بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک بار ملا نصیر الدین اپنے ایک دوست کے ساتھ بازار سے گزر رہے تھے۔ راستے میں ایک کسان ملا جو بڑی بڑی پیازیں بیچ رہا تھا۔ ملا کو پیازیں پسند آئیں، اس نے اپنی جیب سے پیسے نکالے اور ایک کلو پیاز خرید لی۔
ملا کا دوست جو ذرا مغرور تھا، ہنس کر بولا، “ملا جی! آپ اتنے بڑے عالم ہو کر بھی کسانوں کی طرح پیاز کے تھیلے اٹھا کر چل رہے ہو؟ کیا آپ کو اپنے وزن (وقار) کا خیال نہیں؟”
ملا نصیر الدین مسکرائے اور بڑی سنجیدگی سے جواب دیا:
“بھائی! تم درست کہہ رہے ہو۔ انسان کو اپنا وزن برقرار رکھنا چاہیے۔ چلو، ذرا پاس ہی والے ترازو پر اپنا وزن کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ میرے وقار میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔”
وہ دونوں ایک بڑی دکان کے پاس گئے جہاں ترازو رکھا تھا۔ ملا پہلے ترازو پر چڑھا، اس کا وزن کیا گیا۔ پھر اس نے اپنے دوست سے کہا، “اب تم بھی چڑھو، دیکھتے ہیں تم کتنے وزنی ہو۔”
جب دوست ترازو سے اترا، تو ملا نے اپنی پیازیں نیچے رکھیں اور بولا:
“دیکھو دوست! ہم دونوں نے اپنا وزن تو کر لیا، لیکن ایک کام باقی ہے۔ اب ذرا ان پیازوں کو وزن کرو۔”
جب پیازوں کا وزن ہوا تو وہ پورے ایک کلو نکلیں۔ ملا نے مسکرا کر دوست کا کندھا تھپتھپایا اور کہا:
“دیکھو، پیاز کا وزن تو ایک کلو ہی رہا، لیکن میرے اور تمہارے وزن میں تو کوئی فرق نہیں پڑا۔ اس کا مطلب ہے کہ میرا وقار پیاز اٹھانے سے کم نہیں ہوا، بلکہ تمہاری سوچ کے ترازو میں شاید وزن کی کمی ہے!”
دوست شرمندہ ہو گیا اور ملا اپنی پیازیں لے کر ہنستے مسکراتے گھر کی طرف چل دیے۔
نتیجہ: ملا نصیر الدین کا یہ اندازِ بیاں ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کا وقار اس کے کاموں سے نہیں، بلکہ اس کی سوچ اور شخصیت کی مضبوطی سے ہوتا ہے۔

#ملا_نصیر_الدین
#حاضر_دماغی
#اردو_کہانیاں
#دانشمندی
#لطیفے
#اردو_مزاح
#سبق_آموز_کہانیاں
#مزاحیہ_قصے

Leave a Reply

NZ's Corner