بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

یہ ایک بہت ہی جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے جو وفاداری، قربانی اور انسانی (یا حیوانی) فطرت کی تلخیوں کو بیان کرتی ہے۔
کسی کو بچانے کی قیمت، اپنا ہی دل تڑپانا ہے…
لنگور کوئی بڑا یا اہم جانور بن کر نہیں آیا تھا، وہ ایک فقیر بن کر آیا تھا۔ اپنی مالی تباہی اور سماجی ذلت کے خوف سے—جس کی وجہ سے اس کی بیٹی کی شادی میں رسوائی کا خطرہ تھا—وہ بندریا کے قدموں میں گر کر رونے لگا۔ اس نے التجا کی، “میری عزت بچا لو! مجھے ایسی شان و شوکت کا لباس پہنا دو کہ میرے دوست مجھ پر ہنس نہ سکیں۔”
اس کی بے بسی دیکھ کر بندریا کا دل پگھل گیا۔ اس نے اپنی روح کا خون جلا کر سونا بنایا۔ چالیس دن تک وہ ایک ایسا آسمانی چمک والا لباس بنتی رہی جو محض ایک کپڑا نہیں تھا، بلکہ لنگور کی مفلسی کو چھپانے والا ایک شاہانہ نقاب تھا۔ اس نے اپنی زندگی کی جمع پونجی اور اپنی صحت تک داؤ پر لگا دی تاکہ لنگور ایک دیوتا کی طرح نظر آئے۔
جشن کے دن پورے جنگل میں صرف لنگور کے لباس کے چرچے تھے، اور بندریا نے اس کا راز سینے میں دفن رکھا۔ وہ خود ایک عام مہمان کی طرح وہاں پہنچی، لیکن لنگور کے گھر کے محافظوں نے اس کا راستہ روک دیا۔ مگر اس کی قسمت اچھی تھی کہ اسی وقت لنگور ایک خاص مہمان، عقاب، کا استقبال کرنے باہر آیا۔
جب لنگور عقاب کو گلے لگا رہا تھا، تو اس کی نظر ہجوم میں کھڑی بندریا پر پڑی۔ ایک لمحے کے لیے اس کے ضمیر نے جھٹکا کھایا—وہی لباس جو بندریا کی قربانی کا نتیجہ تھا، اسے یاد دلانے لگا—اور وہ قریب تھا کہ پہرے داروں کو اسے اندر لانے کا حکم دے دیتا۔
لیکن اس کے ساتھ عقاب کھڑا تھا، پرندوں کا بادشاہ! وہ کیسے ایک طرف عقاب جیسی عظیم ہستی اور دوسری طرف بندریا جیسی معمولی مخلوق کو لے کر اندر جا سکتا تھا؟ اس نے بندریا کی وفاداری کو شیر، ہاتھی اور دیگر معزز مہمانوں کی شان و شوکت کے پلڑے میں تولا۔ پھر، اس نے اسے نظر انداز کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے صرف منہ ہی نہیں پھیرا، بلکہ اسے یوں دیکھا جیسے وہ وہاں ہے ہی نہیں، گویا اسے پہچانتا ہی نہ ہو اور کبھی اس سے مدد مانگی ہی نہ ہو۔
بندریا دھول اڑاتی ہوئی خاموشی سے گھر لوٹ گئی، جبکہ لنگور کی کامیابی کی موسیقی اس کے کانوں میں نشتر کی طرح چبھ رہی تھی۔ اپنی اندھیری جھونپڑی میں بیٹھ کر اس نے اپنی ہتھیلیوں کی ادھڑی ہوئی زخم خوردہ کھال کو سہلایا اور سرگوشی کی:
“تم کسی انسان کو اس کی رسوائی سے تو بچا سکتے ہو، لیکن وہ پھر بھی انہی دوستوں کا انتخاب کرے گا جنہوں نے اسے کبھی تڑپتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔
یہ کہانی
(ان لوگوں کے نام، جنہوں نے سب کچھ قربان کر دیا اور کسی نے ان سے حال تک نہ پوچھا۔)
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ احسان فراموش لوگ اکثر اپنے ماضی کے گواہوں سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner