سومنات مندر کا مقام بھارتی ریاست گجرات میں واقع تھا۔ موجودہ دور کے انتظامی لحاظ سے یہ ویراول کے قریب پربھاس پٹن میں آتا ہے، جو گِر سومناتھ ضلع میں ہے ۔ یہ شہر سمندر کے کنارے واقع ہے ۔
جبکہ سلطان محمود غزنوی کا دارالحکومت غزنی شہرتھا، جو موجودہ افغانستان میں واقع ہے ۔ غزنی سے سومنات کے مندر کا تقریبا 1100 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ یہ دوری آج کے جدید نقشوں کے مطابق ہے، جبکہ اس وقت یہ سفر ہزاروں فوجیوں اور سامان کے ساتھ طے کرنا انتہائی مشکل تھا۔ محمود غزنوی نے 18 اکتوبر 1025ء کو غزنی سے اس مہم کا آغاز کیا تھا ۔
سومنات مندر کا عجوبہ وہاں نصب شیو لنگ تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق، یہ لنگ زمین سے فضا میں معلق تھا، یعنی اسے نیچے سے کوئی سہارا نہیں تھا اور نہ ہی اوپر سے لٹکایا گیا تھا ۔
جب محمود غزنوی نے مندر میں داخل ہو کر اس لنگ کو دیکھا تو وہ اور اس کے ساتھی اس معجزے سے حیران رہ گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اس کے گرد نیزہ گھما کر دیکھا لیکن کوئی سہارا نہیں ملا ۔ بعد میں ایک درباری نے قیاس کیا کہ چھت مقناطیسی پتھر (لاڈسٹون) سے بنی تھی اور لنگ لوہےکا بنا ہوا تھا، جس کی وجہ سے وہ ہوا میں معلق تھا ۔ جب مقناطیسی چھت کے کچھ پتھر ہٹائے گئے تو لنگ کا توازن بگڑ گیا اور وہ نیچے آ گرا ۔
سومنات کا مندر نہ صرف مذہبی بلکہ معاشی اعتبار سے بھی ایک عظیم الشان مرکز تھا۔ یہاں بے پناہ دولت جمع تھی۔مختلف تاریخی مصادر کے مطابق، محمود غزنوی کو یہاں سے بے شمار سونا، چاندی، جواہرات اور قیمتی پتھر حاصل ہوئے۔
جن کی مالیت بیس ہزار ہزار دینار (20,000,000 دینار) سے زائد بتائی جاتی ہے ۔
سومنات کے مندر کی اتنی شہرت تھی کہ اس کی دیکھ بھال کے لیے دس ہزار دیہاتوں کا محصول خرچ کیا جاتا تھا ۔
یہاں کی رونق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مندر میں 300 موسیقار، 500 رقاصائیں اور 300 حجام(زائرین کے سر منڈوانے کے لیے) خدمات انجام دیتے تھے ۔
دوسرے بڑے شہر تھے لیکن غزنوی کی توجہ کا مرکز سومنات ہی کیوں تھا یہ سوال بہت اہم ہے کہ غزنی سے سومنات کے راستے میں دوسرے بڑے شہر بھی تھے، تو محمود غزنوی وہاں کیوں نہیں رکا؟
اس کی وجہ سومنات کی دولت اور منافع بھی بتائی جاتی تھی۔ لیکن محمود غزنوی کی توجہ سومنات کے مندر کے اس بت پہ تھی جو کلام بھی کرتاتھا اور ہوا میں معلق تھا، اور محمود غزنوی سومنات سے پہلے ہی شمالی ہندوستان کے بڑے مندروں کو گرا چکا تھا۔
اس نے متھرا، تھانیسر، کناوج، اور اوجین جیسے شہروں پر کامیاب حملے کیے تھے اور ان کے مندر تباہ کر کے ان کے خزانے لوٹ لیے تھے ۔ اس کے خزانے انہی مالوں سے بھر چکے تھے ۔
سومنات کی غیر معمولی شہرت پورے ہندوستان میں مشہور تھی اور یہ اپنی نوعیت کا سب سے امیر ترین مندر تھا ۔ یہ اس وقت کی سب سے بڑی توجہ کا مرکز تھا۔ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ محمود نے سومنات سے جو سونا اور جواہرات حاصل کیے، ان کا سوواں حصہ بھی ہندوستان کے کسی بادشاہ کے خزانے میں نہیں تھا ۔
