Tag Archives: #UrduQuotes #MoralStory

ایک گھنا، خاموش اور خوبصورت جنگل تھا… جہاں سورج کی روشنی بھی درختوں کے پتوں سے چھن کر زمین پر سنہری دھبے بناتی تھی۔ اس جنگل میں ہر جانور اپنی زندگی میں مصروف تھا، مگر ایک عجیب سی اداسی فضا میں بسی ہوئی تھی۔اس جنگل میں ایک ننھا ہرن رہتا تھا، جس کا نام “چاندو” تھا۔ چاندو باقی ہرنوں سے مختلف تھا۔ وہ نہ تو تیز دوڑ سکتا تھا اور نہ ہی زیادہ اونچا چھلانگ لگا سکتا تھا۔ اسی وجہ سے باقی جانور اکثر اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ایک دن جنگل میں شدید طوفان آیا۔ آسمان پر کالے بادل چھا گئے، تیز ہوائیں چلنے لگیں، اور بارش موسلا دھار برسنے لگی۔ درخت جڑوں سے ہلنے لگے، اور جانور خوف سے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔اسی ہنگامے میں ایک ننھا خرگوش، جو اپنی ماں سے بچھڑ گیا تھا، ایک گہرے گڑھے میں گر گیا۔ وہ زور زور سے مدد کے لیے پکارنے…

Read more

ایک گاؤں کا سکھ، چین اور آرام سے بھرا ماحول، جہاں ایک چوہدری صاحب رہتے تھے۔ چوہدری صاحب خود کو بہت سیانا سمجھتے تھے، لیکن درحقیقت وہ کافی بھولے تھے۔ ان کے گھر کے پاس ایک حجام کی دکان تھی، جس کا مالک جیدا نامی ایک مکار شخص تھا۔چوہدری: (جیدے کی دکان پر حجامت کراتے ہوئے، فخر سے) “جیدے! میرے جیسا کوئی سیانا آدمی اس گاؤں میں ہے؟”جیدا: (مکار مسکراہٹ کے ساتھ) “بالکل نہیں چوہدری صاحب! آپ تو عقل کے سمندر ہیں۔ لیکن… آپ کو معلوم ہے، شہر کے لوگ ایک ایسی ترکیب جانتے ہیں جس سے عقل اور بھی بڑھ جاتی ہے۔”چوہدری: (شوق سے) “کیا؟ وہ کون سی ترکیب ہے؟”جیدا: “شہر کے لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ہفتے میں ایک بار اپنے بال ‘الٹے’ کٹوائے، تو اس کی عقل دگنی ہو جاتی ہے۔ میں تو یہ کام صرف خاص لوگوں کے لیے کرتا ہوں۔”چوہدری: (خوشی سے) “جیدے!…

Read more

کوریا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دو بھائی رہتے تھے۔ بڑے بھائی کا نام نولبو تھا اور چھوٹے کا نام ہیونگبو۔ نولبو بہت امیر تھا۔ اس کے پاس بڑے بڑے کھیت تھے، موٹی موٹی گائیں تھیں، اور اس کا گھر ایک محل کی طرح تھا۔ لیکن اس کے دل میں اپنے چھوٹے بھائی کے لیے کوئی محبت نہ تھی۔ وہ ہیونگبو سے حسد کرتا تھا۔ دوسری طرف ہیونگبو بہت غریب تھا۔ وہ اپنی بیوی اور پانچ بچوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ اس کے پاس نہ تو کھیت تھے، نہ مویشی، اور نہ ہی پیسے۔ لیکن اس کے پاس ایک بہت بڑی دولت تھی۔ ایک نیک دل۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتا، پرندوں کو دانہ ڈالتا، اور کبھی کسی سے بدگمانی نہیں کرتا تھا۔ ایک دن ہیونگبو کی بیوی نے اس سے کہا، “میاں! ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ بچے بھوک سے…

Read more

تاریخ کی کتابوں میں ایک واقعہ درج ہے کہ ایک بدو کی دلہن کو جس گھوڑے پر بٹھا کر لوگ لائے تھے ۔ دلہن کے گھوڑے سے اترتے ہی اس بدو نے اس گھوڑے کی تلوار سے گردن الگ کردی ۔ لوگوں نے اس سے ایسا کرنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میری بیوی کے اترنے کے فوراً بعد ہی کوئی اور اس کی پیٹھ پر بیٹھ جائے اور دلہن کی سواری کی وجہ سے تاحال گھوڑے کی پیٹھ گرم ہو اور کوئی غیر مرد اس حرارت کو محسوس کر لے ۔ اسی طرح ایک اور واقعہ ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا کہ اس کے ذمہ میرے حق مہر کے ۵۰۰ دینار ہیںعدالت نے شوہر کو بلا کر پوچھا تو اس نے انکار کر دیا ۔عدالت نے گواہوں کو طلب کیا اور…

Read more

ایک دن نبی کریم ﷺ کوہِ صفا کی طرف تشریف لے جا رہے تھے کہ  راستے میں ابو جہل آ گیا۔ اس نے آپ ﷺ کو سخت الفاظ کہے، مگر میرے آقا ﷺ خاموش رہے… کچھ جواب نہ دیا۔بدبختی یہاں تک بڑھی کہ اس نے ہاتھ میں موجود لاٹھی سے حضور ﷺ کے سرِ اقدس پر وار کیا۔ خون جاری ہو گیا… مگر رحمتِ عالم ﷺ پھر بھی خاموش رہے، صبر فرمایا اور گھر تشریف لے آئے۔یہ منظر ایک لونڈی دیکھ رہی تھی۔کچھ دیر بعد حضرت امیر حمزہؓ شکار سے واپس آئے۔ اس لونڈی نے کہا:“اے حمزہ! آپ شکار کھیل کر آ رہے ہیں، مگر آج آپ کے بھتیجے محمد ﷺ کو ابو جہل نے لاٹھی ماری، یہاں تک کہ ان کے سر مبارک سے خون بہنے لگا… وہ یہ ظلم اس لیے کرتا ہے کہ اسے لگتا ہے محمد ﷺ کا کوئی مددگار نہیں۔ اگر آج عبدالمطلب زندہ ہوتے…

Read more

13ویں صدی کا اختتام… اناطولیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، ایک بزرگ درویش ‘شیخ ادیبالی’ کے حجرے میں سویا ہوا ایک نوجوان جنگجو اچانک پسینے میں شرابور نیند سے جاگتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اور حیرت تھی۔ اس نے ابھی ایک ایسا خواب دیکھا تھا جس میں آنے والی چھ صدیوں اور تین براعظموں کی تاریخ چھپی تھی۔ خواب میں اس نے دیکھا تھا کہ درویش کے سینے سے ایک چاند نکلا اور اس نوجوان کے سینے میں سما گیا۔ پھر اسی جگہ سے ایک عظیم الشان درخت اگا، جس کی شاخیں اتنی پھیلیں کہ انہوں نے آسمان کو ڈھک لیا۔ اس درخت کے سائے میں دنیا کے چار بڑے پہاڑ (کوہِ قاف، اطلس، طور اور بلقان) اور چار بڑے دریا (دجلہ، فرات، نیل اور ڈینیوب) بہہ رہے تھے۔ جب اس نے یہ خواب درویش کو سنایا، تو بزرگ نے مسکرا کر کہا: “مبارک…

Read more

400 خیموں کی آندھی: وہ ایک فیصلہ جس نے 600 سالہ سلطنت کی بنیاد رکھی 13ویں صدی کا اناطولیہ… منگولوں کے خوف سے در بدر بھٹکتا ایک چھوٹا سا خانہ بدوش ‘قائی’ قبیلہ، جس کے پاس کل اثاثہ محض 400 خیمے تھے۔ ایک دن سفر کے دوران قبیلے کے نوجوان سردار نے دور میدان میں دو فوجوں کو لڑتے دیکھا۔ ایک فوج طاقتور تھی، جبکہ دوسری کمزور اور شکست کے قریب۔ وہ چاہتا تو اپنا راستہ بدل کر خاموشی سے گزر جاتا، لیکن اس کی غیرت نے ہارتے ہوئے مظلوم کا ساتھ دینے پر مجبور کیا۔ اس نے اپنے چند سو گھڑ سواروں کے ساتھ کمزور فوج کے حق میں ایسا خوفناک حملہ کیا کہ ہاری ہوئی بازی جیت میں بدل گئی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ جس کمزور فوج (سلجوقوں) کو اس نے بچایا ہے، وہ انعام میں اسے ایک ایسی سرحد (سوغوت) دیں گے جہاں سے دنیا کی…

Read more

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﭼﺎﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﻃﻠﺐ ﮐﺌﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻋﺎﺷﻖ ﺗﮭﺎ ، ﺗﯿﺴﺮﺍ ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﻏﺮﯾﺐ ﺗﮭﺎ ،،ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﻥ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺼﺮﻋﮧ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ اس کو ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻭ ، ﻣﺼﺮﻋﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ:اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﻮﭺ ﺑﭽﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺷﻌﺮ ﺑﻨﺎئے ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﯿﮟ.. ﻋﺎﻟﻢ :ﺑﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺩﯾﻦ ﺍﺣﻤﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻋﺎﺷﻖ :ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﺟﺐ ﺩﻭ ﮨﻮﮰ ﭘﮭﺮ ﻟﻄﻒ ﯾﮑﺘﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ :ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﯾﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻏﺮﯾﺐ :ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﭘﯿﺴﮯ ہیں ﻣﺼﻮﺭ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ —#منقولــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاگر کوئی تحریر اچھی…

Read more

سب سے خطرناک سودا وہ نہیں ہوتا جو آپ پر حملہ کرے۔ بلکہ وہ ہوتا ہے جو سب کچھ چھینتے ہوئے آپ کو “محفوظ” ہونے کا احساس دلائے۔وادی کے پار رہنے والے چیتوں کے ڈر سے بھیڑوں کا ایک ریوڑ ہمیشہ خوف میں رہتا تھا۔ پھر ایک بھیڑیا آیا۔ 🐺اس نے انہیں نہ دھمکایا، نہ ان کا پیچھا کیا۔ وہ چشمہ لگائے، پرسکون آواز اور ایک پیشکش کے ساتھ آیا۔اس نے کہا: “مجھے اپنی حفاظت کرنے دو۔ کوئی چیتا اس وادی کے قریب نہیں آئے گا۔ بدلے میں، میں ہر مہینے صرف ایک بھیڑ مانگوں گا۔”ریوڑ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔“صرف ایک مہینے میں؟”“یہ روز روز کے خوف میں جینے سے بہتر ہے۔”“کم از کم اب ہمیں تحفظ تو حاصل ہے۔” چنانچہ وہ راضی ہو گئے۔ شروع میں یہ سودا عقلمندی لگا۔ بھیڑیے نے چیتوں کو بھگا دیا۔ وادی میں خاموشی چھا گئی۔ خوف ختم ہونے لگا۔مہینہ در مہینہ،…

Read more

زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قحط سالی کے دوران لوگ نمرود کے پاس جاتے اور غلہ لے آتے تھے۔ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام بھی گئے، مگر بدبخت نمرود نے آپ علیہ السلام کو غلہ نہ دیا اور آپ خالی ہاتھ واپس لوٹے۔ گھر کے قریب پہنچ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دونوں بوریوں میں ریت بھر دی تاکہ گھر والے سمجھیں کہ کچھ لے آئے ہیں۔ گھر آ کر بوریوں کو رکھ کر سو گئے۔ حضرت سارہ علیہا السلام اٹھیں، بوریوں کو کھولا تو دیکھیں کہ وہ عمدہ اناج سے بھری ہوئی ہیں۔ کھانا پکا کر تیار کیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آنکھ کھلی اور کھانا دیکھا تو پوچھا، “یہ اناج کہاں سے آیا؟” حضرت سارہ علیہا السلام نے کہا، “وہی بوریوں میں سے نکالا جو آپ لے کر آئے تھے۔” آپ سمجھ گئے کہ یہ خدا کی برکت اور رحمت ہے۔…

Read more

بہت پرانی بات ہے، حلب کے مشہور بازارِ زرگراں میں یوسف نام کا ایک سنار رہتا تھا۔ یوسف اپنے کام کا ماہر تھا، اس کے بنائے ہوئے زیورات پورے شام میں مشہور تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بے حد لالچی اور کنجوس بھی تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ دنیا میں سب سے اہم چیز ‘وقت’ نہیں بلکہ ‘سونا’ ہے، اور وہ اپنا ہر لمحہ صرف سونا جمع کرنے میں صرف کرتا تھا۔اس کے پڑوس میں ایک بوڑھا، درویش صفت آدمی رہتا تھا، جسے لوگ خاموشی سے ‘الحکیم’ (دانا) کہتے تھے۔ الحکیم اکثر یوسف کو دیکھ کر مسکراتا اور کہتا: “یوسف! سونا تو مٹی ہے، وقت کا دھاگا سنبھالو، یہ ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ نہیں جڑتا۔” لیکن یوسف اس کی باتوں کو ہنس کر ٹال دیتا۔ ایک دن، جب سورج حلب کے قدیم قلعے کے پیچھے ڈھل رہا تھا، یوسف کی دکان پر ایک پرسرار اجنبی…

Read more

میکسیکو کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیڈرو نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ وہ بہت غریب تھا۔ اس کے پاس جوتے نہیں تھے، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، اس کے پاس کھانے کو اکثر صرف ایک روٹی ہوتی تھی۔ لیکن پیڈرو کے پاس ایک دولت تھی اس کی ماں کی محبت۔ پیڈرو کی ماں بہت بوڑھی تھی۔ اس کی آنکھیں کمزور تھیں، اس کے ہاتھ کانپتے تھے، لیکن وہ ہر روز پیڈرو کے لیے روٹی پکاتی، اس کے سر پر ہاتھ رکھتی، اور کہتی: “بیٹا، کبھی ہار مت ماننا۔” ایک دن پیڈرو نے ماں سے کہا: “ماں، میں شہر جا رہا ہوں۔ وہاں کام ملے گا، پیسے ملیں گے۔ میں تمہارے لیے دوائی لاؤں گا، تمہیں اچھے کپڑے دلوں گا۔” ماں نے کہا: “جا بیٹا، لیکن یاد رکھنا جو کچھ بھی ہو، ایماندار رہنا۔” پیڈرو شہر پہنچا۔ اس نے بہت کام کیا صبح سے رات تک محنت کی۔…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ تین سوالوں کے جواب جان لے تو کبھی کامیابی سے محروم نہ ہوگا۔ وہ تین سوال تھے: 1. ہر کام کرنے کا صحیح وقت کیا ہے؟2. سب سے ضروری لوگ کون ہیں؟3. سب سے اہم کام کیا ہے؟ اس نے پورے ملک میں اعلان کرا دیا کہ جو ان تین سوالوں کا جواب دے گا، اسے بہت بڑا انعام ملے گا۔ بہت سے عقلمند آئے۔ ان کے جوابات مختلف تھے۔ کسی نے کہا: “ہر کام کا وقت پہلے سے طے کر لو۔ ایک وقت نامہ بنا لو اور اس پر چلو۔”کسی نے کہا: “صحیح وقت کو پہچاننا ناممکن ہے۔ اس لیے ہر وقت تیار رہو۔”کسی نے کہا: “اپنے آس پاس کے لوگوں کو دیکھو۔ جو ہو رہا ہے، اس کے مطابق فیصلہ کرو۔” دوسرے سوال پر کسی نے کہا: “سب سے ضروری لوگ مشیر ہیں۔”کسی نے کہا: “پادری۔”کسی نے کہا: “ڈاکٹر۔”کسی…

Read more

وہ زمانہ بادشاہوں کا تھا۔ شہر بغداد اپنی رونقوں میں اپنی مثال آپ تھا۔ دریائے دجلہ کے کنارے بسا یہ شہر علم و حکمت کی روشنی سے جگمگا رہا تھا۔ اُس وقت خلافت کی باگ ڈور ایک عادل اور درویش صفت بادشاہ کے ہاتھ میں تھی۔ ہارون الرشید۔ بادشاہ کا نام سن کر لوگ عقیدت سے سر جھکا دیتے۔ لیکن بادشاہ خود عوام کے دکھوں سے بے خبر نہیں رہنا چاہتے تھے۔ وہ اکثر رات کی تاریکی میں اپنے وفادار وزیر، قاضی صاحب سے مشورہ کرتے۔ ایک رات، چاند اپنی پوری آب و تاب پر تھا۔ بادشاہ نے قاضی سے کہا، “اے قاضی، یہ محل کی دیواریں مجھے حقیقت سے دور کر رہی ہیں۔ میں آج بھیس بدل کر شہر کی گلیوں میں نکلنا چاہتا ہوں۔ دیکھنا چاہتا ہوں کہ میری رعایا کیسے زندگی بسر کر رہی ہے۔” قاضی صاحب نے سر جھکا کر منظور کیا۔ دونوں نے سادہ گندم…

Read more

ایک گھنے جنگل کے کنارے ایک لکڑہارا رہتا تھا۔ وہ سادہ مزاج اور محنتی انسان تھا۔ دن بھر جنگل میں لکڑیاں کاٹتا اور شام کو تھکا ہارا اپنے جھونپڑے میں لوٹ آتا۔ ایک دن اس کی دوستی ایک بندر سے ہو گئی۔ بندر نہایت خوش مزاج اور وفادار تھا، مگر ایک مسئلہ تھا — وہ بہت نادان تھا۔ لکڑہارا اکثر بندر کے ساتھ وقت گزارتا، اسے کھانا کھلاتا اور اس کی معصوم حرکتوں پر ہنستا۔ بندر بھی لکڑہارے سے بے حد محبت کرتا تھا اور ہر وقت اس کی خدمت میں رہتا۔ ایک دن لکڑہارا سخت محنت کے بعد درخت کے نیچے سو گیا۔ بندر اس کے پاس بیٹھا اس کی رکھوالی کر رہا تھا۔ اتنے میں ایک مکھی آ کر لکڑہارے کے چہرے پر بیٹھ گئی۔ بندر نے ہاتھ سے مکھی کو اڑانے کی کوشش کی، مگر مکھی بار بار واپس آ جاتی۔ بندر کو غصہ آ گیا۔ اس…

Read more

میں شہر کے مصروف بازار میں ایک چھوٹے سے ہوٹل کا مالک تھا۔ صبح سے رات تک لوگوں کا رش لگا رہتا تھا۔ مزدور، دکاندار، مسافر اور طالب علم سب میرے ہوٹل پر کھانا کھانے آتے تھے۔ کاروبار اچھا چل رہا تھا، مگر اس مصروفیت کے بیچ ایک چہرہ ایسا تھا جو روز میری نظروں کے سامنے آتا اور دل میں عجیب سی کسک چھوڑ جاتا۔وہ ایک کم عمر لڑکی تھی۔ شاید بارہ یا تیرہ سال کی۔ میلے کپڑے، بکھرے ہوئے بال اور آنکھوں میں عجیب سی تھکن۔ وہ روز شام کے وقت میرے ہوٹل کے باہر آ کر خاموشی سے بیٹھ جاتی۔ جب گاہک کھانا کھا کر چلے جاتے تو ویٹر بچا ہوا کھانا ایک پلیٹ میں جمع کر کے اسے دے دیتا۔ وہ چپ چاپ کھانا لے لیتی اور تھوڑی دور جا کر بیٹھ کر کھانے لگتی۔شروع میں میں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ بازار میں…

Read more

‏ایک صاحب گھر میں اپنی بیگم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ پہلے نوالے پر ہی وہ غصے سے بپھر گئے۔“یہ آج تم نے کھانے کا کیا حشر کر دیا ہے؟ نہ گوشت گلا ہے اور نہ ہی سبزی۔ مجھ سے تو ایک نوالہ بھی حلق سے نیچے نہیں اتر رہا!”بیگم صاحبہ نے تیکھے تیوروں کے ساتھ ترکی بہ ترکی جواب دیا:“اپنی غلطی کا غصہ مجھ پر کیوں اتار رہے ہو؟ یہ کھانا تو میرے اپنے حلق سے بھی نہیں اتر رہا۔”“میری غلطی…؟” شوہر کا پارہ مزید چڑھ گیا۔ “کیا کھانا میں نے پکایا ہے جو میری غلطی ہے؟”بیوی نے پلیٹ پرے دھکیلتے ہوئے جوابی وار کیا:“وہ پکوان کی ترکیبوں والی کتاب مجھے کس نے لا کر دی تھی؟ میں نے اسی کتاب سے ترکیب دیکھ کر یہ ڈش بنائی ہے۔ اور ذرا یہ بھی سن لیں کہ وہ ترکیب چار آدمیوں کے لیے تھی، جبکہ ہم صرف دو ہیں۔”بیگم…

Read more

*حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور ایک غلام کا عظیم کردار* حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ جنگل کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک باغ کے پاس سے گزر ہوا۔ اس باغ میں ایک حبشی غلام کام کر رہا تھا۔ اسی دوران اس کے کھانے کے لیے روٹیاں آئیں۔ اتنے میں ایک کتا بھی باغ میں آ گیا اور اس غلام کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔ غلام نے کام کرتے کرتے اپنی ایک روٹی اس کتے کے سامنے ڈال دی۔ کتے نے فوراً اسے کھا لیا، لیکن وہ پھر بھی وہیں کھڑا رہا۔ غلام نے دوسری روٹی بھی اس کے سامنے ڈال دی، کتے نے وہ بھی کھا لی۔ اس کے بعد غلام نے تیسری روٹی بھی اسی کتے کو دے دی۔ اس دن اس کے پاس کل تین ہی روٹیاں تھیں اور اس نے…

Read more

دو مراثیوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔آخری خواہش پوچھی گئی تو پہلے مراثی نے کہا کہ وہ سارنگی سیکھنا چاہتا ہے۔پوچھا گیا: کتنے سال لگیں گے؟وہ بولا: کسی استاد سے سیکھوں تو 20–25 سال۔پوچھا گیا: عمر کتنی ہے؟کہا: 40 سال۔کہا گیا: اچھا، پھر 65 سال کی عمر میں پھانسی ہوگی۔مراثی نے ہاتھ جوڑ کر کہا: “جو رب کو منظور”۔اب دوسرے مراثی کی باری آئی۔اس سے کہا گیا: تم بھی سارنگی سیکھنا چاہتے ہو؟وہ بولا: ہاں سرکار… مگر میں نے اسی سے سیکھنی ہے۔ 🤪😄

لہجوں کی پہچان 💥 ایک درویش جنگل میں ایک درخت کے سائے تلے بیٹھا تھا۔ایک شکاری آیا اور غصے میں بولا،“کیا یہاں سے کوئی ہرن گزرا ہے؟” درویش نے کہا:“جو آنکھ دیکھتی ہے وہ نہیں بولتی، اور جو زبان بولتی ہے وہ نہیں دیکھتی۔” شکاری اس گہرے مطلب کو نہ سمجھ سکا اور چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک بادشاہ آیا اور نرمی سے وہی سوال دہرایا۔درویش نے کہا:“عالی جاہ، آپ کا ہرن اس طرف گیا ہے۔” بادشاہ کے جانے کے بعد شاگرد نے پوچھا:“استاد، آپ نے شکاری کو نہیں بتایا، بادشاہ کو کیوں بتایا؟” درویش مسکرا کر بولا:“لہجے بتاتے ہیں کہ کس کو راستہ دکھانا ہے اور کس کو نہیں۔” 💡 آج کے دور میں خاموشی اور شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔اس لیے، لہجے کا انتخاب سامنے والے کے رویے کو دیکھ کر کرنا ہی عقل مندی ہے۔ منقول اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو…

Read more

20/31
NZ's Corner