بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

افریقہ کے ایک گھنے جنگل میں ایک کچھوا رہتا تھا۔ وہ بہت سست تھا، لیکن اس کی زبان بہت تیز تھی۔ وہ ہر وقت بکتا رہتا، دوسروں کی باتیں کرتا، ان پر تنقید کرتا، ان کا مذاق اڑاتا۔

جنگل کے دوسرے جانور اس سے تنگ آ چکے تھے۔ لیکن کچھوا کسی کی بات نہیں سنتا تھا۔

ایک دن کچھوا درخت کے نیچے بیٹھا بکتا ہوا تھا کہ اوپر سے ایک عقاب وہاں آیا۔ عقاب بہت بڑا تھا، بہت طاقتور تھا۔ اس کے پر پھیلے ہوئے تھے، اس کی آنکھیں تیز تھیں۔

کچھوا نے اوپر دیکھا اور بولا: “او عقاب! تو بہت بڑا ہے، لیکن کیا فائدہ؟ تیرے پر تو ہیں، لیکن تو کہاں اڑ سکتا ہے؟ تیری آنکھیں تو ہیں، لیکن تو کیا دیکھ سکتا ہے؟”

عقاب نے کچھ نہ کہا۔ وہ خاموش کھڑا رہا۔

کچھوا بولا: “مجھے بتا، کیا تو سچ میں اتنا اونچا اڑ سکتا ہے جتنا لوگ کہتے ہیں؟ یا یہ سب باتیں جھوٹی ہیں؟”

عقاب نے اب بھی کچھ نہ کہا۔

کچھوا کو لگا کہ عقاب ڈر گیا ہے۔ وہ اور بھی بڑھ کر بولا: “مجھے تو لگتا ہے کہ تو اڑ ہی نہیں سکتا۔ تیرے پر صرف دکھاوے کے ہیں۔ اگر تو اڑ سکتا ہے تو مجھے لے کر اڑ کے دکھا۔”

عقاب نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں غصہ نہیں تھا، صرف افسوس تھا۔ اس نے کہا: “کیا تو سچ میں میرے ساتھ اڑنا چاہتا ہے؟”

کچھوا بولا: “ہاں! مجھے لے کر اڑ جا۔ پھر میں سب کو بتاؤں گا کہ میں بھی عقاب کے ساتھ اڑا ہوں۔”

عقاب نے کہا: “لیکن تیرے پاس پر نہیں ہیں۔ تو گر جائے گا۔”

کچھوا ہنسا: “تو مجھے سنبھالے رکھے گا نا؟ یا تو اتنا بھی نہیں کر سکتا؟”

عقاب نے سوچا۔ پھر بولا: “ٹھیک ہے۔ لیکن ایک شرط ہے۔ جب ہم اڑ رہے ہوں گے، تو اپنا منہ بند رکھنا۔ ایک لفظ بھی مت بولنا۔”

کچھوا بولا: “ٹھیک ہے۔”

عقاب نے کچھوا کو اپنی پیٹھ پر بٹھایا اور اڑنے لگا۔ وہ درختوں سے اوپر گیا، جنگل سے اوپر گیا، پہاڑوں سے اوپر گیا۔ کچھوا نے نیچے دیکھا تو اس کا دل دھڑکنے لگا۔ اتنی بلندی! اس نے کبھی اتنی بلندی نہیں دیکھی تھی۔

لیکن وہ چپ تھا۔ اس نے منہ بند رکھا۔

عقاب اور اونچا گیا۔ بادل اس کے نیچے آ گئے۔ کچھوا نے دیکھا کہ زمین بالکل چھوٹی ہو گئی ہے۔ اسے لگا جیسے وہ دنیا کے اوپر ہے۔

اب وہ منہ نہیں روک سکا۔ اس نے منہ کھولا اور چلایا: “دیکھو! میں کتنا اونچا ہوں! میں عقاب سے بھی اونچا ہوں!”

جیسے ہی اس نے منہ کھولا، وہ پھسل گیا۔ عقاب کی پیٹھ سے اس کا توازن بگڑ گیا۔ وہ نیچے گرنے لگا۔

عقاب نے اسے بچانے کی کوشش کی، لیکن کچھوا بہت تیزی سے گر رہا تھا۔ وہ زمین پر جا گرا۔ اس کا خول ٹوٹ گیا۔

کچھوا بہت دیر تک زمین پر پڑا رہا۔ اس کے خول کے ٹکڑے ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔ اسے بہت درد ہو رہا تھا۔

عقاب نیچے آیا۔ اس نے کچھوا کو دیکھا اور کہا: “میں نے تجھے منع کیا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ منہ بند رکھ۔ لیکن تو نے نہیں مانا۔”

کچھوا نے کہا: “میں غلط تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ اونچائی پر جانے سے میں بڑا ہو جاؤں گا۔ لیکن میں بھول گیا کہ میرے پاس پر نہیں ہیں۔”

عقاب نے کہا: “اونچائی صرف ان کے لیے ہے جن کے پر ہوں۔ جن کے پر نہیں، ان کے لیے زمین ہی بہتر ہے۔”

کچھوا نے سر جھکا لیا۔ اس نے وعدہ کیا کہ اب کبھی کسی کا مذاق نہیں اڑائے گا، کبھی کسی کو نیچا نہیں دکھائے گا۔

آج بھی کچھوے کا خول ٹکڑوں میں بنا ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ اس کچھوے کی اولاد ہے جس نے عقاب کے ساتھ اڑ کر اپنا منہ کھول لیا تھا۔

اخلاقی سبق:

اپنی حد پہچانو۔ جو تمہارے بس میں نہ ہو، اس کی خواہش مت کرو۔ اور سب سے بڑھ کر—منہ بند رکھنا سیکھو۔ ہر بات کہنا، ہر جگہ بولنا، ہر کسی پر تنقید کرنا انسان کو تباہ کر دیتا ہے۔ خاموشی بھی ایک بڑی طاقت ہے۔

حوالہ:

یہ کہانی مغربی افریقہ کی لوک کہانیوں میں سے ہے۔ اسے “Why the Tortoise Has a Cracked Shell” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ کہانی افریقی ادب میں بہت مشہور ہے اور اس کے کئی نسخے نائیجیریا، گھانا اور کیمرون میں ملتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner