ایک بادشاہ تھا۔ وہ بہت لالچی تھا۔ اس کے پاس اتنا سونا تھا کہ اس کے محل کے تہہ خانے بھرے ہوئے تھے۔ اتنا چاندی تھا کہ اس کے گوداموں میں جگہ نہیں بچی تھی۔ اتنے ہیرے جواہرات تھے کہ اس کے خزانوں کے دروازے بند نہیں ہوتے تھے۔
لیکن وہ پھر بھی خوش نہیں تھا۔ وہ ہر روز سوچتا: “اور چاہیے۔ مجھے اور چاہیے۔”
اس نے اپنے وزیر سے کہا: “دنیا کا سب سے امیر آدمی کون ہے؟”
وزیر نے کہا: “بادشاہ سلامت! آپ ہی دنیا کے سب سے امیر آدمی ہیں۔”
بادشاہ نے کہا: “پھر میں خوش کیوں نہیں ہوں؟”
وزیر چپ رہا۔ اسے جواب نہیں معلوم تھا۔
ایک دن بادشاہ کے دربار میں ایک درویش آیا۔ اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ نہ سونا، نہ چاندی، نہ کپڑے۔ اس کے پاس صرف ایک ٹوٹی ہوئی چادر تھی اور ایک مٹی کا کٹورا۔
بادشاہ نے کہا: “تم بہت غریب ہو۔”
درویش نے کہا: “میں غریب نہیں ہوں۔ میں امیر ہوں۔”
بادشاہ ہنسا۔ “تمہارے پاس کیا ہے؟”
درویش نے کہا: “میرے پاس وہ ہے جو تمہارے پاس نہیں۔”
بادشاہ نے پوچھا: “کیا؟”
درویش نے کہا: “قناعت۔”
بادشاہ کو غصہ آیا۔ اس نے کہا: “میری سلطنت سے نکال دو اسے!”
درویش کو نکال دیا گیا۔ لیکن بادشاہ کی راتوں کی نیند اڑ گئی۔ وہ سوچتا رہا: “قناعت کیا چیز ہے؟ یہ درویش میرے سامنے امیر بن کر آیا۔ اس کے پاس کچھ نہیں تھا، پھر بھی وہ امیر تھا۔ میرے پاس سب کچھ ہے، پھر بھی میں غریب ہوں۔”
بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا: “قناعت کہاں ملتی ہے؟”
وزیر نے کہا: “بادشاہ سلامت! قناعت بازار میں نہیں ملتی۔ کسی دکان پر نہیں ملتی۔ وہ دل میں ملتی ہے۔”
بادشاہ نے کہا: “تو مجھے دل میں کیسے ملے؟”
وزیر نے کہا: “ایک راستہ ہے۔ ایک کہاوت ہے کہ جو آدمی کسی غریب کی قمیض پہن لے، اسے قناعت آ جاتی ہے۔”
بادشاہ نے پورے ملک میں اعلان کرا دیا: “جو غریب مجھے اپنی قمیض دے گا، اسے سونے سے تول کر انعام دوں گا۔”
غریب آدمی دوڑے چلے آئے۔ ہر غریب اپنی قمیض لے کر آیا۔ لیکن جب بادشاہ نے ان کی قمیضیں دیکھیں تو اس کا دل نہیں مانا۔ کسی کی قمیض بہت پرانی تھی، کسی کی بہت گندی، کسی کی پھٹی ہوئی۔
آخر ایک بوڑھا آیا۔ اس کے پاس قمیض نہیں تھی۔ وہ ننگا تھا۔
بادشاہ نے کہا: “تمہاری قمیض کہاں ہے؟”
بوڑھے نے کہا: “میرے پاس کبھی قمیض نہیں تھی۔”
بادشاہ نے کہا: “تو تم کیسے غریب ہو؟ غریب وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ تمہارے پاس کچھ نہیں۔”
بوڑھے نے کہا: “بادشاہ! غریب وہ نہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ غریب وہ ہے جو چاہے اور نہ پائے۔ میں کچھ نہیں چاہتا، اس لیے میں غریب نہیں ہوں۔”
بادشاہ نے کہا: “تم کیا چاہتے ہو؟”
بوڑھے نے کہا: “میں کچھ نہیں چاہتا۔ اسی لیے میرے پاس سب کچھ ہے۔”
بادشاہ نے پوچھا: “تم نے قناعت کیسے پائی؟”
بوڑھے نے کہا: “جب میں نے سیکھا کہ جو چیز میں چاہوں گا، وہ مجھ سے دور ہو جائے گی۔ اور جو چیز میں چھوڑ دوں گا، وہ میرے پاس آ جائے گی۔”
بادشاہ نے اپنا تاج اتار کر بوڑھے کے سامنے رکھ دیا۔ اس نے اپنی تلوار بھی رکھ دی، اپنے ہیرے بھی رکھ دیے، اپنا سونا بھی۔ اس نے کہا: “میں نے ساری زندگی چیزوں کو پکڑے رکھا۔ شاید اب چھوڑنا سیکھوں۔”
بوڑھے نے کہا: “بادشاہ! تم نے اپنی چیزوں کو چھوڑ دیا، لیکن تم نے اپنی لالچ نہیں چھوڑی۔ تم چھوڑ رہے ہو تاکہ کچھ پا سکو۔ یہ بھی لالچ ہے۔”
بادشاہ نے پوچھا: “پھر کیا کروں؟”
بوڑھے نے کہا: “کچھ مت کرو۔ بس دیکھو کہ تمہارے پاس جو ہے، وہ کسی کا نہیں ہے۔ یہاں تک کہ تم بھی اپنے نہیں ہو۔”
بادشاہ خاموش ہو گیا۔ وہ بہت دیر خاموش رہا۔ پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
بوڑھے نے کہا: “یہ قناعت ہے۔ جب تمہیں احساس ہو کہ کچھ بھی تمہارا نہیں ہے، تو تم کسی چیز کے لالچی نہیں رہتے۔”
بادشاہ نے کہا: “میں نے ساری زندگی جمع کیا۔ آج پہلی بار خالی ہوا تو مجھے سکون ملا۔”
اخلاقی سبق:
یہ کہانی لالچ اور قناعت کی ہے۔ بادشاہ کے پاس سب کچھ تھا، لیکن وہ خوش نہیں تھا کیونکہ وہ اور چاہتا تھا۔ درویش کے پاس کچھ نہیں تھا، لیکن وہ خوش تھا کیونکہ وہ کچھ نہیں چاہتا تھا۔
قناعت کا مطلب یہ نہیں کہ تمہارے پاس کچھ نہ ہو۔ قناعت کا مطلب یہ ہے کہ تم جو کچھ بھی ہو، اس میں خوش ہو۔ جو لالچی ہوتا ہے، اس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے، لیکن وہ غریب ہوتا ہے۔ جو قانع ہوتا ہے، اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا، لیکن وہ امیر ہوتا ہے۔
حوالہ:
یہ کہانی روسی لوک کہانیوں میں سے ہے اور اسے “The Greedy King” یا “The King and the Hermit” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ روسی لوک ادب میں ایسی کہانیاں بکثرت ملتی ہیں جہاں ایک امیر بادشاہ کسی غریب درویش یا کسان سے سکون اور خوشی کا راز سیکھتا ہے۔ یہ کہانی لیو ٹالسٹائی کی تحریروں سے بھی متاثر ہے، جنہوں نے روسی لوک کہانیوں کو جمع کیا اور ان پر کام کیا۔
