حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا مناظرہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا مناظرہ

زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قحط سالی کے دوران لوگ نمرود کے پاس جاتے اور غلہ لے آتے تھے۔ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام بھی گئے، مگر بدبخت نمرود نے آپ علیہ السلام کو غلہ نہ دیا اور آپ خالی ہاتھ واپس لوٹے۔

گھر کے قریب پہنچ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دونوں بوریوں میں ریت بھر دی تاکہ گھر والے سمجھیں کہ کچھ لے آئے ہیں۔ گھر آ کر بوریوں کو رکھ کر سو گئے۔ حضرت سارہ علیہا السلام اٹھیں، بوریوں کو کھولا تو دیکھیں کہ وہ عمدہ اناج سے بھری ہوئی ہیں۔ کھانا پکا کر تیار کیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آنکھ کھلی اور کھانا دیکھا تو پوچھا، “یہ اناج کہاں سے آیا؟” حضرت سارہ علیہا السلام نے کہا، “وہی بوریوں میں سے نکالا جو آپ لے کر آئے تھے۔”

آپ سمجھ گئے کہ یہ خدا کی برکت اور رحمت ہے۔ اللہ تعالی نے نمرود کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا، اسے توحید کی دعوت دی، مگر نمرود نے قبول نہ کیا۔ دوبارہ دعوت دی، پھر بھی انکار کیا۔ تیسری مرتبہ بلایا، مگر وہ منکر ہی رہا۔

بار بار کے انکار کے بعد فرشتے نے فرمایا: “اچھا، اپنا لشکر تیار کرو، میں بھی اپنا لشکر لے کر آتا ہوں۔” نمرود نے بڑا لشکر تیار کیا اور سورج نکلنے کے وقت میدان میں آ ڈٹا۔ اللہ تعالی نے مچھروں کا دروازہ کھول دیا، اتنے مچھر آئے کہ سورج بھی نظر نہ آیا۔

یہ خدائی فوج نمرودیوں پر گری اور تھوڑی دیر میں ان کا گوشت و خون سب مچھر کھا گئے، صرف ہڈیاں رہ گئیں۔ ایک مچھر نمرود کے نتھنے میں گھس گیا اور چار سو سال تک اس کا دماغ چاٹتا رہا۔ اتنا شدید عذاب کہ موت ہزاروں درجے بہتر تھی۔ نمرود سردیواروں اور پتھروں پر مارا جاتا، ہتھوڑوں سے کچلا جاتا، رینگتے رینگتے بدنصیب ہلاکت پا گیا۔

اعاذنا اللہ! (اللہ ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے) آمین۔

📖 [(تفسیر ابن کثیر)(ج1ص356)]

اچھی اور سبق آموز باتیں شیئر کریں، ناچ گانے اور گناہ کی نہیں۔ برائے مہربانی لائک، شیئر اور فالو کریں۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔

Leave a Reply

NZ's Corner