Tag Archives: dailyprompt bloganuary dailyprompt

سمندر کی لہروں میں گھوڑا اور وہ جنگجو جس کے لیے زمین کم پڑ گئی… تصور کریں… 7ویں صدی عیسوی کا اختتام ہے۔ ایک عرب کمانڈر افریقہ کے آخری کنارے پر کھڑا ہے۔ اس کے گھوڑے کے قدم بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) کی تاریک اور بپھری ہوئی لہروں میں دھنسے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی تلوار آسمان کی طرف بلند کرتا ہے، حدِ نگاہ تک پھیلے ہوئے پانی کو دیکھتا ہے، اور تاریخ کا وہ لافانی جملہ کہتا ہے: “اے اللہ! اگر یہ کالا سمندر میرا راستہ نہ روکتا، تو میں تیری راہ میں لڑتا ہوا زمین کے آخری کنارے تک چلا جاتا!” یہ کوئی دیومالائی یا افسانوی کردار نہیں تھا، بلکہ یہ تاریخِ اسلام کے سب سے عظیم اور نڈر جرنیلوں میں سے ایک، عقبہ بن نافع (Uqba ibn Nafi) تھے۔ یہ اس فاتح کی سچی داستان ہے جس نے پورے شمالی افریقہ (موجودہ لیبیا، تیونس، الجزائر اور مراکش) کا…

Read more

قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چچا یصہر کا بیٹا تھا۔وہ نہایت شکیل اور خوبصورت انسان تھا، اسی وجہ سے لوگ اُس کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اسے “منور” کہا کرتے تھے۔صرف یہی نہیں، بلکہ وہ بنی اسرائیل میں تورات کا بڑا عالم، نہایت ملنسار اور بااخلاق شخصیت کا مالک بھی تھا، اسی لیے لوگ اس کا بے حد ادب و احترام کرتے تھے۔ لیکن جب بے شمار دولت اس کے ہاتھ آئیتو اس کی زندگی یکسر بدل گئی۔وہ سامری کی طرح منافق ہو گیا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سخت دشمن بن گیااور تکبر و غرور میں ڈوب گیا۔ جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہواتو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے وعدہ کیاکہ وہ اپنے مال کا ہزارواں حصہ زکوٰۃ میں دے گا۔مگر جب اس نے اپنے مال کا حساب لگایاتو زکوٰۃ کی رقم بہت زیادہ نکلی۔ یہ دیکھ کر اس پر حرص اور بخل…

Read more

جب بہت زیادہ مدد کرنے والا آخر کار چھوڑ کر چلا جاتا ہےاس خشک سرزمین میں اونٹ صرف ایک ہی بات کے لیے مشہور تھا: اسے معلوم تھا کہ پانی کہاں ملے گا۔جب دریا خشک ہو جاتے اور زمین پھٹ جاتی، تو دوسرے جانور کھودنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ وہ بس اسے دیکھتے رہتے۔ہر صبح، سورج کے تیز ہونے سے پہلے، اونٹ ریت میں کھدائی کرتا۔ اس کا سانس پھول جاتا۔ اس کے سینے میں درد ہوتا۔ پانی بہت آہستہ، تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتا، جیسے کہیں چھپا ہوا ہو۔زیبرا پانی پیتا۔ ہرن پانی پیتا۔ پرندے غول کی شکل میں آتے اور پانی پیتے تاکہ اپنی پیاس بجھا سکیں۔انہوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ وہ کتنا تھک چکا ہے۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ کھدائی کے لیے صحیح جگہ تلاش کرنے کے لیے اسے کتنا پیدل چلنا پڑتا ہے۔ وہ صرف اس وقت آتے جب وہ…

Read more

ایک دفعہ کی بات ہے۔ دیہات میں ایک چوہا رہتا تھا۔ وہ ایک پرانے درخت کے نیچے اپنے بل میں رہتا تھا۔ اس کے پاس کھانے کو اناج تھا، جڑی بوٹیاں تھیں، اور کبھی کبھی کسان کے کھیت سے گری ہوئی فصل مل جاتی تھی۔ اس کی زندگی سادہ تھی، لیکن وہ مطمئن تھا۔ شہر میں اس کا ایک دوست رہتا تھا شہر کا چوہا۔ وہ ایک بڑے گھر میں رہتا تھا، جہاں ہر روز دعوتیں ہوتی تھیں، میز پر طرح طرح کے کھانے سجے ہوتے تھے۔ ایک دن شہر کا چوہا دیہات میں اپنے دوست سے ملنے آیا۔ دیہاتی چوہا بہت خوش ہوا۔ اس نے اپنے دوست کی خاطر مدارت کی اناج کے دانے نکالے، کھیت سے تازہ جڑی بوٹیاں لایا، بلوط کے پھل رکھے۔ شہر کے چوہے نے کھانا کھایا، لیکن اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ اس نے کہا: “دوست! تم یہاں کیسے رہتے ہو؟ یہ کھانا…

Read more

4/4
NZ's Corner