Tag Archives: bloganuary

ایک پریشان حال شوہر ڈاکٹر کے پاس گیا اور کہا، “ڈاکٹر صاحب! مجھے لگتا ہے کہ میری بیوی بالکل بہری ہو چکی ہے۔ مجھے کئی بار اپنی بات دہرانا پڑتی ہے،. . تب کہیں جا کر وہ جواب دیتی ہے۔ بتائیں کیا کروں؟” ڈاکٹر نے مشورہ دیا، “پہلے اس بات کا یقین کرلو کہ واقعی وہ اونچا سنتی ہے۔ پھر اسے چیک اپ کے لیے یہاں لے آنا۔ تم ایسا کرو، آج گھر جا کر 15 فٹ کے فاصلے سے اپنی بیوی سے کوئی بات کہو اور اس کا ردعمل دیکھو۔ اگر وہ جواب نہ دے تو 10 فٹ کے فاصلے سے وہی بات دہراؤ۔ پھر بھی نہ سنے تو 5 فٹ کی دوری سے کوشش کرو، اور اگر تب بھی جواب نہ ملے تو بالکل پاس جا کر پوچھو۔ اس سے ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ بہرہ پن کی شدت کتنی ہے، اور علاج میں آسانی رہے گی۔”…

Read more

ایک بادشاہ ایک گاؤں سے گزر رہا تھا۔ اچانک اُس کے راستے میں ایک بوڑھی عورت آکر کھڑی ہوگی، اور بولی ” اے بادشاہ تو میرے ساتھ انصاف یہاں کریں گا، یا قیامت کے دن پل صراط پر”یہ سن کر بادشاہ کانپ گیا، وہ فوراً بولا اماں “مجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ میں پل صراط پر فیصلہ کروں، میں یہیں انصاف کروں گا” بتا تجھے کس نے پریشان کیا؟بوڑھی عورت نے کہا ” کل تیری فوج کے سپاہی یہاں سے گزارے انہوں نے میری گائے ذبح کر کے کھا لی۔ میری روزی کا صرف وہ ہی ذریعہ تھی۔ میرے تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، اب میں اُن کی پرورش کیسے کروں گئ؟”یہ سن کر بادشاہ کو بڑا دکھ ہوا اور اُس نے اپنے وزیر کو کہہ کر بوڑھی عورت کو ستر گائے دلوا دی۔یہ تھے  “سلطان الپ ارسلان” سلجوقی سلطنت کے عظیم سلطان جو بہادری شجاعت میں بھی بےمثال…

Read more

ایک دن ایک حکمران اپنے محل کے بلند و بالا کمرے میں آرام فرما رہا تھا کہ باہر سے ایک دیہاتی کی صدا سنائی دی:“سیب لیجیے! تازہ سیب!” حاکم نے کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا کہ ایک یمنی کسان — چہرے پر دھوپ سے جھلسی جھریاں، سادہ عمامہ اور گرد آلود چغہ پہنے — اپنے نحیف گدھے پر دونوں طرف دو ٹوکریاں لادے بازار کی طرف جا رہا ہے، جن میں سرخ و رسیلے سیب بھرے ہوئے ہیں۔ بادشاہ کے دل میں سیب کھانے کی خواہش جاگی۔ اُس نے وزیر کو بلایا اور حکم دیا:“خزانے سے پانچ سونے کے سکے لے لو اور میرے لیے ایک بہترین سیب لاؤ!” وزیر نے خزانے سے پانچ سکے نکالے اور اپنے معاون سے کہا:“یہ چار سونے کے سکے لے لو، اور بادشاہ سلامت کے لیے ایک سیب خرید لاؤ۔” معاون نے تین سکے رکھے، باقی محل کے منتظم کو دیے اور کہا:“یہ تین…

Read more

یہ کہانی ہمت، ذمہ داری اور بلند کردار کی ایک بہترین مثال ہے۔ چھوٹی کوششیں، اصل کردار کی پہچانایک قدیم جنگل اچانک افراتفری کا شکار ہو گیا۔ ایک ہولناک آگ درختوں میں پھیل گئی، گہرے دھوئیں نے آسمان کو ڈھانپ لیا اور ٹہنیاں ٹوٹ کر گرنے لگیں۔ تمام جانور خوفزدہ ہو کر بھاگنے لگے۔ یہاں تک کہ سب سے طاقتور جانور— شیر، چیتے اور ٹائیگر— بھی صرف ایک ہی فکر میں تھے: کسی طرح یہاں سے نکل کر جان بچائی جائے۔تب ایک چھوٹی سی ہستی نے اس کے بالکل الٹ کیا۔ 🌿ہاتھی کا ایک بچہ قریب کی ندی کی طرف بھاگا، اپنی ننھی سی سونڈ میں پانی بھرا، تیزی سے واپس پلٹا اور جنگل کے جلتے ہوئے کنارے پر پانی چھڑکنے لگا۔ اس نے یہ عمل بار بار دہرایا۔تھکن سے اس کی چھوٹی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ تپش سے اس کی سونڈ دکھنے لگی تھی، لیکن وہ مسلسل ندی اور…

Read more

اصحابِ سبت کا واقعہ صرف ایک تاریخی قصہ نہیں، بلکہ انسانی فطرت، لالچ، اور ذمہ داری کا ایک گہرا سبق ہے جو آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا اُس وقت تھا۔ یہ واقعہ بنی اسرائیل کے ایک ساحلی قبیلے کا ہے، جو حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں پیش آیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں واضح حکم دیا تھا کہ ہفتے کا دن (سبت) صرف عبادت کے لیے مخصوص ہے۔ اس دن دنیاوی کام، خاص طور پر مچھلیوں کا شکار، سختی سے منع تھا۔ لیکن آزمائش بھی وہیں آتی ہے جہاں انسان کمزور ہو، یہ لوگ سمندر کے کنارے رہتے تھے، اور ان کی معیشت مچھلیوں پر تھی۔ حیران کن بات یہ تھی کہ ہفتے کے دن مچھلیاں جھنڈ کے جھنڈ ساحل کے قریب آ جاتیں، اور باقی دنوں میں کم ہو جاتیں۔ گویا یہ ایک واضح امتحان تھا:اطاعت یا خواہش؟ ⚖️ تین گروہ، تین رویے وقت کے ساتھ…

Read more

سمندر کی لہروں میں گھوڑا اور وہ جنگجو جس کے لیے زمین کم پڑ گئی… تصور کریں… 7ویں صدی عیسوی کا اختتام ہے۔ ایک عرب کمانڈر افریقہ کے آخری کنارے پر کھڑا ہے۔ اس کے گھوڑے کے قدم بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) کی تاریک اور بپھری ہوئی لہروں میں دھنسے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی تلوار آسمان کی طرف بلند کرتا ہے، حدِ نگاہ تک پھیلے ہوئے پانی کو دیکھتا ہے، اور تاریخ کا وہ لافانی جملہ کہتا ہے: “اے اللہ! اگر یہ کالا سمندر میرا راستہ نہ روکتا، تو میں تیری راہ میں لڑتا ہوا زمین کے آخری کنارے تک چلا جاتا!” یہ کوئی دیومالائی یا افسانوی کردار نہیں تھا، بلکہ یہ تاریخِ اسلام کے سب سے عظیم اور نڈر جرنیلوں میں سے ایک، عقبہ بن نافع (Uqba ibn Nafi) تھے۔ یہ اس فاتح کی سچی داستان ہے جس نے پورے شمالی افریقہ (موجودہ لیبیا، تیونس، الجزائر اور مراکش) کا…

Read more

دنیا کے فاتح کی فوج کا خوف اور دیوہیکل درندوں کی چنگھاڑ: جنگِ جہلم (Battle of Hydaspes) کی سچی داستان تصور کریں… مئی 326 قبل مسیح۔ آدھی دنیا کو روندنے والی یونانی فوج، جس نے کبھی شکست کا ذائقہ نہیں چکھا تھا اور جس کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے سلطنتیں کانپتی تھیں، آج دریائے جہلم کے کنارے خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی۔ ان کے سامنے مون سون کی بارشوں سے بپھرا ہوا طوفانی دریا تھا، اور دریا کے اس پار ایک ایسا خوفناک منظر تھا جسے دیکھ کر سکندرِ اعظم کے مایہ ناز جرنیلوں کے بھی پسینے چھوٹ گئے۔ دریا کے اس پار کالے بادلوں کے سائے میں سینکڑوں دیوہیکل ‘جنگی ہاتھی’ کھڑے تھے، جن کی چنگھاڑ سے زمین ہل رہی تھی۔ یونانیوں نے اپنی زندگی میں کبھی ہاتھی نہیں دیکھے تھے، اور انہیں لگ رہا تھا جیسے ان کا مقابلہ انسانوں سے نہیں، بلکہ پہاڑ جیسے درندوں…

Read more

1528ء کا ایک شاہی دسترخوان… ہندوستان کا بانی اور مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر اپنے امراء کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر دسترخوان پر بیٹھے ایک معمولی افغان فوجی پر پڑی۔ اس فوجی کے سامنے جب ایک ثابت اور سخت گوشت کا ٹکڑا رکھا گیا، تو اس نے پریشان ہونے کے بجائے انتہائی بے نیازی سے اپنا خنجر نکالا، گوشت کے ٹکڑے کیے اور سکون سے کھانے لگا۔ بابر، جو چہروں کو پڑھنے کا ماہر تھا، فوراً چونک اٹھا۔ اس نے اپنے وزیر خلیفہ سید نظام الدین کو قریب بلا کر سرگوشی کی: “اس افغان پر کڑی نظر رکھنا، مجھے اس کی پیشانی پر بادشاہت کے آثار اور آنکھوں میں ایک طوفان نظر آ رہا ہے۔” بابر کی یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔ یہ وہ شخص تھا جس نے بابر کے بیٹے ہمایوں کو نہ صرف شکست دی، بلکہ اسے ہندوستان سے…

Read more

سلطنتوں کی تاریخ میں بادشاہ بہت گزرے، فتوحات بھی بہت ہوئیں، خزانے بھی بھرے رہے،لیکن اصل عظمت ہمیشہ عدل، جواب دہی اور مظلوم کی آواز سننے سے پہچانی گئی۔ یہ واقعہ اسی سچائی کی ایک زندہ تصویر ہے۔ سلطان محمود غزنوی کے دور میں ایک دور دراز پہاڑی خطے میں ڈاکوؤں نے اچانک حملہ کیا۔یہ لوگ نہ صرف راستوں کو غیر محفوظ بناتے تھے بلکہ بستیوں میں گھس کر لوٹ مار بھی کرتے۔انہی حملوں میں ایک بوڑھی عورت کا گھر بھی اجڑ گیا۔زندگی بھر کی جمع پونجی، سامان اور ضروری اشیاء سب چھن گئیں۔ اس کے پاس نہ طاقت تھی، نہ کوئی سہارا،مگر اس کے پاس ایک چیز تھی: حق کا یقین اور دل کی جرأت۔ وہ سیدھی سلطان محمود کے دربار میں پہنچ گئی۔دربار وہ جگہ تھی جہاں وزراء، امراء اور سپہ سالار بھی کانپتے تھے۔ مگر یہ بوڑھی عورت نہیں کانپی۔ اس نے صاف کہا:“آپ اللہ کی طرف…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک زہریلا سانپ ایک بھاری چٹان کے نیچے پھنس گیا۔ وہ تڑپ رہا تھا، پھنکار رہا تھا اور مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ وہاں سے گزرتی ہوئی ایک عورت نے اس کی یہ حالت دیکھی اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے چٹان کو ایک طرف دھکیل دیا۔جیسے ہی سانپ آزاد ہوا، وہ اس کی طرف مڑا اور بڑی بے رخی سے بولا:’’میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جو بھی میری مدد کے لیے ہاتھ بڑھائے گا، میں اسے ڈس لوں گا۔‘‘عورت حیرت سے سن رہ گئی۔’’لیکن میں نے تو ابھی تمہاری جان بچائی ہے۔ تم میری نیکی کا بدلہ برائی سے کیسے دے سکتے ہو؟‘‘سانپ نے سکون سے جواب دیا: ’’میں تمہیں پھر بھی ڈسوں گا، کیونکہ یہ میری فطرت ہے، اور فطرت کبھی نہیں بدلتی، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔‘‘عورت نے اپنا حوصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا:’’چلو تھوڑا آگے چلتے ہیں اور…

Read more

14ویں صدی کا اوائل… تصور کریں ایک 100 سال سے زائد عمر کا انتہائی ضعیف لیکن دیوہیکل جنگجو، جس کی سفید داڑھی ہوا میں اڑ رہی ہے، لیکن اس کے ہاتھوں میں اب بھی ایک ایسا بھاری بھرکم کلہاڑا (Axe) ہے جسے اٹھانا عام جوانوں کے بس کی بات نہیں۔ اس شخص نے ارطغرل غازی کے ساتھ خانہ بدوشی کے خیمے گاڑے، عثمان غازی کو انگلی پکڑ کر جنگ کرنا سکھایا اور سلطنت کی بنیاد رکھی، اور پھر اورہان غازی کے ساتھ مل کر بازنطینی قلعوں کو فتح کیا۔ یہ تاریخ کے ان چند گنے چنے جنگجوؤں میں سے ایک، ترگت الپ (Turgut Alp) کی سچی کہانی ہے، جنہوں نے ایک قبیلے کو سلطنت بنتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سلطنتِ عثمانیہ کے تین عظیم حکمرانوں (ارطغرل، عثمان، اور اورہان) کی تلوار بن کر خدمت کی۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ وفاداری اور بہادری کی عمر کتنی طویل ہو…

Read more

ایک جنگل میں ایک بڑا زبردست اور طاقتور ہاتھی رہا کرتا تھا ۔ اور اُسی جنگل میں بہت سے گیدڑ بھی رہا کرتے تھے۔ ایک دن ایک گیدڑ نے کہا۔ خدا نے اس ہاتھی کو کتنا بڑا جسم دیا ہے ۔ اگر ہم بھی اتنے بڑے ہوتے ۔ تو جنگل پر ہمارا ہی راج ہوتا ۔ یہ سن کر ایک بڑھے گیدڑ نے جواب دیا ۔ میاں یہ کیا کہہ رہے ہو۔ خدا نے جسم موٹا تازہ ہاتھی کو دیا ہے مگر عقل کی دولت تو ہماری ہی قوم کو ملی ہے ۔ چاہیں تو اس ہاتھی کو ایک دن میں مار دیں ۔ نوجوان گیدڑ نے حیران ہوکر پوچھا ۔ بڑے میاں کیا یہ سچ مچ ہو سکتا ہے ۔ میرا تو خیال ہے ۔ کہ ہم جنگل کے سارے گیدڑ مل جائیں ۔ تب بھی ہاتھی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ ذرا سوچھ تو سہی ہماری اوقات…

Read more

تھیسالیوں کا پاؤسانیاس نہایت دولت مند اور بااثر حکمران تھا. وہ سکندر کی ماں اولمپیا کو حاصل کرنے کا خواہشمند تھا اس نے چند طاقتور آدمیوں کو بہت سا مال و دولت دے کر اولمپیا کے پاس بھیجا تاکہ وہ اسے فلپ کو چھوڑ کر اس سے شادی کرنے پر آمادہ کریں. اولمپيا راضی نہ ہوئی تو پاؤسانیاس فلپ کو قتل کرنے اور اولمپیا کو حاصل کرنے کے ارادے سے تھیٹر کی طرف چل پڑا. وہ جانتا تھا کہ سکندر جنگی مہم میں مصروف تھا. فلپ اولمپک تھیٹر میں مقابلے دیکھ رہا تھا کہ ہتھیاروں سے مسلح پاؤسانیاس اپنے چند معزز ساتھیوں کے ساتھ وہاں آ دھمکا. وہ تیر کی طرح سیدھا فلپ کے پاس گیا اور تلوار سے اس کے سینے پر وار کیا. فلپ شدید زخمی ہو گیا. تھیٹر میں ہنگامہ برپا ہو گیا. وہاں سے پاؤسانیاس محل کی طرف بھاگا تاکہ اولمپيا کو اپنے قبضے میں لے…

Read more

سلطان صلاح الدین ایوبی عدل و انصاف اور دانائی کے لیے پوری دنیا میں مشہور تھے۔ ایک دن وہ اپنے چند سپاہیوں کے ساتھ شہر کا جائزہ لینے نکلے ہوئے تھے۔ راستے میں وہ ایک پرانے کنویں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں بہت زیادہ بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ لوگ قطاروں میں کھڑے تھے اور کچھ لوگ مٹکے اور مشکیزے بھر کر لے جا رہے تھے۔سلطان کو حیرت ہوئی کہ آخر ایک عام سے کنویں پر اتنی بھیڑ کیوں ہے۔ انہوں نے اپنے ایک سپاہی کو حکم دیا کہ جا کر معلوم کرے کہ معاملہ کیا ہے۔ سپاہی واپس آیا اور عرض کیا،“حضور! یہ کنواں ایک شخص کی ملکیت ہے اور اس کا پانی بہت میٹھا ہے۔ لوگ دور دور سے یہاں آتے ہیں اور اس شخص سے پانی خرید کر لے جاتے ہیں۔”سلطان یہ سن کر مزید حیران ہوئے۔ انہوں نے سوچا کہ اللہ کی…

Read more

ہندوستان کا بادشاہ جنگل میں تنہا گھوڑا دوڑا رہا تھا۔ تیز رفتار گھوڑے پر سوار، ہرن کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے بہت دور نکل گیا تھا۔ کئی میل تک گھوڑے نے برق رفتار ہرن کا تعاقب کیا، لیکن آخرکار وہ گھنی جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ سخت گرمی کا زمانہ تھا، دوپہر کا وقت تھا۔ گرم ہوا سے جسم جھلس رہا تھا، پیاس کی شدت سے ہونٹ خشک تھے اور حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ شاہجہاں نے گھوڑا روک کر جسم سے پسینہ پونچھا اور سوچنے لگا کہ اب پانی کی تلاش میں کدھر جائے۔ گھوڑا بھی گرمی کی شدت سے ہانپ رہا تھا۔ کئی میل چلنے کے بعد کسی بستی کے آثار نظر نہ آئے، البتہ بہت دور کچھ جانور چرتے نظر پڑے اور بانسری کی آواز بھی تیز جھونکوں کے ساتھ محسوس ہوئی۔ بادشاہ نے اسی سمت اپنے گھوڑے کی باگ موڑ دی۔ چند میل چلنے…

Read more

ایک بادشاہ تھا، اس کا ایک پیر و مرشد تھا جن کے بے شمار مرید اور عقیدت مند تھے۔ ایک دن بادشاہ نے خوش ہو کر اپنے مرشد سے کہا:آپ بہت خوش نصیب انسان ہیں، آپ کے ماننے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ گنی بھی نہیں جا سکتی۔ مرشد مسکرائے اور فرمانے لگے:ان میں سے صرف ڈیڑھ آدمی ایسا ہے جو واقعی میرا سچا ماننے والا ہے، جو مجھ پر جان نچھاور کر سکتا ہے، باقی صرف نام کے مرید ہیں۔ بادشاہ یہ سن کر حیران رہ گیا اور عرض کیا:پچاس ہزار میں سے صرف ڈیڑھ؟ مرشد نے فرمایا:اگر ان کے نفس کا امتحان لیا جائے تو حقیقت سامنے آ جائے گی۔ چنانچہ ایک ٹیلے پر فوراً ایک جھونپڑی بنوائی گئی۔ مرشد نے اس جھونپڑی میں خفیہ طور پر دو بکرے باندھ دیے، کسی کو اس بات کا علم نہ تھا۔ پھر مرشد باہر آئے اور بلند آواز…

Read more

بہت پرانے زمانے میں بحرین کے ساحل پر ایک غریب ماہی گیر رہتا تھا۔ اس کا نام عبداللہ تھا۔ وہ بہت بوڑھا تھا، اس کی بیوی بیمار تھی، اس کے تین بچے تھے، اور اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ وہ ہر روز صبح سویرے اٹھتا، اپنا جال لیتا، سمندر پر جاتا، اور مچھلیاں پکڑتا۔ لیکن اسے کبھی زیادہ مچھلیاں نہیں ملتی تھیں  بس اتنی کہ بچوں کو بھوکا نہ رہنا پڑے۔ ایک دن اس نے جال ڈالا۔ جب اسے کھینچا تو وہ بہت بھاری تھا۔ اس نے سوچا: “آج بہت سی مچھلیاں آئی ہوں گی۔” اس نے پوری طاقت سے جال کھینچا۔ جال باہر آیا تو اس میں مچھلیاں نہیں تھیں، ایک بند تانبے کا مٹکا تھا۔ مٹکا بہت پرانا تھا، اس پر مہر لگی ہوئی تھی، اور وہ سیسے سے بند تھا۔ عبداللہ نے مٹکا اٹھایا، اسے کھولا، اور اندر دیکھا۔ مٹکے میں سے سفید دھواں…

Read more

ایک شہر میں ایک قاضی صاحب رہتے تھے۔ بظاہر نہایت سنجیدہ، باوقار اور دیانتدار شخصیت کے مالک… مگر ایک معاملے میں انہوں نے ایسی راہ اختیار کر لی جو آگے چل کر ان کے لیے آزمائش بن گئی۔ انہوں نے خاموشی سے دوسری شادی کر لی…مگر پہلی بیگم کو اس کا علم نہ ہونے دیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ پہلی بیگم نہ صرف سمجھدار تھیں بلکہ ایک مضبوط خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اگر بات کھل جاتی، تو صرف گھر نہیں بلکہ پورا خاندان میدان میں آ جاتا۔ وقت گزرتا گیا…مگر انسان چاہے جتنا بھی راز چھپائے، رویے بدل ہی جاتے ہیں۔ بیگم نے محسوس کیا کہ قاضی صاحب کے انداز، ان کی باتوں کا لہجہ، ان کی مصروفیات سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہا۔شک نے جنم لیا… اور پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے: باتوں سے بحث،بحث سے تکرار،اور تکرار سے جھگڑا۔ قاضی صاحب نے ہر ممکن کوشش کی…

Read more

حضرت ذوالنون مصریؒ ایک دن دریا کے کنارے خاموشی سے بیٹھے مراقبے میں مشغول تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک بچھو پر پڑی جو پانی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اتنے میں ایک کچھوا نمودار ہوا، بچھو اس کی پیٹھ پر سوار ہوا اور کچھوا اسے دریا کے دوسرے کنارے لے گیا۔ یہ عجیب منظر دیکھ کر حضرت ذوالنون مصریؒ حیران رہ گئے کہ آخر ایک زہریلے جانور کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ کیسا انتظام فرمایا ہے؟ آپ بھی دریا پار کر کے آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک نوجوان درخت کے سائے تلے گہری نیند میں سو رہا ہے، اور ایک کالا سانپ اس کے قریب پہنچ چکا ہے، جیسے ہی وہ اسے ڈسنے والا تھا— اسی لمحے وہی بچھو وہاں پہنچا اور اس نے سانپ کو ڈنک مار دیا۔ سانپ تڑپ کر مر گیا اور بچھو خاموشی سے واپس لوٹ گیا۔ جب نوجوان کی آنکھ کھلی…

Read more

قدیم یونان کے شہر ایتھنز میں ایک ایسا شخص گزرا ہے جس کے ہاتھوں میں جادو تھا۔ اس کا نام تھا ڈیڈیلس۔ وہ لکڑی، پتھر اور دھات کا ایسا ماہر تھا کہ لوگ کہتے تھے: “دیوتاؤں نے اسے خاص تحفہ دیا ہے۔” وہ پہلا شخص تھا جس نے چیزوں کو گوند سے جوڑنا سیکھا۔ اس نے مجسمے بنائے جو خود چلتے پھرتے تھے، اس نے ایسی مشینیں بنائیں جو پانی اٹھا لے جاتی تھیں، اس نے تعمیر کے ایسے راز دریافت کیے جو آج بھی معماروں کو حیران کر دیتے ہیں۔ ایتھنز کے لوگ اسے “عظیم کاری گر” کہتے تھے۔ بادشاہ اسے اپنے محل بلاتا، شہزادے اس سے فن سیکھتے، اور عام لوگ اس کے کام کو دیکھ کر حیران رہ جاتے۔ ڈیڈیلس کو اپنی مہارت پر بہت فخر تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس جیسا کوئی نہیں۔ ڈیڈیلس کی ایک بہن تھی جس کا نام تھا پولی کاسٹی۔ اس…

Read more

60/494
NZ's Corner