Tag Archives: bloganuary

ملا نصر الدین کے قصے اپنی ظرافت اور دانائی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ پیش ہے ان کا ایک دلچسپ اور سبق آموز لطیفہ:مرغی اور شوربہایک دن ملا نصر الدین کے گھر ان کا ایک دور کا رشتہ دار آیا اور تحفے میں ایک مرغی لے کر آیا۔ ملا نے بڑی خوشی سے اس کا استقبال کیا، مرغی ذبح کی اور دونوں نے مل کر لذیذ سالن کھایا۔اگلے دن ایک اجنبی شخص ملا کے گھر آیا اور کہنے لگا:میں اس شخص کا پڑوسی ہوں جو کل آپ کے لیے مرغی لایا تھا۔”ملا نے مروت دکھائی اور اسے بھی کھانا کھلایا۔تیسرے دن ایک اور شخص آ دھمکا اور بولا:میں اس شخص کے پڑوسی کا پڑوسی ہوں جو آپ کے لیے مرغی لایا تھا۔”ملا اسے بھی انکار نہ کر سکے اور اسے دسترخوان پر بٹھا دیا۔چوتھے دن پھر ایک صاحب آ گئے اور اپنا تعارف کراتے ہوئے بولا:میں اس…

Read more

موسی علیہ السلام کے زمانے میں ایک بہت مالدار شحض کو بڑی سخت بیماری نے پکڑ لیا  بہت علاج کیا حکیموں کے پاس گیا لیکن کوئی آفاقہ نہیں ہوا سب نے کہہ دیا کہ آپکا مرض لا علاج ہے آپکا کوئی علاج نہیں اپنے اوپر دم کرتے رہنا ہمارے پاس اپکا کوئی علاج نہیں وہ بڑا پریشان ہوا چھوٹے چھوٹے بچے تھے سارا دن بیٹھ کر بچوں کو دیکھتا رہتا کہ میرے بعد ان بچوں کا کیا ہوگا انکی کفالت کون کرے گا ایک دن بیوی نے کہا کہ یہاں ایک پیغمبر ہے جنکی ہر بات سچی ہوتی ہے انکے پاس جاو وہ جو بولے گا اس میں پھر کوئی گنجائش نہیں جاو شاید وہ کوئی راستہ نکالے وہ گھر سے نکلا اور موسی علیہ السلام کے پاس گیا کہنے لگا اے اللہ کے نبی میں لاعلاج مرض میں مبتلا ہو نا امید ہو گیا ہو آپ اللہ سے دعا…

Read more

یہ ایک خوبصورت اور سبق آموز کہانی ہے عہد اور اتحاد: عقاب اور شیر کا قصہ🔥 ہر اتحاد ہمیشہ قائم رہنے کے لیے نہیں بنتا۔سیرینگیٹی (Serengeti) کی بلند ترین چوٹی پر، جہاں ہوائیں چٹانوں سے ٹکراتی تھیں اور حدِ نگاہ تک ایک وسیع سلطنت پھیلی ہوئی تھی، ایک نایاب ملاقات ہوئی۔ایک طرف سنہرا عقاب کھڑا تھا— آسمانوں کا حکمران، تیز نگاہ، فخر سے بھرا اور دور اندیش۔دوسری طرف ببر شیر تھا— میدانوں کا بادشاہ، زمین سے جڑا ہوا، طاقتور اور غیر متزلزل۔ 🦅بلندی سے ایک پیشکشعقاب شیر سے چند قدم دور ایک چٹان پر اترا، شام کی روشنی میں اس کے پر چمک رہے تھے۔ اس نے پورے اعتماد سے کہا:“اے شیر! میں ایک ایسی پیشکش لایا ہوں جو اس پوری سرزمین کو بدل سکتی ہے۔ میں افق سے بھی آگے دیکھ سکتا ہوں، جبکہ تمہارے پاس بے مثال طاقت ہے۔ اگر ہم اتحاد کر لیں، تو تم قوت بنو…

Read more

ایک دن کسی نے شیخ چلی کو بتایا کہ شہر کے باہر والے جنگل میں ایک خطرناک شیر رہتا ہے، جو لوگوں کو ڈراتا ہے۔یہ سنتے ہی شیخ چلی کے دل میں ہیرو بننے کا خیال جاگا۔ وہ سوچنے لگا:“اگر میں نے اس شیر کو قابو کر لیا تو پورا شہر مجھے سلام کرے گا، اور بادشاہ مجھے سونے سے نواز دیں گے!” بس پھر کیا تھا! شیخ چلی ایک لمبی لاٹھی اٹھائے بہادری کے عالم میں جنگل کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں اسے ایک ٹوٹا ہوا آئینہ ملا۔شیخ نے اسے بھی “ضروری ہتھیار” سمجھ کر جیب میں رکھ لیا۔ کچھ دور پہنچا تو اچانک جھاڑیوں کے پیچھے سے شیر کی خوفناک دھاڑ سنائی دی۔شیخ چلی کے تو ہوش اڑ گئے… مگر “بہادری” کا خیال آتے ہی اس نے ہمت باندھی۔ اس نے جلدی سے آئینہ نکالا، جھاڑی کی طرف کر دیا اور خود ایک درخت کے پیچھے چھپ…

Read more

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﭼﺎﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﻃﻠﺐ ﮐﺌﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻋﺎﺷﻖ ﺗﮭﺎ ، ﺗﯿﺴﺮﺍ ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﻏﺮﯾﺐ ﺗﮭﺎ ،،ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﻥ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺼﺮﻋﮧ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ اس کو ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻭ ، ﻣﺼﺮﻋﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ:اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﻮﭺ ﺑﭽﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺷﻌﺮ ﺑﻨﺎئے ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﯿﮟ.. ﻋﺎﻟﻢ :ﺑﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺩﯾﻦ ﺍﺣﻤﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻋﺎﺷﻖ :ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﺟﺐ ﺩﻭ ﮨﻮﮰ ﭘﮭﺮ ﻟﻄﻒ ﯾﮑﺘﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ :ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﯾﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻏﺮﯾﺐ :ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﭘﯿﺴﮯ ہیں ﻣﺼﻮﺭ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ —#منقولــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاگر کوئی تحریر اچھی…

Read more

ایک بادشاہ نے اپنے محل میں ایک عجیب و غریب کمرہ بنایا۔ اس کمرے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی چاروں دیواریں، ستون اور چھت ہزاروں چھوٹے بڑے آئینوں سے سجے ہوئے تھے۔ جہاں بھی نظر پڑتی، انسان کو اپنا ہی عکس دکھائی دیتا۔ ایک دن ایک کتا اتفاقاً اس کمرے میں داخل ہوا۔ جیسے ہی اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی، اسے ہر طرف سینکڑوں کتے دکھائی دیے۔ کتا خوفزدہ اور غصے میں آ گیا۔ ہر آئینے میں اسے دوسرے کتوں کے غصے سے بھونکتے ہوئے چہرے نظر آئے۔ دل کی دھڑکن تیز ہوئی، خوف بڑھا، اور وہ سمجھ بیٹھا کہ ہر طرف دشمن ہی دشمن ہیں۔ آخرکار مسلسل بھونکتے اور ڈرتے ڈرتے وہ گر پڑا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ کچھ دیر بعد ایک معصوم بچہ اسی کمرے میں داخل ہوا۔ وہ بھی ہر طرف سینکڑوں بچے دیکھ رہا تھا، مگر اس کے دل میں…

Read more

خاتون نے اپنا بیمار گدھا ؛ مکمل طور پر صحتمند بتا کر دس ہزار روپے میں بیچ دیا ۔ ۔ ایک دن بعد گدھا مر گیا۔ خریدار نے خاتون سے شکایت کی آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ گدھا مکمل صحتمند ہے بس ذرا موسم کی وجہ سے سست ہو رہا ہے خاتون نے کہا کہ ذندگی کی گارنٹی تو میں نے نہیں دی تھی۔ پھر بھی آپ مرا ہوا گدھا مجھے واپس پہنچادو؛ کسان نے پوچھا کہ مرے ہوئے گدھے کا آپ کیا کرو گی؟ خاتون نے کہا کہ میں ایک مہینے بعد اس مرے ہوئے گدھے کی آدھی قیمت آپکو واپس دے دوُں گی۔ کسان نے کہا منظور ہے ؛ میں مرا ہوا گدھا آپ تک پہنچا دیتا ہوں پھر ایک مہینے بعد آکر پانچ ہزار روپے لے لوں گا ۔ ۔ ۔ ایک مہینے بعد کسان واپس گیا تو دیکھا کہ خاتون کے پاس وہی…

Read more

سب سے خطرناک سودا وہ نہیں ہوتا جو آپ پر حملہ کرے۔ بلکہ وہ ہوتا ہے جو سب کچھ چھینتے ہوئے آپ کو “محفوظ” ہونے کا احساس دلائے۔وادی کے پار رہنے والے چیتوں کے ڈر سے بھیڑوں کا ایک ریوڑ ہمیشہ خوف میں رہتا تھا۔ پھر ایک بھیڑیا آیا۔ 🐺اس نے انہیں نہ دھمکایا، نہ ان کا پیچھا کیا۔ وہ چشمہ لگائے، پرسکون آواز اور ایک پیشکش کے ساتھ آیا۔اس نے کہا: “مجھے اپنی حفاظت کرنے دو۔ کوئی چیتا اس وادی کے قریب نہیں آئے گا۔ بدلے میں، میں ہر مہینے صرف ایک بھیڑ مانگوں گا۔”ریوڑ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔“صرف ایک مہینے میں؟”“یہ روز روز کے خوف میں جینے سے بہتر ہے۔”“کم از کم اب ہمیں تحفظ تو حاصل ہے۔” چنانچہ وہ راضی ہو گئے۔ شروع میں یہ سودا عقلمندی لگا۔ بھیڑیے نے چیتوں کو بھگا دیا۔ وادی میں خاموشی چھا گئی۔ خوف ختم ہونے لگا۔مہینہ در مہینہ،…

Read more

پڑھیے گا ضرور…ہماری تاریخ میں بہت بڑا خوبصورت نام عبداللہ بن زید رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ آپ نے ساری زندگی نکاح نہیں کیا، جوانی گزر گئی بڑھاپا آیا ایک دن بیٹھے حدیث مبارکہ پڑھ رہے تھے تو اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ:**”جنت میں کوئی اکیلا نہیں ہو گا جو نکاح کی عمر میں نہیں پہنچا یا پہنچا بھی تو کسی وجہ سے نہیں ہوا اور وہ مسلمان ہی مرا تو اللہ مسلمان مردوں اور عورتوں کا جنت میں آپس میں نکاح کر دے گا”۔**جب یہ حدیث پاک پڑھی تو دل میں خیال آیا کہ یہاں تو نکاح نہیں کیا تو جنت میں ہونا ہی ہونا ہے تو جنت میں میری بیوی کون ہو گی دعا کی کہ یا اللہ مجھے دکِھا تو سہی جنت میں میری بیوی کون ہو گی؟* *پہلی رات دعا قبول نہیں ہوئی…

Read more

بہت پہلے کی بات ہے، جنگل کے بیچوں بیچ ایک بندر رہتا تھا جو چالاک تو تھا مگر بہت لالچی بھی تھا۔ وہ اتنا پھرتیلا تھا کہ کوئی جال اسے پکڑ نہیں سکتا تھا۔ تمام جانور اسے اچھی طرح جانتے تھے۔ جب بھی کھانا بانٹا جاتا، وہ اپنے حصے سے زیادہ لیتا۔ جب بھی پھل پکتے، وہ اتنے توڑ لیتا کہ خود کھا بھی نہ پاتا۔ایک موسم میں آم کے درخت پھلوں سے لد گئے تھے۔ بندر نے اتنے آم جمع کر لیے کہ اس کے درخت کے نیچے ڈھیر لگ گیا۔ آدھے آم دھوپ میں گل سڑ گئے جبکہ طوطے اور گلہریاں بھوک سے انہیں دیکھتی رہتیں، مگر وہ پھر بھی انہیں بھگا دیتا اور چلاتا، “یہ میرے ہیں! سب میرے ہیں!”جنگل کے دوسرے جانور اس سے ناراض تھے۔انہوں نے کہا، “بندر میاں! لالچ تمہیں لے ڈوبے گا۔ یہ لالچ ہی تمہیں کسی دن پھنسائے گا۔”بوڑھے کچھوے نے، جس…

Read more

ایک مغرور شخص ایک درویش کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ تم لوگ کہتے ہو کہ شیطان آگ سے بنا ہے اور اسے دوزخ کی آگ میں جلایا جائے گا، بھلا آگ آگ کو کیسے جلا سکتی ہے؟ درویش نے خاموشی سے مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھایا اور اس شخص کے سر پر مار دیا۔وہ شخص چیخا اور کہنے لگا کہ تم نے مجھے کیوں مارا؟ میرا سر درد کر رہا ہے۔ درویش نے پوچھا کہ کیا تمہیں درد نظر آ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ درویش نے کہا کہ جیسے درد نظر نہیں آتا مگر محسوس ہوتا ہے، ویسے ہی اللہ کی قدرت بھی ہے۔ اور رہی بات آگ کی، تو تم مٹی سے بنے ہو لیکن مٹی کے ڈھیلے نے تمہیں تکلیف دی، اسی طرح اللہ آگ سے بنے شیطان کو آگ سے ہی سزا دے گا۔سبق: قدرت کے نظام پر شک کرنے کے بجائے…

Read more

ایک فقیر ایک درویش کی ملاقات کو آیا جس سے اُسے بڑی عقیدت تھی کیا دیکھتا ہے کہ درویش ایک مخملیں غالیچے پر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے سر پر ریشمی کپڑے کی جھونپڑی تنی ہے جس کو سونے کی میخوں سے زمیں میں گاڑا گیا ہے فقیر نے جب یہ سب دیکھا تو فریاد کرنے لگا پیر و مرشد یہ سب کیا ہے ؟ میں تو آپ کے زہد و خدا پر توکّل کی وجہ سے آپ کا مرید بنا تھا اب یہ شان و شوکت دیکھ کر میں دنگ رہ گیا ہوں درویش نے ہنس کر کہا میں تیّار ہوں کہ یہ سب کچھ ترک کر کے تمہارے ہمراہ چلوں یہ کہہ کر درویش اٹھا اور فقیر کے ساتھ چل پڑا اُس نے اتنی زحمت بھی نہیں کی کہ اپنے چپّل ھی پہن لے کچھ دور چلنے کے بعد فقیر کہنے لگا میں اپنا کشکول تو آپ…

Read more

جاپان کے ایک گاؤں میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ اس کا نام ایچیرو تھا۔ وہ ہر روز جنگل جاتا، درخت کاٹتا، لکڑی بیچتا، اور اپنی بیوی اور دو بچوں کا پیٹ پالتا۔ ایک دن جنگل میں اس نے دیکھا کہ ایک سارس شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے۔ وہ بے حال تڑپ رہی تھی۔ ایچیرو نے اس پر رحم کھایا۔ اس نے شکنجہ کھول دیا۔ سارس اڑ گئی۔ اس رات جب ایچیرو گھر واپس آیا تو اس کے گھر میں ایک عورت بیٹھی تھی۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔ عورت نے کہا: “میں وہی سارس ہوں جسے تم نے آج بچایا۔ شکریہ۔ میں تمہیں تین خواہشیں پوری کروں گی۔” ایچیرو نے بیوی سے مشورہ کیا۔ بیوی بولی: “نیا گھر چاہیے۔ یہ پرانا گھر گرنے کو ہے۔” ایچیرو نے کہا: “پہلی خواہش  نیا گھر۔” اتنا کہنا تھا کہ پرانا گھر غائب ہو گیا۔ اس کی جگہ ایک نیا خوبصورت گھر تھا۔ اگلے…

Read more

بہت پرانی بات ہے، حلب کے مشہور بازارِ زرگراں میں یوسف نام کا ایک سنار رہتا تھا۔ یوسف اپنے کام کا ماہر تھا، اس کے بنائے ہوئے زیورات پورے شام میں مشہور تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بے حد لالچی اور کنجوس بھی تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ دنیا میں سب سے اہم چیز ‘وقت’ نہیں بلکہ ‘سونا’ ہے، اور وہ اپنا ہر لمحہ صرف سونا جمع کرنے میں صرف کرتا تھا۔اس کے پڑوس میں ایک بوڑھا، درویش صفت آدمی رہتا تھا، جسے لوگ خاموشی سے ‘الحکیم’ (دانا) کہتے تھے۔ الحکیم اکثر یوسف کو دیکھ کر مسکراتا اور کہتا: “یوسف! سونا تو مٹی ہے، وقت کا دھاگا سنبھالو، یہ ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ نہیں جڑتا۔” لیکن یوسف اس کی باتوں کو ہنس کر ٹال دیتا۔ ایک دن، جب سورج حلب کے قدیم قلعے کے پیچھے ڈھل رہا تھا، یوسف کی دکان پر ایک پرسرار اجنبی…

Read more

اٹلی کے ایک چھوٹے سے قصبے میں لوگوں نے ایک بہت اونچا مینار بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ مینار اتنا اونچا ہو گا کہ پورے علاقے میں سب سے اونچا ہو گا۔ شہر کے بڑھئی، معمار، سنگ تراش، سب جمع ہوئے۔ انہوں نے نقشہ بنایا، پتھر تراشے، مٹی گوندھی، اور کام شروع کر دیا۔ پہلے مہینے میں مینار کی بنیاد بنی۔ بنیاد بہت مضبوط تھی، پتھر بہت بڑے تھے۔ دوسرے مہینے میں دیواریں اٹھنے لگیں۔ تیسرے مہینے میں مینار اتنا اونچا ہو گیا کہ لوگوں کو سیڑھیاں لگانی پڑیں۔ چوتھے مہینے میں مینار اتنا اونچا ہو گیا کہ لوگوں کو رسیاں باندھنی پڑیں۔ پانچویں مہینے میں مینار اتنا اونچا ہو گیا کہ نیچے سے اوپر نظر نہیں آتا تھا۔ لیکن جیسے جیسے مینار اونچا ہوتا گیا، لوگوں میں جھگڑے شروع ہو گئے۔ پتھر تراشنے والے کہنے لگے: “یہ مینار ہماری محنت سے بن رہا ہے۔ ہم سب سے اہم ہیں۔”…

Read more

بنگال کے ایک بادشاہ کا ڈھول بجانے والا بہت مشہور تھا۔ اس کا نام بھولو تھا۔ وہ اتنا اچھا ڈھول بجاتا تھا کہ لوگ دور دور سے سننے آتے تھے۔ جب وہ ڈھول بجاتا تو لوگ ناچنے لگتے، بادشاہ خوش ہو جاتا، ساری دربار خوشی سے جھوم اٹھتی۔ بادشاہ نے اسے بہت سا انعام دیا — سونے کے سکے، ریشمی کپڑے، ایک خوبصورت گھر۔ بھولو امیر ہو گیا۔ لیکن امیر ہوتے ہی بھولو بدل گیا۔ اسے غرور آ گیا۔ وہ سوچنے لگا: “میں بہت بڑا فنکار ہوں۔ میرے جیسا کوئی نہیں۔” وہ اپنے پرانے دوستوں سے نہیں ملتا تھا۔ وہ غریبوں کو حقارت سے دیکھتا تھا۔ وہ کہتا: “یہ لوگ میرے برابر نہیں ہیں۔” ایک دن بادشاہ نے اسے بلایا۔ بھولو دربار میں گیا، ڈھول بجایا۔ اس دن اس نے اتنا اچھا بجایا کہ سب دنگ رہ گئے۔ بادشاہ نے کہا: “بھولو، تم بہت بڑے فنکار ہو۔ مانگو، جو چاہو…

Read more

جب بہت زیادہ مدد کرنے والا آخر کار چھوڑ کر چلا جاتا ہےاس خشک سرزمین میں اونٹ صرف ایک ہی بات کے لیے مشہور تھا: اسے معلوم تھا کہ پانی کہاں ملے گا۔جب دریا خشک ہو جاتے اور زمین پھٹ جاتی، تو دوسرے جانور کھودنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ وہ بس اسے دیکھتے رہتے۔ہر صبح، سورج کے تیز ہونے سے پہلے، اونٹ ریت میں کھدائی کرتا۔ اس کا سانس پھول جاتا۔ اس کے سینے میں درد ہوتا۔ پانی بہت آہستہ، تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتا، جیسے کہیں چھپا ہوا ہو۔زیبرا پانی پیتا۔ ہرن پانی پیتا۔ پرندے غول کی شکل میں آتے اور پانی پیتے تاکہ اپنی پیاس بجھا سکیں۔انہوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ وہ کتنا تھک چکا ہے۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ کھدائی کے لیے صحیح جگہ تلاش کرنے کے لیے اسے کتنا پیدل چلنا پڑتا ہے۔ وہ صرف اس وقت آتے جب وہ…

Read more

ایک بادشاہ نے اعلان کروایا کہ“میری سلطنت میں جو سب سے بڑا بے وقوف ہے، اسے میرے دربار میں پیش کیا جائے۔” بادشاہ کا حکم تھا، اس پر عمل ہوا اور بے وقوف کے نام پر سینکڑوں لوگ دربار میں پیش کر دیے گئے۔ بادشاہ نے سب کا امتحان لیا اور آخرکار فائنل راؤنڈ میں ایک شخص کو “کامیاب بے وقوف” قرار دے دیا۔ بادشاہ نے اپنے گلے سے ایک قیمتی ہار اتارا اور اس شخص کے گلے میں ڈال دیا۔ وہ شخص یہ عجیب سا اعزاز لے کر اپنے گھر واپس چلا گیا۔ کچھ عرصے بعد اس کے دل میں خیال آیا کہ بادشاہ سے دوبارہ ملاقات کی جائے۔جب وہ محل پہنچا تو معلوم ہوا کہ بادشاہ مرضِ الموت میں ہے اور اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہا ہے۔ بادشاہ کو اطلاع دی گئی تو اس نے ملاقات کی اجازت دے دی۔ وہ شخص حاضر ہوا اور بولا:“بادشاہ…

Read more

حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے۔ ان میں سے ایک کا نام قابیل اور دوسرے کا ہابیل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ دونوں اپنی اپنی قربانی پیش کریں۔ ہابیل نے اپنی بہترین بکری قربان کی، جبکہ قابیل نے کم درجے کی چیزیں پیش کیں۔ اللہ نے ہابیل کی قربانی قبول فرمائی اور قابیل کی قبول نہ کی۔ قابیل حسد اور غصے میں ہابیل کو قتل کرنے لگا۔ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا یہ زمین پر پہلا قتل تھا۔ بعد میں اسے سخت پشیمانی ہوئی، لیکن اس کا قتل اس کی آخرت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ اللہ نے اس واقعہ کے ذریعے انسانوں کو سکھایا کہ قتل کرنا کتنا بڑا گناہ ہے، اور کہ ہر انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ حوالہ جات قرآن کریم سے: · سورۃ المائدہ، آیت ۲۷ تا ۳۲ترجمہ: ”اور انہیں آدم…

Read more

یہ ایک بہت ہی جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے جو وفاداری، قربانی اور انسانی (یا حیوانی) فطرت کی تلخیوں کو بیان کرتی ہے۔کسی کو بچانے کی قیمت، اپنا ہی دل تڑپانا ہے…لنگور کوئی بڑا یا اہم جانور بن کر نہیں آیا تھا، وہ ایک فقیر بن کر آیا تھا۔ اپنی مالی تباہی اور سماجی ذلت کے خوف سے—جس کی وجہ سے اس کی بیٹی کی شادی میں رسوائی کا خطرہ تھا—وہ بندریا کے قدموں میں گر کر رونے لگا۔ اس نے التجا کی، “میری عزت بچا لو! مجھے ایسی شان و شوکت کا لباس پہنا دو کہ میرے دوست مجھ پر ہنس نہ سکیں۔”اس کی بے بسی دیکھ کر بندریا کا دل پگھل گیا۔ اس نے اپنی روح کا خون جلا کر سونا بنایا۔ چالیس دن تک وہ ایک ایسا آسمانی چمک والا لباس بنتی رہی جو محض ایک کپڑا نہیں تھا، بلکہ لنگور کی مفلسی کو چھپانے والا…

Read more

80/490
NZ's Corner