Tag Archives: urdupoetry

کہتے ہیں ایک بدو شہری بابو کا مہمان بنا۔ میزبان نے اس کی خاطر مدارت کے لیے مرغی ذبح کی۔ جب کھانا تیار ہوا تو گھر کے تمام افراد دسترخوان پر آ گئے۔ میزبان کے گھر میں چھ افراد تھے: دو میاں بیوی، ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں۔ میزبان نے سوچا کیوں نہ بدو کا مذاق اڑایا جائے۔ اس نے کہا:“آپ ہمارے مہمان ہیں، اس لیے مرغی کی تقسیم آپ ہی کریں۔” بدو نے عاجزی سے کہا، “مجھے تقسیم کا زیادہ تجربہ تو نہیں، البتہ اگر آپ کا اصرار ہے تو میں کر دیتا ہوں۔” اس نے مرغی کا سر کاٹا اور میزبان کو دیتے ہوئے کہا،“آپ گھر کے سربراہ ہیں، تو سربراہی کا تاج، یعنی مرغی کا سر، آپ کو مبارک ہو!” پھر اس نے پچھلا حصہ کاٹا اور میزبان کی بیوی کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا،“یہ خاتونِ خانہ کے لیے۔” پھر مرغی کے دونوں بازو کاٹ…

Read more

14ویں صدی کا اوائل… تصور کریں ایک 100 سال سے زائد عمر کا انتہائی ضعیف لیکن دیوہیکل جنگجو، جس کی سفید داڑھی ہوا میں اڑ رہی ہے، لیکن اس کے ہاتھوں میں اب بھی ایک ایسا بھاری بھرکم کلہاڑا (Axe) ہے جسے اٹھانا عام جوانوں کے بس کی بات نہیں۔ اس شخص نے ارطغرل غازی کے ساتھ خانہ بدوشی کے خیمے گاڑے، عثمان غازی کو انگلی پکڑ کر جنگ کرنا سکھایا اور سلطنت کی بنیاد رکھی، اور پھر اورہان غازی کے ساتھ مل کر بازنطینی قلعوں کو فتح کیا۔ یہ تاریخ کے ان چند گنے چنے جنگجوؤں میں سے ایک، ترگت الپ (Turgut Alp) کی سچی کہانی ہے، جنہوں نے ایک قبیلے کو سلطنت بنتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سلطنتِ عثمانیہ کے تین عظیم حکمرانوں (ارطغرل، عثمان، اور اورہان) کی تلوار بن کر خدمت کی۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ وفاداری اور بہادری کی عمر کتنی طویل ہو…

Read more

ایک جنگل میں ایک بڑا زبردست اور طاقتور ہاتھی رہا کرتا تھا ۔ اور اُسی جنگل میں بہت سے گیدڑ بھی رہا کرتے تھے۔ ایک دن ایک گیدڑ نے کہا۔ خدا نے اس ہاتھی کو کتنا بڑا جسم دیا ہے ۔ اگر ہم بھی اتنے بڑے ہوتے ۔ تو جنگل پر ہمارا ہی راج ہوتا ۔ یہ سن کر ایک بڑھے گیدڑ نے جواب دیا ۔ میاں یہ کیا کہہ رہے ہو۔ خدا نے جسم موٹا تازہ ہاتھی کو دیا ہے مگر عقل کی دولت تو ہماری ہی قوم کو ملی ہے ۔ چاہیں تو اس ہاتھی کو ایک دن میں مار دیں ۔ نوجوان گیدڑ نے حیران ہوکر پوچھا ۔ بڑے میاں کیا یہ سچ مچ ہو سکتا ہے ۔ میرا تو خیال ہے ۔ کہ ہم جنگل کے سارے گیدڑ مل جائیں ۔ تب بھی ہاتھی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ ذرا سوچھ تو سہی ہماری اوقات…

Read more

تاریخ کی کتابوں میں ایک واقعہ درج ہے کہ ایک بدو کی دلہن کو جس گھوڑے پر بٹھا کر لوگ لائے تھے ۔ دلہن کے گھوڑے سے اترتے ہی اس بدو نے اس گھوڑے کی تلوار سے گردن الگ کردی ۔ لوگوں نے اس سے ایسا کرنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میری بیوی کے اترنے کے فوراً بعد ہی کوئی اور اس کی پیٹھ پر بیٹھ جائے اور دلہن کی سواری کی وجہ سے تاحال گھوڑے کی پیٹھ گرم ہو اور کوئی غیر مرد اس حرارت کو محسوس کر لے ۔ اسی طرح ایک اور واقعہ ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا کہ اس کے ذمہ میرے حق مہر کے ۵۰۰ دینار ہیںعدالت نے شوہر کو بلا کر پوچھا تو اس نے انکار کر دیا ۔عدالت نے گواہوں کو طلب کیا اور…

Read more

شیر چاہے کتنا ہی لمبا عرصہ  حکمرانی کرے، سب سے بڑا شیر بھی آخر کار ایک خاموش اور بے بس انجام کو پہنچتا ہے۔ یہی اس دنیا کی حقیقت ہے۔اپنے عروج پر شہر جنگل کی بادشاہی کرتا ہے — تعاقب کرتا، فتح پاتا،اپنے شکار کو نگل جاتا، اور صرف ہڈیوں کے ٹکڑے پیچھے چھوڑتا ہے۔ طاقت اس کی پہچان ہوتی ہے۔اقتدار اسے گھیرے رکھتا ہے۔ خوف اس کے پیچھے چلتا ہے۔مگر وقت بڑا تیزی سے گزرتا ہے۔عمر اسے کمزور کر دیتی ہے جو کبھی ناقابلِ تسخیر لگتا تھا۔ وہی شیر جو ایک زمانے میں بآسانی شکار کرتا تھا، اب نہ تعاقب کر سکتا ہے، نہ لڑ سکتا ہے، نہ اپنا دفاع کر سکتا ہے۔ وہ ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے، خالی پن میں دھاڑتا رہتا ہے، یہاں تک کہ قسمت اسے آ دھرتی ہے۔ جنہیں اس نے ایک زمانے میں نظر انداز کر دیا تھا، آج وہی اسے گھیر لیتے…

Read more

400 خیموں کی آندھی: وہ ایک فیصلہ جس نے 600 سالہ سلطنت کی بنیاد رکھی 13ویں صدی کا اناطولیہ… منگولوں کے خوف سے در بدر بھٹکتا ایک چھوٹا سا خانہ بدوش ‘قائی’ قبیلہ، جس کے پاس کل اثاثہ محض 400 خیمے تھے۔ ایک دن سفر کے دوران قبیلے کے نوجوان سردار نے دور میدان میں دو فوجوں کو لڑتے دیکھا۔ ایک فوج طاقتور تھی، جبکہ دوسری کمزور اور شکست کے قریب۔ وہ چاہتا تو اپنا راستہ بدل کر خاموشی سے گزر جاتا، لیکن اس کی غیرت نے ہارتے ہوئے مظلوم کا ساتھ دینے پر مجبور کیا۔ اس نے اپنے چند سو گھڑ سواروں کے ساتھ کمزور فوج کے حق میں ایسا خوفناک حملہ کیا کہ ہاری ہوئی بازی جیت میں بدل گئی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ جس کمزور فوج (سلجوقوں) کو اس نے بچایا ہے، وہ انعام میں اسے ایک ایسی سرحد (سوغوت) دیں گے جہاں سے دنیا کی…

Read more

ایک آدمی کا گزر ایک جنگل سے ہوا جہاں شدید آگ لگی ہوئی تھی۔ اس نے دیکھا کہ جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ آگ کے حصار میں پھنسا اپنی جان بچانے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ آدمی کو ترس آگیا؛ اس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر سانپ کو آگ سے نکالا اور اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔جیسے ہی سانپ کی جان میں جان آئی، وہ بولا: “اب میں تمہیں ڈسوں گا۔”آدمی حیرت سے بولا: “یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے تو تمہارے ساتھ نیکی کی اور تمہیں موت کے منہ سے نکالا، کیا نیکی کا یہی صلہ ہے؟”سانپ نے سرد مہری سے جواب دیا: “میرے پاس تو نیکی کا یہی صلہ ہے۔”آدمی نے تجویز دی: “اگر تم یہی سمجھتے ہو تو چلو کسی تیسرے سے فیصلہ کروا لیتے ہیں۔” سانپ مان گیا۔ وہ کچھ آگے بڑھے تو انہیں ایک بھینس چربی ہوئی ملی۔ آدمی نے…

Read more

ہندوستان کا بادشاہ جنگل میں تنہا گھوڑا دوڑا رہا تھا۔ تیز رفتار گھوڑے پر سوار، ہرن کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے بہت دور نکل گیا تھا۔ کئی میل تک گھوڑے نے برق رفتار ہرن کا تعاقب کیا، لیکن آخرکار وہ گھنی جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ سخت گرمی کا زمانہ تھا، دوپہر کا وقت تھا۔ گرم ہوا سے جسم جھلس رہا تھا، پیاس کی شدت سے ہونٹ خشک تھے اور حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ شاہجہاں نے گھوڑا روک کر جسم سے پسینہ پونچھا اور سوچنے لگا کہ اب پانی کی تلاش میں کدھر جائے۔ گھوڑا بھی گرمی کی شدت سے ہانپ رہا تھا۔ کئی میل چلنے کے بعد کسی بستی کے آثار نظر نہ آئے، البتہ بہت دور کچھ جانور چرتے نظر پڑے اور بانسری کی آواز بھی تیز جھونکوں کے ساتھ محسوس ہوئی۔ بادشاہ نے اسی سمت اپنے گھوڑے کی باگ موڑ دی۔ چند میل چلنے…

Read more

قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چچا یصہر کا بیٹا تھا۔وہ نہایت شکیل اور خوبصورت انسان تھا، اسی وجہ سے لوگ اُس کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اسے “منور” کہا کرتے تھے۔صرف یہی نہیں، بلکہ وہ بنی اسرائیل میں تورات کا بڑا عالم، نہایت ملنسار اور بااخلاق شخصیت کا مالک بھی تھا، اسی لیے لوگ اس کا بے حد ادب و احترام کرتے تھے۔ لیکن جب بے شمار دولت اس کے ہاتھ آئیتو اس کی زندگی یکسر بدل گئی۔وہ سامری کی طرح منافق ہو گیا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سخت دشمن بن گیااور تکبر و غرور میں ڈوب گیا۔ جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہواتو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے وعدہ کیاکہ وہ اپنے مال کا ہزارواں حصہ زکوٰۃ میں دے گا۔مگر جب اس نے اپنے مال کا حساب لگایاتو زکوٰۃ کی رقم بہت زیادہ نکلی۔ یہ دیکھ کر اس پر حرص اور بخل…

Read more

ایک بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ جاپان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا استاد رہتا تھا۔ اس نے ساری زندگی لوگوں کو راستہ دکھایا تھا، لوگوں کو سچ سکھایا تھا، لوگوں کو خود کو پہچاننے کا فن سکھایا تھا۔ اس کے شاگرد دور دور سے آتے تھے، اس کے پاس بیٹھتے تھے، اس کی باتیں سنتے تھے، اور اپنی زندگی بدل لیتے تھے۔ لیکن استاد اب بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔ اس کے بال سفید ہو گئے تھے، اس کی پیٹھ جھک گئی تھی، اس کی آنکھیں دھندلی ہو گئی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی موت قریب ہے۔ ایک دن اس نے اپنے شاگردوں کو بلایا۔ بہت سے شاگرد تھے  کچھ بوڑھے تھے، کچھ جوان تھے، کچھ نئے آئے تھے، کچھ پرانے تھے۔ سب استاد کے سامنے بیٹھ گئے۔ استاد نے کہا: “میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ نہ سونا ہے، نہ…

Read more

خاتون نے اپنا بیمار گدھا ؛ مکمل طور پر صحتمند بتا کر دس ہزار روپے میں بیچ دیا ۔ ۔ ایک دن بعد گدھا مر گیا۔ خریدار نے خاتون سے شکایت کی آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ گدھا مکمل صحتمند ہے بس ذرا موسم کی وجہ سے سست ہو رہا ہے خاتون نے کہا کہ ذندگی کی گارنٹی تو میں نے نہیں دی تھی۔ پھر بھی آپ مرا ہوا گدھا مجھے واپس پہنچادو؛ کسان نے پوچھا کہ مرے ہوئے گدھے کا آپ کیا کرو گی؟ خاتون نے کہا کہ میں ایک مہینے بعد اس مرے ہوئے گدھے کی آدھی قیمت آپکو واپس دے دوُں گی۔ کسان نے کہا منظور ہے ؛ میں مرا ہوا گدھا آپ تک پہنچا دیتا ہوں پھر ایک مہینے بعد آکر پانچ ہزار روپے لے لوں گا ۔ ۔ ۔ ایک مہینے بعد کسان واپس گیا تو دیکھا کہ خاتون کے پاس وہی…

Read more

اس کہانی کا مفہوم اور پیغام بہت گہرا ہے۔ تیاری کی حکمت: ایک سبق آموز کہانیکچھ لوگ مشکل وقت میں بھی پرسکون نظر آتے ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ ہے:وہ دباؤ آنے سے پہلے ہی اپنی تیاری مکمل کر چکے ہوتے ہیں۔ایک پُرسکون جنگل میں، ایک جنگلی سور ایک پرانے درخت کے تنے سے اپنے دانت رگڑ کر انہیں تیز کر رہا تھا۔ دن بدن، وہ یہی کام کرتا رہا۔ آہستہ آہستہ، صبر کے ساتھ اور بغیر کسی ناغے کے۔وہاں سے ایک لومڑی گزری، اس نے سور کو دیکھا اور ہنسنے لگی۔“یہاں تو کوئی شکاری نہیں ہے۔ کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔ پھر تم ابھی سے اپنے دانت تیز کر کے اپنی توانائی کیوں ضائع کر رہے ہو؟” جنگلی سور نے کوئی بحث نہیں کی۔ وہ ایک لمحے تک اپنے دانت تیز کرتا رہا، پھر جواب دیا:“جب خطرہ آئے گا، تو مجھے فوراً اپنے تیز دانتوں کی ضرورت ہوگی۔…

Read more

کوہِ طور پر تجلیِ الہٰیہ کی زیارت کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرہ مبارک پر ایسی قوی چمک رہتی تھی کہ چہرے پر نقاب کے باوجود جو بھی آپ کی طرف آنکھ بھر کر دیکھتا تو اُس کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو جاتی۔ آپ علیہ السلام نے حق تعالیٰ سے عرض کیا کہ “مجھے ایسا نقاب عطا فرمائیے جو اِس قوی نُور کا ستر بن جائے اور مخلوق کی آنکھوں کو نقصان نہ پہنچے۔” حکم ہوا کہ “اپنے اُس کمبل کا نقاب بنا لیجئےجو کوہِ طُور پر آپ (علیہ السلام) کے جسم پر تھا۔ جس نے طُور کی تجلی کا تحمل کیا ہُوا ہے۔ اے موسیٰ.! اُس کمبل کے علاوہ اگر کوہ قاف بھی آپ کے چہرے کی تجلی بند کرنے کو آ جائے تو وہ بھی مثلِ کوہِ طُور پھٹ جائے گا۔” الغرض موسیٰ علیہ السلام نے بغیر نقاب کے خلائق کو اپنا چہرہ دیکھنے سے…

Read more

ایک فقیر ایک درویش کی ملاقات کو آیا جس سے اُسے بڑی عقیدت تھی کیا دیکھتا ہے کہ درویش ایک مخملیں غالیچے پر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے سر پر ریشمی کپڑے کی جھونپڑی تنی ہے جس کو سونے کی میخوں سے زمیں میں گاڑا گیا ہے فقیر نے جب یہ سب دیکھا تو فریاد کرنے لگا پیر و مرشد یہ سب کیا ہے ؟ میں تو آپ کے زہد و خدا پر توکّل کی وجہ سے آپ کا مرید بنا تھا اب یہ شان و شوکت دیکھ کر میں دنگ رہ گیا ہوں درویش نے ہنس کر کہا میں تیّار ہوں کہ یہ سب کچھ ترک کر کے تمہارے ہمراہ چلوں یہ کہہ کر درویش اٹھا اور فقیر کے ساتھ چل پڑا اُس نے اتنی زحمت بھی نہیں کی کہ اپنے چپّل ھی پہن لے کچھ دور چلنے کے بعد فقیر کہنے لگا میں اپنا کشکول تو آپ…

Read more

میکسیکو کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیڈرو نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ وہ بہت غریب تھا۔ اس کے پاس جوتے نہیں تھے، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، اس کے پاس کھانے کو اکثر صرف ایک روٹی ہوتی تھی۔ لیکن پیڈرو کے پاس ایک دولت تھی اس کی ماں کی محبت۔ پیڈرو کی ماں بہت بوڑھی تھی۔ اس کی آنکھیں کمزور تھیں، اس کے ہاتھ کانپتے تھے، لیکن وہ ہر روز پیڈرو کے لیے روٹی پکاتی، اس کے سر پر ہاتھ رکھتی، اور کہتی: “بیٹا، کبھی ہار مت ماننا۔” ایک دن پیڈرو نے ماں سے کہا: “ماں، میں شہر جا رہا ہوں۔ وہاں کام ملے گا، پیسے ملیں گے۔ میں تمہارے لیے دوائی لاؤں گا، تمہیں اچھے کپڑے دلوں گا۔” ماں نے کہا: “جا بیٹا، لیکن یاد رکھنا جو کچھ بھی ہو، ایماندار رہنا۔” پیڈرو شہر پہنچا۔ اس نے بہت کام کیا صبح سے رات تک محنت کی۔…

Read more

جب بہت زیادہ مدد کرنے والا آخر کار چھوڑ کر چلا جاتا ہےاس خشک سرزمین میں اونٹ صرف ایک ہی بات کے لیے مشہور تھا: اسے معلوم تھا کہ پانی کہاں ملے گا۔جب دریا خشک ہو جاتے اور زمین پھٹ جاتی، تو دوسرے جانور کھودنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ وہ بس اسے دیکھتے رہتے۔ہر صبح، سورج کے تیز ہونے سے پہلے، اونٹ ریت میں کھدائی کرتا۔ اس کا سانس پھول جاتا۔ اس کے سینے میں درد ہوتا۔ پانی بہت آہستہ، تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتا، جیسے کہیں چھپا ہوا ہو۔زیبرا پانی پیتا۔ ہرن پانی پیتا۔ پرندے غول کی شکل میں آتے اور پانی پیتے تاکہ اپنی پیاس بجھا سکیں۔انہوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ وہ کتنا تھک چکا ہے۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ کھدائی کے لیے صحیح جگہ تلاش کرنے کے لیے اسے کتنا پیدل چلنا پڑتا ہے۔ وہ صرف اس وقت آتے جب وہ…

Read more

برازیل کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک ٹوپی فروش رہتا تھا۔ اس کا نام پیڈرو تھا۔ وہ ہر روز شہر جاتا، بازار میں اپنی ٹوپیاں بیچتا، اور شام کو واپس آ جاتا۔ اس کا کاروبار چھوٹا تھا، لیکن وہ خوش تھا۔ ایک دن اس نے سوچا: “کیوں نہ شہر سے آگے کے گاؤں میں چلا جاؤں؟ وہاں لوگ کم آتے ہیں، شاید میری ٹوپیاں اچھے داموں بک جائیں۔” اس نے اپنی ساری ٹوپیاں ایک بڑے تھیلے میں رکھیں، تھیلا سر پر رکھا، اور چل پڑا۔ وہ گھنٹوں چلتا رہا۔ سورج سر پر آیا، راستہ مشکل تھا۔ وہ تھک گیا۔ اس نے ایک بڑے درخت کے نیچے آرام کرنے کا سوچا۔ درخت بہت بڑا تھا، اس کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں، گھنی چھاؤں تھی۔ پیڈرو نے تھیلا نیچے رکھا، ایک پتھر سرہانے رکھا، اور آنکھ بند کر لی۔ وہ سو گیا۔ اسے پتہ نہیں تھا کہ اس درخت پر بندروں…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ وہ بہت لالچی تھا۔ اس کے پاس اتنا سونا تھا کہ اس کے محل کے تہہ خانے بھرے ہوئے تھے۔ اتنا چاندی تھا کہ اس کے گوداموں میں جگہ نہیں بچی تھی۔ اتنے ہیرے جواہرات تھے کہ اس کے خزانوں کے دروازے بند نہیں ہوتے تھے۔ لیکن وہ پھر بھی خوش نہیں تھا۔ وہ ہر روز سوچتا: “اور چاہیے۔ مجھے اور چاہیے۔” اس نے اپنے وزیر سے کہا: “دنیا کا سب سے امیر آدمی کون ہے؟” وزیر نے کہا: “بادشاہ سلامت! آپ ہی دنیا کے سب سے امیر آدمی ہیں۔” بادشاہ نے کہا: “پھر میں خوش کیوں نہیں ہوں؟” وزیر چپ رہا۔ اسے جواب نہیں معلوم تھا۔ ایک دن بادشاہ کے دربار میں ایک درویش آیا۔ اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ نہ سونا، نہ چاندی، نہ کپڑے۔ اس کے پاس صرف ایک ٹوٹی ہوئی چادر تھی اور ایک مٹی کا کٹورا۔ بادشاہ نے کہا: “تم بہت…

Read more

قدیم عرب کے ایک قصے کے مطابق، ایک طاقتور بادشاہ کو شکار کا بہت شوق تھا۔ اس کے پاس ایک ایسا عقاب تھا جسے اس نے بچپن سے پالا تھا اور وہ اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ وہ عقاب ہمیشہ بادشاہ کے کندھے پر بیٹھتا اور شکار میں اس کا بہترین ساتھی ثابت ہوتا۔تلاشِ آبایک دن بادشاہ اپنے چند سپاہیوں کے ساتھ ایک تپتے ہوئے صحرا میں شکار کے لیے نکلا۔ تپش اتنی شدید تھی کہ مشکیزوں کا پانی ختم ہو گیا اور بادشاہ اپنے قافلے سے بچھڑ کر تنہا رہ گیا۔ پیاس کے مارے اس کا برا حال تھا اور وہ سائے اور پانی کی تلاش میں بھٹک رہا تھا۔کافی دیر بعد اسے ایک پہاڑی کے دامن میں چٹان سے قطرہ قطرہ ٹپکتا ہوا پانی نظر آیا۔ بادشاہ نے خوشی سے اپنا پیالہ نکالا اور بڑی محنت اور صبر سے ان قطروں کو پیالے میں جمع…

Read more

افریقہ کے ایک گھنے جنگل میں ایک کچھوا رہتا تھا۔ وہ بہت سست تھا، لیکن اس کی زبان بہت تیز تھی۔ وہ ہر وقت بکتا رہتا، دوسروں کی باتیں کرتا، ان پر تنقید کرتا، ان کا مذاق اڑاتا۔ جنگل کے دوسرے جانور اس سے تنگ آ چکے تھے۔ لیکن کچھوا کسی کی بات نہیں سنتا تھا۔ ایک دن کچھوا درخت کے نیچے بیٹھا بکتا ہوا تھا کہ اوپر سے ایک عقاب وہاں آیا۔ عقاب بہت بڑا تھا، بہت طاقتور تھا۔ اس کے پر پھیلے ہوئے تھے، اس کی آنکھیں تیز تھیں۔ کچھوا نے اوپر دیکھا اور بولا: “او عقاب! تو بہت بڑا ہے، لیکن کیا فائدہ؟ تیرے پر تو ہیں، لیکن تو کہاں اڑ سکتا ہے؟ تیری آنکھیں تو ہیں، لیکن تو کیا دیکھ سکتا ہے؟” عقاب نے کچھ نہ کہا۔ وہ خاموش کھڑا رہا۔ کچھوا بولا: “مجھے بتا، کیا تو سچ میں اتنا اونچا اڑ سکتا ہے جتنا لوگ…

Read more

20/112
NZ's Corner