پھجے میاں نے اس شام ایک پرانی ڈراؤنی فلم دیکھی تھی جس میں ایک جن درختوں پر الٹا لٹک کر لوگوں کو ڈراتا تھا۔ بس پھر کیا تھا، رات کے دو بجے پھجے میاں کے اندر کا “خفتہ جن” بیدار ہو گیا۔ وہ نیند میں ہی بستر سے ایسے اٹھے جیسے کوئی بجلی لگی ہو، ان کی آنکھیں آدھی کھلی تھیں اور وہ عجیب و غریب غراہٹ والی آوازیں نکال رہے تھے۔
انہوں نے اپنی سفید چادر کو سر سے پاؤں تک ایسے لپیٹا کہ وہ سچ مچ کا ایک لمبا تڑنگا سایہ لگنے لگے۔ پھجے میاں نے دبے پاؤں چلنا شروع کیا اور کچن سے ایک کالا کڑاہا اٹھا کر اسے اپنے چہرے کے آگے کر لیا۔ اب وہ کمرے میں سوئے ہوئے اپنے کزن شفیق کے سرہانے جا کھڑے ہوئے اور ایک ایسی آواز نکالی جیسے کوئی پرانا دروازہ چڑچڑا رہا ہو۔ شفیق کی جیسے ہی آنکھ کھلی، اس نے سامنے سات فٹ کا سفید ہیولا دیکھا جس کا چہرہ کالا سیاہ تھا، اس کی تو وہی چیخ نکل گئی۔
تباہی تب شروع ہوئی جب پھجے میاں کو خواب میں لگا کہ وہ سچ مچ اڑ سکتے ہیں۔ وہ کھڑکی کے راستے صحن میں نکلے اور وہاں لگے امرود کے درخت پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگے۔
پھجے میاں درخت کی ایک لچکدار ٹہنی پر جا بیٹھے اور وہاں سے پڑوسی چوہدری صاحب کی چھت پر جھانکنے لگے۔ چوہدری صاحب اس وقت گرمی کی وجہ سے چھت پر سو رہے تھے۔ پھجے میاں نے درخت سے ایک کچا امرود توڑ کر چوہدری صاحب کے پیٹ پر مارا اور جناتی آواز میں چلائے کہ اے انسان! تیری موت تیرے سر پر کھڑی ہے، اٹھ اور مجھے اپنی بھینس کا دودھ پیش کر! چوہدری صاحب ہڑبڑا کر اٹھے تو دیکھا کہ سامنے درخت پر ایک سفید کفن پوش جن جھول رہا ہے اور اس کے ہاتھ میں کالا کڑاہا ہے۔
چوہدری صاحب نے ڈر کے مارے اپنا بڑا سا تکیہ پھجے میاں کی طرف اچھالا۔ پھجے میاں نے اسے “جادوئی حملہ” سمجھا اور اسے پکڑنے کے چکر میں ٹہنی سے ہاتھ چھوڑ دیے۔ وہ سیدھے درخت سے گرے، مگر زمین پر نہیں بلکہ نیچے بندھی ہوئی چوہدری صاحب کی بھینس کی پیٹھ پر! بھینس نے جب اپنے اوپر ایک سفید جن گرا ہوا دیکھا تو وہ بدک گئی اور کھونٹا تڑا کر گلی میں بھاگ نکلی۔
پھجے میاں نیند میں ہی بھینس کی گردن سے لپٹے ہوئے تھے اور نعرے مار رہے تھے کہ میرا اڑن قالین تھوڑا سا کالا ہے مگر بہت تیز ہے! گلی میں موجود چوکیدار نے جب دیکھا کہ ایک بھینس پر سفید جن سوار ہو کر آ رہا ہے، تو وہ اپنی ٹارچ پھینک کر بھاگا اور نالی میں جا گرا۔ انجام یہ ہوا کہ بھینس نے پھجے میاں کو محلے کے گندے نالے کے پاس جا کر پٹخ دیا جہاں ان کی آنکھ کھلی۔ اب پھجے میاں سر سے پاؤں تک نالے کے کیچڑ میں لت پت تھے اور سامنے چوہدری صاحب لاٹھی لیے کھڑے تھےپھجے میاں گھی میں لت پت، سفید چادر اوڑھے اور مرچوں کی وجہ سے لگاتار چھینکتے ہوئے باہر گلی میں نکلے تو سامنے سے فائر بریگیڈ کی گاڑی آ رہی تھی جو کسی اور گھر کی آگ بجھانے جا رہی تھی۔ پھجے میاں نے اسے “آگ اگلنے والا اژدہا” سمجھا اور اپنا کالا کڑاہا ڈھال بنا کر گاڑی کے سامنے لیٹ گئے کہ اے ناپاک جانور! پہلے میرا مقابلہ کر! گاڑی کو اچانک بریک مارنی پڑی جس سے پانی کا ٹینکر چھلک کر سیدھا پھجے میاں کے اوپر گرا۔ جب ان کی آنکھ کھلی تو وہ آدھے کیچڑ اور آدھے گھی میں ڈوبے ہوئے تھے، چاروں طرف محلے دار کھڑے تھے جو مرچوں کی وجہ سے آنسو بہا رہے تھے اور سامنے چوہدری صاحب اپنی ٹوٹی ہوئی کڑھائیوں کا بدلہ لینے کے لیے ڈنڈا تول رہے تھے۔ پھجے میاں نے معصومیت سے چھینکتے ہوئے پوچھا کہ کیا میں نے اژدہے کو مار گرایا؟ ابا جی نے پیچھے سے ان کا کان مروڑا اور بولے کہ اژدہے کا تو پتہ نہیں، پر جو چوہدری کا نقصان ہوا ہے اس کے بدلے اب تمہیں چھ مہینے تک اسی بھینس کا چارہ ڈالنا ہوگا جس پر تم تخت سمجھ کر بیٹھے تھے!🤣🤣
اگر آپ کو تحریر پسند آئی ہو تو کمنٹ ضرور کریں۔ اور پیج کو فالو اور پوسٹ کو شیئر کریں
