کہتے ہیں ایک سلطنت کا بادشاہ اپنی دولت، فوج اور شان و شوکت پر ایسا نازاں تھا جیسے مور اپنے پروں پر۔ محل کے مینار آسمان سے باتیں کرتے تھے، خزانے کے دروازے سونے سے جڑے تھے، مگر دل کا حال یہ تھا کہ بے چینی کا پرندہ ہر وقت اس کے سینے میں پھڑپھڑاتا رہتا تھا۔ایک دن خبر ملی کہ ایک درویش صفت صوفی شہر میں آیا ہے، جس کی دعا میں تاثیر ہے اور جس کی بات میں حکمت۔بادشاہ نے فوراً حکم دیا:“فقیر کو عزت کے ساتھ محل میں لایا جائے!”مگر صوفی محل میں پہنچ کر مرمر کے فرشوں اور ریشمی پردوں سے بے نیاز ایک درخت کے نیچے جا بیٹھا۔ بادشاہ خود چل کر اس کے پاس آیا۔صوفی نے مسکراتے ہوئے کہا:“بادشاہ سلامت! آج تمہیں تین خواہشیں مانگنے کا اختیار دیتا ہوں۔ جو مانگو گے، پورا ہوگا۔”بادشاہ کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ اس نے بغیر سوچے کہا:“پہلی…