Tag Archives: urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge

ایک صاحب کو لمبی لمبی گپیں ہانکنے کی ایسی عادت تھی کہ وہ جب بھی کوئی قصہ سناتے تو مبالغہ آرائی کی ایسی انتہا کرتے کہ ذی شعور تو کیا، نادان بھی یقین کرنے سے کتراتے۔ ایک دن ان کے ایک مخلص دوست نے سمجھایا کہ “یار! ہاتھ ذرا ہولا رکھا کرو۔ اتنی بڑی گپ مارتے ہو کہ لوگ مذاق بناتے ہیں۔” وہ صاحب قائل تو ہو گئے اور طے یہ پایا کہ اگلی بار جب وہ کوئی کہانی سنائیں اور دوست کو لگے کہ اب بات حد سے بڑھ رہی ہے، تو وہ ہلکا سا کھانس دے گا تاکہ صاحب سنبھل جائیں۔کچھ دن بعد ایک محفل میں ذکر چھڑا تو موصوف نے اپنا ایک واقعہ سنانا شروع کیا: “بھئی! ایک بار میں جنگل سے گزر رہا تھا کہ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ایک دیو ہیکل سانپ ہے! میرا اندازہ ہے کہ وہ کم از کم 140 فٹ…

Read more

ایک بار تعلیم کے محکمے کا ایک “بڑا افسر” معائنے (چیکنگ) کے لیے ایک گاؤں کے مدرسے میں پہنچا۔افسر نے ایک کلاس (جماعت) میں جا کر بچوں کا امتحان لینا چاہا۔اس نے ایک بچے کو کھڑا کیا اور تاریخ کا ایک سوال پوچھا:“بیٹا! کھڑے ہو جاؤ اور یہ بتاؤ کہ ‘سومنات کا دروازہ’ کس نے توڑا تھا؟” بچہ سوال سنتے ہی گھبرا گیا، اس کا رنگ پیلا پڑ گیا اور وہ روتے ہوئے بولا:“صاحب جی!… اللہ کی قسم، میں نے نہیں توڑا!… میں تو آج مدرسے آیا ہی دیر سے تھا، مجھے نہیں پتہ کس نے توڑا ہے۔” افسر یہ جواب سن کر ہکا بکا رہ گیا۔ اس نے غصے سے “استاد” کی طرف دیکھا اور کہا:“ماسٹر صاحب! یہ بچہ کیا کہہ رہا ہے؟ میں تاریخ کا سوال پوچھ رہا ہوں اور یہ اپنی صفائیاں دے رہا ہے؟” استاد نے اپنی عینک ٹھیک کی، چھڑی میز پر رکھی اور بڑے…

Read more

شیخ ؒ کو بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ یہ عجیب بات ہے کہ اللہ ہر وقت اپنا احسان جتاتا رہتا ہے۔ کبھی کہتا ہے میں کھلاتا ہوں، میں پلاتا ہوں، اور کبھی کہتا ہے میں ہی رزق فراہم کرتا ہوں۔ اگر ہم کھانا نہ کھائیں تو کوئی طاقت ہمیں کھانے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ یہ سوچ کر کھانا کھانا چھوڑ دیا۔ جب بیوی بچوں نے زیادہ پریشان کیا تو گھر چھوڑ کر ایک پرانے قبرستان میں وہ جا پہنچے۔ شام ہوئی تو ایک صاحب اپنی منت پوری کرنے کیلئے قبرستان میں مَوجود ایک مزار پر حاضر ہوئے۔ فاتحہ کے بعد انہوں نے شیخ کو بھی تبرّک دیا۔ شیخ کے انکار اور اس شخص کے اصرار نے عجیب صورتِ حال پیدا کر دی۔ وہ شخص یہ سمجھ کر کہ شیخ کوئی دیوانے ہیں، ایک پُڑیا میں کچھ لڈو لپٹیے اور ایک جھاڑی کے نیچے رکھ دئیے کہ جب اس شخص…

Read more

ایک رات سلطان محمود غزنویؒ (متوفی 421ھ / 1030ء) آرام فرما رہے تھے کہ اچانک آنکھ کھل گئی۔ بہت کوشش کی کہ دوبارہ نیند آ جائے، مگر نیند جیسے روٹھ گئی ہو۔ کروٹیں بدلتے رہے، دل بے چین رہا۔آخر خدا ترس بادشاہ کے دل میں خیال آیا:“شاید کوئی مظلوم فریاد لے کر آیا ہو، یا کوئی بھوکا فقیر دروازے پر کھڑا ہو — اسی لیے نیند چھن گئی ہے۔”غلام کو حکم دیا کہ باہر جا کر دیکھو۔غلام لوٹا اور عرض کیا:“جہاں پناہ! کوئی نہیں ہے۔”سلطان نے پھر سونے کی کوشش کی، مگر بے چینی بڑھتی گئی۔ دوبارہ حکم دیا کہ اچھی طرح تلاش کرو۔ غلاموں نے چھان مارا، مگر کوئی نہ ملا۔اب سلطان کو شبہ ہوا کہ شاید تلاش میں کوتاہی ہو رہی ہے۔ خود تلوار لے کر نکلے۔ تلاش کرتے کرتے ایک مسجد کے دروازے پر پہنچے۔ اندر سے آہستہ آہستہ سسکیوں کی آواز آرہی تھی۔قریب جا کر دیکھا…

Read more

چار بھائی تھے۔ سب اپنے اپنے گھروں میں خوشی سے رہتے تھے، مگر ایک دن ان کی بیویوں میں آپس میں لڑائی ہو گئی۔ بات اتنی بڑھی کہ بھائی بھی ایک دوسرے سے ناراض ہو گئے۔ ہر ایک کہنے لگا، “قصور تمہاری بیوی کا ہے!”آخرکار ایک بھائی کو سب نے قصوروار ٹھہرا دیا۔ غصے میں آ کر انہوں نے اس بے چارے بھائی کو بھی مارا، اس کی بیوی کو بھی ڈانٹا، اور یہاں تک کہ اس کا گھر بھی جلا دیا۔ گھر کا سارا سامان اور جانور بھی جل کر راکھ ہو گئے۔وہ مظلوم بھائی بڑی مشکل سے جان بچا کر نکلا۔ اس نے ایک جلے ہوئے جانور کی کھال اتاری اور اسے ساتھ لے کر چل پڑا۔ چلتے چلتے شام ہو گئی۔ اس نے سوچا، “اب رات کہاں گزاروں؟”پھر اس نے ایک درخت دیکھا اور فیصلہ کیا کہ اسی کے نیچے رات گزار لے گا۔ اچانک اس نے…

Read more

ایک آدمی نے حاتم طائی سے پوچھا: “اے حاتم! کیا سخاوت میں کوئی تجھ سے آگے بڑھا ہے؟” حاتم نے جواب دیا: “ہاں!… قبیلہ طے کا ایک یتیم بچہ مجھ سے زیادہ سخی نکلا، جس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ دوران سفر میں شب بسری کے لیے ان کے گھر گیا، اس کے پاس دس بکریاں تھیں، اس نے ایک ذبح کی، اس کا گوشت تیار کیا اور کھانے کیلئے مجھے پیش کر دیا۔ اس نے کھانے کے لیے مجھے جو چیزیں دیں ان میں مغز بھی تھا۔ میں نے اسے کھایا تو مجھے پسند آیا، میں نے کہا: “واہ! کیا خوب ذائقہ ہے” یتیم بچہ فوراً باہر نکل گیا اور ایک ایک کر کے تمام بکریاں میری لا علمی میں اس نے ذبح کر ڈالیں اور سب کے مغز مجھے پیش کیے۔ جب میں کوچ کرنے لگا تو کیا دیکھا کہ گھر کے ارد گرد ہر طرف خون…

Read more

‏قوم لوط جنہوں نے ایسی برائی کو ایجاد کیا۔ جو ان سے پہلے دنیا میں کسی قوم نے نہ کی تھی۔ ایسی بدکاری جس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ اس قوم نے ایسا کیا کام کیا تھا اور ان کا کیا انجام ھوا۔ حضرت لوط علیہ السلام  اللہ کے ایک برگزیدہ نبی تھے آپ کے والد کا نام حاران تھا جو تابش کے بیٹے تھے آپ کی پیدائش عراق کے قدیم شہر “عر” میں ہوئی تھی اس شہر میں ابراہیم علیہ السلام کا مسکن تھا۔ دراصل لوط علیہ السلام کے والد حاران حضرت ابراہیم کے سگے بھائی تھے یعنی حضرت لوط علیہ السلام کے والد حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے چونکہ حضرت لوط علیہ السلام کے والد ان کے بچپن میں ہی انتقال کر چکے تھے لہذا حضرت لوط  کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹا بنا کر پالا تھا آپ حضرت ابراہیم پر سب سے پہلے ایمان…

Read more

ایک دن مینڈکوں کا ایک گروہ کہیں جا رہا تھا کہ اچانک دو مینڈک ایک گڑھے میں جا گرے۔باہر موجود مینڈکوں نے دیکھا کہ یہ گڑھا ان دونوں کے قابو سے باہر ہے تو انہوں نے اوپر سے چیخنا شروع کر دیا:“افسوس! تم اس سے باہر نہیں نکل پاؤ گے، بس ہلکان ہو جاؤ، ہار مان لو اور موت کا انتظار کرو!”ایک مینڈک یہ سب سن کر دل ہی دل میں ہار مان گیا، چند کوششیں کیں مگر دل برداشت نہ کر سکا، اور واقعی مر گیا۔دوسرا مینڈک مسلسل اپنی پوری طاقت لگا کر گڑھے سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا رہا، جگہ بدل کر، جمپ لگاتے ہوئے۔اوپر والے مینڈک پوری طاقت سے چیخ رہے تھے، سیٹیاں بجا رہے تھے، روک رہے تھے کہ “مت ہلکان ہو، موت تیرا مقدر ہے!”لیکن مینڈک نے اور زیادہ شدت سے کوشش جاری رکھی اور آخر کار کامیاب ہو گیا۔جب سب مینڈک اس کے…

Read more

قدیم فارس میں، جہاں ریت اور پہاڑ تقدیر کی لکیر کھینچتے تھے، ایک سپاہی پیدا ہوا رُستم جس کی طاقت داستانوں میں زندہ تھی۔ ایک مہم کے دوران وہ سمنگان کے دربار میں ٹھہرا، جہاں ایک رات اس کی ملاقات تہمنہ سے ہوئی۔ صبح ہونے سے پہلے راستے جدا ہو گئے، اور رُستم کو خبر نہ ہوئی کہ اس رات کی یاد ایک جان بن کر دنیا میں آنے والی ہے۔ برسوں بعد، اسی سرزمین پر ایک نوجوان جنگجو ابھرا سُہراب جس کی تلوار بجلی اور دل سوال تھا۔ اس نے سنا کہ دنیا میں ایک ہی شخص ہے جو اسے شکست دے سکتا ہے: رُستم۔ مگر کسی نے یہ نہ بتایا کہ وہی اس کا باپ ہے۔ سُہراب نے جنگ اس نیت سے چھیڑی کہ رُستم کو ڈھونڈ کر پہچان لے یا شکست دے کر نام حاصل کرے۔ میدان سجا۔ دونوں آمنے سامنے آئے۔ طاقت طاقت سے ٹکرائی، مگر…

Read more

وہ سب سے بلند ترین پہاڑ پر چڑھ گیا.. اس نے گھوم کر چاروں طرف دیکھا اس کے ایک طرف مشرق تھا جہاں سے سورج نکلتا تھا.. افق سے جہاں سے سورج نکلتا تھا وہاں تک اس کی بادشاھت تھی.. اس دوسری جانب مغرب تھا جہاں سورج غروب ھوتا تھا. زمین کے اس کنارے تک جہاں تک سورج ڈوبتا دکھائی دیتا تھا وہاں تک اس کی حکومت تھی.. اس کے تیسری طرف سمندر دکھائی دیتا تھا.. سمندر کا پانی جہاں تک نظر آتا تھا وہاں تک اس کی حکومت تھی. اس کے چوتھی جانب پہاڑوں کا طویل سلسلہ تھا. یہ سلسلہ کوہ جہاں تک دکھائی پڑتا تھا وہاں تک اس کی حکومت تھی. ایک طرف دنیا کا سب سے بڑا صحرا تھا. اس صحرا کے ریت کے ذرے ذرے پر اس کی بادشاھت تھی.. دنیا بھر کے جنگلوں صحراؤں سمندروں پہاڑوں خشکی کے میدانوں وادیوں اور دریاؤں پر اس کی…

Read more

انیسویں صدی کے روس کے ایک برفانی قصبے میں، ایوان نام کا ایک معمولی کلرک رہتا تھا۔ اس کی زندگی فائلوں، مہروں اور سرد دفتری کمروں میں گزر جاتی تھی۔ اس کی تنخواہ کم تھی، کمرہ تنگ، اور کوٹ اتنا پرانا کہ سردی اس کے اندر تک اتر جاتی۔ مگر ایوان کی سب سے بڑی خواہش ایک نیا اوورکوٹ تھا ایسا کوٹ جو اسے سردی ہی نہیں، بے قدری سے بھی بچا لے۔ وہ برسوں پیسے جوڑتا رہا۔ چائے کم، موم بتی آدھی، اور جوتے بار بار سلواتا رہا۔ آخرکار درزی پیٹرووچ نے کوٹ تیار کر دیا۔ جب ایوان نے وہ کوٹ پہنا تو اسے یوں لگا جیسے وہ پہلی بار واقعی انسان بنا ہو۔ دفتر میں لوگوں نے اسے دیکھا، مسکرائے، حتیٰ کہ افسر نے بھی سر ہلایا۔ اس ایک کوٹ نے ایوان کو وہ پہچان دے دی جو برسوں کی محنت نہ دے سکی تھی۔ مگر خوشی مختصر…

Read more

قاہرہ کی فضا ان دنوں عجیب سرگوشیوں سے بھری ہوئی تھی۔ بازاروں، حماموں اور محلّوں میں ایک ہی نام زبان زدِ عام تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ سلطان کی رعایا میں ایک عورت ہے جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ صرف دیکھ کر بتا سکتی ہے کہ کون پاک دامن ہے، کون حاملہ ہے اور کون اپنے کردار میں لغزش کا شکار رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ سادہ لوح لوگ اس پر یقین بھی کر رہے تھے، حتیٰ کہ کچھ بااثر گھرانے بھی اپنی عورتوں اور لڑکیوں کو اس کے پاس لے جانے لگے تھے۔یہ خبر جب سلطان صلاح الدین ایوبیؒ تک پہنچی تو ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمایاں ہو گئے۔ سلطان نے نہ صرف ایک حکمران کی حیثیت سے بلکہ ایک عادل انسان کے طور پر بھی اس بات کو خطرناک سمجھا۔ انہیں علم تھا کہ ایسے دعوے معاشرے میں بدگمانی، فتنہ اور…

Read more

لکھنؤ میں ایک زمانے میں ٹھگوں کا بڑا چرچا تھا۔ یہ لوگ نہ زور زبردستی کرتے تھے اور نہ تلوار اٹھاتے تھے بلکہ اپنی باتوں، چالاکی اور ذہنی کھیل سے لوگوں کو لوٹ لیتے تھے۔ایک دن ایک شخص بکری کا ننھا سا بچہ (میمنا) خرید کر اسے کندھے پر اٹھائے شہر سے باہر جا رہا تھا۔ راستے میں ٹھگوں کے ایک گروہ نے اسے دیکھ لیا۔ سب نے مل کر طے کیا کہ اس بکری کے بچے کو اس شخص سے ٹھگ لیا جائے ۔انہوں نے ایک پلان بنایا اور اس پر عمل کرنے کے لیے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہوگئے ۔ پہلا ٹھگ آگے بڑھا اور تعجب سے کہنے لگابھائی! تم کندھے پر کتا کیوں اٹھائے جا رہے ہو؟وہ شخص ہنسا اور بولاارے بھائی! یہ کتا نہیں بکری کا بچہ ہے۔وہ ٹھگ مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔تھوڑی دور دوسرا ٹھگ ملا اس نے ناک سکوڑ کر کہااللہ خیر…

Read more

ایک جنگل تھا جہاں تمام جانور امن و سکون سے رہتے تھے۔ اچانک وہاں ایک بندر اور لومڑی کی جوڑی نے “معاشی اصلاحات” کا اعلان کیا۔ انہوں نے جنگل کے بیچوں بیچ ایک بڑی منڈی بنائی اور اعلان کیا کہ اب سے کوئی جانور براہِ راست درخت سے پھل نہیں توڑ سکے گا، بلکہ سب کچھ منڈی سے ملے گا۔منڈی کا ٹھیکہ ایک طاقتور ہاتھی کو دیا گیا جو ذخیرہ اندوزی کا ماہر تھا۔ایک صبح جب خرگوش گاجریں خریدنے گیا تو اسے معلوم ہوا کہ گاجر کی قیمت دگنی ہو گئی ہے۔ خرگوش نے حیرت سے پوچھا: “کل تو یہ سستی تھیں، آج کیا ہوا؟”ہاتھی نے اپنی سونڈ ہلاتے ہوئے جواب دیا: “دیکھو بھائی! دوسرے جنگل میں خشک سالی آ گئی ہے، اس لیے یہاں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔” حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ ہاتھی نے گاجروں کا سارا اسٹاک اپنے بڑے گودام میں چھپا دیا تھا تاکہ مصنوعی قلت…

Read more

قریش کے نامی گرامی سردار ولید بن مغیرہ کا ایک بیٹا غیر معمولی اوصاف کا حامل تھا۔ لمبے قد، مضبوط جسم، عقابی نگاہ، جنگی و سیاسی چالوں کا ماہر، تلوار کا دھنی، لڑائی کے داؤ پیچ کا گرو، نڈر، بے خوف، فنِ حرب کا جادو گر، شعلہ بیان خطیب، شریف النفس اور ذہین و فطین اس انسان کو دنیا خالد بن ولید ؓ کے نام سے جانتی ہے۔ آپ کا بچپن، بچپن سے لڑکپن، لڑکپن سے نوجوانی، نوجوانی سے جوانی تک کی زندگی کا اکثر حصہ لڑنے بھڑنے، جنگی مہارت حاصل کرنے اور سیکھنے سکھانے میں گزرا۔ جاہلیت میں اسلام کا مخالف ہوکر بہت سی لڑائیاں لڑی ہیں مگر سوائے احد کے اور کسی میں بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ خود فرمایا کرتے تھے: “اسلام قبول کرنے سے پہلے میں تقریباً ہر معرکے میں نبی کریم ﷺ کے سامنے نئے عزم اور ولولے کے ساتھ آتا، لیکن…

Read more

ﺑﮭﯿﮍ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﮍﻭﺳﻦ ﺑﮭﯿﮍ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﻪ ﻫﻤﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﺘﺎ ﭼﻠﮯ ﮔﺎ ﮐﻪ ﺁﺝ ﻫﻤﺎﺭﯼ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﻫﮯ؟ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻼ : “ﺩﯾﮑﮭﻮ ! ﺟﺲ ﺩِﻥ ﺗﻤﻬﺎﺭﮮ ﻣﺎﻟﮏ ﺗﻤﻬﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ, ﭼﺎﺭﻩ ﮐﮭﻼﺋﯿﮟ, ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﻮ ﮐﻪ ﺍُﺱ ﺩِﻥ ﺗﻤﻬﺎﺭﯼ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺩِﻥ ﻫﮯ۔۔”!ﯾﻪ ﺑﺎﺕ ﺍُﺱ ﺑﮭﯿﮍ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﻠﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﯽ, ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩِﻥ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻭﯾﺴﺎ ﻫﯽ ﻫﻮﺍ, ﻣﺎﻟﮏ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺍُﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﭼﺎﺭﻩ ﮐﮭﻼﯾﺎ, ﭘﮭﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﮔﻠﮯ ﻫﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﺍُﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺰ ﺩﮬﺎﺭ ﻭﺍﻻ ﺁﻟﻪ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ۔ ﺑﮭﯿﮍ ﺳﻤﺠﮫ ﺁ ﮔﺌﯽ ﮐﻪ ﺁﺝ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺩِﻥ ﻫﮯ ﺳﻮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍُﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻫﻮﺍ ﮐﻪ ﻣﺎﻟﮏ ﺍُﺳﮯ ﺫﺑﺢ ﻧﻬﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﻫﺎ ﺑﻠﮑﻪ ﺻﺮﻑ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍُﻭﻥ ﺍُﺗﺎﺭ ﺭﻫﺎ ﻫﮯ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﮭﮑﺎﻧﻪ ﻧﻪ ﺭﻫﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﯾﻪ ﺳﻠﺴﻠﻪ ﻫﺮ ﺩﻭ,…

Read more

ایک بہت پرانے جنگل پر ایک بوڑھا شیر حکومت کرتا تھا۔ وہ کافی عرصے سے بیمار تھا، لیکن اس نے تخت چھوڑنے کے بجائے یہ طے کیا کہ اب اس کا بیٹا (شہزادہ شیر) تخت سنبھالے گا۔مسئلہ یہ تھا کہ وہ شہزادہ شیر پیدا تو جنگل میں ہوا تھا، لیکن اس کی پرورش اور تعلیم ایک دوسرے دور دراز کے پرتعیش جزیرے پر ہوئی تھی۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ جنگل کی زمین کیسی ہوتی ہے یا جانوروں کے دکھ درد کیا ہیں۔جب شہزادے کی واپسی ہوئی، تو پورے جنگل کو سجایا گیا۔ لومڑیوں نے (جو خوشامدی وزراء تھیں) ہر طرف یہ اشتہار لگوا دیے کہ: “آ رہا ہے وہ، جو جنگل کی قسمت بدلے گا! وہی خون، وہی نسل!”ایک دن ایک دبلا پتلا گدھا شہزادے کے پاس آیا اور بولا: “حضور! ہم بھوکے مر رہے ہیں، گھاس ختم ہو گئی ہے اور دریا کا پانی گدلا ہو…

Read more

ایک بادشاہ کے پاس دو تلواریں تھیں۔ ایک تلوار خالص سونے کی میان میں تھی جس پر ہیرے جواہرات جڑے ہوئے تھے، جبکہ دوسری ایک معمولی لوہے کی تلوار تھی جو پرانے لکڑی کے خول میں پڑی رہتی تھی۔سونے کی میان والی تلوار ہمیشہ اتراتی اور کہتی: “دیکھو! میں بادشاہ کی زینت ہوں، جب دربار سجتا ہے تو سب کی نظریں مجھ پر ہوتی ہیں۔ تم تو اتنی بدصورت اور زنگ آلود ہو کہ تمہیں کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔” لوہے کی تلوار خاموش رہتی کیونکہ اسے اپنی اوقات معلوم تھی۔ایک دن اچانک ریاست پر دشمن نے حملہ کر دیا۔ بادشاہ نے فوراً اپنی چمکدار سونے کی تلوار اٹھائی، لیکن جیسے ہی میدانِ جنگ میں اس سے وار کیا، وہ سونا نرم ہونے کی وجہ سے مڑ گئی اور کسی کام نہ آئی۔ بادشاہ نے گھبرا کر وہ پرانی لوہے کی تلوار نکالی۔ اس کی دھار اتنی تیز تھی…

Read more

دلچسپ اور سبق آموز واقعہ خلیفہ ہارون الرشید عباسی خاندان کا پانچواں خلیفہ تھا‘ عباسیوں نے طویل عرصے تک اسلامی دنیا پر حکومت کی لیکن ان میں سے شہرت صرف ہارون الرشید کو نصیب ہوئی۔ ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔ ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزما لیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘ ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امراءاور تاجروں کو متاثرین کی مدد کیلئے موبلائز کر دیا لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔ ایک رات ہارون الرشید شدید ٹینشن میں تھا‘ اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ ٹینشن کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ…

Read more

ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتیافسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہپانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، پانی خطرے کے نشان سے 2 فٹ اونچا ہوگیا ہے۔ لوگوں نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ اب کیا ہوگا؟ افسر نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے۔ یہ لطیفہ ان معاشی پالیسیاں بنانے والے ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے اسباب ختم کرنے کے بجائے تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں جب کہ دنیا کے معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ میں اضافہ مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ پولینڈ میں ایک بچے نے اپنی کلاس ٹیچر کو بتایا کہ ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں۔ ٹیچر نے خوب شاباش دی۔ ہفتہ بھر بعد جب اسکول انسپکٹر معائنے کے لیے آئے…

Read more

20/22
NZ's Corner