ایک دن نبی کریم ﷺ کوہِ صفا کی طرف تشریف لے جا رہے تھے کہ راستے میں ابو جہل آ گیا۔ اس نے آپ ﷺ کو سخت الفاظ کہے، مگر میرے آقا ﷺ خاموش رہے… کچھ جواب نہ دیا۔
بدبختی یہاں تک بڑھی کہ اس نے ہاتھ میں موجود لاٹھی سے حضور ﷺ کے سرِ اقدس پر وار کیا۔ خون جاری ہو گیا… مگر رحمتِ عالم ﷺ پھر بھی خاموش رہے، صبر فرمایا اور گھر تشریف لے آئے۔
یہ منظر ایک لونڈی دیکھ رہی تھی۔
کچھ دیر بعد حضرت امیر حمزہؓ شکار سے واپس آئے۔ اس لونڈی نے کہا:
“اے حمزہ! آپ شکار کھیل کر آ رہے ہیں، مگر آج آپ کے بھتیجے محمد ﷺ کو ابو جہل نے لاٹھی ماری، یہاں تک کہ ان کے سر مبارک سے خون بہنے لگا… وہ یہ ظلم اس لیے کرتا ہے کہ اسے لگتا ہے محمد ﷺ کا کوئی مددگار نہیں۔ اگر آج عبدالمطلب زندہ ہوتے تو کوئی ایسی جرات نہ کرتا۔”
یہ سن کر حضرت حمزہؓ کا خون جوش میں آ گیا۔ شکار کا سامان وہیں پھینکا، ایک لاٹھی اٹھائی اور سیدھا حرم کی طرف روانہ ہو گئے۔
ابو جہل اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ حضرت حمزہؓ نے پہنچتے ہی زور سے لاٹھی اس کے سر پر ماری اور فرمایا:
“کیا تم میرے بھتیجے کو کمزور سمجھتے ہو؟ اگر ہمت ہے تو دوبارہ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھو!”
ابو جہل کانپ گیا… اور اپنے ساتھیوں کو کہنے لگا:
“خاموش رہو! حمزہ واقعی بہادر اور طاقتور ہیں، کوئی کچھ نہ کہے۔”
اس کے بعد حضرت حمزہؓ سیدھے حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے گھر پہنچے۔ وہاں دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کے زخموں پر مرہم پٹی ہو رہی ہے۔ حضور ﷺ نے اپنے چچا کو دیکھا تو آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
حضرت حمزہؓ نے عرض کیا:
“بھتیجے! خوش ہو جاؤ، میں نے ابو جہل کا سر پھوڑ دیا ہے۔”
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“چچا! میں اس بات سے خوش نہیں ہوتا۔”
حضرت حمزہؓ نے حیران ہو کر پوچھا:
“تو پھر آپ کس بات سے خوش ہوں گے؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“اگر آپ کلمہ پڑھ لیں تو میں خوش ہو جاؤں گا۔”
حضرت حمزہؓ نے عرض کیا:
“کیا واقعی آپ خوش ہو جائیں گے؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“ہاں۔”
حضرت حمزہؓ نے فوراً عرض کیا:
“تو پھر مجھے کلمہ پڑھا دیجیے۔”
چنانچہ اسی وقت حضرت حمزہؓ نے کلمہ پڑھا اور اسلام قبول کر لیا۔
سبحان اللہ!
یہی وہ لمحہ تھا جب اسلام کو ایک عظیم مجاہد اور نبی کریم ﷺ کو ایک مضبوط سہارا نصیب ہوا۔
