میں شہر کے مصروف بازار میں ایک چھوٹے سے ہوٹل کا مالک تھا۔ صبح سے رات تک لوگوں کا رش لگا رہتا تھا۔ مزدور، دکاندار، مسافر اور طالب علم سب میرے ہوٹل پر کھانا کھانے آتے تھے۔ کاروبار اچھا چل رہا تھا، مگر اس مصروفیت کے بیچ ایک چہرہ ایسا تھا جو روز میری نظروں کے سامنے آتا اور دل میں عجیب سی کسک چھوڑ جاتا۔
وہ ایک کم عمر لڑکی تھی۔ شاید بارہ یا تیرہ سال کی۔ میلے کپڑے، بکھرے ہوئے بال اور آنکھوں میں عجیب سی تھکن۔ وہ روز شام کے وقت میرے ہوٹل کے باہر آ کر خاموشی سے بیٹھ جاتی۔ جب گاہک کھانا کھا کر چلے جاتے تو ویٹر بچا ہوا کھانا ایک پلیٹ میں جمع کر کے اسے دے دیتا۔ وہ چپ چاپ کھانا لے لیتی اور تھوڑی دور جا کر بیٹھ کر کھانے لگتی۔
شروع میں میں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ بازار میں ایسے بہت سے بچے تھے جو بھوک سے مجبور ہو کر دوسروں کا بچا ہوا کھانا کھا لیتے تھے۔ مگر کچھ دن بعد میں نے محسوس کیا کہ وہ لڑکی کبھی کسی سے مانگتی نہیں تھی۔ نہ وہ ہاتھ پھیلاتی، نہ شور مچاتی۔ بس خاموشی سے بیٹھتی اور انتظار کرتی۔
ایک دن عجیب بات ہوئی۔
اس دن ہوٹل پر بہت رش تھا اور کھانا اتنا حساب سے پکا تھا کہ کچھ بھی نہیں بچا۔ جب شام کو لڑکی آئی تو ویٹر نے خالی ہاتھ واپس بھیج دیا۔ میں نے دروازے سے دیکھا کہ وہ لڑکی کچھ لمحے وہیں کھڑی رہی۔ اس کی آنکھوں میں امید تھی، مگر جب یقین ہو گیا کہ آج کچھ نہیں ملے گا تو وہ آہستہ آہستہ سر جھکا کر چل دی۔
اس کے چہرے پر ایسی اداسی تھی کہ میرا دل بے چین ہو گیا۔ میں کچھ دیر تک اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
کچھ دیر بعد میں کسی کام سے باہر نکلا تو گلی کے کونے پر شور سنائی دیا۔ میں نے دیکھا کہ ایک سبزی والا اس لڑکی سے بدتمیزی کر رہا تھا۔ لڑکی کا دوپٹہ اس کے ہاتھ میں تھا اور وہ اسے گریبان سے پکڑے ہوئے تھا۔ لڑکی کی قمیض پھٹ گئی تھی اور وہ خوف سے کانپ رہی تھی۔
سبزی والا چیخ رہا تھا،
“چورنی! میرے ٹھیلے سے ٹماٹر چرا رہی تھی!”
لڑکی روتے ہوئے کہہ رہی تھی،
“میں نے کچھ نہیں لیا… خدا کے لیے چھوڑ دیں۔”
لوگ اردگرد کھڑے تھے مگر کوئی آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔
یہ منظر دیکھ کر میرے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا۔ میں تیزی سے آگے بڑھا اور اس آدمی کا ہاتھ جھٹک دیا۔
“شرم نہیں آتی؟ ایک چھوٹی سی بچی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہو؟”
سبزی والا بولا،
“یہ چور ہے۔ میرے ٹماٹر اٹھا رہی تھی۔”
میں نے لڑکی کی طرف دیکھا۔ وہ سہم کر ایک کونے میں کھڑی تھی۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
میں نے نرمی سے پوچھا،
“سچ بتاؤ، کیا تم نے کچھ چرایا ہے؟”
لڑکی نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
“نہیں… میں نے صرف پوچھا تھا کہ ایک ٹماٹر دے دیں۔ بہت بھوک لگی تھی۔”
اس کی آواز اتنی کمزور تھی کہ میرا دل بھر آیا۔
میں نے سبزی والے کو کچھ پیسے دیے اور کہا،
“یہ لو، اگر نقصان ہوا ہے تو پورا ہو گیا۔ اب اسے چھوڑ دو۔”
وہ آدمی بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔
میں نے لڑکی کو اپنے ہوٹل کے اندر بلایا۔ وہ ہچکچا رہی تھی، جیسے اسے یقین نہ ہو کہ کوئی اس کے ساتھ اچھا سلوک بھی کر سکتا ہے۔
میں نے ویٹر سے کہا،
“اس کے لیے تازہ کھانا لے آؤ۔”
کچھ ہی دیر میں گرم روٹی، دال اور سبزی اس کے سامنے رکھ دی گئی۔ لڑکی پہلے تو پلیٹ کو دیکھتی رہی، پھر آہستہ آہستہ کھانے لگی۔ وہ اتنی بھوکی تھی کہ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
کھانا ختم ہونے کے بعد میں نے اس سے پوچھا،
“تم کہاں رہتی ہو؟ تمہارے ماں باپ کہاں ہیں؟”
لڑکی کی آنکھیں بھر آئیں۔
اس نے بتایا کہ اس کا نام عائشہ ہے۔ اس کے والد ایک مزدور تھے جو چند ماہ پہلے ایک حادثے میں فوت ہو گئے تھے۔ ماں بیمار تھی اور بستر سے اٹھ نہیں سکتی تھی۔ گھر میں کوئی کمانے والا نہیں تھا، اس لیے وہ بازار آ جاتی اور کہیں سے کچھ کھانے کو مل جاتا تو لے جاتی۔
یہ سن کر میرے دل پر جیسے بوجھ سا آ گیا۔
اس دن کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا کہ عائشہ کو بھوکا نہیں رہنے دوں گا۔
میں نے اسے کہا،
“اگر تم چاہو تو یہاں کام کر سکتی ہو۔ برتن دھونے یا میز صاف کرنے میں مدد کر دیا کرو۔ بدلے میں کھانا بھی ملے گا اور کچھ پیسے بھی۔”
لڑکی کی آنکھوں میں پہلی بار روشنی سی چمکی۔
وہ روز آنے لگی۔ آہستہ آہستہ اس کے کپڑے صاف ہونے لگے، چہرے پر مسکراہٹ آنے لگی۔ کچھ مہینوں بعد میں نے اسے قریب کے سکول میں داخل کروا دیا۔
سال گزر گئے۔
آج میرا ہوٹل پہلے سے بڑا ہو چکا ہے۔ مگر مجھے سب سے زیادہ خوشی اس دن ہوئی جب ایک نوجوان لڑکی سفید کپڑوں میں میرے ہوٹل کے دروازے پر آئی۔
میں نے غور سے دیکھا تو پہچان گیا۔
وہ عائشہ تھی۔
اب وہ ایک نرس بن چکی تھی۔
اس نے مسکرا کر کہا،
“اگر اس دن آپ مجھے بچاتے نہیں… تو شاید میری زندگی وہیں ختم ہو جاتی۔”
میری آنکھیں نم ہو گئیں۔
اس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ کبھی کبھی کسی کی زندگی بدلنے کے لیے صرف ایک پلیٹ کھانا اور تھوڑی سی انسانیت کافی ہوتی ہے۔
