ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک زہریلا سانپ ایک بھاری چٹان کے نیچے پھنس گیا۔ وہ تڑپ رہا تھا، پھنکار رہا تھا اور مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ وہاں سے گزرتی ہوئی ایک عورت نے اس کی یہ حالت دیکھی اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے چٹان کو ایک طرف دھکیل دیا۔
جیسے ہی سانپ آزاد ہوا، وہ اس کی طرف مڑا اور بڑی بے رخی سے بولا:
’’میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جو بھی میری مدد کے لیے ہاتھ بڑھائے گا، میں اسے ڈس لوں گا۔‘‘
عورت حیرت سے سن رہ گئی۔
’’لیکن میں نے تو ابھی تمہاری جان بچائی ہے۔ تم میری نیکی کا بدلہ برائی سے کیسے دے سکتے ہو؟‘‘
سانپ نے سکون سے جواب دیا: ’’میں تمہیں پھر بھی ڈسوں گا، کیونکہ یہ میری فطرت ہے، اور فطرت کبھی نہیں بدلتی، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔‘‘
عورت نے اپنا حوصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا:
’’چلو تھوڑا آگے چلتے ہیں اور جو پہلا جانور ملے گا اس سے پوچھتے ہیں کہ ہم میں سے کون صحیح ہے۔ اگر وہ تمہاری بات سے اتفاق کرے گا، تو تم جو چاہو کر لینا۔‘‘
جلد ہی انہیں ایک بھیڑیا ملا۔ دونوں کا موقف سننے کے بعد بھیڑیے نے سوچتے ہوئے کہا:
’’مجھے تب تک یقین نہیں آئے گا جب تک میں اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لوں۔ مجھے دکھاؤ کہ یہ سب ہوا کیسے تھا۔‘‘
عورت نے احتیاط سے سانپ کو دوبارہ اسی چٹان کے نیچے رکھ دیا اور کہا:
’’یہ اس حال میں تھا۔‘‘
بھیڑیے نے سر ہلایا اور سختی سے کہا:
’’اب اسے یہیں پڑا رہنے دو۔ جو کوئی مدد کرنے والے ہاتھ کو ہی ڈس لے، وہ دوبارہ موقع ملنے کا حقدار نہیں ہوتا۔ نیکی کی ہمیشہ قدر نہیں کی جاتی، اور جو شخص ناشکری کی زندگی گزارتا ہے وہ کبھی نہیں بدلتا—چاہے آپ جتنی بھی کوشش کر لیں۔‘‘
اخلاقی سبق:
جب آپ دوسروں کی مدد کریں تو یاد رکھیں—ہر کوئی آپ کی مہربانی کی قدر نہیں کرے گا۔ اور ہر کوئی اس لائق نہیں ہوتا کہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر اس کی جان بچائی جائے۔
