تین روٹیاں۔۔۔🙂!

تین روٹیاں۔۔۔🙂!

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ایک شاگرد کے ساتھ سفر پر نکلے۔ راستے میں ایک جگہ رکے تو شاگرد سے پوچھا:
“کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟”

شاگرد نے کہا: “میرے پاس دو درہم ہیں۔”

حضرت عیسیٰؑ نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر اسے دیا اور فرمایا:
“اب یہ تین درہم ہوگئے ہیں، قریب ایک بستی ہے وہاں سے تین درہم کی روٹیاں لے آؤ۔”

شاگرد بستی گیا اور تین درہم کی روٹیاں خرید لایا، لیکن راستے میں اس کے دل میں خیال آیا کہ اگر تین روٹیاں ہیں تو آدھی حضرت عیسیٰؑ کو ملیں گی اور آدھی مجھے۔ اس نے لالچ میں آ کر ایک روٹی وہیں کھا لی اور دو روٹیاں لے کر واپس آیا۔

حضرت عیسیٰؑ نے ایک روٹی کھائی اور شاگرد سے پوچھا:
“تین درہم کی کتنی روٹیاں ملی تھیں؟”

شاگرد نے جواب دیا:
“دو روٹیاں۔ ایک آپ نے کھائی اور ایک میں نے۔”

پھر دونوں آگے روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک دریا آیا۔ شاگرد گھبرا کر بولا:
“اے اللہ کے نبی! ہم دریا کیسے پار کریں گے؟ یہاں تو کوئی کشتی بھی نہیں۔”

حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا:
“گھبراؤ مت، میں آگے چلوں گا تم میری عبا کا دامن پکڑ لینا۔ اللہ نے چاہا تو ہم پار ہو جائیں گے۔”

چنانچہ حضرت عیسیٰؑ دریا میں اترے اور شاگرد نے ان کا دامن تھام لیا۔ اللہ کے حکم سے دونوں دریا کو اس طرح پار کر گئے کہ پاؤں بھی گیلے نہ ہوئے۔

شاگرد حیران ہو کر بولا:
“میری جانیں آپ پر قربان! آپ جیسا معجزہ دکھانے والا نبی تو پہلے کبھی نہیں آیا۔”

حضرت عیسیٰؑ نے پوچھا:
“یہ معجزہ دیکھ کر تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا؟”

اس نے کہا:
“جی ہاں، میرا دل نور سے بھر گیا ہے۔”

حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا:
“پھر بتاؤ روٹیاں کتنی تھیں؟”

شاگرد نے پھر کہا:
“حضرت، روٹیاں تو دو ہی تھیں۔”

کچھ آگے گئے تو ہرنوں کا ایک غول نظر آیا۔ حضرت عیسیٰؑ نے ایک ہرن کو اشارہ کیا، وہ قریب آ گیا۔ آپ نے اسے ذبح کیا، دونوں نے اس کا گوشت کھایا۔

کھانے کے بعد حضرت عیسیٰؑ نے اس کی کھال پر ٹھوکر مار کر فرمایا:
“اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا!”

ہرن فوراً زندہ ہو گیا اور دوڑتا ہوا اپنے ساتھیوں میں جا ملا۔

یہ منظر دیکھ کر شاگرد اور بھی حیران ہو گیا اور بولا:
“اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے آپ جیسا نبی اور استاد عطا فرمایا۔”

حضرت عیسیٰؑ نے پھر پوچھا:
“اب بتاؤ، روٹیاں کتنی تھیں؟”

شاگرد نے پھر وہی جواب دیا:
“حضرت، روٹیاں دو ہی تھیں۔”

چلتے چلتے وہ ایک پہاڑی کے دامن میں پہنچے جہاں زمین پر سونے کی تین اینٹیں پڑی تھیں۔

حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا:
“ایک اینٹ میری ہے، ایک تمہاری ہے اور تیسری اس شخص کی ہے جس نے تیسری روٹی کھائی تھی۔”

یہ سن کر شاگرد شرمندہ ہو گیا اور بولا:
“حضرت! تیسری روٹی میں نے ہی کھائی تھی۔”

حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا:
“پھر یہ تینوں اینٹیں تم لے لو۔”

یہ کہہ کر آپ وہاں سے چلے گئے۔

شاگرد سونے کی اینٹوں کے پاس بیٹھا سوچنے لگا کہ انہیں گھر کیسے لے جائے۔ اسی دوران وہاں سے تین ڈاکو گزرے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص کے پاس سونے کی تین اینٹیں ہیں۔ انہوں نے اسے قتل کر دیا اور آپس میں کہا کہ اینٹیں تین ہیں اور ہم بھی تین ہیں، اس لیے ہر ایک کے حصے میں ایک اینٹ آئے گی۔

وہ بھوکے بھی تھے، لہٰذا انہوں نے ایک ساتھی کو پیسے دے کر شہر سے روٹیاں لانے بھیج دیا۔

راستے میں اس کے دل میں لالچ آیا اور اس نے سوچا:
“اگر میں روٹیوں میں زہر ملا دوں تو دونوں مر جائیں گے اور سونا میرا ہو جائے گا۔”

ادھر باقی دو ڈاکو آپس میں کہنے لگے:
“کیوں نہ ہم اسے واپس آنے پر قتل کر دیں تاکہ سونا صرف ہم دونوں میں تقسیم ہو جائے۔”

جب تیسرا شخص زہر آلود روٹیاں لے کر واپس آیا تو دونوں نے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ پھر جب انہوں نے وہی روٹیاں کھائیں تو زہر کی وجہ سے وہ دونوں بھی مر گئے۔

کچھ دیر بعد حضرت عیسیٰؑ دوبارہ اس راستے سے گزرے۔ دیکھا کہ سونے کی اینٹیں ویسے ہی پڑی ہیں اور ان کے پاس چار لاشیں بھی ہیں۔

یہ منظر دیکھ کر آپ نے ٹھنڈی سانس بھری اور فرمایا:

“دنیا اپنے چاہنے والوں کے ساتھ یہی سلوک کرتی ہے۔”

(واللہ اعلم)

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو مجھے فالو ضرور کریں تاکہ ایسی مزید سبق آموز تحریریں آپ تک پہنچتی رہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner