🐪 عقل — وہ رسی جو ہمیں سنبھالتی ہے

🐪 عقل — وہ رسی جو ہمیں سنبھالتی ہے

عرب بدو اپنے اونٹوں کو زمین پر بٹھا کر ایک ٹانگ گھٹنے کے ساتھ باندھ دیتے تھے۔ جب ٹانگ اس طرح بندھتی تو وہ انگریزی حرف “V” کی شکل اختیار کر لیتی۔
اونٹ اس حالت میں کھڑے ہوتے تو تین ٹانگیں زمین پر ہوتیں اور چوتھی ٹانگ ہوا میں معلق رہتی۔ اس حالت میں وہ کھا پی سکتے، لیٹ سکتے، مگر بھاگ نہیں سکتے تھے۔

بدو اس رسی کو جس سے اونٹ کی ٹانگ باندھتے تھے، اپنی زبان میں “عقل” کہتے تھے۔ یعنی عقل دراصل ایک ایسی رسی تھی جو اونٹ کی بے قابو حرکت کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
یہی لفظ بعد میں انسانی رویے کے ایک اہم پہلو کی علامت بن گیا۔

جب ہم کسی سے کہتے ہیں “عقل کرو” تو اصل میں مطلب یہ ہوتا ہے: رک جاؤ، ٹھنڈا ہو جاؤ، جذبات پر قابو پاؤ، اپنی حالت کا جائزہ لو، اور حالات کے مطابق سمجھداری سے فیصلہ کرو۔

مگر انسان عجیب فطرت رکھتے ہیں۔ ہم سب کچھ کریں گے، مگر عقل نہیں کریں گے۔ اپنی بھاگ دوڑ، خواہشات، غصے یا خوف میں ہم اکثر وہ رسی کھول دیتے ہیں جو ہمیں سنبھال سکتی تھی۔

جس طرح بدو اونٹ کو کچھ وقت کے لیے باندھ کر آرام، احتیاط اور غوروفکر کا موقع دیتے تھے، اسی طرح اگر ہم بھی اپنی زندگی میں کبھی کبھار “عقل” کی رسی باندھیں تو نہ صرف خود سنبھل سکتے ہیں بلکہ اپنے سفر کو بہتر، مؤثر اور پائیدار بھی بنا سکتے ہیں۔

کامیابی کے لیے صرف دوڑنا کافی نہیں، صبر، حکمتِ عملی، حالات کی سمجھ اور جذبات پر قابو رکھنا بھی ضروری ہے۔
اپنی عقل کو استعمال کریں، خود کو بے مقصد دوڑ سے روکیں، اور اپنی صلاحیتوں کو درست سمت میں لگائیں تاکہ نہ صرف آپ کی زندگی بہتر ہو، بلکہ دوسروں کے لیے بھی باعثِ رحمت اور فائدہ بنے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔

Leave a Reply

NZ's Corner