ایک بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ جاپان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا استاد رہتا تھا۔ اس نے ساری زندگی لوگوں کو راستہ دکھایا تھا، لوگوں کو سچ سکھایا تھا، لوگوں کو خود کو پہچاننے کا فن سکھایا تھا۔ اس کے شاگرد دور دور سے آتے تھے، اس کے پاس بیٹھتے تھے، اس کی باتیں سنتے تھے، اور اپنی زندگی بدل لیتے تھے۔
لیکن استاد اب بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔ اس کے بال سفید ہو گئے تھے، اس کی پیٹھ جھک گئی تھی، اس کی آنکھیں دھندلی ہو گئی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی موت قریب ہے۔
ایک دن اس نے اپنے شاگردوں کو بلایا۔ بہت سے شاگرد تھے کچھ بوڑھے تھے، کچھ جوان تھے، کچھ نئے آئے تھے، کچھ پرانے تھے۔ سب استاد کے سامنے بیٹھ گئے۔
استاد نے کہا: “میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ نہ سونا ہے، نہ چاندی ہے، نہ کتابیں ہیں۔ لیکن میرے پاس ایک آخری سوال ہے۔ جو اس کا جواب دے گا، وہی میرا حقیقی وارث ہو گا۔”
شاگرد خاموش ہو گئے۔
استاد نے سوال پوچھا: “وہ کون ہے جو صبح چار ٹانگوں پر چلتا ہے، دوپہر دو ٹانگوں پر چلتا ہے، اور شام تین ٹانگوں پر چلتا ہے؟”
شاگرد سوچنے لگے۔
پہلا شاگرد اٹھا۔ وہ بہت بوڑھا تھا، اس نے ساری عمر استاد کے ساتھ گزاری تھی۔ اس نے کہا: “استاد! میں جانتا ہوں۔ صبح بچپن ہے بچہ چار ٹانگوں پر رینگتا ہے۔ دوپہر جوانی ہے — جوان دو ٹانگوں پر چلتا ہے۔ شام بڑھاپا ہے — بوڑھا لاٹھی کے سہارے تین ٹانگوں پر چلتا ہے۔ یہ جواب ہے انسان۔”
استاد مسکرایا۔ اس نے کہا: “تم نے صحیح کہا۔ لیکن یہ وہ جواب نہیں جو میں چاہتا ہوں۔”
شاگرد حیران ہوا۔ “پھر کیا جواب ہے؟”
استاد نے کہا: “تم نے کتابوں میں پڑھا تھا۔ یہ وہی جواب ہے جو ہر کوئی دیتا ہے۔ میں اصلی جواب چاہتا ہوں۔”
وہ بیٹھ گیا۔
دوسرا شاگرد اٹھا۔ وہ جوان تھا، ابھی ابھی آیا تھا۔ اس نے کہا: “استاد! میں جانتا ہوں۔ یہ وہ انسان ہے جو خود کو پہچان لے۔ صبح وہ بھولا ہوتا ہے، چار ٹانگوں پر بھٹکتا ہے۔ دوپہر وہ جاگتا ہے، دو ٹانگوں پر چلتا ہے۔ شام وہ سمجھ جاتا ہے، لاٹھی کی ضرورت نہیں ہوتی — تیسری ٹانگ اس کا علم ہوتا ہے۔”
استاد نے کہا: “تم نے بھی اچھا کہا۔ لیکن یہ بھی وہ جواب نہیں۔”
تیسرا شاگرد اٹھا۔ وہ درمیانی عمر کا تھا، بہت پڑھا لکھا تھا۔ اس نے کہا: “استاد! یہ وہ روح ہے جو زندگی کے تین مراحل سے گزرتی ہے۔ صبح وہ جسم میں آتی ہے — چار ٹانگوں پر (بچپن)۔ دوپہر وہ جوان ہوتی ہے — دو ٹانگوں پر۔ شام وہ بڑھاپے میں لاٹھی تھام لیتی ہے — تین ٹانگوں پر۔ لیکن جب وہ جسم چھوڑتی ہے تو وہ پھر سے اڑ جاتی ہے — بغیر ٹانگوں کے۔”
استاد خاموش رہا۔ پھر بولا: “تم نے بہت گہرا کہا۔ لیکن یہ بھی وہ جواب نہیں۔”
سب شاگرد پریشان ہو گئے۔ انہوں نے کہا: “استاد! پھر جواب کیا ہے؟”
استاد نے کہا: “تم سب نے وہی جواب دیا جو تم نے سیکھا تھا۔ تم نے کتابوں میں پڑھا تھا، اپنے استادوں سے سنا تھا، اپنے دل میں بٹھا لیا تھا۔ لیکن تم نے خود نہیں سوچا۔
میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں۔
ایک بار ایک بادشاہ تھا۔ اس نے اپنے درباریوں سے وہی سوال پوچھا جو میں نے تم سے پوچھا۔ درباریوں نے ویسا ہی جواب دیا جیسا تم نے دیا — ‘انسان’۔ بادشاہ نے کہا: ‘یہ تو مجھے بھی معلوم ہے۔ مجھے کوئی ایسی بات بتاؤ جو میں نہیں جانتا۔’
درباری خاموش ہو گئے۔
تب ایک بوڑھی عورت جو محل کے باہر پھول بیچتی تھی، اندر آئی۔ اس نے کہا: ‘بادشاہ! میں جواب جانتی ہوں۔’
بادشاہ نے کہا: ‘بتاؤ۔’
عورت نے کہا: ‘وہ جو صبح چار ٹانگوں پر چلتا ہے، دوپہر دو ٹانگوں پر، شام تین ٹانگوں پر — وہ کوئی اور نہیں، تم ہو۔ اور میں ہوں۔ اور ہر وہ شخص ہے جو اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہا ہے۔’
بادشاہ نے کہا: ‘یہ تو وہی بات ہے جو درباریوں نے کہی تھی۔’
عورت نے کہا: ‘نہیں۔ انہوں نے کہا تھا — “انسان”۔ میں کہہ رہی ہوں — “تم”۔ فرق ہے۔ ان کا جواب کتابوں میں تھا۔ میرا جواب زندگی میں ہے۔ ان کا جواب سب کو پتہ تھا۔ میرا جواب صرف تمہیں پتہ ہو سکتا ہے۔”
استاد نے اپنی لاٹھی اٹھائی۔ وہ کانپ رہا تھا، اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔
اس نے کہا: “دیکھو۔ میں اب شام میں ہوں۔ میری تیسری ٹانگ یہ لاٹھی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ لاٹھی کبھی میری نہیں تھی میں نے اسے جنگل سے اٹھایا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ یہ لاٹھی ایک دن ٹوٹ جائے گی۔ میں جانتا ہوں کہ میں بھی ایک دن ٹوٹ جاؤں گا۔
لیکن تم — تم ابھی دوپہر میں ہو۔ تمہیں لاٹھی کی ضرورت نہیں۔ تمہیں کتابوں کی ضرورت ہے؟ شاید۔ لیکن تمہیں سب سے زیادہ ضرورت ہے — اپنے آپ کو دیکھنے کی۔”
اس نے اپنی لاٹھی زمین پر رکھ دی۔
“اب جاؤ۔ اپنی کہانی ڈھونڈو۔”
شاگرد اٹھے۔ انہوں نے استاد کو سلام کیا۔ وہ چلے گئے۔
کہا جاتا ہے کہ اس دن کے بعد کسی نے استاد کو پھر کبھی نہیں دیکھا۔ وہ جنگل میں چلا گیا اور وہیں رہا۔ کچھ کہتے ہیں کہ وہ مر گیا، کچھ کہتے ہیں کہ وہ درخت بن گیا، کچھ کہتے ہیں کہ وہ ہوا میں گم ہو گیا۔
لیکن جو شاگرد واقعی سمجھدار تھے، انہوں نے استاد کی بات مانی۔ وہ اپنی کہانیاں ڈھونڈنے نکل گئے۔
کچھ کو ملیں، کچھ کو نہیں ملیں۔ لیکن جو ملی، انہوں نے سمجھ لیا کہ استاد کا آخری سوال اصل میں سوال نہیں تھا — وہ ایک دروازہ تھا۔ اور ہر شخص کو اپنا دروازہ خود کھولنا ہوتا ہے۔
اخلاقی سبق:
یہ کہانی ہمیں تین بڑے سبق دیتی ہے:
1. جو تم نے سیکھا، وہ تمہارا نہیں ہے — تم نے کتابوں میں پڑھا، استادوں سے سنا، لیکن جب تک تم خود اسے نہ جیو گے، وہ تمہارا نہیں ہو گا۔
2. جواب جاننا علم نہیں ہے، جواب کو جینا علم ہے — استاد نے کہا: “تم جانتے ہو، لیکن تم نہیں جانتے کہ تم جانتے ہو۔”
3. ہر شخص کو اپنی کہانی خود ڈھونڈنی ہوتی ہے — کوئی تمہارے لیے راستہ نہیں بنا سکتا۔ وہ صرف دروازہ دکھا سکتا ہے، تمہیں خود کھولنا ہے۔
حوالہ:
یہ کہانی جاپانی زین روایت کی مشہور کہانیوں میں سے ہے۔ یہ “سفنکس کا معمہ” (Oedipus Rex) کی یونانی کہانی سے بھی ملتی ہے، لیکن جاپانی روایت میں اسے خود شناسی (Self-Knowledge) کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
زین کہانیوں میں استاد اکثر شاگردوں کو ایسے سوال پوچھتے ہیں جن کا جواب کتابوں میں نہیں ہوتا — تاکہ شاگرد خود سوچنے پر مجبور ہو جائیں۔ یہ کہانی اسی روایت کا حصہ ہے۔
