ہندوستان کا عیاش، شرابی اور زانی بادشاہ محمد شاہ رنگیلا!
یہ وہ مغل بادشاہ تھا جس کی رنگینیوں اور بداعمالیوں نے نہ صرف اس کی شخصیت بلکہ پوری سلطنت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔
یہ بادشاہ، جو شاہ جہاں ثانی کے بیٹے اور روشن اختر ناصر الدین شاہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1719 سے 1748 تک تقریباً 29 سال حکومت کرتا رہا۔ مگر اس کی حکمرانی نظم و ضبط، انصاف اور سنجیدگی کے بجائے عیش و عشرت، شراب نوشی اور بے حیائی سے بھرپور تھی۔
محمد شاہ رنگیلا مغلوں کے ان 19 بادشاہوں میں سے ایک تھا جس کی بری عادات اور کمزور حکمرانی نے سلطنت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ اس کی رنگینیوں، ناچ گانے، عریانیت اور شراب نوشی نے ریاستی نظام کو تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں سیاسی اور معاشی بحران پیدا ہوئے اور سلطنت زوال کی طرف بڑھتی چلی گئی۔
وہ ایک غیر متوازن شخصیت کا حامل تھا، جو چوبیس گھنٹے نشے میں رہتا اور حکمرانی کے معاملات سے غافل رہتا تھا۔ اس کی عجیب و غریب عادات میں یہ بھی شامل تھا کہ وہ ایک لمحے میں کسی عام آدمی کو بلند عہدہ دے دیتا اور اگلے ہی لمحے کسی وزیر کو بغیر وجہ قید کر دیتا۔
یہاں تک کہ اس نے اپنے گھوڑے کو بھی وزیر کا درجہ دے دیا اور اسے دربار میں دیگر وزراء کے ساتھ کھڑا کیا۔ کبھی وہ اچانک دربار میں برہنہ آ جاتا اور درباریوں کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیتا۔ کبھی حکم دیتا کہ اگلے دن تمام درباری خواتین کے لباس میں آئیں اور وزراء گھنگھرو پہن کر حاضر ہوں۔
اس کی بے حیائی کی انتہا یہ تھی کہ وہ طوائفوں کے ساتھ دربار میں آتا اور انہی کے درمیان لیٹ کر فیصلے سناتا۔ اس نے ایک بار حکم دیا کہ تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے اور بے گناہ لوگوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈال دیا جائے۔
اس نے اعلان کیا کہ ہندوستان کی ہر خوبصورت عورت بادشاہ کی امانت ہے، اور اس امانت میں خیانت کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ وہ ایک دن میں کئی وزراء مقرر کرتا اور اگلے دن اپنے ہی فیصلے واپس لے لیتا۔
اس کی بداعمالیوں کی ایک اور مثال یہ ہے کہ اس نے شہر کے قاضی کو شراب سے وضو کرنے کا حکم دیا۔
بالآخر، زنا اور شراب نوشی کی کثرت نے اسے انجام تک پہنچایا اور 26 اپریل 1748 کو اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا احمد شاہ بہادر تخت نشین ہوا۔
📌 تاریخ کا یہ کردار ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب حکمران اپنی ذمہ داریوں کو چھوڑ کر خواہشات کے غلام بن جائیں، تو سلطنتیں بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں
