Tag Archives: urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge

بہت زمانہ پہلے کی بات ہے۔ ایک سلطنت میں ایک ایسا شہزادہ رہتا تھا جس کا مزاج کانٹوں سے بھی زیادہ چبھنے والا تھا۔ غرور اس کے سر پر سوار رہتا اور بدتمیزی اس کی زبان پر ناچتی تھی۔ رعایا تو درکنار، اس کے اپنے خادم بھی اس کے رویّے سے عاجز آ چکے تھے۔ایک روز قسمت نے پلٹا کھایا۔ زور دار بارشوں کے باعث دریا بپھر گیا اور سیلاب کا ریلہ ہر شے کو اپنے ساتھ بہائے لیے جا رہا تھا۔ انہی دنوں شہزادہ بھی دریا کے تیز دھار پانی میں جا گرا۔ کچھ روایتیں کہتی ہیں کہ اس کے نوکروں نے، جو اس کی سخت مزاجی سے تنگ آ چکے تھے، اسے دھکا دے دیا۔موت اس کے سر پر منڈلا رہی تھی۔ بڑی مشکل سے اسے ایک بہتا ہوا درخت کا تنا ہاتھ آ گیا۔ وہ اسی کے سہارے جان بچانے کی کوشش کرنے لگا۔اسی تنے سے تین…

Read more

ایک شہر میں ایک بہت بڑا کنجوس رہتا تھا۔ وہ اتنا بخیل تھا کہ اپنی ذات پر بھی ایک روپیہ خرچ کرتے ہوئے اس کی جان نکلتی تھی۔ اس کی ایک ہی خواہش تھی کہ کبھی بغیر پیسے خرچ کیے کوئی اچھی چیز کھانے کو مل جائے۔ایک دن اس کے ایک امیر دوست نے اسے اپنے گھر کھانے پر بلایا۔ کنجوس خوشی خوشی وہاں پہنچا۔ دوست نے رات کے کھانے میں بہت ہی لذیذ اور مہنگی تلی ہوئی مچھلی (Fried Fish) بنوائی ہوئی تھی۔ مچھلی اتنی خوشبودار تھی کہ کنجوس کے منہ میں پانی آگیا۔ کنجوس نے بغیر وقت ضائع کیے مچھلی کھانا شروع کی اور اتنی تیزی سے کھائی کہ مچھلی کا ایک بڑا اور تیز کانٹا اس کے گلے میں پھنس گیا۔ کنجوس کا دم گھٹنے لگا، اس کا چہرہ لال ہو گیا اور وہ کھانسنے لگا۔امیر دوست پریشان ہو گیا اور نوکر سے بولا: “جلدی بھاگو اور…

Read more

حضرت شعیب کے زمانے میں ایک شخص کہا کرتا تھا کہ خدانے میرے ان گنت عیب دیکھے ہیں، اوہو! کس قدر گناہ اور جرم دیکھے ہیں لیکن اپنے کرم کی وجہ سے میری گرفت نہیں فرماتا۔ حق تعالیٰ نے غیبی آواز سے حضرت شیعب سے بطور جواب کے فرمایا کہ اے شخص تو سیدھا راستہ ترک کر کے جنگل میں بھٹک گیا ہے۔ تو کہتا ہے کہ میں تیرے گناہوں پر گرفت نہیں کرتا حالانکہ میں تیری اس قدر گرفت کرتا رہتا ہوں کہ تو سر سے پاؤں تک زنجیروں میں گھرا ہوا ہے مگر تجھے خبر نہیں۔ اے سیاہ دیگ تیرا رنگ تجھی پر چڑھ رہا ہے اور اس نے تیری روح کے ماتھے کو بے نور کر دیاہے۔ تیرے دل پر زنگ کی تہیں اس قدر چڑھ گئی ہیں کہ خدا کے بھیدوں کو دیکھنے سے تو اندھا ہوگیا ہے۔ لوہار جب زنگی ہو تو دھنواں اس کے…

Read more

یہ آٹھویں صدی عیسوی کا زمانہ تھاجب عباسی خلافت اپنے عروج پر تھی، علم، تہذیب اور طاقت اپنے شباب پر تھے۔مگر اسی روشن دور میں ایک ایسا شخص بھی ابھرا جس نے اپنی ذہانت کو روشنی نہیں، بلکہ فریب کے لیے استعمال کیا۔ اس کا نام ہاشم تھا،مگر تاریخ اسے مقنع خراسانی کے نام سے جانتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ خراسان کے ایک معمولی گاؤں میں ایک دھوبی کے گھر پیدا ہوا۔لیکن اس کی ذہانت غیر معمولی تھی خاص طور پر کیمیا اور دھاتوں کے علوم میں۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سے اس کی کہانی خطرناک رخ اختیار کرتی ہے۔ ابتدا میں اس نے لوگوں کو حیران کرنا شروع کیا۔کبھی کیمیا کے تجربات، کبھی عجیب و غریب کرتب،اور پھر اس نے ایک ایسا دعویٰ کیا جس نے لوگوں کے دل و دماغ کو ہلا دیا: “میں عام انسان نہیں، میں ایک برگزیدہ ہستی ہوں!” رفتہ رفتہ اس…

Read more

ایک مغرور شخص ایک درویش کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ تم لوگ کہتے ہو کہ شیطان آگ سے بنا ہے اور اسے دوزخ کی آگ میں جلایا جائے گا، بھلا آگ آگ کو کیسے جلا سکتی ہے؟ درویش نے خاموشی سے مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھایا اور اس شخص کے سر پر مار دیا۔وہ شخص چیخا اور کہنے لگا کہ تم نے مجھے کیوں مارا؟ میرا سر درد کر رہا ہے۔ درویش نے پوچھا کہ کیا تمہیں درد نظر آ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ درویش نے کہا کہ جیسے درد نظر نہیں آتا مگر محسوس ہوتا ہے، ویسے ہی اللہ کی قدرت بھی ہے۔ اور رہی بات آگ کی، تو تم مٹی سے بنے ہو لیکن مٹی کے ڈھیلے نے تمہیں تکلیف دی، اسی طرح اللہ آگ سے بنے شیطان کو آگ سے ہی سزا دے گا۔سبق: قدرت کے نظام پر شک کرنے کے بجائے…

Read more

ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا اے فرعون ! تو اسلام قبول کر لے اس کے عوض تیری آخرت تو بہتر ہو ہی جائے گی مگر دنیا میں بھی تجھے چار نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ تو علی الاعلان اس بات کا اقرار کر لے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی خدا نہیں وہ بلندی پر افلاک اور ستاروں کا پستی میں جن وانس شیاطین اور جانوروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ پہاڑوں، دریاؤں، جنگلوں اور بیابانوں کا بھی خالق و مالک ہے۔ اس کی سلطنت غیر محدود ہے اور وہ بے نظیر و بے مثال ہے۔ وہ ہر شخص و ہر مکان کا نگہبان ہے۔ عالم میں ہر جاندار کو رزق دینے والا ہے۔ آسمانوں اور زمینوں کا محافظ ہے نباتات میں پھول پیدا کرنے والا اور بندوں کے دلوں کی باتوں کو جاننے والا سرکشوں پر حاکم اور ان کی سرکوبی کرنے والا…

Read more

یہ ایک بہت ہی جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے جو وفاداری، قربانی اور انسانی (یا حیوانی) فطرت کی تلخیوں کو بیان کرتی ہے۔کسی کو بچانے کی قیمت، اپنا ہی دل تڑپانا ہے…لنگور کوئی بڑا یا اہم جانور بن کر نہیں آیا تھا، وہ ایک فقیر بن کر آیا تھا۔ اپنی مالی تباہی اور سماجی ذلت کے خوف سے—جس کی وجہ سے اس کی بیٹی کی شادی میں رسوائی کا خطرہ تھا—وہ بندریا کے قدموں میں گر کر رونے لگا۔ اس نے التجا کی، “میری عزت بچا لو! مجھے ایسی شان و شوکت کا لباس پہنا دو کہ میرے دوست مجھ پر ہنس نہ سکیں۔”اس کی بے بسی دیکھ کر بندریا کا دل پگھل گیا۔ اس نے اپنی روح کا خون جلا کر سونا بنایا۔ چالیس دن تک وہ ایک ایسا آسمانی چمک والا لباس بنتی رہی جو محض ایک کپڑا نہیں تھا، بلکہ لنگور کی مفلسی کو چھپانے والا…

Read more

قدیم عرب کے ایک قصے کے مطابق، ایک طاقتور بادشاہ کو شکار کا بہت شوق تھا۔ اس کے پاس ایک ایسا عقاب تھا جسے اس نے بچپن سے پالا تھا اور وہ اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ وہ عقاب ہمیشہ بادشاہ کے کندھے پر بیٹھتا اور شکار میں اس کا بہترین ساتھی ثابت ہوتا۔تلاشِ آبایک دن بادشاہ اپنے چند سپاہیوں کے ساتھ ایک تپتے ہوئے صحرا میں شکار کے لیے نکلا۔ تپش اتنی شدید تھی کہ مشکیزوں کا پانی ختم ہو گیا اور بادشاہ اپنے قافلے سے بچھڑ کر تنہا رہ گیا۔ پیاس کے مارے اس کا برا حال تھا اور وہ سائے اور پانی کی تلاش میں بھٹک رہا تھا۔کافی دیر بعد اسے ایک پہاڑی کے دامن میں چٹان سے قطرہ قطرہ ٹپکتا ہوا پانی نظر آیا۔ بادشاہ نے خوشی سے اپنا پیالہ نکالا اور بڑی محنت اور صبر سے ان قطروں کو پیالے میں جمع…

Read more

افریقہ کے ایک گھنے جنگل میں ایک کچھوا رہتا تھا۔ وہ بہت سست تھا، لیکن اس کی زبان بہت تیز تھی۔ وہ ہر وقت بکتا رہتا، دوسروں کی باتیں کرتا، ان پر تنقید کرتا، ان کا مذاق اڑاتا۔ جنگل کے دوسرے جانور اس سے تنگ آ چکے تھے۔ لیکن کچھوا کسی کی بات نہیں سنتا تھا۔ ایک دن کچھوا درخت کے نیچے بیٹھا بکتا ہوا تھا کہ اوپر سے ایک عقاب وہاں آیا۔ عقاب بہت بڑا تھا، بہت طاقتور تھا۔ اس کے پر پھیلے ہوئے تھے، اس کی آنکھیں تیز تھیں۔ کچھوا نے اوپر دیکھا اور بولا: “او عقاب! تو بہت بڑا ہے، لیکن کیا فائدہ؟ تیرے پر تو ہیں، لیکن تو کہاں اڑ سکتا ہے؟ تیری آنکھیں تو ہیں، لیکن تو کیا دیکھ سکتا ہے؟” عقاب نے کچھ نہ کہا۔ وہ خاموش کھڑا رہا۔ کچھوا بولا: “مجھے بتا، کیا تو سچ میں اتنا اونچا اڑ سکتا ہے جتنا لوگ…

Read more

جنگل میں آئے دن جھگڑے اور فسادات ہوتے رہتے تھے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر خون بہہ جاتا، اور ہر طرف خوف، نفرت اور بدنظمی کا راج تھا۔ چند امن پسند، سمجھدار اور سچے دل کے جانور آخرکار شیر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ وہ گڑگڑاتے ہوئے بولے: حضور! کچھ کیجیے۔ اس ریاست میں ہمارا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی جان سے جاتا ہے۔ ظلم، ناانصافی اور نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔” شیر نے انہیں انصاف کا یقین دلایا، تسلی دی اور دربار برخاست کر دیا۔ اجلاس کے بعد شیر نے اپنی وزیرِاعظم لومڑی کو بلایا اور پوچھا:“یہ سب لڑائی جھگڑوں اور بدنظمی کی اصل وجہ کیا ہے؟” لومڑی نے بڑے اعتماد سے جواب دیا:جنابِ والا! رعایا میں شعور کی شدید کمی ہے۔ وہ نہ اپنے حقوق کو پہچانتی ہے اور نہ اپنے فرائض کو سمجھتی ہے۔ انہیں بات کی گہرائی میں جانے کی عادت بھی نہیں۔”…

Read more

چین کے ایک گاؤں میں ایک بوڑھا پانی بھرنے والا تھا۔ وہ ہر روز دریا سے پانی بھرتا اور گاؤں میں تقسیم کرتا تھا۔ اس کے پاس دو بڑے گھڑے تھے، جو ایک لمبی چھڑی کے دونوں سروں پر لٹکائے جاتے تھے۔ ایک گھڑا بالکل ٹھیک تھا۔ اس میں دریا سے لے کر گاؤں تک سارا پانی سلامت رہتا۔ دوسرے گھڑے میں دراڑ پڑی ہوئی تھی۔ جب بوڑھا پانی بھر کر چلتا تو اس میں سے آدھا پانی راستے میں ٹپک جاتا۔ دو سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ بوڑھا ہر روز پانی بھرتا، دو گھڑے لٹکاتا، اور گھر واپس آتا تو ایک گھڑا بھرا ہوتا، دوسرا آدھا خالی۔ ٹھیک گھڑا اپنے کام پر فخر کرتا۔ وہ سمجھتا تھا کہ وہ مکمل ہے، کامل ہے۔ پھٹے ہوئے گھڑے کو بہت شرم آتی۔ وہ اپنی کمزوری پر پچھتانا۔ وہ سوچتا: “میں صرف آدھا پانی لا پاتا ہوں۔ میری وجہ سے بوڑھے…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی  شہزادی، بہت خوبصورت، بہت نرم مزاج۔ بادشاہ اس سے بے حد محبت کرتا تھا۔ وہ اس کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا۔ ایک دن شہزادی بیمار ہو گئی۔ بخار تھا، کمزوری تھی، وہ بستر سے اٹھ نہیں پا رہی تھی۔ بادشاہ نے ملک کے سب ڈاکٹر بلوائے۔ ہر ڈاکٹر نے کچھ نہ کچھ دوا دی، کوئی فائدہ نہ ہوا۔ شہزادی کا بخار نہیں اتر رہا تھا۔ بادشاہ پریشان تھا۔ اس نے کہا: “جو میرے بیٹی کا علاج کر دے گا، اسے آدھی سلطنت دوں گا۔” دور دراز سے حکیم آئے، جادوگر آئے، پیر آئے۔ سب نے کچھ نہ کچھ کیا، لیکن شہزادی کی طبیعت بگڑتی جا رہی تھی۔ آخر ایک بوڑھی عورت آئی۔ اس نے کہا: “بادشاہ! تمہاری بیٹی کی بیماری کا علاج صرف ایک چیز ہے  کوئی ایسا شخص جو اس سے سچی محبت کرتا ہو، اس کے لیے اپنی…

Read more

قدیم زمانے میں ایک بادشاہ تھا۔ وہ بہت ظالم تھا۔ اس نے لوگوں پر ظلم ڈھائے ہوئے تھے، ان کا مال چھین لیا تھا، انہیں جیلوں میں ڈال رکھا تھا۔ اس کی فوج مضبوط تھی، اس کا خزانہ بھرا ہوا تھا، لیکن اس کا دل خالی تھا۔ لوگ اس سے ڈرتے تھے۔ کوئی اس کے سامنے سچ نہیں بول سکتا تھا۔ ایک دن بادشاہ کے وزراء نے کہا: “بادشاہ سلامت! آپ کی طاقت بے پناہ ہے۔ لیکن آپ کے پاس وہ چیز نہیں جو سب سے بڑی طاقت ہے۔” بادشاہ نے پوچھا: “وہ کیا ہے؟” وزیر نے کہا: “سچ۔” بادشاہ ہنسا۔ “سچ؟ میں سچ نہیں جانتا؟ میں بادشاہ ہوں۔ جو میں کہوں وہ سچ ہے۔” وزیر نے کہا: “نہیں، بادشاہ سلامت۔ آپ جو کہتے ہیں وہ حکم ہے، سچ نہیں۔ سچ وہ ہے جو آپ سے پہلے بھی تھا، آپ کے بعد بھی رہے گا۔ سچ کا حکم کوئی نہیں…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک غریب شخص کام کی تلاش میں مختلف شہروں کی خاک چھانتا رہا، مگر اسے کوئی بھی کام نہ مل سکا۔تھک ہار کر وہ چرچ میں چلا گیا اور اونچی آواز میں کہنے لگا:“خداوندا! تو مجھے کب تک غریب رکھے گا؟”پادری نے جب یہ الفاظ سنے تو اسے ڈانٹا کہ ایسے دعا نہیں کرتے۔وہ غریب شخص کہنے لگا: “ٹھیک ہے، پھر آپ مجھے کوئی کام دے دیں، تاکہ میں یہ الفاظ دوبارہ نہ دہراؤں۔”پادری نے کہا: “ٹھیک ہے، مجھے اس چرچ کے لیے ایک کاتب کی ضرورت ہے، جو یہاں آنے جانے والوں کے علاوہ چرچ کے اخراجات کا حساب رکھے۔ تم یہ کام سنبھال لو، ماہانہ پچاس ڈالر کے علاوہ کھانا اور رہائش بھی میری ذمہ ہوگی۔”اس شخص نے فوراً حامی بھر لی۔ پادری نے اسے کھاتہ، رجسٹر اور قلم دے دیا، اور یوں وہ چرچ کا کاتب بن گیا۔وہ روزانہ پادری کو ہر…

Read more

بہت پرانے وقتوں کی بات ہے، تاجکستان کے خوبصورت پہاڑوں کے دامن میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس صرف ایک چھوٹا سا باغ تھا جس میں وہ اخروٹ کے درخت اگاتا تھا۔ کسان بہت صابر اور شکر گزار انسان تھا۔ایک سال فصل بہت اچھی ہوئی، تو اس نے سوچا کہ کیوں نہ یہ اخروٹ شہر جا کر فروخت کرے اور اس سے ملنے والے پیسوں سے اپنی بیمار بیوی کا علاج کروائے۔سفر اور ملاقاتراستے میں اسے ایک امیر تاجر ملا جو اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ کسان کی پوٹلی دیکھ کر تاجر سمجھ گیا کہ اس میں قیمتی اخروٹ ہیں۔ اس نے کسان سے پوچھا:“اے بوڑھے میاں! تمہاری اس پوٹلی میں کیا ہے؟”کسان نے سادگی سے جواب دیا: “بیٹے! اس میں میرے سال بھر کی محنت کا پھل ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس بار اخروٹ بہت میٹھے اور وزنی ہیں۔”لالچ کا انجامتاجر کے دل میں…

Read more

ایک کسان کی بیوی فوت ہو چکی تھی اور اس کا ایک چھوٹا بیٹا تھا۔ کسان نے ایک کتا بھی پال رکھا تھا جو اس قدر وفادار تھا کہ کسان جب بھی کھیتوں میں کام کرنے جاتا، تو اپنے معصوم بچے کو اسی کی نگرانی میں چھوڑ جاتا۔ایک دن ایک نہایت المناک واقعہ پیش آیا۔ حسبِ معمول کسان اپنے بچے کو اس وفادار کتے کے پاس چھوڑ کر اپنے کام پر چلا گیا۔جب وہ واپس لوٹا تو اندر کا ہولناک منظر دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔ بچہ اپنے پالنے میں موجود نہیں تھا، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور پورے کمرے میں ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا۔ خوف اور صدمے کے مارے کسان نے بدحواسی میں اپنے بچے کو ادھر ادھر تلاش کرنا شروع کر دیا۔اچانک اس کی نظر چارپائی کے نیچے سے نکلتے ہوئے اپنے کتے پر پڑی، جو خون میں لت پت تھا اور…

Read more

سن 1913 کی بات ہے۔ میں پیدل سفر پر نکلا ہوا تھا، فرانس کے خوبصورت علاقے پرووانس سے گزرتا ہوا الپس کے پہاڑوں کی طرف جا رہا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ یہاں قدرت اپنی پوری شان و شوکت میں موجود ہوگی، لیکن جیسے جیسے میں آگے بڑھتا گیا، منظر بدلتا گیا۔ یہ وادی بالکل بنجر تھی۔ چاردیسے تک صرف پتھر اور سوکھی جھاڑیاں تھیں۔ درخت نام کو نہیں تھے۔ ہوا چلتی تو گرد و غبار اٹھتا، آنکھوں میں پڑتا۔ کبھی کبھار کھنڈرات نظر آتے—پرانا، ویران گھر جن میں کبھی لوگ رہتے تھے۔ اب وہاں صرف خالی دیواریں تھیں اور ہوا کا سناٹا۔ دوپہر ہوتے ہوتے میری مشک خالی ہو گئی۔ مجھے پانی نہیں مل رہا تھا۔ میں نے پرانے کنوئیں دیکھے، سب سوکھے پڑے تھے۔ پیاس نے بے حال کر دیا۔ اتنے میں مجھے دور سے گھنٹیوں کی آواز آئی۔ میں نے دیکھا کہ ایک چرواہا بھیڑوں کا…

Read more

ایک شخص گھر آیا تو اس کی بیوی نے کہا:“ہمارے غسل خانے کے پاس جو درخت ہے، اسے کٹوا دو۔ میری غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ جب میں غسل کروں تو پرندوں کی نظر مجھ پر پڑے۔” وہ شخص بیوی کی اس بات سے بہت متاثر ہوا اور فوراً درخت کٹوا دیا۔ وقت گزرتا رہا… ایک دن وہ خلافِ معمول اچانک گھر واپس آیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی کسی اجنبی مرد کے ساتھ مشغول ہے۔یہ منظر دیکھ کر وہ ٹوٹ گیا۔ دل برداشتہ ہو کر اس نے گھر بار چھوڑ دیا اور بغداد چلا گیا، جہاں اس نے نیا کاروبار شروع کیا۔ اللہ نے اس کے کاروبار میں خوب برکت دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ بغداد کے معزز اور سرکردہ لوگوں میں شمار ہونے لگا، یہاں تک کہ شہر کے کوتوال تک اس کی رسائی ہوگئی۔ ایک دن کوتوال کے گھر چوری ہوگئی۔بہت کوشش کے باوجود چور…

Read more

جس شخص نے بھی یہ تحریر لکھی ہے، اس نے دراصل ایک پڑھے لکھے اور دردِ دل رکھنے والے پاکستانی کے دل کی کیفیت بیان کر دی ہے۔ سنگاپور 1965ء تک ملائیشیا کا ایک انتہائی پسماندہ علاقہ تھا۔زمین دلدلی، ویران اور بنجر تھی۔ لوگ سست، بے کار اور نااہل سمجھے جاتے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ صرف تین کام کرتے ہیں: بحری جہازوں سے سامان اتارتے ہیں، چوری چکاری کرتے ہیں اور بحری جہازوں سے چوہے پکڑ کر کھاتے ہیں۔ ملائیشیا ان سے بہت تنگ آ چکا تھا۔ ایک مشہور واقعہ ہے کہ تنکو عبد الرحمن کے دور میں جب سنگاپور نے آزادی کا مطالبہ کیا تو پارلیمنٹ کے کل 126 ارکان نے سنگاپور کے حق میں ووٹ دے دیا۔ اس بل کے خلاف ایک بھی ووٹ نہیں تھا۔ پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ ہم ان بے کار لوگوں اور دلدلی زمین کو اپنے پاس رکھ…

Read more

سومنات مندر کا مقام بھارتی ریاست گجرات میں واقع تھا۔ موجودہ دور کے انتظامی لحاظ سے یہ ویراول کے قریب پربھاس پٹن میں آتا ہے، جو گِر سومناتھ ضلع میں ہے ۔ یہ شہر سمندر کے کنارے واقع ہے ۔جبکہ سلطان محمود غزنوی کا دارالحکومت غزنی شہرتھا، جو موجودہ افغانستان میں واقع ہے ۔ غزنی سے سومنات کے مندر کا تقریبا 1100 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ یہ دوری آج کے جدید نقشوں کے مطابق ہے، جبکہ اس وقت یہ سفر ہزاروں فوجیوں اور سامان کے ساتھ طے کرنا انتہائی مشکل تھا۔ محمود غزنوی نے 18 اکتوبر 1025ء کو غزنی سے اس مہم کا آغاز کیا تھا ۔سومنات مندر کا عجوبہ وہاں نصب شیو لنگ تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق، یہ لنگ زمین سے فضا میں معلق تھا، یعنی اسے نیچے سے کوئی سہارا نہیں تھا اور نہ ہی اوپر سے لٹکایا گیا تھا ۔ جب محمود غزنوی نے مندر میں…

Read more

20/117
NZ's Corner