور وہ نیند ہی میں اٹھ کر چل دیے۔ اتفاق سے اس رات محلے کے چوہدری صاحب کے گھر چوری کی واردات ہوئی تھی اور پورے محلے کے مرد لاٹھیاں لے کر گلیوں میں پہرہ دے رہے تھے۔کریم صاحب سفید لٹھا پہن کر، آنکھیں بند کیے، ہاتھ لہراتے ہوئے گلی میں آئے تو پہرہ دینے والے نوجوانوں کی جان نکل گئی۔ ایک تو آدھی رات کا وقت، اوپر سے کریم…

Read more

فروری 1250ء کی ایک ٹھنڈی صبح کے وقت، مصر کا شہر منصورہ ابھی نیند کے دھندلکے میں ڈوبا ہوا تھا۔ دریائے نیل کے پانی پر ہلکی سی کہر چھائی ہوئی تھی، مگر اس صبح کی خاموشی پر ایک عجیب بے چینی سوار تھی۔ شہر کی دیواروں پر مصری سپاہی نظریں جما کر دور دریا کے پار دیکھ رہے تھے، جہاں صلیبیوں کے کیمپ میں مشعلیں ٹمٹما رہی تھیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب تاریخ کے دھارے موڑ پر آ کر کھڑے تھے۔ایک عرصے سے مصر ایوبی سلطنت کے سیاسی طوفانوں میں گھرا ہوا تھا۔ سلطان الصالح ایوب کی اچانک موت نے اقتدار کی کرسی خالی کر دی تھی، مگر ان کی اہلیہ شجرۃ الدر نے حالات کو مضبوطی سے سنبھالا۔ وہ پردے کے پیچھے رہ کر فوج کو منظم کر رہی تھیں، خاص طور پر مملوک غلام سپاہیوں کو، جو تربیت اور جنگی مہارت میں بے مثل تھے۔دوسری طرف، فرانس…

Read more

ایک چور محل میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ بادشاہ نے اسے سزائے موت سنانے کا فیصلہ کیا۔ چور بہت چالاک تھا، اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت مجھے مارنے سے پہلے ایک بار میری بات سن لیں، میں ایک ایسا ہنر جانتا ہوں جس سے مٹی کو سونا بنایا جا سکتا ہے، اگر میں مر گیا تو یہ ہنر ختم ہو جائے گا۔بادشاہ لالچ میں آ گیا اور اسے ایک موقع دیا۔ چور نے ایک مٹی کی ڈلی اٹھائی اور کہا کہ اسے سونا بنانے کے لیے شرط یہ ہے کہ اسے وہ آدمی ہاتھ لگائے جس نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور کبھی چوری نہ کی ہو۔پہلے وزیر کی باری آئی، وہ پیچھے ہٹ گیا کہ بچپن میں ایک بار جھوٹ بولا تھا۔ پھر بادشاہ کی باری آئی، وہ بھی ہچکچایا۔چور مسکرایا اور بولا کہ عجیب بات ہے، ہم سب گناہ گار ہیں، میں نے…

Read more

قدیم بغداد کی گلیوں میں، جہاں چراغوں کی روشنی اور سایوں کی سرگوشیاں ساتھ چلتی تھیں، ایک کاتب رہتا تھا جس کا نام یونس تھا۔ اس کا کام بادشاہ کے دربار میں فیصلوں اور احکامات کو صاف خط میں نقل کرنا تھا۔ یونس کی تحریر بے عیب تھی، مگر اس کا دل ہمیشہ بے چین رہتا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے لکھے ہوئے الفاظ کسی کی زندگی بدل سکتے ہیں—کسی کو بچا بھی سکتے ہیں اور کسی کو مٹا بھی۔ ایک رات، جب شہر پر خاموشی اتری، یونس کو ایک بند لفافہ ملا۔ اس پر نہ مہر تھی، نہ نام۔ اندر ایک حکم تھا—ایسا حکم جو ایک بے گناہ خاندان کی جلاوطنی کا باعث بنتا۔ یونس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ وہ جانتا تھا کہ حکم لکھنا اس کی ذمہ داری ہے، مگر اس کی سچائی اس کے ضمیر پر بوجھ بن گئی۔ اسی رات اسے خواب آیا۔ اس…

Read more

380/422
NZ's Corner