Tag Archives: bloganuary

En un bazar de Bujará —Vivía un comerciante. Tenía un buen negocio: especias, seda, perfumes…Pero lo más valioso de su casa —no era ni la seda ni el perfume—sino…un loro. Era diferente a cualquier otro loro.Se sentaba en una jaula.Se acicalaba las plumas verdes…Y luego hablaba.Hablaba de tal manera que los oyentes quedaban atónitos.Recitaba poesía.Hablaba.Saludaba a los invitados por su nombre.Bromeaba.Reía.El comerciante lo quería mucho.Se levantaba por la mañana y lo primero que hacía era ir con el loro.Por la noche, mientras dormía, cubría la jaula con una tela.«Mi sol, mi felicidad». Un día —El comerciante tenía un viaje a la India.Era un asunto de negocios; tenía que ir. Le preguntó a su familia: «¿Qué puedo traerles?»Alguien pidió telas…Alguien pidió joyas…Alguien pidió especias.Finalmente, el mercader se acercó a la jaula del loro y le dijo con cariño:“Dime, ¿qué quieres que te traiga?”.El loro miró con sus ojos redondos,se quedó en…

Read more

کہتے ہیں ایک سلطنت کا بادشاہ اپنی دولت، فوج اور شان و شوکت پر ایسا نازاں تھا جیسے مور اپنے پروں پر۔ محل کے مینار آسمان سے باتیں کرتے تھے، خزانے کے دروازے سونے سے جڑے تھے، مگر دل کا حال یہ تھا کہ بے چینی کا پرندہ ہر وقت اس کے سینے میں پھڑپھڑاتا رہتا تھا۔ایک دن خبر ملی کہ ایک درویش صفت صوفی شہر میں آیا ہے، جس کی دعا میں تاثیر ہے اور جس کی بات میں حکمت۔بادشاہ نے فوراً حکم دیا:“فقیر کو عزت کے ساتھ محل میں لایا جائے!”مگر صوفی محل میں پہنچ کر مرمر کے فرشوں اور ریشمی پردوں سے بے نیاز ایک درخت کے نیچے جا بیٹھا۔ بادشاہ خود چل کر اس کے پاس آیا۔صوفی نے مسکراتے ہوئے کہا:“بادشاہ سلامت! آج تمہیں تین خواہشیں مانگنے کا اختیار دیتا ہوں۔ جو مانگو گے، پورا ہوگا۔”بادشاہ کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ اس نے بغیر سوچے کہا:“پہلی…

Read more

شیخ چلی کا نام سب نے سنا ہو گا۔ایک دن اس کے ہمسائیوں نے ایک پیالے میں سالن ڈال کر ان کے گھر بھیجا۔ یہ سالن شیخ چلی نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس نے ماں سے پوچھا ”یہ کیا ہے“ ماں نے جواب دیا ”اسے بڑیاں کہتے ہیں“ شیخ چلی نے گول گول تیرتے ٹکڑوں میں سے ایک کو اٹھایا اور پھر پوچھا ”یہ کیا ہے“ ماں نے مختصر جواب دیا ”بڑی“ شیخ چلی نے خوب پیٹ بھر کھایا۔ اسے یہ کھانا بہت پسند آیا۔ ”یہ تو بہت مزیدار ہے“ اگلے ہفتے شیخ چلی ماں سے ضد کرنے لگا ”ماں میں تو وہی کھانا کھاؤں گا جو ساتھ والوں کے گھر سے آیا تھا“ ماں نے کہا ”اس میں بہت محنت اور وقت لگتا ہے۔ نہ تو میرے اندر دال پیسنے کی ہمت ہے نہ ہی طاقت۔ اگر تو اتنا ہی اتاولا (بے چین) ہو رہا ہے تو…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک چالاک لومڑی جنگل میں خوراک کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھر رہی تھی کہ اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور وہ ایک گہرے کنویں میں جا گری۔ کنواں پانی سے بھرا ہوا تھا۔ لومڑی نے بڑی کوشش کی، دیواروں پر پنجے مارے، چھلانگیں لگائیں، مگر کنویں کی پھسلن بھری دیواریں اُس کی ہر تدبیر کا مذاق اُڑاتی رہیں۔وہ مایوس ہو کر ایک کونے میں بیٹھی ہی تھی کہ کچھ دیر بعد ایک بکری وہاں آنکلی۔ گرمی کی شدت سے اُس کا گلا سوکھ رہا تھا۔ اُس نے کنویں میں جھانکا تو لومڑی کو پانی میں کھڑا دیکھا۔بکری نے حیرت سے پوچھا: “ارے بہن لومڑی! یہ پانی کیسا ہے؟”لومڑی کی آنکھوں میں مکاری کی چمک دوڑ گئی۔ اُس نے نہایت میٹھے لہجے میں جواب دیا: “اے بکری! میں نے اپنی زندگی میں ایسا شیریں اور ٹھنڈا پانی کبھی نہیں پیا۔ یہ تو گویا جنت کی…

Read more

جنگل میں اگر کسی جانور کی سب سے کم عزت تھی، تو وہ گدھا تھا۔جہاں سے گزرتا، کوئی نہ کوئی اس کی آواز کا مذاق اڑا دیتا، کوئی اس کی چال پر ہنس دیتا۔ رفتہ رفتہ گدھے کے دل میں ایک عجیب سی بھوک پیدا ہو گئی، عزت کی بھوک۔ وہ اکثر جنگل کے طاقتور اور مشہور جانوروں کو دیکھتا اور دل ہی دل میں سوچتا: “آخر ان میں ایسی کیا بات ہے جو سب ان کے آگے پیچھے گھومتے ہیں؟” انہی دنوں جنگل کی سب سے چالاک مخلوق، وزیراعظم لومڑی، پورے جنگل پر اپنے اثر و رسوخ کا جال پھیلائے بیٹھی تھی۔ شیر بادشاہ تھا ضرور، مگر جنگل کے اکثر فیصلے لومڑی کی چالاکی سے ہی چلتے تھے۔ وہ ہر جانور کو اس کی کمزوری کے مطابق استعمال کرنا جانتی تھی۔ گدھے نے ایک دن فیصلہ کیا: “اگر میں لومڑی کے قریب ہو جاؤں، تو لوگ خود بخود میری…

Read more

‏ایک دن پڑوسیوں کی مرغی شیخ صاحب کے گھر سے گندم کھا گئی تو انہوں نے مرغی کو پکڑا اور ذبح کرکے کھاگئےاگلے دن پڑوسیوں کو مرغی نا ملی تو انہوں نے شیخ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے ہماری مرغی کہیں  دیکھی تھی؟شیخ نے غصے سے کہا کہ وہ ہمارے گھر کے دانے کھا گئی اس لئے میں اسے ذبح کرکے 👇‏کھا گیا پڑوسی بھی غصے سے گویا ہوئے کہ شیخ صاحب آپ تو انتہائی نامعقول انسان ہیں کہ چند دانے کیا مرغی نے کھا لئے آپ پوری مرغی ہی کھا گئے. حالانکہ چند دن قبل آپکی بلی ہمارا تین کلو دودھ پی گئی تھی تو ہم نے کچھ کہا آپکوشیخ صاحب جھٹ سے بولے کہ اگر میری بلی آپ کا دودھ پی گئی 👇‏تھی تو آپ بھی میری بلی کھا جاتے میں نے کونسا منع کیا آپکوپڑوسی تلملا کر بولے  شیخ صاحب بلی تو حرام ہوتی ہےشیخ صاحب…

Read more

ایک دن بڑے زور کی آندھی آئی، اور پھر موسلا دھار بارش ہونے لگی۔ جنگلی جانور، جان بچانے کے لیے، اِدھر اُدھر دوڑے ایک لومڑی ایک چھوٹے سے غار میں گھس گئی۔ تھوڑی دیر بعد ایک ببر شیر بھی اسی غار میں گھس آیا۔ موت سامنے نظر آئی تو لومڑی بہت گھبرائی۔ لیکن عین اُس وقت عقل کام آئی۔ اُس نے جھٹ اپنا سر غار کی چھت سے لگایا اور بولی “چھت گرنے والی ہے، حضور! اسے سہارا دیجیے۔ گر گئی تو دونوں مر جائیں گے۔”ببر شیر نے دونوں ہاتھوں سے چھت کو تھام لیا۔ لومڑی بولی “آپ مجھ سے زیادہ طاقتور ہیں۔ اسے اسی طرح تھامے رہیے۔ میں بانس لے کر ابھی آئی۔”“بانس کا کیا کروگی؟” شیر نے پوچھا۔“اے، حضور، بانس سے چھت کو سہارا دیں گے تو وہ نہیں گرے گی” لومڑی نے کہا اور باہر بھاگ گئی۔(افریقہ کی لوک کہانی)رسالہ: تعلیم و تربیت

رات کی خاموشی میں، جب ہوا بھی دبے قدموں چل رہی تھی، ایک سیاہ سایہ زمین پر رینگتا ہوا ایک ننھے خرگوش کے بل تک پہنچا…وہ ایک سانپ تھا۔بل کے اندر، معصوم خرگوش ایک دوسرے سے لپٹے بیٹھے تھے۔ اچانک، دروازے پر ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی… اور پھر ایک نرم، مگر عجیب سی آواز گونجی:“ڈرو مت… میں تمہیں نقصان نہیں پہنچانا چاہتا…”خرگوشوں کے دل تیزی سے دھڑکنے لگے۔ انہوں نے پہلے کبھی اپنے گھر میں کسی شکاری کو نہیں دیکھا تھا۔سانپ نے اپنی آواز میں اور بھی مٹھاس گھول دی:“میں اکیلا ہوں… بہت اکیلا… اس دنیا میں میرا کوئی نہیں۔ میں صرف تھوڑی سی محبت چاہتا ہوں… تھوڑی سی اپنائیت…”اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں، جیسے اندھیرے میں دو جلتے ہوئے چراغ۔“میرے پاس صدیوں کی حکمت ہے… کہانیاں ہیں… راز ہیں… اگر تم چاہو تو میں تمہیں سب سنا سکتا ہوں…”خرگوش ایک دوسرے کو دیکھنے لگے… خوف اور ہمدردی کے…

Read more

برطانوی نوآبادیاتی دور میں ہندوستان میں، ایک دفعہ ایک برطانوی افسر نے ایک ہندوستانی شہری کو تھپڑ مارا۔ اس پر ہندوستانی شہری نے ردعمل میں پوری طاقت سے افسر کو تھپڑ مارا اور اسے زمین پر گرا دیا۔ افسر اس ذلت آمیز صدمے سے حیران رہ گیا اور وہاں سے چلا گیا، یہ سوچتا ہوا کہ ایک ہندوستانی شہری نے کیسے جرات کی کہ وہ برطانوی فوج کے افسر کو تھپڑ مارے، جو کہ ایک ایسی سلطنت کا حصہ ہے جس پر سورج غروب نہیں ہوتا۔ وہ اپنے مرکز کی طرف گیا تاکہ انہیں اس واقعے کی اطلاع دے اور اس شہری کو سزا دینے کے لیے مدد طلب کرے۔ لیکن بڑے افسر نے اسے پرسکون کیا اور اپنے دفتر لے گیا، اور ایک پیسوں سے بھری خزانہ کھول کر کہا: ”خزانے سے دس ہزار روپے لے لو، اور اس ہندوستانی شہری کے پاس جا کر اس سے معافی مانگو،…

Read more

ایک کسان نے ایک مرا ہوا سور ایک سوکھے کنویں میں پھینک دیا۔چند ہی لمحوں بعد 70 سے 80 چوہے اس بدبو کی طرف کھنچے چلے آئے اور ایک ایک کر کے کنویں میں کود گئے۔ان کے لیے یہ ایک “آسان دعوت” تھی…انہوں نے مل کر اس سور کو ختم کر دیا، لیکن اصل کہانی یہاں سے شروع ہوئی۔جب پیٹ بھر گیا تو حقیقت سامنے آئی…کنواں اونچا تھا، باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔دن گزرتے گئے…بھوک واپس آگئی، اور ساتھ ہی خوف بھی۔پھر وہی کنواں ایک زندہ جہنم بن گیا۔کچھ چوہے کمزور پڑے، کچھ نے طاقت کے لیے دوسرے کو مارنا شروع کر دیا…اور پھر نوبت یہاں تک آ گئی کہ وہ ایک دوسرے کو کھانے لگے۔وقت گزرتا گیا…اور آخرکار سب ختم ہو گئے…صرف ایک چوہا بچا، جس کی آنکھیں خون کی طرح سرخ ہو چکی تھیں، اور ذہن میں صرف ایک چیز تھی… “بقا”۔کچھ دن بعد کسان واپس…

Read more

ایک شخص طبیب کے پاس گیا اور کہا کہ ذرا میری نبض دیکھ دیجئے۔ طبیب نے نبض ہاتھ میں لی اور جان گیا کہ اس مریض کی صحت کی امید نہیں۔ اس سے کہا کہ جو تیرے جی میں آئے وہ کر، تاکہ جسم سے یہ بیماری جاتی رہے۔ اس مرض کے لئے صبر و پرہیز کو نقصان سمجھ اور جس کام کو تیرا دل چاہے وہ ضرور کر۔بیمار نے کہا کہ خدا تجھے اچھا رکھے۔ اے بھائی اب تو میں نہر کے کنارے جاتاہوں۔ نہر کے کنارے ایک صوفی بیٹھا ہاتھ منہ دھو رہاتھا۔ یکایک جو اس مریض کے جی میں آیا اور صوفی کی گدی پر ایک چانٹے کا ہاتھ صاف کیا۔ کیونکہ اس نے سوچا کہ چانٹا لگانے کی رغبت ہے۔ اب اس رغبت کو پورا نہ کروں گا تو طبیب کہہ چکا ہے کہ بیماری بڑھ جائے گی۔ جو نہی اس نے تڑاق سے اسے چانٹا…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے۔ ایک آدمی کے پاس ایک خوبصورت کتا تھا، جسے وہ بے حد چاہتا تھا۔ وہ کتے کو اپنے پاس بٹھا کر کھلاتا، سہلاتا اور اس سے باتیں کرتا۔ کتا بھی اپنے مالک کا نہایت فرمانبردار تھا۔ جہاں وہ جاتا، کتا دم ہلاتا اس کے پیچھے پیچھے چلتا اور اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اچھل کود کرتا۔ اسی آدمی کے پاس ایک گدھا بھی تھا۔ وہ دن بھر بوجھ ڈھو کر تھک جاتا اور رات کو اکیلا ایک کونے میں بندھا رہتا۔ مالک کبھی اس کی طرف توجہ نہ دیتا۔ ایک دن گدھے نے کھڑکی میں منہ ڈال کر اندر جھانکا۔ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ مالک اپنے کتے کو نہ صرف مزے دار کھانا کھلا رہا ہے بلکہ اسے گود میں بٹھا کر پیار بھی کر رہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر گدھے کے دل میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔…

Read more

اطالیہ کے ایک خوبصورت شہر میں ایک بادشاہ رہتا تھا جو اپنی شان و شوکت اور انصاف پسندی کے لیے مشہور تھا۔ اس کے پاس بہت سے خزانے تھے، لیکن اسے اپنے وزراء پر بھروسہ نہیں تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کے درمیان سب سے زیادہ ایماندار کون ہے۔ ایک دن شاہی محل میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ بادشاہ نے بازار سے ایک بہت بڑا ہیرا خریدا تھا۔ وہ بہت قیمتی تھا اور اس کی چمک دنیا میں کہیں نہیں تھی۔ شام کو جب بادشاہ نے ہیرے کو اپنے صندوق میں رکھا اور اگلی صبح جب اس نے دیکھا تو وہ صندوق خالی تھا۔ بادشاہ نے اپنے وزراء کو جمع کیا اور کہا، “میرا ہیرا کسی نے چرا لیا ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ تم میں سے کون مجھے اس کا پتہ بتا سکتا ہے؟” وزراء نے بہت کوشش کی، لیکن کسی کو کچھ…

Read more

ایک بادشاہ اپنے غلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھا۔ غلام نے نہ کبھی دریا دیکھا تھا، نہ ہی کشتی کا سفر کیا تھا۔ جیسے ہی کشتی پانی میں ہچکولے لینے لگی، غلام کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ اُس کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے، اور وہ خوف سے چیخنے اور رونے لگا۔کشتی میں بیٹھے لوگ پریشان ہو گئے، اور بادشاہ کو اس کی آواز ناگوار گزرنے لگی۔ ہر کوشش ناکام ہو گئی، غلام کسی صورت خاموش ہونے کو تیار نہ تھا۔اسی دوران کشتی میں موجود ایک دانا شخص آگے بڑھا اور ادب سے بولا: “حضور! اگر اجازت ہو تو میں اسے خاموش کر سکتا ہوں۔”بادشاہ نے فوراً اجازت دے دی۔دانا نے اشارہ کیا… اور سپاہیوں نے غلام کو اچانک دریا میں دھکا دے دیا!غلام پانی میں گرا… ایک، دو، تین غوطے کھائے… زندگی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی… وہ ہاتھ پاؤں مارتا رہا…پھر سپاہیوں نے اس کے بال پکڑ…

Read more

مصر کے ایک پرانے شہر قاہرہ میں ایک غریب مگر ذہین نوجوان رہتا تھا جس کا نام جمیل تھا۔ جمیل کے پاس دنیا کی کوئی دولت نہیں تھی، نہ گھر تھا، نہ زمین تھی، نہ اونٹ تھے۔ اس کے پاس صرف ایک چیز تھی، اس کی ماں جو بہت بوڑھی ہو چکی تھی اور جس کی آنکھیں دھندلی ہو گئی تھیں۔ وہ اپنی ماں کے لیے روزانہ شہر کی گلیوں میں بھیک مانگتا تھا اور جو کچھ ملتا، اس سے وہ دونوں اپنا پیٹ پالتے تھے۔ ایک دن جمیل نے سنا کہ شہر کے ایک بہت بڑے عالم دین نے لوگوں کے لیے اپنا دروازہ کھول رکھا ہے۔ وہ ہر آنے والے کو ایک اچھا مشورہ دیتے ہیں۔ جمیل نے سوچا کہ کیوں نہ وہ بھی اس عالم کے پاس جائے اور کوئی ایسا مشورہ لے آئے جو اس کی زندگی بدل دے۔ وہ عالم کے گھر پہنچا تو وہاں…

Read more

بہت سالوں کی بات ہے، ایران کے ایک شہر میں دو بھائی رہتے تھے۔ ایک کا نام قاسم تھا اور دوسرے کا، علی بابا۔ قاسم کی شادی ایک بہت امیر عورت سے ہوئی تھی، جس کی مدد سے اس نے ایک بڑا کاروبار سنبھال لیا اور شہر کے امیر آدمیوں میں شامل ہو گیا۔ دوسری طرف علی بابا بالکل سادہ زندگی گزار رہا تھا۔ وہ اپنی بیوی اور گدھے کے ساتھ روزانہ صبح سویرے جنگل میں جاتا، درختوں سے لکڑیاں کاٹتا اور شہر میں جا کر بیچ آیا کرتا تھا۔ ایک دن علی بابا جنگل میں اپنے معمول کے مطابق لکڑیاں کٹ رہا تھا کہ اچانک اس نے دور سے گھوڑوں کی ٹاپیں سنیں۔ اس نے جلدی سے ایک اونچے درخت پر چڑھ کر اپنے آپ کو پتوں میں چھپا لیا۔ تھوڑی دیر بعد وہاں چالیس مسلح ڈاکو گھوڑوں پر سوار ہو کر پہنچے۔ ان سب کے کندھوں پر تلواریں…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ شام کے علاقے میں واقع ایک شہر، جو اپنی سرسبز وادیوں اور بلند و بالا پہاڑوں کے لیے مشہور تھا، پر ایک  بادشاہ “قسیصر” حکومت کرتا تھا۔ اس بادشاہ کا ایک بیٹا تھا جس کا نام “براق بن روحان” تھا۔ شہزادہ براق اپنی غیر معمولی خوب صورتی، بہادری اور سخاوت کے لیے پورے علاقے میں مشہور تھا۔ اس کے سنہری بال اس کے کندھوں تک لٹک رہے تھے، اس کی آنکھیں شہد جیسی مٹھاس رکھتی تھیں، اور اس کی شکل و صورت دیکھ کر ہر کوئی اپنی نظریں جھکا لیتا تھا۔ لیکن اس کی سب سے بڑی خوبی اس کی وفاداری اور اپنی قوم سے محبت تھی۔ اسی شہر میں ایک نجومی رہتا تھا جس کا نام “سابا” تھا، جو براق کا روحانی پیشوا اور معتمد خاص تھا۔ ایک دن نجومی سابا نے براق کو یہ پیشین گوئی سنائی کہ اسے اپنے شہر کے…

Read more

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب سرزمینِ شام کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے تو بلقاء کے علاقے میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام بلعام بن باعوراء تھا۔ وہ اپنی قوم میں اس وجہ سے مشہور تھا کہ اس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اور اسے خاص روحانی علم عطا کیا گیا تھا، یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق وہ اسمِ اعظم سے واقف تھا۔ اس کی قوم نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی آمد کی خبر سنی تو وہ خوف زدہ ہو گئے۔ وہ بلعام کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ “موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ آ رہے ہیں، وہ ہمیں ہمارے گھروں سے نکال دیں گے، ہماری زمینوں پر قبضہ کر لیں گے۔ تم ہمارے لیے دعا کرو کہ وہ یہاں نہ آ سکیں۔ بلعام نے حقیقت جانتے ہوئے جواب دیا: “افسوس ہے تم پر! وہ اللہ کے نبی…

Read more

آئرلینڈ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں تھامس نامی ایک نوجوان رہتا تھا۔ وہ اپنی بیوی، اور اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ ایک سال آلو کی فصل تباہ ہو گئی۔ لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہ رہا۔ تھامس نے مجبوراً اپنے مالک کی زمینوں میں شکار کرنے کا فیصلہ کیا  حالانکہ اس کی سزا موت تھی۔ تھامس سارا دن جنگل میں بھٹکتا رہا، لیکن اسے کوئی جانور نہ ملا۔ شام کو جب وہ واپس ہونے لگا تو اسے ایک خوبصورت ہرن نظر آیا۔ جب اس نے ہرن کو مارنے کے لیے تیر چڑھایا تو ہرن بول پڑا، “مجھے مت مارو! میں تمہاری ایک خواہش پوری کروں گا۔ کل صبح اس جگہ آ جانا اور اپنا جواب بتا دینا۔” تھامس حیران تھا، لیکن اس نے ہرن کو جانے دیا۔ گھر واپس آ کر اس نے اپنے باپ سے مشورہ کیا۔ باپ نے…

Read more

راجپوتوں کا ایک قبیلہ ہے جس کی عورتیں اپنے خاوند کا نام نہیں لیتیں.مردم شماری ہو رہی تھی ،ان کے ایک گاوّں میں مردم شماری کے لئیے فوجی پہنچا اور دروازے پر دستک دی۔ دروازے کے پیچھے سے خاتونِ خانہ کی آواز آئی کون ؟. فوجی نے بتایا کہ اہل خانہ کے کوائف لکھنے ہیں اپنے میاں کو باہر بھیجیں.بیوی نے کہا وہ تو گھر پر نہیں ہیں. فوجی تو پھر آپ ہی نام وغیرہ لکھوا دیں فوجی نے کہا بتائیے آپ کے خاوند کا نام کیا ہے ؟.وہ تو میں نہیں بتا سکتی، ہم اپنے شوہر کا نام زبان پر نہیں لاتیں۔ عورت نے جواب دیا. فوجی نے کہا یہ بہت ضروری ہے ہم نے گھر کے سربراہ کا نام لکھنا ہے۔عورت بولی ایک طریقہ ہے میں آپ سے سوال کرتی جاتی ہوں آپ جواب دیتے جائیں۔ عورت – مغلیہ خاندان کا بانی کون تھا ؟فوجی : بابر عورت-…

Read more

20/494
NZ's Corner