Tag Archives: bloganuary

ہسپانیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا کھیت تھا، لیکن اس کی زمین بہت کمزور تھی اور فصل اچھی نہیں ہوتی تھی۔ ایک سال جب قحط پڑا تو اس کے پاس کھانے کو کچھ نہ بچا۔ وہ بہت پریشان تھا کہ اب وہ اپنے بچوں کو کیا کھلائے گا۔ ایک دن وہ اپنے کھیت میں گھوم رہا تھا کہ اسے زمین پر گندم کے چار دانے پڑے نظر آئے۔ اس نے انہیں اٹھایا اور سوچا کہ ابھی تو یہ بہت کم ہیں، لیکن شاید ان سے کچھ فصل اگ آئے۔ اس نے ان چار دانوں کو اپنے کھیت کے ایک کونے میں بو دیا۔ اس نے روزانہ انہیں پانی دیا اور ان کی دیکھ بھال کی۔ کچھ ہی دنوں میں وہ دانے اگنے لگے اور چند مہینوں میں اسے گندم کی اچھی خاصی فصل مل گئی۔ اس نے اس…

Read more

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو اس نے محل کے صدر دروازے پر ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو پرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رہا تھا۔ بادشاہ نے اس کی طرف دیکھا تو ایک دوسرے دربان کی نسبت وہ بہت بوڑھا لگ رہا تھا، اور ساتھ ہی بہت کمزور بھی۔ بادشاہ نے اپنے دل میں سوچا کہ اس عمر میں اس نے اسے اس عہدے پر کیوں لگا رکھا ہے، لیکن پھر وہ اس کے پاس سے گزر گیا۔ بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا: “میاں! سردی نہیں لگ رہی؟” دربان نے جواب دیا: “بہت لگتی ہے حضور! مگر کیا کروں، گرم وردی ہے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ہے۔” بادشاہ کے دل میں رحم آیا۔ اس نے کہا: “میں ابھی محل کے اندر جا…

Read more

پولینڈ کے گہرے جنگلات میں ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں ایک لکڑہارا اور اس کی بیوی رہتے تھے۔ وہ اتنے غریب تھے کہ کبھی ان کے پاس کھانے کے لیے صرف ایک روٹی ہوتی اور کبھی کبھی وہ بھی نصیب نہ ہوتی۔ لکڑہارا دن بھر جنگل میں لکڑیاں کاٹتا اور پھر انہیں شہر لے جا کر بیچتا، مگر اس کی کمائی بمشکل ان کے دو وقت کے کھانے کے لیے کافی ہوتی تھی۔ ایک روز لکڑہارا بہت دکھی دل سے جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ بے حد ناانصافی کر رہا ہے اور اسے ایک اچھی زندگی نہیں دے سکا۔ اچانک اس کی نظر ایک بہت پرانے بلوط کے درخت پر پڑی جس کے تنے پر کچھ نقوش بنے ہوئے تھے۔ جب اس نے غور سے دیکھا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ نقوش دراصل ایک چھوٹے سے دروازے کی…

Read more

زمانۂ قدیم میں جب کہ زمین پر انسانوں کی آبادیاں وجود میں آ رہی تھیں اور معاشرے اپنی بنیادی اقدار کی تلاش میں تھے، دو ایسی ہستیاں پیدا ہوئیں جو ایک دوسرے کے مدِمقابل تھیں۔ ایک کا نام سچ تھا اور دوسرے کا جھوٹ ۔ یہ دونوں بھائی تھے، لیکن ان کی راہیں بالکل جدا تھیں۔ سچ ہمیشہ سیدھی راہ پر چلتا تھا، اس کی گفتگو میں شیرینی تھی اور اس کے چہرے پر نور تھا۔ جھوٹ ہمیشہ گول مول باتیں کرتا، اس کی آنکھوں میں چالاکی تھی اور اس کے دل میں ہمیشہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی خواہش ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ جھوٹ نے اپنے بھائی سچ کو ایک جال میں پھنسانے کا منصوبہ بنایا۔ اس نے ایک بہت بڑا اور قیمتی خنجر اپنے بھائی سچ کے پاس امانتاً چھوڑ دیا۔ سچ نے اپنے بھائی کے بھروسے کا احترام کرتے ہوئے خنجر کو ایک محفوظ جگہ رکھ دیا۔…

Read more

ایک دن، ایک سانپ سرک کر ایک آرام دہ خرگوش کے بل میں داخل ہو گیا۔ ننھے خرگوش کونے میں سمٹ گئے، خوف سے ساکت—انہوں نے پہلے کبھی اپنے گھر میں کسی شکاری کو نہیں دیکھا تھا۔ مگر سانپ نے نہایت نرم اور ملائم آواز میں پھنکار بھری: “براہِ کرم، مجھ سے مت ڈرو… میں بس بہت تنہا ہوں۔ میرا کوئی دوست نہیں، اور مجھے صرف ذرا سی محبت اور گرمجوشی چاہیے۔ میرے اندر صدیوں کی دانائی چھپی ہوئی ہے، اور میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اسے تمہارے ساتھ بانٹوں۔” خرگوشوں نے بے یقینی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، لیکن پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اسے ایک موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس کی کہانیاں سنیں، اس کے افسانے، اور اس کی مسحور کن سرگوشیاں۔ وہ ایک فلسفی کی طرح بولتا تھا۔ اور پھر، اچانک، اس نے ان میں سے ایک کو ڈس لیا… اور سایوں میں…

Read more

دو دوست ایک بینک میں ملازم تھے۔ انہیں عیدِ قربان کے لیے بکرا خریدنا تھا۔ وہ بینک سے سیدھے پینٹ کوٹ پہنے اور ٹائی لگائے مویشیوں کی منڈی پہنچ گئے۔ گاڑی پارک کرنے کے بعد انہوں نے منڈی کا جائزہ لیا کہ آخر شروعات کہاں سے کی جائے۔ سڑک کے دونوں اطراف تقریباً ایک کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر جانور ہی جانور نظر آ رہے تھے۔ جہاں گاڑی کھڑی کی تھی، وہیں سے بھاؤ تاؤ شروع کر دیا۔ جو بکرا آنکھوں کو ذرا بھاتا، اس کی قیمت پچاس ہزار کی حد باآسانی عبور کر رہی ہوتی تھی۔ چونکہ دن کی چائے پر دونوں نے اپنا بجٹ پچاس ہزار روپے مقرر کیا تھا، اس لیے انہوں نے ایسے بکروں پر نظر ڈالنی شروع کی جو قدرے کم خوبصورت اور جسامت میں دبلے پتلے ہوں۔ مگر انتہائی کوشش اور تلاش کے باوجود کوئی بھی بکرا ستر ہزار سے کم کا نہ ملا۔…

Read more

کہتے ہیں ایک بدو شہری بابو کا مہمان بنا۔ میزبان نے اس کی خاطر مدارت کے لیے مرغی ذبح کی۔ جب کھانا تیار ہوا تو گھر کے تمام افراد دسترخوان پر آ گئے۔ میزبان کے گھر میں چھ افراد تھے: دو میاں بیوی، ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں۔ میزبان نے سوچا کیوں نہ بدو کا مذاق اڑایا جائے۔ اس نے کہا:“آپ ہمارے مہمان ہیں، اس لیے مرغی کی تقسیم آپ ہی کریں۔” بدو نے عاجزی سے کہا، “مجھے تقسیم کا زیادہ تجربہ تو نہیں، البتہ اگر آپ کا اصرار ہے تو میں کر دیتا ہوں۔” اس نے مرغی کا سر کاٹا اور میزبان کو دیتے ہوئے کہا،“آپ گھر کے سربراہ ہیں، تو سربراہی کا تاج، یعنی مرغی کا سر، آپ کو مبارک ہو!” پھر اس نے پچھلا حصہ کاٹا اور میزبان کی بیوی کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا،“یہ خاتونِ خانہ کے لیے۔” پھر مرغی کے دونوں بازو کاٹ…

Read more

قدیم زمانے کی بات ہے کہ ہندوستان کے ایک گھنے اور پُرفضائو جنگل میں ایک نہایت طاقتور، درندہ صفت اور ظالم شیر رہتا تھا، جس کا نام “چترنگ” تھا۔ چترنگ اتنا وحشی اور خونخوار تھا کہ وہ دن بھر بے دریغ شکار کرتا اور جنگل کے دوسرے جانوروں کو اپنے رعب سے خوفزدہ رکھتا تھا۔ جنگل کے تمام جانور، ہرن سے لے کر خرگوش تک، شیر کے ظلم سے تنگ آ کر پریشان ہو گئے۔ ان کی بستیوں میں کوئی امن و سکون باقی نہ رہا تھا۔ آخر کار انہوں نے ایک بڑی اور خطرناک مجلس منعقد کی۔ ہاتھی، گینڈا، بھیڑیا، لومڑی، سانبھر اور یہاں تک کہ چھوٹا سا بے بس خرگوش بھی اس اجلاس میں شریک ہوا۔ مجلس میں فیصلہ ہوا کہ جنگل کے تمام جانور مل کر شیر چترنگ کے پاس جائیں گے اور اسے امن کی درخواست پیش کریں گے۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ ہر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں بندروں کی حکومت قائم ہو گئی۔ بندروں کا سردار نہایت خوش اخلاق اور زبردست مقرر تھا۔ اس نے تمام جانوروں سے وعدہ کیا کہ وہ جنگل کو “پیرس” جیسا خوبصورت بنا دے گا اور ہر طرف پھلوں کے باغات لگا دے گا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ بندر سردار محنت کے بجائے آسان راستہ اختیار کرنے کا عادی تھا۔ اس نے خود پھل اگانے کے بجائے ایک دوسرے طاقتور جنگل کے گدھوں سے دوستی کر لی۔ گدھوں نے اسے پیشکش کی:“تمہیں محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم تمہیں تیار پھل دیتے رہیں گے، بس بدلے میں اس جنگل کی لکڑی اور زمین ہمارے نام کر دو اور ہم سے قرض لے لو۔” بندر نے یہ سوچے بغیر کہ قرض واپس کیسے ہوگا، بہت زیادہ قرض لے لیا۔ اس میں سے کچھ رقم جنگل کی سجاوٹ اور دکھاوے کے منصوبوں پر…

Read more

‏یہ سن 1996 کی بات ہےجب لاہور کے اک تھیٹر میں کام کرنے والے میاں بیوی والدین بننے والے تھےاک دن روٹین کے چیک اپ کیلئے ہسپتال گئےتو ان کی خوشی کی انتہاء نہ رہی جب انہیں بتایا گیا کہ ان کے ہاں جڑواں بیٹوں کی ولادت ہوگیخیر سے بچے ہوگئےدلچسپ بات یہ کہ بچے ہمشکل بھی تھےوہ دونوں وقت کے ساتھ بڑے ہوئےتو انہیں یہ جان کر بہت صدمہ ہوا کہ ان کا اک بچہ گونگا ہے علاج کیلئے بہت گھومےمگر اتنا جان پائے کہ بچہ قابل علاج تو ہے مگر اس کیلئے امریکہ جانا پڑے گادونوں نے دن رات محنت کیمگراتنے پیسے جمع کر پائے کہ والدین میں سے صرف اک ہی بچے کے ساتھ ہی جایا جا سکتا تھاماں تھی، بیمار بچے کو کیسےخود سے جدا کر کے علاج کروا سکتی تھیآخر ماں اور بچے کا ویزہ لگوایا گیااک دن وہ امریکہ روانہ ہوگئےخاتون ائیرپورٹ سے بچے…

Read more

جاپان کے ایک چھوٹے سے پہاڑی گاؤں میں ایک کسان اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ کسان بڑا ہی نیک اور فرمانبردار بیٹا تھا۔ اس کی ماں بہت بوڑھی ہو چکی تھی، اس کے بال سفید ہو گئے تھے اور اس کی کمر جھک گئی تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں وہ چمک باقی تھی جو صدیوں کی حکمت دیتی ہے۔ ایک دن گاؤں میں ہنگامہ مچ گیا۔ شہزادے شینوبو نے ایک نیا حکم جاری کیا تھا: “تمام بوڑھوں کو شہر سے باہر اونچے پہاڑ پر چھوڑ آؤ۔ وہ معاشرے پر بوجھ ہیں۔” یہ سن کر پورے گاؤں میں چیخ و پکار مچ گئی۔ بوڑھے رونے لگے، جوان پریشان ہو گئے، لیکن شہزادے کے حکم کی مخالفت کرنے کی جرات کسی میں نہ تھی۔ کسان کا دل ٹوٹ رہا تھا۔ وہ اپنی ماں سے بے انتہا محبت کرتا تھا۔ اس کی ماں نے ہی اسے پالا تھا جب…

Read more

صدیوں پہلے جاپان کے ایک گھنے جنگل میں تین بہت گہرے دوست رہتے تھے۔ ایک لومڑ، ایک بندر اور ایک خرگوش۔ یہ تینوں بہت مختلف تھے، لیکن ان کی دوستی بے مثال تھی۔ لومڑ بہت چالاک تھا۔ وہ جنگل کے ہر راستے کو جانتا تھا اور شکار کرنے میں ماہر تھا۔ بندر بہت پھرتیلا تھا۔ وہ درختوں پر چڑھ کر میٹھے میٹھے پھل لاتا تھا۔ اور خرگوش۔ خرگوش بہت کمزور تھا، لیکن اس کا دل سب سے بڑا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے دوستوں کے کام آتا، چاہے اسے کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ ان کی دوستی کا اصول تھا — جب کسی کو کھانے کی ضرورت ہوتی، باقی دو اس کی مدد کرتے۔ جب کسی کو پناہ کی ضرورت ہوتی، باقی دو اس کے لیے جگہ بناتے۔ وہ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے تھے۔ ایک دن چاند پر رہنے والے بوڑھے نے زمین کی طرف دیکھا۔ اس کی…

Read more

وقت کی گرد میں لپٹا ہوا وہ دور،جب مصر کی سرزمین پر ایک ایسا بادشاہ حکمران تھا جس کے غرور کی بلندیوں کو دیکھ کر آسمان بھی حیران رہ جاتا تھا۔وہ خود کو رب کہتا تھااور لوگ، خوف کے سائے میں، اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب زمین پر طاقت ہی سچ تھی، اور کمزوری جرم۔ لیکن قدرت کا ایک عجیب اصول ہےوہ ہمیشہ سب سے بڑی طاقت کو سب سے کمزور ہاتھوں سے شکست دیتی ہے۔ فرعون کے محلاتسنگِ مرمر کے ستون، سونے سے مزین دیواریں، چمکتے ہوئے فانوس، اور غلاموں کی قطاریںظاہر میں سب کچھ شان و شوکت کا مظہر تھا، مگر باطن میں خوف، ظلم اور بے یقینی کا راج تھا۔ ایک پیشگوئی نے اس کی نیندیں چھین لی تھیں: “بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا، جو تیری سلطنت کو ختم کر دے گا۔” یہ جملہ اس کے لیے…

Read more

وہ زمانہجب زمین پر ایک ایسی سلطنت قائم تھیجس کی مثال نہ پہلے کبھی دیکھی گئی، نہ بعد میں ہوا غلام تھیجنات تابع تھےپرندے لشکر کا حصہ تھےاور انسان، ایک عظیم بادشاہ کے حکم کے پابندیہ سلطنت تھیحضرت سلیمان علیہ السلام کی حضرت سلیمانؑ صرف بادشاہ نہیں تھےوہ نبی بھی تھے ان کے حکم پر:ہوا تیز رفتاری سے چلتیجنات محلات بناتےسمندر سے موتی نکالے جاتےپرندے پیغام رسانی کرتے یہ وہ طاقت تھیجس پر انسان تو کیاجنات بھی حیران تھے جنات، جو انسانوں سے زیادہ طاقتور سمجھے جاتے تھےاپنی قوت پر نازاں تھے وہ سمجھتے تھے کہ: ہم سب کچھ جانتے ہیں ہم ہر راز تک پہنچ سکتے ہیں مگر ایک چیز تھیجو ان کے علم سے باہر تھی“غیب” حضرت سلیمانؑ نے جنات کو ایک عظیم کام پر لگا رکھا تھا۔ بیت المقدس کی تعمیر یہ کام آسان نہ تھامحنت طلب بھی تھا، اور مسلسل بھیجنات یہ کام کر رہے تھےلیکن…

Read more

دور دور کے زمانے کی بات ہے کہ ایک بادشاہ تھا جو اپنی ظلم و جور کی وجہ سے مشہور تھا۔ اس کی رعایا اس سے بے حد خوفزدہ تھی۔ لوگ اس کی موت کی دعائیں مانگتے تھے اور اس کے تخت کے الٹ جانے کی آرزو رکھتے تھے۔ مظلوموں کی آہیں آسمان تک پہنچ رہی تھیں، لیکن بادشاہ اپنی روش پر ڈٹا ہوا تھا۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ پوری دنیہ حیران رہ گئی۔ اس ظالم بادشاہ نے اعلان کر دیا کہ وہ اپنی سابقہ عادات کو ترک کر رہا ہے اور اب وہ کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ اس نے وعدہ کیا کہ اس کی حکومت اب انصاف اور مساوات پر قائم ہوگی۔ لوگوں کو یقین نہ آیا، لیکن جب کئی مہینے گزر گئے اور بادشاہ اپنے وعدے پر قائم رہا تو رعایا نے اسے داد دینا شروع کر دی۔ لوگ اب اسے برکتوں سے یاد…

Read more

عام طور پر کہانیوں میں بھیڑیا کو چالاک اور ظالم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر یہ قصہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک بار جنگل کے بادشاہ شیر نے ایک بوڑھے بھیڑیے کو اپنی غار کی نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی۔ شیر کا خیال تھا کہ بھیڑیا لالچ میں آسانی سے قابو میں آ جائے گا، اس لیے وہ اسے گوشت دے کر خوش رکھتا تھا۔ ایک رات شیر شکار پر چلا گیا۔ اسی دوران ایک لومڑی غار کے قریب آئی اور بھیڑیے سے آہستہ آواز میں کہا: “تم شیر کی خدمت کیوں کر رہے ہو؟ آؤ! غار میں موجود گوشت آپس میں بانٹ لیتے ہیں اور یہاں سے نکل چلتے ہیں۔” بھیڑیا مسکرا کر بولا: “مجھے گوشت کی بھوک نہیں، بلکہ اس اعتماد کی قدر ہے جو شیر نے مجھ پر کیا ہے۔ اگر آج میں نے بے وفائی کی تو کل پورا جنگل یہی…

Read more

جنگل میں 🐯 شیر نے اعلان کیا کہ اب جنگل کا “خزانچی” رکھا جائے گا۔ جو سب سے ہوشیار ہو گا، وہی منتخب ہو گا 😎 🐺 لومڑی نے فوراً اپنا نام دے دیا۔ انٹرویو لینے کی ذمہ داری 🦉 الو کو ملی کیونکہ وہ رات کو جاگتا ہے اور سب کی خبریں رکھتا ہے۔ پہلے دن لومڑی آئی۔ الو نے پوچھا “خزانے کی رکھوالی کیسے کرو گی؟”لومڑی بولی “جی سر، آنکھیں بند کر کے۔ تاکہ لالچ نہ آئے” 😇 الو نے ایک زور دار چونچ ماری 👋 “جھوٹ کیوں بولتی ہو؟ آنکھیں بند کر کے تو تم خود خزانہ کھا جاؤ گی۔” اگلے دن لومڑی پھر آئی۔ الو: “چلو بتاؤ، اگر کوئی چوری کرے تو کیا کرو گی؟”لومڑی: “جی سر، میں شور مچا دوں گی۔”الو نے پھر چونچ ماری 👋 “جھوٹ۔ تم تو خود چوروں کی سردار ہو۔” تیسرے دن لومڑی تنگ آ کر 🐯 شیر کے پاس چلی…

Read more

*ایک پروفیسر ٹرین میں سفر کر رہا تھا کہ ایک کسان ساتھ آ کر بیٹھ گیا…* پروفیسر کو لگا کہ سفر لمبا ھے، کیوں نہ کچھ ذہنی ورزش کر لی جائے…؟؟ اس نے کسان کی طرف دیکھا، جو بڑے مزے سے مونگ پھلی کھا رہا تھا، اور بولا : پروفیسر (عینک ٹھیک کرتے ہوئے) : “چلو ایک گیم کھیلتے ھیں…! میں تم سے ایک سوال پوچھوں گا، اگر تم جواب نہ دے سکے تو مجھے 100 روپے دینا ھوں گے، پھر تم مجھ سے سوال پوچھو گے، اگر میں نہ بتا سکا تو میں تمہیں 1000 روپے دوں گا۔” 😎💁‍♂️ کسان (سوچتے ہوئے) : “یعنی یا تو 100 کا نقصان یا 1000 کا فائدہ…؟ یہ تو وھی بات ہوئی کہ بکری پالوں، دودھ ملے تو ٹھیک، نہ ملے تو گوشت کا فائدہ…! ٹھیک ھے، چلو کھیلتے ھیں…!” پروفیسر (اکڑ کر) : “زمین اور چاند کے درمیان فاصلہ کتنا ھے…؟” کسان…

Read more

دور دور کے زمانے کی بات ہے کہ ایک بادشاہ تھا جسے جھوٹ سے سخت نفرت تھی۔ اس نے اپنی مملکت میں حکم دے رکھا تھا کہ جو بھی جھوٹ بولے گا، اسے سخت جرمانہ دینا پڑے گا اور اس کی زبان کاٹ لی جائے گی۔ اس حکم سے پورے شہر میں خوف طاری ہو گیا، لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ جھوٹ بولنے سے باز نہ آتے تھے۔ ایک دن بادشاہ نے سوچا کہ وہ خود بھیس بدل کر شہر میں نکلیں گے اور لوگوں کے اخلاق کا خود مشاہدہ کریں گے۔ چنانچہ بادشاہ نے سادہ کپڑے پہنے اور اپنے وزیر کے ساتھ شہر کی گلیوں میں نکل پڑا۔ شام کا وقت تھا اور سورج ڈھلنے لگا تھا۔ بادشاہ اور وزیر شہر کے ایک گوشے میں پہنچے تو ان کی نظر ایک چھوٹی سی دکان پر پڑی۔ وہاں ایک تاجر بیٹھا اپنا سامان سجا رہا تھا۔ بادشاہ نے تاجر…

Read more

تصور کریں… سال 1218ء کا وسط ہے۔ دنیا کے سب سے خونخوار فاتح، چنگیز خان نے چین کو فتح کرنے کے بعد ایک طاقتور اور وسیع مسلم سلطنت کے حکمران کو دوستی اور تجارت کا پیغام بھیجا ہے۔ چنگیز خان کے بھیجے ہوئے 450 تاجروں کا ایک پرامن تجارتی قافلہ سونا، چاندی، ریشم اور قیمتی تحائف لے کر اس مسلم سلطنت کے سرحدی شہر ‘اترار’ (Otrar) پہنچتا ہے۔ لیکن اس شہر کا حاکم ایک انتہائی مغرور اور لالچی انسان تھا۔ اس نے ان تاجروں کو جاسوس قرار دے کر قتل کروا دیا اور سارا مال لوٹ لیا۔ چنگیز خان کو جب یہ خبر ملی تو اس نے غصے پر قابو رکھا اور اس مسلم شہنشاہ کو ایک آخری موقع دیتے ہوئے اپنے 3 خاص سفیر بھیجے تاکہ وہ اس سرحدی حاکم کو سزا دے۔ اس مسلم شہنشاہ نے تاریخ کی سب سے بڑی اور ہولناک حماقت کی۔ اپنے غرور کے…

Read more

40/494
NZ's Corner