Tag Archives: urdupoetry

ایک نوجوان تھا۔ اس کا نام یوسف تھا۔ وہ بہت ذہین تھا، بہت ہوشیار تھا۔ لوگ اس کی عقل کی تعریف کرتے تھے، اس کی چالاکی کی داد دیتے تھے۔ وہ ہر مسئلہ حل کر لیتا، ہر مشکل سے نکل جاتا، ہر جگہ کامیاب ہو جاتا۔ لیکن وہ خوش نہیں تھا۔ وہ رات کو جاگتا، دن کو بے چین رہتا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، لیکن اس کے دل میں خلاء تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، لیکن اس کی روح میں اندھیرا تھا۔ ایک دن وہ شہر سے باہر جنگل میں چلا گیا۔ وہاں ایک بوڑھا درویش رہتا تھا۔ یوسف اس کے پاس بیٹھ گیا اور بولا: “مجھے سکون چاہیے۔ میں نے سب کچھ پا لیا، لیکن مجھے کچھ نہیں ملا۔” درویش نے کہا: “بیٹا! تیرے دماغ میں کون سی آواز ہے جو تجھے سکون نہیں لینے دیتی؟” یوسف نے کہا: “آواز؟ کون سی آواز؟” درویش نے…

Read more

یہ کہانی ایک گہرے سبق پر مبنی ہے کہ دوسروں کی نقل کرنا ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا، کیونکہ ہر جاندار کی ساخت اور ضرورت مختلف ہے۔دوسروں کی زندگی کی نقل کرنا چھوڑ دو، تمہاری زندگی کا نقشہ مختلف بنایا گیا ہےسوانا (افریقہ کے گھاس کے میدانوں) میں ایک لکڑبگھا رہتا تھا جو صبح سے شام تک جدوجہد کرتا رہتا۔ اس کی پسلیاں نکلی ہوئی تھیں اور آنکھوں میں ایسی تھکن چھائی تھی جسے نیند کبھی دور نہیں کر پاتی تھی۔ وہ جتنی بھی سخت دوڑ لگاتا، جتنا بھی دور نکل جاتا، اس کے پیٹ میں کچھ بھی اتنی دیر نہ ٹکتا کہ اسے سکون مل پائے۔ایک تپتی دوپہر، وہ رک گیا۔گھاس کے اس پار ایک بکری کھڑی تھی: پرسکون، شکم سیر، اور تپش، بھوک یا دنیا کی اس بے ہنگم بھاگ دوڑ سے بے نیاز۔ لکڑبگھے نے ایک طویل لمحے تک اسے دیکھا اور پھر اس کے قریب گیا۔“اے…

Read more

جنگل میں آئے دن جھگڑے اور فسادات ہوتے رہتے تھے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر خون بہہ جاتا، اور ہر طرف خوف، نفرت اور بدنظمی کا راج تھا۔ چند امن پسند، سمجھدار اور سچے دل کے جانور آخرکار شیر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ وہ گڑگڑاتے ہوئے بولے: حضور! کچھ کیجیے۔ اس ریاست میں ہمارا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی جان سے جاتا ہے۔ ظلم، ناانصافی اور نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔” شیر نے انہیں انصاف کا یقین دلایا، تسلی دی اور دربار برخاست کر دیا۔ اجلاس کے بعد شیر نے اپنی وزیرِاعظم لومڑی کو بلایا اور پوچھا:“یہ سب لڑائی جھگڑوں اور بدنظمی کی اصل وجہ کیا ہے؟” لومڑی نے بڑے اعتماد سے جواب دیا:جنابِ والا! رعایا میں شعور کی شدید کمی ہے۔ وہ نہ اپنے حقوق کو پہچانتی ہے اور نہ اپنے فرائض کو سمجھتی ہے۔ انہیں بات کی گہرائی میں جانے کی عادت بھی نہیں۔”…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی  شہزادی، بہت خوبصورت، بہت نرم مزاج۔ بادشاہ اس سے بے حد محبت کرتا تھا۔ وہ اس کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا۔ ایک دن شہزادی بیمار ہو گئی۔ بخار تھا، کمزوری تھی، وہ بستر سے اٹھ نہیں پا رہی تھی۔ بادشاہ نے ملک کے سب ڈاکٹر بلوائے۔ ہر ڈاکٹر نے کچھ نہ کچھ دوا دی، کوئی فائدہ نہ ہوا۔ شہزادی کا بخار نہیں اتر رہا تھا۔ بادشاہ پریشان تھا۔ اس نے کہا: “جو میرے بیٹی کا علاج کر دے گا، اسے آدھی سلطنت دوں گا۔” دور دراز سے حکیم آئے، جادوگر آئے، پیر آئے۔ سب نے کچھ نہ کچھ کیا، لیکن شہزادی کی طبیعت بگڑتی جا رہی تھی۔ آخر ایک بوڑھی عورت آئی۔ اس نے کہا: “بادشاہ! تمہاری بیٹی کی بیماری کا علاج صرف ایک چیز ہے  کوئی ایسا شخص جو اس سے سچی محبت کرتا ہو، اس کے لیے اپنی…

Read more

ایک وسیع و عریض سلطنت میں، لوگ ہر چند سال بعد ایک قدیم درخت کے نیچے جمع ہوتے تھے جسے “صداؤں کا درخت” کہا جاتا تھا۔ وہاں وہ اپنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے تھے جو “قیادت کا تاج” پہنے۔ لیکن وہ تاج کوئی عام زیور نہ تھا—وہ لوگوں کی امیدوں، پسینے اور قربانیوں سے چمکتا تھا۔ ہر شخص ایک حقیقت جانتا تھا: یہ تاج کبھی کسی کی ملکیت نہیں ہوتا، بلکہ صرف ادھار دیا جاتا ہے۔جب کسی رہنما کا انتخاب ہوتا، تو بزرگ کہتے: “اسے ہلکا محسوس کرتے ہوئے پہننا، کیونکہ یہ بہت سے لوگوں کی مرضی پر ٹکا ہوا ہے۔”شروع میں، ہر نیا حکمران عاجزی سے چلتا۔ وہ کسانوں، تاجروں، اساتذہ اور بچوں کی بات سنتے۔ وہ احتیاط سے حکومت کرتے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ ناکام ہوئے تو تاج واپس لیا جا سکتا ہے۔لیکن وقت دلوں کو بدلنے کا ہنر جانتا تھا۔ایک حکمران،…

Read more

ایک غریب کسان تھا۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا کھیت تھا، ایک بوڑھی گائے تھی، اور ایک جھونپڑی تھی۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں بہت غریب تھے، لیکن ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔ ایک دن کسان کھیت میں کام کر رہا تھا۔ شام ہو رہی تھی، وہ تھک کر واپس جا رہا تھا کہ اس نے راستے میں ایک عجیب سا درخت دیکھا۔ درخت چمک رہا تھا، اس کی شاخوں پر روشنی تھی۔ وہ قریب گیا تو درخت سے ایک آواز آئی: “کسان! میں جادوئی درخت ہوں۔ آج تم نے مجھے دیکھ لیا ہے، اس لیے تمہیں تین خواہشیں پوری کرنے کا حق ملے گا۔” کسان حیران رہ گیا۔ اس نے سوچا: “تین خواہشیں! کتنی بڑی بات ہے!” وہ دوڑتا ہوا گھر گیا اور بیوی کو ساری بات بتائی۔ بیوی بھی بہت خوش ہوئی۔ کسان نے کہا: “سوچو، ہم کیا مانگیں؟ دولت؟ محل؟ زمینیں؟”…

Read more

ایک پتھر کا تراشہ تھا۔ وہ پہاڑ سے پتھر کاٹتا تھا، بڑے بڑے بلاک بناتا تھا، اور ان سے لوگوں کے گھر بناتا تھا۔ وہ اپنے کام سے مطمئن تھا۔ صبح اٹھتا، پہاڑ پر جاتا، پتھر کاٹتا، شام کو گھر آتا۔ اسے اپنے ہاتھوں کی طاقت پر بھروسہ تھا، اپنی محنت پر فخر تھا۔ ایک دن وہ کسی امیر آدمی کے گھر پتھر لگا رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ امیر آدمی بڑے آرام سے بیٹھا ہے، اس کے پاس نوکر ہیں، کھانا ہے، پینا ہے، اسے کسی محنت کی ضرورت نہیں ہے۔ پتھر کے تراشے نے سوچا: “کتنا اچھا ہوتا اگر میں بھی امیر ہوتا۔ مجھے بھی کوئی کام نہ کرنا پڑتا۔” اسی وقت ایک فرشتہ آسمان سے اترا۔ اس نے کہا: “تمہاری خواہش سن لی گئی۔ اب تم امیر ہو۔” اور پتھر کا تراشہ امیر بن گیا۔ اس کے پاس دولت تھی، محل تھا، نوکر تھے، باغ تھے۔…

Read more

ہر چمکتی چیز اٹھانا محفوظ نہیں ہوتاایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو خچر ایک ہی تنگ راستے پر سفر کر رہے تھے۔پہلے خچر پر سونے کے سکوں کے بھاری تھیلے لدے ہوئے تھے۔ اسے اپنے اس بوجھ پر بڑا فخر تھا۔ وہ اپنا سر اونچا کر کے چل رہا تھا اور جان بوجھ کر سکوں کو آپس میں ٹکراتا تاکہ ان کی جھنکار سنائی دے۔ اس کا ہر قدم گویا یہ کہہ رہا تھا، “مجھے دیکھو، دیکھو میں کتنا اہم ہوں۔”دوسرے خچر کے پاس اناج کے عام سے تھیلے تھے۔ وہ خاموشی سے پیچھے پیچھے چل رہا تھا، پُرسکون اور ہر نظر سے اوجھل۔ نہ کوئی شور، نہ کوئی دکھاوا، اور نہ ہی کسی کو متاثر کرنے کی ضرورت۔اچانک جھاڑیوں سے ڈاکوؤں کا ایک گروہ نکل آیا۔انہیں اناج میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کی نظریں سیدھی سونے والے خچر پر گئیں۔ انہوں نے اسے گھیر لیا، اسے بے…

Read more

کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ براہِ راست نہر سے پانی پینے پر مجبور تھے۔بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام کی سہولت کے لیے یہاں ایک بھرا ہوا گھڑا رکھ دیا جائے، تاکہ ہر خاص و عام باآسانی پانی پی سکے۔ یہ فرمان صادر کرنے کے بعد بادشاہ اپنے طویل سفر پر آگے بڑھ گیا۔جب شاہی حکم کی تعمیل میں نہر کے کنارے ایک گھڑا لا کر رکھا جانے لگا، تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا، “چونکہ یہ گھڑا سرکاری خزانے سے خریدا گیا ہے اور شاہی فرمان پر نصب ہو رہا ہے، اس لیے اس کی حفاظت کے لیے ایک سنتری کی تعیناتی ازحد ضروری ہے۔”سنتری کی تعیناتی کے بعد یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ گھڑا بھرنے کے لیے ایک ماشکی کا ہونا بھی لازم ہے۔ پھر یہ دلیل دی گئی کہ ہفتے کے…

Read more

مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر اپنی کتاب تزک بابری میں لکھتے ہیں کہ دریائے سوات کے قریب ہم نے یوسفزئی اور محمد زئی قبائل پر حملہ کیا.اس جگہ تیس چالیس سال پہلے شہباز نامی ملحد نے یہاں کے بہت سے لوگوں کو الحاد کے دام میں پھنسا دیا تھا اس ملحد کی قبر اسی جگہ پہاڑ کی چوٹی پر تھی.میں نے حکم دیا کہ اس ملحد کی قبر کو ڈھا دیا جائے یہاں سے دریائے سندھ کے قریب بھیرہ نامی جگہ پر حملہ کیا گیا.دریائے نیلاب کے دوسری طرف آباد لوگوں نے حاضری دی اور گھوڑے اور تین سو شاہ رخیاں نزر کیں. یہاں سے کچھ کوٹ نامی جگہ پہنچے دریائے کچھ کوٹ کو عبور کیا اور سنکدا پہنچ گئے.یہ راستہ بہت کٹھن تھا اور ہم کوہ جودا نامی پہاڑ پر پہنچے یہاں دو قومیں بستی ہیں جودہ اور جنجوعہ.جنجوعہ قوم یہاں کی حکمران ہے.یہاں کا ہر خاندان ہر…

Read more

یاجوج و ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں۔ یہ انسانی نسل کے دو بڑے وحشی قبیلے گزر چکے ہیں جو اپنے اِرد گرد رہنے والوں پر بہت ظلم اور زیادتیاں کرتے اور انسانی بستیاں تک تاراج کر دیتے تھے۔ قرآن مجید کی آیات، توریت کے مطالب اور تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ شمال مشرقی ایشیا میں زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے وحشیانہ حملوں کے نتیجہ میں ایشیا کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں مصیبت برپا کرتے تھے۔ بعض تاریخ دانوں نے ان کے رہائشی علاقے کو ماسکو اور توبل سیک کے آس پاس بتلایا ہے اور بعض کا خیال ہے کہ یاجوج و ماجوج کے شہر تبت اور چین سے بحرمنجمد شمالی تک اور مغرب میں ترکستان تک پھیلے ہوئے تھے۔ حضرت ذوالقرنین کے زمانے میں یاجوج و ماجوج کے حملے وبال جان بن گئے تھے، ان…

Read more

کعب بن اشرف یہودیوں میں یہ وہ شخص تھا جسے اسلام اور اہل اسلام سے نہایت سخت عداوت اور جلن تھی۔یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیتیں پہنچایا کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کی کھلم کھلا دعوت دیتا پھرتا تھا۔اس کا تعلق قبیلہ کی شاخ بنو نبھان سے تھا اور اس کی ماں قبیلہ بنی نضیر سے تھی یہ بڑا مالدار اور سرمایہ دار تھا عرب میں اس کے حسن و جمال کا شہرہ تھا اور یہ ایک معروف شاعر بھی تھا اس کا قلعہ مدینے کے جنوب میں بنونضیر کی آبادی کے پیچے واقع تھا۔اسے جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح اور سرداران قریش کے قتل کی پہلی خبر ملی تو بے ساختہ بول اٹھا: “کیا واقعتہ”ایسا ہوا ہے؟ یہ عرب کے اشراف اور لوگوں کے بادشاہ تھے اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مار لیا ہے تو زمین…

Read more

ایک کسان کی بیوی فوت ہو چکی تھی اور اس کا ایک چھوٹا بیٹا تھا۔ کسان نے ایک کتا بھی پال رکھا تھا جو اس قدر وفادار تھا کہ کسان جب بھی کھیتوں میں کام کرنے جاتا، تو اپنے معصوم بچے کو اسی کی نگرانی میں چھوڑ جاتا۔ایک دن ایک نہایت المناک واقعہ پیش آیا۔ حسبِ معمول کسان اپنے بچے کو اس وفادار کتے کے پاس چھوڑ کر اپنے کام پر چلا گیا۔جب وہ واپس لوٹا تو اندر کا ہولناک منظر دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔ بچہ اپنے پالنے میں موجود نہیں تھا، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور پورے کمرے میں ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا۔ خوف اور صدمے کے مارے کسان نے بدحواسی میں اپنے بچے کو ادھر ادھر تلاش کرنا شروع کر دیا۔اچانک اس کی نظر چارپائی کے نیچے سے نکلتے ہوئے اپنے کتے پر پڑی، جو خون میں لت پت تھا اور…

Read more

ہندوستان کا عیاش، شرابی اور زانی بادشاہ محمد شاہ رنگیلا!یہ وہ مغل بادشاہ تھا جس کی رنگینیوں اور بداعمالیوں نے نہ صرف اس کی شخصیت بلکہ پوری سلطنت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ یہ بادشاہ، جو شاہ جہاں ثانی کے بیٹے اور روشن اختر ناصر الدین شاہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1719 سے 1748 تک تقریباً 29 سال حکومت کرتا رہا۔ مگر اس کی حکمرانی نظم و ضبط، انصاف اور سنجیدگی کے بجائے عیش و عشرت، شراب نوشی اور بے حیائی سے بھرپور تھی۔ محمد شاہ رنگیلا مغلوں کے ان 19 بادشاہوں میں سے ایک تھا جس کی بری عادات اور کمزور حکمرانی نے سلطنت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ اس کی رنگینیوں، ناچ گانے، عریانیت اور شراب نوشی نے ریاستی نظام کو تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں سیاسی اور معاشی بحران پیدا ہوئے اور سلطنت زوال کی طرف بڑھتی چلی گئی۔…

Read more

مصر کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک غریب لوہار رہتا تھا۔ اس کا نام یوسف تھا۔ وہ دن بھر بھٹی کے سامنے پسینہ بہاتا، لوہا پیٹتا اور بمشکل اپنے گھر کا خرچ چلاتا۔ مگر وقت بدل گیا۔ شہر میں کام کم ہونے لگا، لوگ نئے ہنر سیکھنے لگے، اور یوسف کا کام تقریباً ختم ہو گیا۔ کئی کئی دن ایسے گزرتے کہ اس کے گھر میں چولہا بھی نہ جلتا۔ایک دن وہ انتہائی پریشان ہو کر بیٹھا تھا کہ اس کے ذہن میں ایک عجیب خیال آیا۔ اس نے سوچا، “لوگ بیماریوں سے بہت پریشان رہتے ہیں، کیوں نہ میں حکمت سیکھ کر دواخانہ کھول لوں؟” حالانکہ اسے حکمت کا کوئی تجربہ نہ تھا، مگر حالات نے اسے مجبور کر دیا تھا۔اگلے ہی دن اس نے ایک چھوٹا سا کمرہ کرائے پر لیا اور اس پر لکھ دیا:“حکیم یوسف — ہر بیماری کا علاج”شروع میں لوگ ہچکچاتے رہے، مگر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سانپ نے ایک جگنو کا پیچھا کرنا شروع کر دیا جو گھاس کے اوپر نیچی پرواز کر رہا تھا۔کچھ دیر بعد، تھکے ہوئے جگنو نے رک کر سانپ سے کہا:“کیا میں آپ سے تین سوال پوچھ سکتا ہوں؟”سانپ نے جواب دیا: “ہاں، پوچھ سکتے ہو۔”جگنو نے پہلا سوال کیا:“کیا میں آپ کی خوراک کا حصہ ہوں (یعنی کیا آپ مجھے اپنی غذا کے لیے کھاتے ہیں)؟”سانپ نے جواب دیا: “نہیں۔”جگنو نے دوسرا سوال کیا:“کیا میں نے کبھی آپ کو کوئی نقصان پہنچایا ہے؟”سانپ نے کہا: “نہیں۔”جگنو نے تیسرا سوال کیا:“پھر آپ مجھے کیوں کھانا چاہتے ہیں؟”سانپ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا:“کیونکہ میں تمہاری روشنی برداشت نہیں کر سکتا۔”کہانی کا سبق:کبھی کبھی آپ کی روشنی—آپ کی خوشی، آپ کا سکون، آپ کی کامیابی، یا آپ کی فطری خوبصورتی—دوسروں کے لیے چڑ کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیے نہیں کہ آپ نے…

Read more

جو چیز شروع میں ایک نعمت لگتی ہے، وہ خاموشی سے آپ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ✨ایک پرانی لکڑی کی میز پر شہد کا جار اتفاقاً الٹ گیا، جس کی چمکتی ہوئی رنگت اور دلکش خوشبو نے فضا کو بھر دیا۔ مکھیوں کے ایک غول نے فوراً اس مٹھاس کو بھانپ لیا اور اس کی طرف لپکیں۔ شروع میں وہ کنارے پر رہیں اور تھوڑا سا چکھا۔ ذائقہ اتنا لاجواب تھا کہ وہ بار بار مزید کے لیے واپس آتی رہیں۔رفتہ رفتہ، وہ ایک اور گھونٹ کی چاہ میں اس چپکنے والے شہد کے بیچوں بیچ پہنچ گئیں۔لیکن جب وہ بہت زیادہ آگے بڑھ گئیں، تو ان کی ننھی ٹانگیں اب آزاد نہیں رہی تھیں۔ وہ گاڑھے شہد میں دھنس چکی تھیں۔ جب انہیں خطرے کا احساس ہوا اور انہوں نے اڑنے کی کوشش کی، تو ان کے پر شہد سے بھر کر بھاری ہو…

Read more

ایک حیرت انگیز تاریخی واقعہ، تابعی عالم عثمان بن عطاء الخراسانی بیان کرتے ہیں:“میں اپنے والد کے ساتھ خلیفہ ہشام بن عبد الملک سے ملنے کے لیے جا رہا تھا۔ جب ہم دمشق کے قریب پہنچے تو ہم نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو ایک سیاہ گدھے پر سوار تھا۔ اس کے جسم پر موٹا اور کھردرا قمیص تھا، ایک پرانی سی چادر تھی، سر پر سادہ سی ٹوپی چپکی ہوئی تھی اور رکابیں لکڑی کی تھیں۔میں اسے دیکھ کر ہنس پڑا اور اپنے والد سے پوچھا:‘یہ کون ہے؟’میرے والد نے فوراً مجھے خاموش کرایا اور کہا:‘چپ رہو! یہ حجاز کے سب سے بڑے فقیہ اور عالم عطاء بن ابی رباح ہیں۔’جب وہ ہمارے قریب آئے تو میرے والد اپنی خچر سے اتر گئے اور عطاء بن ابی رباح بھی اپنے گدھے سے اترے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا، خیریت دریافت کی، پھر اپنی سواریوں پر سوار…

Read more

اس کذاب کا تعلق یمن سے تھا۔ یہ خاتم الانبیاء سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کی حیات مبارکہ میں دعویٰ نبوت کرنے والا پہلا شخص تھا۔ اسود عنسی شعبدہ بازی اور کہانت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا چونکہ اس زمانے میں یہ دو چیزیں کسی کے باکمال ہونے کی دلیل سمجھی جاتی تھیں لہٰذا یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد اس کی معتقد بن گئی۔ اسود عنسی کو ذوالحمار کے لقب سے بھی جانا جاتا تھا، تاریخ نویس لکھتے ہیں کہ اس کے پاس ایک سدھایا ہوا گدھا تھا یہ جب اس کو کہتا خدا کو سجدہ کرو تو وہ فوراً سربسجود ہوجاتا، اسی طرح جب بیٹھنے کو کہتا بیٹھ جاتا اور اور کھڑے ہونے کو کہتا کھڑا ہوجاتا، نجران کے لوگوں کوجب اس کے دعویٰ نبوت کا علم ہوا تو انہوں نے اسے امتحان کی غرض سے اپنے ہاں مدعو کیا۔ اس نے وہاں بھی اپنی…

Read more

پرانے زمانے میں ایک پہلوان اپنے فن میں بہت ماہر تھا۔ جو پہلوان بھی اس کے مقابلے پر آتا تھا، وہ اسے مار گراتا تھا۔چنانچہ اس کی اس قابلیت اور مہارت کی وجہ سے بادشاہ اس کی بہت عزت کرتا تھا ۔ یہ نامی پہلوان بہت سے نوجوانوں کو کشتی لڑنے کا فن سکھا یا کرتا تھا۔ ان میں سے ایک نوجوان کو اس نے اپنا شاگرد خاص بنایا تھا اور اسے وہ سارے داؤپیچ سکھا دبے تھے جو اسے آتے تھے۔ احتیاط کے طور پر بس ایک داؤنہ سکھایا تھا۔ زمانہ اسی طرح گزرتا رہا۔ نامی گرامی پہلوان بوڑھا ہوگا اور اس کا چہیتا شاگرد اپنے وقت کا سب سے بڑا پہلوان بن گیا۔ شرافت کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنے استا د کایہ احسان مانتا کہ اس نے اسے اپنا ہنر سکھا کر ایسا قابل بنادیا لیکن وہ کچھ ایسا بد فطرت تھا کہ ایک دن…

Read more

40/112
NZ's Corner