ایک بڑے دریا کے پُرسکون کنارے پر ایک سرسبز و شاداب جنگل تھا۔ وہاں دریا کی لہروں پر جھکے ہوئے ایک درخت پر ایک ذہین بندر بستا تھا۔ وہ دن بھر میٹھے پھل کھاتا اور سکون کی زندگی بسر کرتا۔ اسی دریا میں ایک مگرمچھ بھی رہتا تھا۔ بندر اکثر اپنے درخت کے رسیلے پھل دریا میں پھینک دیتا، جنہیں کھا کر مگرمچھ بہت خوش ہوتا۔ یوں، وقت کے ساتھ ساتھ دونوں میں گہری دوستی ہوتی گئی
ایک روز مگرمچھ کی بیوی نے ان میٹھے پھلوں کا ذکر سنا تو اس کے ذہن میں ایک شیطانی خیال آیا۔ اس نے اپنے شوہر سے کہا:
> “جو بندر روزانہ ایسے شیریں پھل کھاتا ہے، سوچو اس کا اپنا دل کتنا میٹھا ہوگا! مجھے اس کا دل کھانا ہے، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔”
>
مگرمچھ پہلے تو ہچکچایا، لیکن بیوی کے اصرار کے آگے ہار مان گیا اور اپنے دوست کو دھوکہ دینے کا منصوبہ بنا لیا۔
اگلے دن مگرمچھ بندر کے پاس گیا اور بڑی محبت سے بولا، “دوست! آج میری بیوی نے تمہارے لیے خاص دعوت تیار کی ہے، تم میرے ساتھ دریا کے اس پار ہمارے گھر چلو۔”
بندر بیچارہ سادہ لوح تھا، وہ اپنے دوست کی نیت بھانپ نہ سکا اور چھلانگ لگا کر مگرمچھ کی پیٹھ پر سوار ہو گیا۔ جب وہ دریا کے عین وسط میں پہنچے، جہاں سے واپسی ناممکن تھی، تو مگرمچھ نے اپنی بدنیتی کا اظہار کر دیا کہ وہ اسے اپنی بیوی کے پاس لے جا رہا ہے تاکہ وہ اس کا دل کھا سکے۔
موت سامنے دیکھ کر بندر کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے فوراً ایک چال چلی اور مسکرا کر کہا:
“اوہ میرے پیارے دوست! یہ تو تم نے بڑی خوشخبری سنائی، مگر ایک مسئلہ ہے۔ ہم بندر اپنا دل ہمیشہ درخت کی شاخ پر چھپا کر رکھتے ہیں۔ اگر تم نے پہلے بتایا ہوتا تو میں اسے ساتھ لے آتا۔ اب ہمیں واپس جا کر میرا دل لانا ہوگا، ورنہ تمہاری بیوی کو مایوسی ہوگی۔”
مگرمچھ بندر کی باتوں میں آ گیا اور اسے واپس کنارے کی طرف لے گیا۔ جیسے ہی کنارہ قریب آیا، بندر نے ایک لمبی چھلانگ لگائی اور درخت کی اونچی شاخ پر جا بیٹھا۔ اس نے اوپر سے مگرمچھ کو مخاطب کیا اور کہا:
“اے بے وقوف! کیا کوئی اپنا دل جسم سے الگ کر کے رکھ سکتا ہے؟ تم نے دوستی کے نام پر دھوکہ دیا، لیکن یاد رکھو، طاقتور جسم پر ہمیشہ بیدار عقل بھاری پڑتی ہے۔”
مگرمچھ اپنی حماقت اور شرمندگی کا بوجھ لیے خالی ہاتھ واپس لوٹ گیا۔
سبق: پریشانی میں حواس باختہ ہونے کے بجائے ٹھنڈے دماغ سے سوچنا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
