بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک پتھر کا تراشہ تھا۔ وہ پہاڑ سے پتھر کاٹتا تھا، بڑے بڑے بلاک بناتا تھا، اور ان سے لوگوں کے گھر بناتا تھا۔

وہ اپنے کام سے مطمئن تھا۔ صبح اٹھتا، پہاڑ پر جاتا، پتھر کاٹتا، شام کو گھر آتا۔ اسے اپنے ہاتھوں کی طاقت پر بھروسہ تھا، اپنی محنت پر فخر تھا۔

ایک دن وہ کسی امیر آدمی کے گھر پتھر لگا رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ امیر آدمی بڑے آرام سے بیٹھا ہے، اس کے پاس نوکر ہیں، کھانا ہے، پینا ہے، اسے کسی محنت کی ضرورت نہیں ہے۔

پتھر کے تراشے نے سوچا: “کتنا اچھا ہوتا اگر میں بھی امیر ہوتا۔ مجھے بھی کوئی کام نہ کرنا پڑتا۔”

اسی وقت ایک فرشتہ آسمان سے اترا۔ اس نے کہا: “تمہاری خواہش سن لی گئی۔ اب تم امیر ہو۔”

اور پتھر کا تراشہ امیر بن گیا۔ اس کے پاس دولت تھی، محل تھا، نوکر تھے، باغ تھے۔ وہ آرام سے بیٹھتا، کھاتا، پیتا، اور کسی کو کام نہیں کرتا تھا۔

کچھ دنوں بعد بادشاہ اس شہر سے گزرا۔ بادشاہ کا لشکر تھا، اس کا تاج تھا، اس کا تخت تھا۔ سارے لوگ بادشاہ کے سامنے جھک رہے تھے۔

پتھر کے تراشے نے سوچا: “یہ امیر ہونے سے کیا ہوا؟ بادشاہ تو بہت بڑی چیز ہے۔ سارے لوگ اس کے سامنے جھکتے ہیں، سارے اس کا حکم مانتے ہیں۔ میں بادشاہ بننا چاہتا ہوں۔”

فرشتہ آیا۔ اس نے کہا: “تمہاری خواہش سن لی گئی۔ اب تم بادشاہ ہو۔”

اور پتھر کا تراشہ بادشاہ بن گیا۔ اس کے پاس تخت تھا، تاج تھا، لشکر تھا، محل تھا۔ سارے لوگ اس کے سامنے جھکتے تھے، سارے اس کا حکم مانتے تھے۔ وہ بڑی شان سے راج کرنے لگا۔

ایک دن بہت تیز دھوپ نکلی۔ دھوپ اتنی تیز تھی کہ زمین جلنے لگی، درخت مرجھانے لگے، لوگ گھروں میں چھپ گئے۔ لیکن دھوپ کو کوئی روک نہیں سکتا تھا۔ وہ محل کی دیواروں کو بھی چیر کر اندر آ رہی تھی، تخت کو بھی جلا رہی تھی، تاج کو بھی گرم کر رہی تھی۔

پتھر کے تراشے نے سوچا: “یہ بادشاہ ہونے سے کیا ہوا؟ سورج تو بادشاہ سے بھی طاقتور ہے۔ میں سورج بننا چاہتا ہوں۔”

فرشتہ آیا۔ اس نے کہا: “تمہاری خواہش سن لی گئی۔ اب تم سورج ہو۔”

اور پتھر کا تراشہ سورج بن گیا۔ وہ آسمان پر چمکنے لگا، اپنی کرنیں زمین پر برسانے لگا۔ اس کی گرمی سے دریا سوکھ گئے، کھیت جل گئے، لوگ ڈر گئے۔ وہ طاقتور تھا، بہت طاقتور۔

لیکن ایک دن ایک بادل آیا۔ وہ بادل سورج کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے سورج کو ڈھانپ لیا۔ سورج کی کرنیں زمین تک نہیں پہنچ سکیں۔ بادل اتنا بڑا تھا، اتنا گہرا تھا کہ سورج کی ساری طاقت اس کے سامنے بے بس تھی۔

پتھر کے تراشے نے سوچا: “یہ سورج ہونے سے کیا ہوا؟ بادل تو سورج سے بھی طاقتور ہے۔ میں بادل بننا چاہتا ہوں۔”

فرشتہ آیا۔ اس نے کہا: “تمہاری خواہش سن لی گئی۔ اب تم بادل ہو۔”

اور پتھر کا تراشہ بادل بن گیا۔ وہ آسمان پر پھیلا، اس نے سورج کو ڈھانپ لیا، اس نے بارش برسائی، اس نے دریاؤں کو بہا دیا، اس نے شہروں کو ڈبو دیا۔ وہ طاقتور تھا، بہت طاقتور۔

لیکن بارش برستے برستے تھک گئی۔ اس کی طاقت ختم ہو گئی۔ وہ زمین پر ٹپکنے لگا، پھر رکنے لگا۔

نیچے اس نے دیکھا۔ زمین پر پہاڑ کھڑا تھا۔ وہ پہاڑ ہزاروں سال سے کھڑا تھا۔ بادل کی بارش اسے نہ بہا سکی، بادل کی طاقت اسے نہ ہلا سکی۔ پہاڑ ویسا کا ویسا کھڑا تھا۔

پتھر کے تراشے نے سوچا: “یہ بادل ہونے سے کیا ہوا؟ پہاڑ تو بادل سے بھی طاقتور ہے۔ میں پہاڑ بننا چاہتا ہوں۔”

فرشتہ آیا۔ اس نے کہا: “تمہاری خواہش سن لی گئی۔ اب تم پہاڑ ہو۔”

اور پتھر کا تراشہ پہاڑ بن گیا۔ وہ بڑا تھا، بہت بڑا۔ اس کی چوٹیاں آسمان سے جا لگتی تھیں، اس کی جڑیں زمین میں گہری تھیں۔ ہوا اسے نہ ہلا سکتی تھی، بارش اسے نہ بہا سکتی تھی، سورج اسے نہ جلا سکتا تھا۔ وہ طاقتور تھا، بہت طاقتور۔

لیکن ایک دن اس نے محسوس کیا کہ کچھ اس کی چوٹی پر کھدائی کر رہا ہے۔ اس نے نیچے دیکھا۔ ایک پتھر کا تراشہ اس کی چوٹی پر بیٹھا تھا اور پتھر کاٹ رہا تھا۔ وہ چھوٹا تھا، کمزور تھا، لیکن اس کی چھینی اور ہتھوڑی پہاڑ کو کاٹ رہے تھے۔ پہاڑ کی ساری طاقت اس کے سامنے بے بس تھی۔

پتھر کے تراشے نے سوچا: “یہ پہاڑ ہونے سے کیا ہوا؟ پتھر کا تراشہ تو مجھ سے بھی طاقتور ہے۔ میں پتھر کا تراشہ بننا چاہتا ہوں۔”

فرشتہ آیا۔ اس نے کہا: “تمہاری خواہش سن لی گئی۔ اب تم پتھر کا تراشہ ہو۔”

اور وہ پھر سے پتھر کا تراشہ بن گیا۔ وہ صبح اٹھا، پہاڑ پر گیا، پتھر کاٹنے لگا۔ اس کے ہاتھ میں چھینی تھی، ہتھوڑی تھی، اور وہ اپنے کام میں مگن تھا۔

اب وہ نہ امیر بننا چاہتا تھا، نہ بادشاہ، نہ سورج، نہ بادل، نہ پہاڑ۔ وہ جو تھا، اسی میں خوش تھا۔ کیونکہ اس نے سیکھ لیا تھا کہ ہر چیز کی ایک طاقت ہوتی ہے اور ہر چیز کی ایک کمزوری۔ سچی طاقت وہ نہیں جو دوسروں پر راج کرے، سچی طاقت وہ ہے جو اپنے کام میں خوش ہو۔

سبق

یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو ہمیشہ دوسروں کی زندگی دیکھ کر جلتے ہیں۔ امیر کو دیکھ کر کہتے ہیں: “کاش میں امیر ہوتا۔” بادشاہ کو دیکھ کر کہتے ہیں: “کاش میں بادشاہ ہوتا۔” لیکن وہ نہیں دیکھتے کہ ہر مقام کی اپنی پریشانی ہے، ہر طاقت کی اپنی کمزوری ہے۔

جو اپنے آپ میں خوش ہے، وہی حقیقی طاقتور ہے۔

اخلاقی سبق: اپنی ذات میں رہو، اپنے کام میں رہو۔ جو دوسروں کی زندگی دیکھ کر اپنی بھول جاتا ہے، وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتا۔

Leave a Reply

NZ's Corner