ایک دوپہر، تین بھوکے لال بیگ کھانے کی تلاش میں ایک رحم دل کسان کے پاس پہنچے۔ ان کی حالت دیکھ کر کسان نے انہیں پیار سے روٹی اور پنیر کھلایا اور کچھ کھانا ان کے گھر والوں کے لیے بھی دے دیا۔
جاتے ہوئے کسان نے کہا: “میرے دوستو! تم روزانہ خوراک کی تلاش میں بھٹکتے ہو، میں تمہیں ایک مستقل کام اور محفوظ مستقبل دینا چاہتا ہوں۔”
لال بیگوں نے پوچھا: “کون سا کام اور کتنی تنخواہ ملے گی؟”
کسان نے کام اور تنخواہ کی فہرست بتائی:
مرغیوں کو دانے کا وقت بتانا: تنخواہ 3,000 ڈالر ماہانہ۔
لہسن چھیلنا اور کاٹنا: تنخواہ 5,000 ڈالر ماہانہ۔
فصلوں سے چھپکلیوں کو بھگانا: تنخواہ 4,000 ڈالر ماہانہ۔
بکریوں کو گانے اور رقص سے بہلانا: تنخواہ 250 ڈالر ماہانہ۔
پہلے لال بیگ نے فوراً کہا: “میں لہسن والا کام کروں گا، کیونکہ اس میں سب سے زیادہ پیسے ہیں۔”
دوسرے نے کہا: “میں چھپکلیوں کو بھگاؤں گا، یہ بکریوں کے سامنے ناچنے سے تو بہتر ہے۔”
لیکن تیسرا لال بیگ خاموش رہا اور سوچ کر بولا: “میں بکریوں والا کام کروں گا، چاہے تنخواہ کم ہی کیوں نہ ہو۔”
باقی دونوں نے اس کا مذاق اڑایا کہ تم اتنے کم پیسوں پر کیوں راضی ہو گئے؟ لیکن تیسرا لال بیگ خاموش رہا۔
اگلی صبح کام شروع ہوا۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی پہلا اور دوسرا لال بیگ اپنی غلطی کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
کسان نے تیسرے لال بیگ سے پوچھا کہ تم نے کم تنخواہ والا کام کیوں چنا؟
تیسرے لال بیگ نے جواب دیا: “میں نے پیسوں کو نہیں، اپنی زندگی کو ترجیح دی۔ مرغیاں ہمیں کھا جاتی ہیں، لہسن ہمارے لیے زہر ہے، اور چھپکلیاں ہماری دشمن ہیں۔ صرف بکریاں ہی تھیں جو ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔”
اس نے مزید کہا: “اونچی تنخواہ ہمیشہ اچھا انتخاب نہیں ہوتی۔ زندگی اور سکون، پیسوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔ اگر آپ زندہ ہی نہیں رہیں گے تو پیسوں کا کیا کریں گے؟”
نتیجہ:
ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اور ہر بڑی پیشکش آپ کے لیے صحیح نہیں ہوتی۔ لالچ میں آکر کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے ہمیشہ اپنی حفاظت اور سکون کو ترجیح دینی چاہیے۔
