صدیوں پہلے جاپان کے ایک گھنے جنگل میں تین بہت گہرے دوست رہتے تھے۔ ایک لومڑ، ایک بندر اور ایک خرگوش۔ یہ تینوں بہت مختلف تھے، لیکن ان کی دوستی بے مثال تھی۔
لومڑ بہت چالاک تھا۔ وہ جنگل کے ہر راستے کو جانتا تھا اور شکار کرنے میں ماہر تھا۔ بندر بہت پھرتیلا تھا۔ وہ درختوں پر چڑھ کر میٹھے میٹھے پھل لاتا تھا۔ اور خرگوش۔ خرگوش بہت کمزور تھا، لیکن اس کا دل سب سے بڑا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے دوستوں کے کام آتا، چاہے اسے کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو۔
ان کی دوستی کا اصول تھا — جب کسی کو کھانے کی ضرورت ہوتی، باقی دو اس کی مدد کرتے۔ جب کسی کو پناہ کی ضرورت ہوتی، باقی دو اس کے لیے جگہ بناتے۔ وہ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے تھے۔
ایک دن چاند پر رہنے والے بوڑھے نے زمین کی طرف دیکھا۔ اس کی نظر ان تینوں دوستوں پر پڑی۔ وہ ان کی محبت اور یگانگت دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اس نے دل میں کہا، “کتنی خوبصورت دوستی ہے! لیکن دیکھنا چاہیے کہ ان میں سب سے زیادہ رحم دل اور قربانی دینے والا کون ہے؟”
چاند کا بوڑھا فقیر کا بھیس بدل کر ان کے پاس آیا۔ اس کا چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا تھا، کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور وہ بھوک سے لاغر لگ رہا تھا۔ اس نے کہا، “میرے بچو! میں تین دن سے بھوکا ہوں۔ اللہ کے لیے مجھے کچھ کھانے کو دے دو۔”
تینوں دوستوں نے ایک ساتھ کہا، “بابا! آپ یہاں بیٹھیں، ہم آپ کے لیے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔”
بندر فوراً درختوں پر چڑھ گیا اور اس نے بہت سارے میٹھے پھل توڑ کر لائے۔ لومڑ دریا کی طرف بھاگا اور ایک بڑی سی مچھلی شکار کر کے لے آیا۔ اب باری تھی خرگوش کی۔
خرگوش نے بہت کوشش کی۔ وہ جنگل میں بھاگا، کھیتوں میں گیا، ندی کے کنارے گیا، لیکن اسے ایسی کوئی چیز نہیں ملی جو وہ بوڑھے فقیر کے لیے لا سکے۔ اس کا دل بہت دکھی ہوا۔ وہ واپس آیا اور اپنے دوستوں سے کہا، “بندر بھیا! میرے لیے کچھ لکڑیاں تو اکٹھی کر دو۔”
بندر نے بہت ساری لکڑیاں لا کر ڈھیر لگا دیں۔ پھر خرگوش نے لومڑ سے کہا، “بھیا لومڑ! آپ ذرا ان لکڑیوں کو آگ لگا دو۔”
لومڑ نے آگ لگا دی۔ جب آگ خوب بھڑک اٹھی تو خرگوش روتے ہوئے بوڑھے فقیر کے پاس گیا اور کہا، “بابا! میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔ میرے دوست آپ کے لیے پھل اور مچھلی لائے، لیکن میں آپ کے لیے کچھ نہیں لا سکا۔ اب میں آپ کی بھوک مٹانے کا صرف ایک ہی طریقہ جانتا ہوں۔”
یہ کہہ کر خرگوش نے آگ میں چھلانگ لگا دی تاکہ وہ خود بوڑھے کے کھانے کا ذریعہ بن جائے۔
چاند کے بوڑھے نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے فوراً اپنا فقیر والا بھیس اتار پھینکا اور اپنی اصلی صورت میں آ گیا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے آگ میں ہاتھ ڈالا اور خرگوش کو بچا لیا۔
پھر اس نے کہا، “اے خرگوش! تم نے وہ کیا کر دکھایا جو کسی نے نہیں کیا۔ تم نے اپنی جان دینے تک کی قربانی پیش کر دی۔ میں چاند کا بوڑھا ہوں اور تمہاری اس قربانی کو ہمیشہ یاد رکھوں گا۔”
چاند کے بوڑھے نے خرگوش کو اٹھایا اور آسمان کی طرف لے گیا۔ اس نے اسے چاند پر بٹھا دیا اور کہا کہ تم ہمیشہ چاند پر رہو گے تاکہ دنیا والے تمہاری قربانی کو دیکھیں۔
آج بھی جب لوگ چاند کو دیکھتے ہیں، تو انہیں اس پر ایک خرگوش کی شکل نظر آتی ہے۔ یہ خرگوش ہی ہے جو اپنی بے لوث قربانی کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے چاند پر جا بسا۔
اخلاقی سبق:
حقیقی قربانی وہ ہے جو بے لوث اور بغیر کسی توقع کے دی جائے۔ خرگوش نے نہ سوچا کہ اسے بدلے میں کیا ملے گا، اس نے صرف دوسرے کی بھوک مٹانے کے لیے اپنی جان تک دے دی۔
حوالہ:
یہ کہانی جاپانی لوک ادب کی مشہور حکایت ہے اور آج بھی جاپان میں بچوں کو سنائی جاتی ہے۔
