باپ کی آخری وصیت

باپ کی آخری وصیت


شہر کے امیر ترین تاجروں میں حاجی سلیم کا شمار ہوتا تھا۔ اس کے پاس بڑی بڑی دکانیں، کئی مکان اور وسیع زمینیں تھیں۔ مگر بڑھاپے میں وہ اکثر ایک ہی بات سوچ کر پریشان رہتا تھا کہ اس کی اتنی بڑی دولت کا صحیح وارث کون ہوگا۔ اس کے تین بیٹے تھے: بڑا بیٹا کامران، دوسرا بیٹا عمران اور سب سے چھوٹا بیٹا فہد۔
ایک دن حاجی سلیم شدید بیمار پڑ گیا۔ ڈاکٹروں نے صاف بتا دیا کہ اب اس کی زندگی زیادہ دن کی مہمان نہیں۔ یہ خبر سن کر تینوں بیٹے اس کے بستر کے پاس جمع ہو گئے۔ حاجی سلیم نے کمزور آواز میں کہا:
“بیٹو! میں نے ساری زندگی محنت کر کے یہ دولت کمائی ہے۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ میری جائیداد ایسے بیٹے کو ملے جو انسانوں کی قدر جانتا ہو۔”
تینوں بیٹے حیران ہو کر باپ کی طرف دیکھنے لگے۔
حاجی سلیم نے مزید کہا: “میری آخری وصیت یہ ہے کہ میری ساری جائیداد اس بیٹے کو ملے گی جو دنیا کے سب سے غریب انسان کو خوش کر دے گا۔ تم تینوں کو ایک مہینہ دیتا ہوں۔ جو یہ کام سب سے بہتر طریقے سے کرے گا وہی میرا وارث ہوگا۔”
یہ سن کر تینوں بیٹے سوچ میں پڑ گئے۔ کچھ ہی دنوں بعد حاجی سلیم کا انتقال ہو گیا اور وصیت کے مطابق تینوں بیٹے اپنے اپنے طریقے سے غریب انسان کو خوش کرنے نکل پڑے۔
سب سے پہلے بڑا بیٹا کامران نکلا۔ وہ بہت مغرور مزاج تھا۔ اس نے سوچا کہ کسی غریب کو بہت زیادہ پیسے دے کر اسے خوش کیا جا سکتا ہے۔ وہ شہر کے ایک کچی آبادی میں گیا اور ایک بوڑھے فقیر کو دیکھا جو سڑک کنارے بیٹھا مانگ رہا تھا۔
کامران نے جیب سے بہت سارے نوٹ نکالے اور فقیر کے سامنے پھینک دیے۔
“لو بابا! آج تمہیں اتنے پیسے دیتا ہوں کہ زندگی بھر مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”
فقیر نے پیسے تو لے لیے مگر اس کے چہرے پر کوئی خاص خوشی نظر نہ آئی۔ وہ خاموشی سے پیسے سمیٹ کر بیٹھا رہا۔ کامران کو لگا کہ اس نے اپنا کام کر دیا ہے، اس لیے وہ مطمئن ہو کر واپس آ گیا۔
چند دن بعد دوسرا بیٹا عمران نکلا۔ وہ کچھ زیادہ سمجھدار تھا۔ اس نے سوچا کہ صرف پیسے دینے سے انسان زیادہ خوش نہیں ہوتا۔ اس نے ایک غریب مزدور کو دیکھا جو سخت دھوپ میں اینٹیں اٹھا رہا تھا۔
عمران اس کے پاس گیا اور بولا: “بھائی! آج سے تمہیں کام کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں تمہیں ہر مہینے پیسے دیا کروں گا۔”
مزدور نے حیرت سے پوچھا: “کیا واقعی؟”
عمران نے سر ہلایا اور اسے کافی رقم دے دی۔ مزدور نے خوش ہو کر دعا دی، مگر اس کے چہرے پر بھی وہ گہری خوشی نہیں تھی جس کی عمران کو توقع تھی۔ عمران نے سمجھا شاید یہی کافی ہے، اس لیے وہ بھی واپس گھر آ گیا۔
اب باری تھی سب سے چھوٹے بیٹے فہد کی۔ فہد کا دل بہت نرم تھا۔ وہ کئی دن تک شہر کی گلیوں میں گھومتا رہا مگر اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کسی غریب انسان کو سچی خوشی کیسے دی جا سکتی ہے۔
ایک دن وہ شہر کے کنارے ایک بستی میں پہنچ گیا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ لوگ بہت غریب ہیں۔ بچے ننگے پاؤں گھوم رہے تھے، عورتیں دور سے پانی بھر کر لا رہی تھیں اور بوڑھے بیمار پڑے تھے۔ فہد نے ایک بوڑھی عورت سے پوچھا:
“اماں! آپ لوگ اتنی تکلیف میں کیوں ہیں؟”
بوڑھی عورت نے آہ بھری اور بولی: “بیٹا! یہاں نہ صاف پانی ہے، نہ اسکول ہے اور نہ ہی کوئی علاج کی جگہ۔ ہم سالوں سے اسی حالت میں جی رہے ہیں۔”
یہ سن کر فہد کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر صرف ایک شخص کو خوش کر بھی دے تو باقی لوگ پھر بھی اسی حالت میں رہیں گے۔
فہد نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ ایسا کرے گا جس سے پوری بستی کی زندگی بدل جائے۔
اس نے اپنے باپ کی جائیداد سے ملنے والی عارضی رقم اور اپنی جمع پونجی استعمال کر کے سب سے پہلے بستی میں پانی کا کنواں کھدوایا۔ جب کنویں سے صاف پانی نکلنے لگا تو عورتوں اور بچوں کی خوشی دیدنی تھی۔ اب انہیں میلوں دور سے پانی لانے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔
پھر فہد نے چند مزدوروں کو بلا کر ایک چھوٹا سا اسکول بھی بنوا دیا تاکہ بستی کے بچے پڑھ لکھ سکیں۔ اس نے ایک استاد کو بھی مقرر کر دیا۔
اس کے بعد اس نے ایک چھوٹا سا علاج کا کمرہ بھی بنوایا جہاں ایک ڈاکٹر ہفتے میں دو دن آ کر لوگوں کا علاج کرنے لگا۔
چند ہی ہفتوں میں پوری بستی کی زندگی بدلنے لگی۔ بچے خوشی خوشی اسکول جانے لگے، عورتیں سکون سے پانی بھرنے لگیں اور بیمار لوگوں کو علاج ملنے لگا۔
ایک دن وہی بوڑھی عورت فہد کے پاس آئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
وہ بولی: “بیٹا! تم نے تو ہماری پوری بستی کو خوش کر دیا۔ ہم جیسے غریب لوگ شاید زندگی بھر تمہیں دعا دیتے رہیں گے۔”
یہ سن کر فہد کے دل میں عجیب سکون پیدا ہوا۔
ایک مہینہ پورا ہونے کے بعد تینوں بھائی اپنے باپ کے وکیل کے پاس پہنچے تاکہ وہ فیصلہ سنائے۔ سب سے پہلے کامران نے بتایا کہ اس نے ایک فقیر کو بہت زیادہ پیسے دے کر خوش کیا۔ پھر عمران نے کہا کہ اس نے ایک مزدور کو ہمیشہ کے لیے مالی مدد دی ہے۔
آخر میں فہد نے اپنی کہانی سنائی کہ اس نے ایک غریب بستی میں کنواں، اسکول اور علاج کی جگہ بنوائی ہے۔
وکیل کچھ دیر خاموش رہا پھر مسکرا کر بولا: “تمہارے والد بہت دانا انسان تھے۔ وہ جانتے تھے کہ سچی خوشی صرف پیسے دینے سے نہیں ملتی بلکہ لوگوں کی زندگی بہتر بنانے سے ملتی ہے۔”
پھر اس نے اعلان کیا: “حاجی سلیم کی ساری جائیداد کا اصل وارث فہد ہوگا۔”
یہ سن کر دونوں بڑے بھائی خاموش ہو گئے۔ انہیں بھی سمجھ آ گیا تھا کہ ان کے چھوٹے بھائی نے واقعی سب سے غریب انسانوں کو خوش کیا ہے۔
فہد نے جائیداد ملنے کے بعد بھی اپنے باپ کی نصیحت نہیں بھلائی۔ اس نے شہر کے کئی غریب علاقوں میں اسکول، کنویں اور ہسپتال بنوائے۔
لوگ اکثر کہا کرتے تھے کہ حاجی سلیم نے مرنے سے پہلے جو وصیت کی تھی، اس نے صرف ایک وارث نہیں چنا بلکہ پوری بستیوں کی تقدیر بدل دی۔
اور یہی کسی باپ کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ اس کی اولاد دولت سے زیادہ انسانیت کو اہمیت دے۔

Leave a Reply

NZ's Corner