بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک بادشاہ تھا۔ اس کے پاس ساری دولت تھی، سارا لشکر تھا، ساری زمین تھی۔ لوگ اس کے سامنے جھکتے تھے، اس کے حکم پر چلتے تھے، اس کی تعریف کرتے تھے۔

لیکن وہ خوش نہیں تھا۔

وہ راتوں کو جاگتا، دن کو بے چین رہتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی دولت نہ چلی جائے، کہیں اس کا تخت نہ ٹوٹ جائے، کہیں اس کا لشکر نہ بھاگ جائے۔

ایک دن اس نے سنا کہ شہر کے باہر ایک درویش رہتا ہے۔ وہ درویش بہت غریب ہے، لیکن بہت خوش ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی آنکھوں میں سکون ہے، اس کے چہرے پر نور ہے، اس کے دل میں اطمینان ہے۔

بادشاہ نے سوچا: “یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بادشاہ ہوں، میرے پاس سب کچھ ہے، پھر میں خوش نہیں ہوں۔ یہ درویش کچھ نہیں رکھتا، پھر خوش کیسے ہے؟”

اس نے اپنے وزیر سے کہا: “اس درویش کو میرے پاس لاؤ۔”

وزیر نے درویش کو بلا کر لایا۔ درویش کے پاس کوئی خاص لباس نہیں تھا۔ اس کے کپڑے پرانے تھے، پیوند لگے ہوئے تھے۔ اس کے پاؤں میں جوتے نہیں تھے۔ اس کے ہاتھ میں ایک مٹی کا کٹورا تھا۔

لیکن اس کی آنکھیں… اس کی آنکھیں ایسی تھیں جیسے کسی نے اسے کبھی دکھ نہ دیا ہو۔ اس کا چہرہ ایسا تھا جیسے کسی نے اسے کبھی غم نہ دیا ہو۔

بادشاہ نے کہا: “میری بات سن۔ میں بادشاہ ہوں۔ میرے پاس سونا ہے، چاندی ہے، محل ہیں، باغ ہیں، لشکر ہے، خزانے ہیں۔ پھر بھی میں خوش نہیں ہوں۔ تو کچھ نہیں رکھتا، پھر خوش کیوں ہے؟”

درویش نے مسکرا کر کہا: “بادشاہ صاحب، تمہارے پاس سب کچھ ہے، لیکن تمہارے پاس وہ نہیں جو چاہیے۔ میرے پاس کچھ نہیں ہے، لیکن میرے پاس وہ ہے جو چاہیے۔”

بادشاہ نے پوچھا: “یہ کیا ہے؟”

درویش بولا: “تم جانتے ہو کہ درویش کیا ہے؟ درویش وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو، لیکن وہ کسی سے مانگے نہیں۔ بادشاہ وہ ہے جس کے پاس سب کچھ ہو، لیکن وہ ہر وقت مانگتا رہے۔”

بادشاہ نے کہا: “میں کیا مانگتا ہوں؟ میرے پاس تو سب کچھ ہے۔”

درویش نے کہا: “تم دولت مانگتے ہو۔ تمہیں دولت مل گئی، اب تم امن مانگتے ہو۔ تمہیں امن مل گیا، اب تم عزت مانگتے ہو۔ تمہیں عزت مل گئی، اب تم شہرت مانگتے ہو۔ تمہیں شہرت مل گئی، اب تم اور مانگتے ہو۔ تم ہر وقت مانگتے رہتے ہو۔ تمہارا مانگنا کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اسی لیے تم خوش نہیں ہو۔”

بادشاہ نے غور کیا۔ پھر بولا: “تو پھر خوشی کہاں ہے؟”

درویش نے اپنا مٹی کا کٹورا اٹھایا۔ “یہ دیکھو۔ میرے پاس یہ ایک کٹورا ہے۔ میں اس میں پانی پیتا ہوں، اس میں کھانا کھاتا ہوں، اس سے وضو کرتا ہوں۔ یہی سب کچھ ہے۔ لیکن میں نے اس کٹورے کو کبھی اپنا مال نہیں سمجھا۔ میں جانتا ہوں کہ یہ کٹورا ایک دن ٹوٹ جائے گا۔ میں اسے کھو دوں گا تو کوئی غم نہیں ہوگا۔”

بادشاہ نے کہا: “تو کہتا ہے کہ میں اپنا تخت بھی ایسے ہی سمجھوں؟”

درویش ہنس دیا۔ “بادشاہ صاحب، تم اپنا تخت ایسے نہیں سمجھ سکتے۔ کیونکہ تم نے تخت کو اپنی جان بنا لیا ہے۔ اگر تخت چلا گیا تو تمہاری جان چلی جائے گی۔ اسی لیے تم ڈرتے ہو۔ اسی لیے تم خوش نہیں ہو۔”

بادشاہ خاموش رہا۔

درویش نے کہا: “میری بات سنو۔ ایک بار ایک دریا کے کنارے دو پیاسے آدمی پہنچے۔ پہلے کے پاس سونے کا گلاس تھا۔ اس نے دریا سے پانی بھرا اور پینے لگا۔ لیکن اسے پانی کا مزہ نہیں آیا۔ وہ سوچتا رہا: کہیں یہ گلاس چوری نہ ہو جائے، کہیں یہ ٹوٹ نہ جائے، کہیں کوئی چھین نہ لے۔ دوسرے کے پاس مٹی کا کٹورا تھا۔ اس نے پانی بھرا اور پی لیا۔ اسے پانی کا مزہ آیا۔ اس نے پیا اور کٹورا رکھ دیا۔

بادشاہ صاحب، تم وہ پہلے آدمی ہو۔ سونے کا گلاس تمہاری دولت ہے۔ تمہیں پانی کا مزہ نہیں آ رہا۔ تم صرف گلاس کی فکر میں ہو۔”

بادشاہ نے پوچھا: “پھر کیا کروں؟”

درویش نے کہا: “یہ نہ سوچو کہ دولت چھوڑ دو۔ یہ بھی ایک جنون ہے۔ تم دولت چھوڑو گے تو تمہیں دولت چھوڑنے کا غم ہوگا۔ پھر بھی خوش نہیں ہو گے۔”

“پھر؟”

“یہ سوچو کہ دولت تمہارے پاس ہے، تم دولت کے پاس نہیں ہو۔ تم دولت کے مالک ہو، دولت تمہاری مالک نہیں ہے۔ تم دولت کو استعمال کرو، دولت تمہیں استعمال نہ کرے۔”

بادشاہ نے کہا: “یہ کیسے ہوگا؟”

درویش نے کہا: “جب تم سمجھو گے کہ یہ سب کچھ ایک دن رہ جائے گا، تب تمہارا دل ہلکا ہو جائے گا۔ جب تم جانتے ہو کہ کل کچھ نہیں رہے گا، تو آج کیوں ڈرو؟ جب تم جانتے ہو کہ سب کچھ عارضی ہے، تو عارضی چیز کے لیے ابدی سکون کیوں چھوڑو؟”

بادشاہ نے اپنا تاج اتار کر رکھ دیا۔ اس نے کہا: “آج میں نے سیکھا کہ بادشاہ وہ نہیں جس کے پاس تاج ہو۔ بادشاہ وہ ہے جس کے دل میں تاج ہو۔”

درویش نے کہا: “نہیں۔ بادشاہ وہ نہیں جس کے دل میں تاج ہو۔ بادشاہ وہ ہے جسے تاج کی پروا نہ ہو۔”

بادشاہ نے درویش کو سلام کیا۔ درویش اپنے مٹی کے کٹورے کے ساتھ واپس چلا گیا۔

کہتے ہیں کہ اس دن کے بعد بادشاہ بہت بدل گیا۔ اس کے پاس وہی تخت تھا، وہی تاج تھا، وہی دولت تھی۔ لیکن اس کا دل بدل گیا تھا۔ وہ رات کو سونے لگا، دن کو خوش رہنے لگا۔

لوگوں نے پوچھا: “بادشاہ صاحب، آپ کیوں بدل گئے؟”

بادشاہ نے کہا: “میں بدلا نہیں ہوں۔ بس میں نے سیکھ لیا ہے کہ بادشاہ ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ بڑی بات ہے کہ انسان ہونا۔ اور انسان وہ ہے جس کے پاس کچھ ہو یا نہ ہو، اس کا دل سکون میں ہو۔”

سبق

یہ کہانی دولت اور غربت کی نہیں ہے۔ یہ دل کی آزادی اور قید کی کہانی ہے۔ دولت میں بھی آدمی قید ہو سکتا ہے، غربت میں بھی آدمی آزاد ہو سکتا ہے۔ اصل چیز یہ نہیں کہ تمہارے پاس کیا ہے، اصل چیز یہ ہے کہ تمہارے پاس جو ہے، وہ تمہارے پاس ہے یا تم اس کے پاس ہو۔

اخلاقی سبق: حقیقی خوشی دولت میں نہیں، دل کی آزادی میں ہے۔ جو مانگنا چھوڑ دے، اسی کو سب کچھ مل جاتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner