سن 1913 کی بات ہے۔ میں پیدل سفر پر نکلا ہوا تھا، فرانس کے خوبصورت علاقے پرووانس سے گزرتا ہوا الپس کے پہاڑوں کی طرف جا رہا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ یہاں قدرت اپنی پوری شان و شوکت میں موجود ہوگی، لیکن جیسے جیسے میں آگے بڑھتا گیا، منظر بدلتا گیا۔
یہ وادی بالکل بنجر تھی۔
چاردیسے تک صرف پتھر اور سوکھی جھاڑیاں تھیں۔ درخت نام کو نہیں تھے۔ ہوا چلتی تو گرد و غبار اٹھتا، آنکھوں میں پڑتا۔ کبھی کبھار کھنڈرات نظر آتے—پرانا، ویران گھر جن میں کبھی لوگ رہتے تھے۔ اب وہاں صرف خالی دیواریں تھیں اور ہوا کا سناٹا۔
دوپہر ہوتے ہوتے میری مشک خالی ہو گئی۔ مجھے پانی نہیں مل رہا تھا۔ میں نے پرانے کنوئیں دیکھے، سب سوکھے پڑے تھے۔ پیاس نے بے حال کر دیا۔
اتنے میں مجھے دور سے گھنٹیوں کی آواز آئی۔ میں نے دیکھا کہ ایک چرواہا بھیڑوں کا ریوڑ لیے آ رہا ہے۔ وہ ادھیڑ عمر کا آدمی تھا، دبلا پتلا، لیکن آنکھوں میں عجیب سا چمک تھی۔ میں نے اس سے پانی مانگا۔
وہ خاموشی سے مجھے اپنے ساتھ لے گیا۔ وہاں ایک چشمہ تھا، صاف ٹھنڈا پانی۔ میں نے سیر ہو کر پیا۔
پھر اس نے مجھے اپنی جھونپڑی میں ٹھہرنے کی دعوت دی۔
حصہ دوم: چرواہا
اس چرواہے کا نام ایلزیار بوفیے تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ پچاس سال کا ہے۔ وہ بہت کم بولتا تھا، لیکن جو بھی کہتا، سوچ سمجھ کر کہتا۔ اس کی جھونپڑی صاف ستھری تھی، برتن چمک رہے تھے، کھانا سادہ مگر پورا۔
رات کو کھانا کھانے کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ میز پر بیٹھ کر چھوٹے چھوٹے بلوط کے بیج چھانٹ رہا ہے۔ بہت احتیاط سے انہیں دیکھتا، اچھے بیج الگ کرتا، برے پھینک دیتا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہو تو وہ مسکرایا اور خاموش رہا۔
اگلی صبح جلدی اٹھ کر میں نے اس کا پیچھا کیا۔
وہ اپنے ساتھ لوہے کی ایک لمبی چھڑی لے کر نکلتا۔ بھیڑیں چر رہی تھیں، وہ آہستہ آہستہ چلتا، زمین میں چھڑی سے سوراخ کرتا اور اس میں بلوط کا بیج ڈال دیتا۔ پھر مٹی سے ڈھانپ دیتا۔
میں نے اس دن اسے سو درخت لگاتے دیکھا۔
پھر وہ مجھے لے کر پہاڑی پر گیا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ پچھلے تین سالوں میں وہ دس ہزار بلوط کے درخت لگا چکا تھا۔ دس ہزار! ان میں سے آدھے تو مر گئے تھے، لیکن پانچ ہزار زندہ تھے، جوان ہو رہے تھے۔
پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس کی بیوی اور بیٹا مر چکے تھے۔ وہ تنہا تھا۔ اس نے سوچا کہ اس بنجر زمین کو سرسبز کر دے گا۔
“درخت لگانے سے مجھے سکون ملتا ہے،” اس نے کہا۔
میں نے اس سے پوچھا: “کیا تمہیں پتہ ہے کہ یہ درخت تمہارے بعد دوسروں کے کام آئیں گے؟”
وہ مسکرایا: “مجھے پتہ ہے۔ اسی لیے تو لگا رہا ہوں۔”
حصہ سوم: جنگل
پہلی جنگ عظیم شروع ہو گئی۔ مجھے بھی جانا پڑا۔ پانچ سال جنگ کی ہولناکیوں میں گزر گئے۔ جب 1920 میں واپس آیا تو میرا دل افسردہ تھا، اعصاب تھکے ہوئے تھے۔ میں نے سوچا کہ اس وادی میں چلا جاؤں، کچھ دن سکون سے گزاروں۔
لیکن جب وہاں پہنچا تو میری آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔
وہ بنجر وادی بدل چکی تھی۔
جہاں پہلے صرف پتھر تھے، وہاں چھوٹے چھوٹے درخت کھڑے تھے۔ بلوط، برچ، بیچ—ہر طرف ننھی ننھی شاخیں، ہریالی۔ پہلے جو چشمے سوکھے پڑے تھے، ان میں پانی آنے لگا تھا۔
میں بوفیے سے ملا۔ وہ بوڑھا ہو گیا تھا، لیکن پھر بھی وہی کام کر رہا تھا—درخت لگا رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ اب بھیڑیں نہیں رکھتا، کیونکہ وہ نئے درخت کھا جاتی تھیں۔ اب وہ شہد کی مکھیاں پالتا تھا۔ اور درخت لگاتا تھا۔
اس نے بتایا کہ اب تک وہ دس ہزار درخت نہیں، دس لاکھ درخت لگا چکا تھا۔ ان میں سے بہت سے زندہ تھے، بڑھ رہے تھے۔
حصہ چہارم: تبدیلی
اس کے بعد میں ہر سال وہاں جاتا۔ ہر بار وادی مزید بدلی ہوئی ملتی۔
ایک بار گیا تو دیکھا کہ ندی بہنے لگی تھی۔ پانی صاف شفاف، کناروں پر سرکنڈے۔ مچھلیاں تھیں پانی میں۔
دوسری بار گیا تو پرندوں کی آوازیں سنیں—وہاں پہلے کوئی پرندہ نہیں تھا۔
تیسری بار گیا تو جنگل اتنے بڑے ہو گئے کہ سورج کی کرنیں اندر نہیں آتی تھیں۔
فرانسیسی حکومت کو پتہ چلا کہ یہاں نیا جنگل اگ رہا ہے۔ انہوں نے ماہرین بھیجے، تحقیق کی، رپورٹیں لکھیں۔ کسی کو پتہ نہیں تھا کہ یہ سب ایک شخص کا کیا دھرا ہے۔ وہ سمجھے کہ قدرت نے خود بخود یہ جنگل اگا دیا ہے۔
انہوں نے اس جنگل کو محفوظ قرار دے دیا۔
اور بوفیے خاموشی سے اپنا کام کرتا رہا۔
حصہ پنجم: انجام
1945 میں میں آخری بار اس سے ملا۔ وہ بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔ نوے برس کا۔ وہ ایک ہسپتال میں تھا، صاف ستھرے کمرے میں، پرسکون۔ اس نے مجھے دیکھا تو پہچانا۔
ہم نے کافی دیر باتیں کیں۔ اس نے بتایا کہ اسے پتہ ہے کہ اس کی محنت رائیگاں نہیں گئی۔ وادی میں اب دس ہزار لوگ رہتے تھے—گاؤں بس گئے تھے، کھیت لہلہا رہے تھے، بچے کھیل رہے تھے۔ یہ سب کچھ اس لیے کہ ایک شخص نے درخت لگائے تھے۔
“کیا تم جانتے ہو،” اس نے آہستہ سے کہا، “مجھے کبھی پتہ نہیں چلا کہ دوسری جنگ عظیم ہوئی تھی۔ میں درخت لگاتا رہا، بس۔”
وہ ہنس دیا۔ ایک بچے کی طرح ہنسا۔
1947 میں وہ اس دنیا سے چلا گیا۔ خاموشی سے، جیسے درخت لگاتے ہوئے رہتا تھا۔
اختتام
آج اگر تم کبھی پرووانس کی ان وادیوں میں جاؤ، تو تمہیں وہاں سرسبز جنگل ملیں گے۔ بہتے دریا، چہکتے پرندے، خوشحال گاؤں۔ لوگ وہاں رہتے ہیں، کام کرتے ہیں، ہنستے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر نہیں جانتے کہ یہ سب کس کی وجہ سے ہے۔
لیں میں جانتا ہوں۔ اور اب تم بھی جان گئے۔
اس شخص کا نام تھا ایلزیار بوفیے۔ اس نے اپنی زندگی کا کام سمجھا درخت لگانا۔ اسے کوئی انعام نہیں ملا، کوئی تمغہ نہیں ملا، کوئی شہرت نہیں ملی۔ لیکن اس نے دس ہزار لوگوں کے لیے گھر بنایا، ہزاروں پرندوں کے لیے پناہ گاہ بنائی، اور اس زمین کو زندہ کر دیا۔
اور وہ یہ سب صرف اس لیے کر سکا کہ اسے یقین تھا کہ ایک شخص بھی دنیا بدل سکتا ہے—ایک وقت میں ایک بیج، ایک درخت، ایک دن۔
اخلاقی سبق:
ایک شخص بھی، اگر مستقل مزاجی اور بے لوث جذبے سے کام کرے، تو پوری دنیا بدل سکتا ہے۔ حقیقی خوشی دوسروں کے لیے کچھ کرنے میں ہے، نہ کہ شہرت یا دولت میں۔
